Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3756

3756 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القاري نا محمد بن إبراهيم العبدي : ـ

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو اسحٰق بن ابراہیم قاری نے ان کو محمد بن ابراہیم عبدی نے۔

مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القاري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3756

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3757

3757 - و أخبرنا أبو سعد بن أبي عثمان الزاهد أنا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن يوسف السنجاني قالا : نا محمد بن عبد الرحمن العنبري نا مسعود بن واصل نا النهاس بن قهثم عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من أيام من أيام الدنيا العمل فيها أحب إلى الله أن يتعبد له فيها من أيام العشر يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة و قيام كل ليلة بقيام ليلة القدر

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد بن ابو عثمان زاہد نے ان کو ابو عمر بن مطر نے ان کو ابراہیم بن یوسف سنجانی نے دونوں کو محمد بن عبدالرحمٰن عنبری نے ان کو مسعود بن واصل نے ان کو نہاس بن قھثم نے ان کو قتادہ نے ان کو سعید بن مسیّب نے ان کو ابو ہریرہ نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایام دنیا میں سے کوئی ایام ایسے نہیں ہیں جن میں عمل کرنا اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہو کہ ان میں اللہ کی عبادت کی جائے عشرہ ذوالحجہ سے۔ ان میں روزہ رکھنا سال بھر کے روزوں کے برابر ہوتا ہے اور ہر رات قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہو تا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← النهاس بن قهثم ← مسعود بن واصل ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ السَّنْجَانِيُّ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو سعد بن أبي عثمان الزاهد ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3757

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3758

3758 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا أبو علي الحسين بن علي بن يزيد الحافظ نا عبد الله بن محمد بن وهب الدينوري نا العباس بن الوليد الأزدي الرملي نا يحيى بن عيسى الرملي نا يحيى بن أيوب البجلي عن عدي بن ثابت عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما من أيام أفضل عند الله و لا العمل فيهن أحب إلى الله عز و جل من هذه الأيام العشر فأكثروا فيهن من التهليل و التكبير و ذكر الله فإنها أيام التهليل و التكبير و ذكر الله و إن صيام يوم منها يعدل بصيام سنة و العمل فيهن يضاعف سبعمائة ضعف

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حسین بن علی بن یزید حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن وہب دینوری نے ان کو عباوس بن ولید ازدی رملی نے ان کو یحییٰ بن عیسیٰ رملی نے ان کو یحییٰ بن ایوب بجلی نے ان کو عدی بن ثابت نے ان کو سعید بن جبیر نے ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسو اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عشرہ ذوالحجہ کے ایام سے زیادہ اللہ کے نزدیک کوئی افضل یوم نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے سوا کسی ایام میں عمل کرنا اللہ کو محبوب ہے لہذا ان میں تکبیر تہلیل کی کثرت کرو اور ذکر اللہ کی بے شک یہ ایام تہلیل و تکبیر کے ایام ہیں اور ذکراللہ کے۔ بے شک ان یمں سے کسی ایک دن کا روزہ رکھنا سال بھر کے روزے رکھنے کے برابر ہے اور ان میں عمل کرنا دہرا کیا جاتاہے۔ سات سو گنا تک۔ یوم عرفہ کی تخصیص ۔ یعنی یوم عرفہ کا خصوصی ذکر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : " وشاھدہ ومشھود " قسم ہے شاہد کی اور مشہور کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، ← العباس بن الوليد الأزدي الرملي ← عبد الله بن محمد بن وهب الدينوري ← أبو علي الحسين بن علي بن يزيد الحافظ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3758

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3759

3759 - و روينا عن ابن هريرة : مرفوعا و موقوفا أن المشهود يوم عرفة

ہم نے ابو ہریرہ سے مرفوع اور موقوف روایت کی ہے کہ مشہور ہ یوم عرفہ اور یوم موعود یوم قیامت ہے۔

ابن هريرة مرفوعا و موقوفا أن المشهود يوم عرفة ← و روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3759

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3760

3760 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا الأصم أنا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب أنا سليمان بن بلال عن موسى بن عبيدة عن أيوب بن خالد عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أفضل الأيام عند الله يوم الجمعة و هو شاهد و مشهود يوم عرفة و اليوم الموعود يوم القيامة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو موسیٰ بن عبیدہ نے ان کو ایوب بن خالد نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ کے نزدیک افضل ایام یوم جمعہ ہے اور وہی شاہد ہے اور مشہور یوم عرفہ موعود یوم قیامت ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ← موسى بن عبيدة ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الأَصَمُّ: ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3760

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3761

3761 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن المقرىء نا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا حماد بن زيد عن غيلان بن جرير عن عبد الله بن معبد الزماني عن أبي قتادة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : صيام يوم عاشوراء إني أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله أخرجه مسلم من حديث حماد بن زيد

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن مقری نے ان کو حسن بن اسحٰق نے ان کو سیف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابو الربیع نے ان کو حماد بن زید نے ان کو غیلان بن جریر نے ان کو عبداللہ بن معبد زمانی نے ان کو ابو قتادہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوم عاشوراء (دسویں محرم) کا روزہ میں اللہ سے ثواب کی امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس سے قبل کے سال بھر کے کفارہ ہو جاتا ہے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حدیث حماد بن زید سے۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن المقرىء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3761

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3762

3762 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عبد الله بن محمد بن أيوب نا سفيان بن عيينة عن داود بن شابور عن أبي قزعة عن أبي الخليل عن أبي حرملة عن أبي قتادة يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم : صوم يوم عرفة كفارة سنة و التي يليها و صوم يوم عاشوراء كفارة سنة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ایوب نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو داؤد بن شابور نے ان کو ابو قزعہ نے ان کو ابو الخلیل نے ان کو ابو حرملہ نے ان کو ابو قتادہ نے وہ اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچاتے تھے کہ یوم عرفہ کا روزہ سال بھر کا کفارہ ہے جو اس کے متصل ہے اور یوم عاشور ے کا روزہ سال بھر کا کفارہ ہے۔

أَبِي حَرْمَلَةَ، ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← أَبِي قَزَعَةَ ← دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3762

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3763

3763 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان أنا إبراهيم بن الحارث نا يحيى بن أبي بكير نا شعبة عن أبي قيس قال : سمعت هزيلا يحدث عن مسروق عن عائشة قالت : ما من يوم من السنة أصومه أحب إلي من يوم عرفة

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو قیس نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہزیل سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ مسروق سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ سال بھر میں سے کوئی ایسا دن نہیں ہے جس کا میں روزہ رکھوں اور وہ مجھے یوم عرفہ سے زیادہ محبوب ہو۔

ما من يوم من السنة أصومه أحب إلي من يوم عرفة ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← هزيلا ← أَبِي قَيْسٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3763

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3764

3764 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا الأسفاطي نا سليمان بن أحمد الواسطي نا الوليد بن مسلم عن سليمان بن موسى عن دلهم بن صالح عن أبي إسحاق عن مسروق عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : صيام يوم عرفة كصيام ألف يوم

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسفاطی نے ان کو سلیمان بن احمد واسطی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو سلیمان بن موسیٰ نے ان کو دلہم بن صالح نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو مسروق نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے یوم عرفہ کا روزہ ہزار دن کے روزے کی طرح ہے۔

صيام يوم عرفة كصيام ألف يوم ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ← الْأَسْفَاطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3764

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3765

3765 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمر محمد بن عبد الواحد الزاهد أنا محمد بن عثمان العبسي نا أحمد بن عبد الله بن بكار نا الوليد بن مسلم نا سليمان بن موسى حدثني دلهم بن صالح عن أبي إسحاق عن مسروق : أنه دخل على عائشة يوم عرفة فقال : اسقوني فقالت عائشة : يا جارية اسقيه عسلا و ما أنت يا مسروق بصائم فقال : لا إني أتخوف أن يكون يوم أضحى فقالت عائشة : ليس كذلك يوم عرفة يوم يعرف الأيام و يوم النحر يوم ينحر الأيام أو ما سمعت يا مسروق أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يعدله بصوم ألف يوم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمر محمد بن عبدالواحد زاہد نے ان کو محمد بن عثمان عیسیٰ نے ان کو احمد بن عبداللہ بن بکار نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو سلیمان بن موسیٰ نے اس نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے دلھم بن صالح نے ان کو ابو اسحٰق نے مسروق سے کہ وہ داخل ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس یوم عرفہ کے دن اور انہوں نے پینے کے لیے پانی مانگا تو سیدہ عائشہ نے فرمایا جاریہ اسے شہد کا شربت پلائیے۔ اے مسروق کیا آپ کا روزہ نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں ڈر رہا تھا کہ شاید آج قربانی کا دن ہو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ بات ایسے نہیں ہے یوم عرفہ ایسا دن ہے جو ایام کو معروف بناتا ہے اور یوم نحر ایام کی قربانی کرتا ہے۔ مسروق کیا تم نے سنا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوم عرفہ کے روزے کو ہزار دن کے روزے کے برابر فرماتے تھے۔

مَسْرُوقٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أحمد بن عبد الله بن بكار ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَبْسِيُّ ← أبو عمر محمد بن عبد الواحد الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3765

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3766

3766 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه نا صالح بن محمد الحافظ البغدادي نا محمد بن عمرو بن جبلة نا حرمي بن عمارة حدثني هارون بن موسى قال : سمعت الحسن يحدث عن أنس بن مالك فقال : كان يقال في أيام العشر لكل يوم ألف و يوم عرفة عشرة آلاف يوم يعني في الفضل

ہمیں خبر دی ہےمحمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو نصر احمد بن سہل فقیہ نے ان کو صالح بن محمد حافظ بغدادی نے ان کو محمد بن عمرو بن جبلہ نے ان کو حرمی بن عمارہ نے ان کو ہارون بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن سے وہ حدیث بیان کرتے تھے انس بن مالک سے انہوں نے فرمایا کہا جاتا تھا ایام عشر میں کہ ہر دن کے بدلے میں ہزار دن ہے اور یوم عرفہ دس ہزار دن یعنی فضیلت میں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← هَارُونُ بْنُ مُوسَى، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، ← صالح بن محمد الحافظ البغدادي ← أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3766

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3767

3767 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسين أحمد بن الحسين بن يزيد القزويني بالري نا محمد بن منده الأصبهاني نا بكر بن بكار نا محمد بن أبي حميد نا عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : كان أكثر دعاء رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم عرفة : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد بيده الخير و هو على كل شيء قدير

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسین احمد بن حسین بن یزید قزوینی نے رائے میں ان کو محمد بن مندہ اصفہانی نے ان کو بکر بن بکار نے ان کو محمد بنا بو حمید نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عرفہ کے دن اکثریہ دعا ہوتی تھی: "لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ' لہ الملک ولہ الحمد بیدہ الخیر وھو علی کل شی قدیر"

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← محمد بن أبي حميد ← بكر بن بكار ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهْ الأَصْبَهَانِيُّ، ← أبو الحسين أحمد بن الحسين بن يزيد القزويني بالري ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3767

chevron_left Previous
1…878889…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood