Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3743

3743 - أنبأني أبو عبد الله الحافظ إجازة أن أبا الحسن علي بن محمد بن عبيد القرشي بالكوفة أخبرهم نا الحسين بن علي بن عفان العامري نا زيد بن الحباب نا عباس بن عقبة الحضرمي حدثني خير بن نعيم عن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : { والفجر * وليال عشر } قال : العشر عشر الأضحى و الوتر يوم عرفة و الشفع يوم النحر و في تاريخ البخاري عن أبي نعيم عن أبي سعيد بن عوذ البرار عن محمد بن المرتفع عن عبد الله بن الزبير قال : ليال عشر العشر الثمان و عرفة و النحر و الشفع في يومين فمن تعجل فلا إثم عليه و من تأخر فلا إثم عليه و هو الوتر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے بطور اجازۃ یہ کہ ابو الحسن عیل بن محمد بن عبید قرشی نے کوفے میں ان کو خبر دی ہے حسین بن علی عفان عامری نے ان کو زید بن حباب نے ان کو عباس بن عقبہ حضرمی نے ان کو خبر دی ہے خیر بن نعیم نے ان کو ابوالزبیر نے جابر سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: "والفجر ولیال عشر" قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔ فرمایا کہ عشر سے مراد عشراضحیٰ قربانی کا دسواں دن ہے اور الوتر یوم عرفہ ہے اور شفع یوم نحر ہے اور تاریخ بخاری میں ابو نعیم سے مروی ہے کہ ان کو بیان کی ابو سعید بن عوذ برار نے ان کو محمد بن مرتفع نے ان کو عبداللہ بن زبیر نے انہوں نے کہا کہ دس راتیں دس دن سمیت ہیں آٹھویں اور عرفہ اور نحر اور شفع دو دن میں سے (جو شخص جلدی کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو شخص پیچھے رہ جائے اس پر کوئی گناہ نہیں (قرآن) اور وہی وتر ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ، ← عباس بن عقبة الحضرمي ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3743

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3745

3745 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه نا بشر بن موسى نا خلاد بن يحيى نا سفيان عن الأغر عن خليفة بن حصين بن قيس عن ابن عباس : ـ { و الفجر } قال : فجر النهار { و ليال عشر } قال عشر في الأضحى { هل في ذلك قسم لذي حجر } قال : لذي حجى

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو خلاد بن یحییٰ نے ان کو سفیان نے ان کو اغر نے ان کو خلیفہ بن حصین بن قیس نے ان کو ابو نضر نے ان کو ابن عباس نے قربانی کے بارے میں "ھل فی ذالک قسم الذی حجر۔ " ضرور اس میں ایک بھاری قسم ہے اہل عقل کے لیے۔ فرمایا کہ واسطے ذی حجی ۔

لذي حجى ← عشر في الأضحى هل في ذلك قسم لذي حجر ← فجر النهار و ليال عشر ← ابن عباس و الفجر ← خليفة بن حصين بن قيس ← الْأَغَرِّ ← سُفْيَانَ، ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3745

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3746

3746 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل نا السري بن خزيمة نا عمر بن حفص بن غياث نا أبي نا الأعمش عن زياد بن أبي أوفى عن ابن عباس قال : الليالي التي أقسم الله عز و جل بهن العشر الأول من ذي الحجة و الشفع يوم النحر و الوتر يوم عرفة كذا وجدت في كتابي زياد بن أبي أوفى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم عدل نے ان کو سری بن خزیمہ نے انکو عمر بن حفص بن غیاث نے انکو ان کے والد نے ان کو اعمش نے ان کو زیاد بن ابو اوفیٰ نے ان کو ابن عباس نے انہوں نے کہا وہ راتیں اللہ تعالیٰ نے جن کی قسم کھائی ہے وہ عشرہ اول ذوالحجہ کی راتیں ہیں اور شفع یوم نحر ہے اور وتر یوم عرفہ ہے میں نے اسی طرح پایا ہے اپنی کتاب میں زیاد بن ابو اوفیٰ سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← زياد بن أبي أوفى ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3746

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3747

3747 - أخبرنا أبو بكر محمد بن بكر أنا أبو بشر محمد بن أحمد بن حاضر البروغندي نا أبو الحسن محمد بن أحمد بن زهير نا عبد الله بن هاشم نا يحيى نا عوف نا زرارة بن أوفى قال : قال ابن عباس : العشر التي أقسم الله بهن ليالي عشر ذي الحجة و الشفع يوم الذبح و الوتر يوم عرفة

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن بکر نے ان کو ابو بشر بن احمد بن حاضر بروغندی نے ان کو ابوالحسن محمد بن احمد بن زہیر نے ان کو عبداللہ بن ہاشم نے ان کو یحییٰ نے ان کو عوف نے ان کو زرارہ نے بن ابو اوفیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا: وہ دس جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ قسم کھائی ہے وہ ذوالحجہ کی دس راتیں ہیں شفع یوم ذبح ہے اور وتر یوم عرفہ ہے۔

زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن زهير، ← أبو بشر محمد بن أحمد بن حاضر البروغندي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3747

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3748

3748 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن الحسين بن يزيد القزويني نا محمد بن منده الأصبهاني نا الحسين بن حفص نا إسرائيل عن أبي إسحاق عن مسروق : ـ { و ليال عشر } قال العشر عشر الأضحى التي وعد الله عز و جل موسى عليه السلام و أتممناها بعشر

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن حسین بن یزید قزوینی نے ان کو محمد بن مندہ اصفہانی نے ان کو حسین بن حفص نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو منصور نے کہ ولیال عشر۔ فرمایا عشر وہ عشرہ اضحیٰ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا موسیٰ علیہ السلام کو اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ان تیس دنوں کی مدت کو اتممناھا بعشر: مزید دس دنوں کے ساتھ مکمل کیا تھا۔

مسروق و ليال عشر ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهْ الأَصْبَهَانِيُّ، ← أحمد بن الحسين بن يزيد القزويني ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3748

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3749

3749 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمر بن البختري نا أحمد بن الوليد الفحام نا يزيد بن هارون أنا سفيان بن سعيد عن الأعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من أيام فيهن العمل أحب إلى الله عز و جل و أفضل من أيام العشر قيل : يا رسول الله و لا الجهاد في سبيل الله ؟ قال : و لا الجهاد في سبيل الله قال : و لا الجهاد في سبيل الله إلا رجل جاهد في سبيل الله بماله و نفسه فلم يرجع من ذلك بشيء قال الإمام أحمد رحمه الله : و كذلك رواه شعبة عن الأعمش و من ذلك الوجه أخرجه البخاري في الصحيح و روينا في ذلك عن مجاهد عن ابن عباس مختصرا غير أنه زاد فأكثروا فيهن من التهليل و التحميد و التكبير و التسبيح و هو مذكور في كتاب الدعوات

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر بن بختری نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سفیان بن سعید نے ان کو اعمش نے ان کو مسلم بطین نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا کوئی ایسے ایام نہیں ہیں جن میں عمل کرنا اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو ان دس دنوں سے (یعنی عشرہ ذوالحجہ سے) پوچھا گیا یا رسول اللہ کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔ فرمایا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے اپنے مال کے ساتھ اور اپنی جان کے ساتھ پس ان میں سے کسی شے کے ساتھ واپس نہ آئے (یعنی مال بھی اور جان بھی وہیں کھپا دے) ۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے اعمش نے اور اسی طریق سے اس کو نقل کیا ہے بخاری نے صحیح میں اور ہم نے اس بارے میں روایت کی ہے مجاہد سے اس نے ابن عباس سے مختصر طور پر سوائے اس کے کہ انہوں نے یہ زیادہ کیا ہے کہ ان ایام میں کثرت کے ساتھ لاالہ الااللہ اور الحمدللہ اور اللہ اکبر اور سبحان اللہ پڑھنے کی کثرت کرو اور یہ مذکور ہے کتاب الدعوات کے اندر ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أبو جعفر محمد بن عمر بن البخترى ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3749

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3750

3750 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المروزي أنا أبو بكر بن خنب نا أبو يعقوب إسحاق بن الحسن الحربي نا عفان بن مسلم و سأله أحمد بن حنبل و يحيى بن معين جميعا نا أبو عوانة عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما من أيام أفضل عند الله و لا أحب إليه العمل فيهن من أيام العشر فاكثروا فيها من التهليل و التكبير و التحميد قال الحربي : قال أبو عبد الله أحمد بن حنبل حين حدثه ما قال فيها أحد هذا الكلام الأخير غير أبي عوانة يعني فاكثروا فيها قال : و ذكر أيضا محمد بن فضيل عن يزيد بن أبي زياد و هو مذكور في كتاب الدعوات و ذكر مسعود بن سعد عن يزيد و قال : التحميد بدل التمجيد

ہمیں خبر دی ہے ابو سہل محمد بن نصرویہ مروزی نے ان کو ابو بکر بن خنب نے ان کو ابو یعقوب اسحٰق بن حسن حربی نے ان کو عفان بن مسلم نے اور ان سے پوچھا گیا احمد بن حنبل نے اور یحییٰ بن معین سب نے ان کو خبر دی ابو عوانہ نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایام عشر سے بڑھ کر اللہ کے نزدیک کوئی دن افضل نہیں ہے اور نہ ہی کسی دن میں عمل کرنا اللہ کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہے لہٰذا ان ایام میں لا الہ الا اللہ کی اور اللہ اکبر کی اور الحمد للہ کی کثرت کرو۔ حربی نے کہا ابو عبداللہ احمد بن حنبل نے کہا جب ان کو وہ حدیث بیان ہوئی جس میں یہ کلام اخیر تھا کسی ایک نے اس میں کہا ہے سوائے ابو عوانہ کے یعنی صرف یہ کہ ان میں کثرت کرو انہوں نے کہا کہ محمد بن فضیل کا ذکر بھی ہوا یزید بن ابو زیاد سے اور وہی مذکور ہے کتاب الدعوات میں اور ذکر کیا ہے مسعود بن سعد نے ان کو یزید نے اور انہوں نے جو کہا ہے وہ تحمید ہے تمجید کے بدلے میں۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عفان بن مسلم و سأله أحمد بن حنبل و يحيى بن معين جميعا ← أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ← أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3750

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3751

3751 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا أحمد بن زهير نا مالك بن إسماعيل النهدي و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا الباغندي ثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل نا مسعود بن سعد عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد عن ابن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من أيام أعظم عند الله و لا أحب إليه من العمل فيهن من هذه الأيام العشر فأكثروا فيهن من التحميد و التكبير و التهليل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو مسعود بن سعد نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عمر نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ ایام عشر سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم مرتبے والے کوئی ایام نہیں ہیں اور نہ کوئی ایام ہیں جن میں عمل کرنا اللہ تعالیٰ کو ان میں عمل سے زیادہ محبوب ہےلہٰذا ان میں کثرت کرو تحمید ' تکبیر اور تہلیل کی۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← الْبَاغَنْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← مالك بن إسماعيل النهدي و ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3751

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3752

3752 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه إملاء نا محمد بن مسلمة الواسطي نا يزيد بن هارون نا أصبع بن زيد الوراق عن القاسم بن أيوب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم : ما من عمل أذكى عند الله و لا أعظم أجرا من خير يعمله في العشر الأضحى قيل : و لا الجهاد في سبيل الله قال : و لا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه و ماله فلم يرجع من ذلك بشيء قال : و كان سعيد بن جبير إذا دخل أيام العشر اجتهد اجتهادا شديدا حتى ما يكاد يقدر عليه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے بطور املاء کے ان کو محمد بن مسلمہ واسطی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو اصبغ بن زید وراق نے ان کو قاسم بن ایوب نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ عشرہ قربانی میں جو شخص خیر کا کوئی عمل کرے اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ بڑا اجر کے اعتبار سے کوئی عمل نہیں ہے ۔ عرض کیا گیا کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر وہ آدمی جو اپنے نفس کے ساتھ اور اپنے مال کے ساتھ نکلا مگر ان میں سے کسی شے کے ساتھ واپس نہ آ سکا بلکہ سب کچھ قربان کر دیا۔ کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر جب ایام عشر میں داخل ہوتے تھے تو سخت کوشش کرتے تھے حتیٰ کہ قریب ہوتے کہ ہلاکت واقع ہو جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← القاسم بن أيوب ← أصبع بن زيد الوراق ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3752

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3753

3753 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا العباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي نا الأوزاعي قال : بلغني أن العمل في اليوم من أيام العشر بقدر غزوة في سبيل الله يصام نهارها و يحرس ليلها إلا أن يحتضن امرء و بشهادة قال الأوزاعي : حدثني بهذا الحديث رجل من قريش من بني مخزوم عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ان کو خبر دی ہے میرے والد نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ان ایام میں عمل کرنا یعنی ان میں سے ایک میں عمل کرنا جہا د فی سبیل اللہ کے برابر ہے جس میں دن میں روزہ رکھا جائے اور رات کو چوکیداری کی جائے مگر یہ کہ وہ شخص حاضر کیا جائے شہادت پر۔ امام اوزاعی نے کہا کہ مجھے اس کے ساتھ حدیث بیان کی ہے ایک آدمی نے قریش سے بنی مخزوم سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔

بلغني ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3753

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3754

3754 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى : نا أبو العباس الأصم أنا الربيع بن سليمان نا أسد بن موسى نا أبو عوانة عن الحسن بن الصباح عن هنيدة بن خالد عن امرأته عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصوم تسع ذي الحجة و يوم عاشوراء و ثلاثة أيام من كل شهر أول اثنين من الشهر و خميسين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو اسد بن موسیٰ نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو حسن بن صباح نے ان کو ہنیدہ بن خالد نے اس نے اپنی بیوی سے انہوں نے بعض ازواج رسول سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھتے تھے نویں ذوالحجہ کا اور دسویں محرم کا اور ہر ماہ تین دن کا پہلا پیر کا دن مہینے میں سے۔

بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم ← امْرَأَتِهِ ← هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3754

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3755

3755 - أخبرنا القاضي أبو عمر محمد بن الحسين بن محمد بن الهيثم أنا أحمد بن محمود بن حرزاد الكازروني نا موسى بن إسحاق الأنصاري نا خالد بن يزيد بن عبد الملك عن صفوان بن سليم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم سيد الشهور شهر رمضان و أعظمها حرمة ذو الحجة

ہمیں خبر دی ہے قاضی ابو عمر محمد بن حسین بن محمد ہیثم نے ان کو احمد بن محمود بن حرز اد کا زرونی نے ان کو موسیٰ بن اسحٰق انصاری نے ان کو خالد بن یزید بن عبدالملک نے صفون بن سلیم سے اس نے عطاء بن یسار سے اس نے ابو سعید خدری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمام مہینوں میں سردار مہینہ رمضان ہے اور حرمت کے اعتبار سے سب سے زیادہ عظمت والا ذوالحجہ ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← خالد بن يزيد بن عبد الملك ← مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ ← أحمد بن محمود بن حرزاد الكازروني ← القاضي أبو عمر محمد بن الحسين بن محمد بن الهيثم

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3755

chevron_left Previous
1…868788…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood