Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ستة أيام من شوال · حديث 3731

3731 - و أخبرنا أبو عبد الله نا أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا ابن نمير نا سعد بن سعيد الأنصاري أخو يحيى بن سعيد أخبرني عمر بن ثابت رجل من بني الحارث حدثني أبو أيوب الأنصاري : فذكره بمثله رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن عبد الله بن نمير عن أبيه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے ان کو احمد بن جعفر قطیمی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن نمیر نے ان کو سعد بن سعید انصاری نے وہ بھائی تھے یحییٰ بن سعید کے ان کو عمر بن ثابت نے یہ آدمی تھے بنی حارث سے ان کو ابو ایوب انصاری نے پھر اس نے ذکر کی مذکورہ روایت کی مثل۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن عبداللہ بن نمیر سے اس نے اپنے والد سے۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أبو أيوب الأنصاري فذكره بمثله رواه مسلم في الصحيح ← عمر بن ثابت رجل من بني الحارث ← سعد بن سعيد الأنصاري أخو يحيى بن سعيد ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting six days of Shawwal · Hadith 3731

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ستة أيام من شوال · حديث 3732

3732 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني نا أبو سعيد بن الأعرابي نا محمد بن سلمة الواسطي و أبو يحيى بن ميسرة قالا نا الحميدي نا عبد العزيز بن محمد عن صفوان بن سليم و سعد بن سعيد عن عمر بن ثابت الأنصاري عن أبي أيوب الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صام رمضان و اتبعه بست من شوال فكأنما صام الدهر

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن سلمہ واسطی نے اور ابو یحییٰ بن میسرہ سے دونوں کو حمیدی نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے صفوان بن سلیم سے اور سعید بن سعید سے ان کو عمر بن ثابت انصاری نے ان کو ابو ایوب انصاری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور اس کے پیچھے لگائے چھ روزے شوال کے پس گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھ لیے۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ ← صفوان بن سليم و سعد بن سعيد ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← محمد بن سلمة الواسطي و أبو يحيى بن ميسرة ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting six days of Shawwal · Hadith 3732

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ستة أيام من شوال · حديث 3733

3733 - و حدثنا أبو محمد أنا أبو سعيد نا محمد بن إسماعيل الصائغ نا سعيد بن منصور نا عبد العزيز بن محمد الدراوردي : فذكره بمثله بإسناده غير أنه لم يقل الأنصاري في الموضعين

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد نے ان کو ابو سعید نے ان کومحمد بن اسماعیل صائغ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو عبدالعزیز بن محمد در اور دی نے پھر اسی کو ذکر کیا ہے اسی کی مثل اپنی اسناد کے ساتھ سوائے اس کے کہ اس نے الانصاری نہیں کہا دونوں جگہ پر۔

سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ← أَبُو سَعِيدٍ ← أَبُو مُحَمَّد ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting six days of Shawwal · Hadith 3733

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ستة أيام من شوال · حديث 3734

3734 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال البزار نا أحمد بن منصور و السري بن خزيمة و حدثنا أبو الحسن العلوي أنا أبو بكر بن عبد الله بن الحسين الجنائدي القهنستاني نا السري بن خزيمة نا عبد الله بن يزيد المقري نا سعيد بن أبي أيوب عن عمرو بن جابر عن جابر بن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من صام رمضان و ستة أيام من شوال فكأنما صام السنة كلها و روي ذلك أيضا عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال بزاز نے ان کو احمد بن منصور اور سری بن خزیمہ نے اور ہمیں حدیث بیان کی علوی نے ان کو ابو بکر بن عبداللہ بن حسن جنائدی قہستانی نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو سعید بن ابو ایوب نے ان کو عمرو بن جابر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے کہ رسول اللہ نے فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور چھ دن شوال کے گویا کہ اس نے روزے رکھےسال بھر کے۔ یہ بھی روایت ہے ثوبان سے اس نے نبی کریم سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عمرو بن جابر ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أبو بكر بن عبد الله بن الحسين الجنائدي القهنستاني ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← أحمد بن منصور و السري بن خزيمة و ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّار، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting six days of Shawwal · Hadith 3734

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ستة أيام من شوال · حديث 3735

3735 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أحمد بن عمرو البزاز نا محمد بن عقبة السدوسي نا الوليد بن مسلم نا يحيى بن الحارث الذماري عن أبي الأشعث عن أبي أسماء عن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صام رمضان و اتبعه ستا من شوال فكأنما صام الدهر و رواه يحيى بن حمزة عن يحيى بن الحارث سمع أبا أسماء عن ثوبان لم يذكر أبا الأشعث في إسناده

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کوا حمد بن عبید صفار نے ان کواحمد بن عمرو بزاز نے ان کو محمد بن عقبہ سدوسی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو یحییٰ بن حارث ذماری نے ان کو ابو الاشعث نے ان کو ابو اسماء نے ان کو ثوبان نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور اس کے پیچھے چھ روزے رکھے شوال کے گویا کہ اس نے سال بھر کے روزے رکھے اور اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن حمزہ نے ان کو یحییٰ بن حارث نے اس نے سنا ابو اسماء سے اس نے ثوبان سے اس نے ابوالاشعث کا ذکر اپنی اسناد میں نہیں کیا۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّازُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting six days of Shawwal · Hadith 3735

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ستة أيام من شوال · حديث 3736

3736 - أخبرنا أحمد بن الحسين و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا عبد الله بن يوسف نا يحيى بن حمزة حدثني يحيى بن الحارث أنه سمع أبا أسماء الرحبي يحدث عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : صيام شهر بعشرة أشهر و ستة أيام بعده بشهرين فذلك تمام السنة يعني رمضان و ستة أيام بعده

ہمیں خبر دی احمد بن حسین اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو عبداللہ بن یوسف نے ان کو یحییٰ بن حمزہ نے ان کو یحییٰ بن حارث نے انہوں نے سنا ابو اسماء رحبی سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ثوبان مولیٰ رسول اللہ سے کہ رسول اللہ نے فرمایا مہینے کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں(کیونکہ ایک نیکی کا ثواب دس کا ہوتا ہے) اور چھ دن بعد رمضان کے دو ماہ کے برابر ہیں ۔ یہ پورا سال بھر ہوا یعنی رمضان اور اس کے بعد چھ دن۔

ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبا أسماء الرحبي ← يحيى بن الحارث أنه ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أحمد بن الحسين و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting six days of Shawwal · Hadith 3736

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ستة أيام من شوال · حديث 3737

3737 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو إسماعيل الترمذي نا ابن أبي السري نا بقية بن الوليد الحمصي عن إسماعيل بن بشير عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصائم بعد رمضان كالكار بعد الفار

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ان کو ابن ابو السری نے ان کو بقیہ بن ولید حمصی نے ان کو اسماعیل بن بشر نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: رمضان کے بعد روزہ رکھنے والا بھاگنے والے کے بچا ہوا مال سمیٹنے والے کی طرح ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← إسماعيل بن بشير ← بقية بن الوليد الحمصي ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting six days of Shawwal · Hadith 3737

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصوم في الأشهر الحرم · حديث 3738

3738 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا موسى بن إسماعيل نا حماد عن سعيد الجريري عن أبي السليل عن مجيبة الباهلية عن أبيها أو عمها : أنه أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم انطلق فأتاه بعد سنة و قد تغيرت حاله و هيئته فقال : يا رسول الله أما تعرفني ؟ قال : و من أنت ؟ قال : أنا الباهلي الذي جئتك عام الأول قال : فما غيرك و قد كنت حسن الهيئة ؟ قال : ما أكلت طعاما منذ فارقتك إلا بليل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم عذيت نفسك ثم قال : صم شهر الصبر و يوما من كل شهر قال : زدني فإني بي قوة قال : صم يومين قال : زدني فإن بي قوة قال : صم ثلاثة أيام : زدني قال : صم من الحرم و اترك صم من الحرم و اترك صم من الحرم و اترك و قال بأصابعه الثلاثة ثم أرسلها

ہمیں خبر دی ابو علی روذ باری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو حماد نے ان کو سعید جریری نے ان کو ابوالسلیل نے اس نے محبیبہ باہلیہ سے اس نے اپنے والد سے یا اپنے چچا سے وہ رسول اللہ پھر چلا گیا اس کے بعد وہ ایک سال بعد حضور کے پاس آیا ۔ اس وقت اس کا حال بدل چکا تھا اور صورت تبدیل ہو گی تھی اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ مجھے نہیں پہچانتے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ آپ کون ہیں؟ بولے کہ میں باہلی ہوں جو ایک سال قبل آ پ کے پاس حاضر ہوا تھا جب سے میں نے دن کا کھانا چھو ڑ دیا ہے صرف رات کو کھاتا ہوں۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ آپ نے اپنے نفس کو کیوں عذاب دیا ہے؟ اس کے بعد فرمایا کہ صبر کےمہینے کے روزے رکھا کر اور صرف ایک دن ہر مہینے میں۔ اس نے کہا میرے لیے اور زیادہ کر دیجئے۔ مجھے اس کی طاقت ہے۔ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم روزہ رکھو محترم مہینے کا پھر چھوڑ دو پھر روزہ رکھو محترم مہینے کا پھر چھوڑ دواور آپ نے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ کیا پہلے تینوں کو ملا پھر چھی پھر چھوڑ کر دیکھا یا کہ ایسے کرو۔

مجيبة الباهلية ← أَبِي السَّلِيلِ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting during the sacred months · Hadith 3738

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصوم في الأشهر الحرم · حديث 3739

3739 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا سعيد الجريري عن أبي السليل عن امرأة من باهلة يقال لها مجيبة قالت : حدثني أبي أو عمي شك الجريري قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في حاجة قال : من أنت ؟ قلت : أو ما تعرفني فذكر الحديث بمعناه غير أنه قال في آخره صم شهر الصبر و ثلاثة أيام من كل شهر و من المحرم و افطر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ بن فضل نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو سعید جریری نے ان کو ابو السلیل نے ان کو ایک خاتون ن ے قبیلہ باہلہ سے ان کو کہا جاتا تھا مجیبہ۔ ان کو بیان کیا ان کے والد نے یا چچا نے جریری کا شک ہے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس گیا کسی ضرورت سے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا کہ آپ مجھے نہیں پہچانتے۔ اس کے بعد اس نے حدیث ذکر کی۔ مذکور کے مفہوم میں۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا اس کے آخر میں کہ تم صبر والے مہینے کے روزے رکھو اور ہر ماہ تین روزے رکھو اور محرم میں رکھو اور باقی نہ رکھو۔

الحديث بمعناه غير أنه ← من أنت قلت أو ما تعرفني ← أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في حاجة ← أبي أو عمي شك الجريري ← امرأة من باهلة يقال لها مجيبة ← أَبِي السَّلِيلِ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting during the sacred months · Hadith 3739

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصوم في الأشهر الحرم · حديث 3740

3740 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا يحيى بن أبي بكير نا زهير بن محمد بن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن السلولي عن كعب قال : اختار الله عز و جل البلاد فأحب البلدان إلى الله عز و جل البلد الحرام و اختار الله عز و جل الزمان فأحب الزمان إلى الله الأشهر الحرم و أحب الأشهر إلى الله ذو الحجة و أحب ذي الحجة إلى الله تعالى العشر الأول منه و اختار الله الأيام فأحب الأيام إلى الله يوم الجمعة و اختار الله الليالي فأحب الليالي إلى الله عز و جل ليلة القدر و اختار الله ساعات الليل و النهار فأحب الساعات إلى الله ساعات الصلوات المكتوبات و اختار الله الكلام فاحب الكلام إلى الله تعالى لا إله إلا الله و الله أكبر و سبحان الله و الحمد لله من قال لا إله إلا الله فهي كلمة الإخلاص كتب الله بها عشرون حسنة و حط عنه بها عشرون سيئة و من قال الله أكبر فذاك جلال الله كتب له بها عشرون حسنة و محا عنه بها عشرون سيئة و من قال سبحان الله قال الله عز و جل حين خلق خلقه استوى على عرشه سبح له عرشه كتب له بها عشرون حسنة و محا عنه بها عشرون سيئة و من قال الحمد لله فذاك ثناء الله كتب الله له بها ثلاثين حسنة و محا عنه بها ثلاثين سيئة و رويناه من وجه آخر عن كعب أنه قال : و اختار الشهور فجعل منهن شهر رمضان و اختار البقاع فجعل منها المساجد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو سلونی نے ان کو کعب نے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شہروں کا انتخاب فرمایا۔ پس اللہ کے نزدیک محبوب ترین شہر بلاد الحرم ہے پھر اللہ نے زمانوں میں چناؤ کیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ زمانہ اشہر حرم ہیں (محترم مہینے) اور سب مہینوں میں زیادہ محبوب مہینہ ذوالحجہ ہے اور پھر ذوالحجہ میں سے زیادہ پیارا عشرہ اول ہے اس کا ' پھر اللہ تعالیٰ نے دنوں کا انتخاب فرمایا سب دنوں میں محبوب دن اللہ تعالیٰ کے ہاں جمعہ کادن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے راتوں کا انتخاب فرمایا سب سے زیادہ محبوب رات اللہ کے نزدیک لیلۃ القدر ہے۔ اللہ نے ساعات کو چاندنی رات میں سے چنا بس اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین ساعت فرض نمازوں کی ساعات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کلام کا انتخاب فرمایا تو اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین کلام لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اور سبحان اللہ والحمد للہ ہے جو شخص لا الہ الا اللہ کہے پس یہ کلمہ اخلاص ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے بدلے میں نیکیاں لکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس سے اس کے ذریعے بیس گناہ مٹا دیتے ہیں اور جو شخص اللہ اکبر کہے تویہ اللہ تعالیٰ کا جلال ہے اس کے ذریعے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور بیس گناہ مٹ جائیں گے اور جو شخص کہے سبحان اللہ اللہ تعالیٰ نے کہ کلمہ اپنی مخلوق کو پیدا فرماتے وقت فرمایا تھا جب اپنے عرش پر مستوی ہو ئے تھے اس کے عرش نے اس کی تسبیح کی تھی اس کے لیے اس کے بدلے میں بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے بیس گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں اور جو شخص کہے الحمد للہ تو یہ اللہ کی ثنا ء ہے اللہ اس کے لیے اس کے بدلے میں تیس نیکیاں لکھیں گے اور اس کے تیس گناہ معاف فرمائیں گے اور ہم نے اس کو دوسرے طریق سے روایت کیا ہے کعب سے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مہینوں میں اس انتخاب فرمایا تو ان میں ماہ رمضان کو منتخب فرمایا اور زمین کو حصوں کو چنا تو ان میں سے مساجد کو منتخب فرمایا ۔

کَعْبٍ ← السَّلُولِيِّ ← أَبِيهِ ← زهير بن محمد بن سهيل بن أبي صالح ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting during the sacred months · Hadith 3740

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصوم في الأشهر الحرم · حديث 3741

3741 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن علي الوراق نا أبو النعمان نا معتمر بن سليمان قال : قال أبي حدثني رجل عن أبيه عن قيس بن عباد أنه ذكر أشهر الحرم فقال : ليس منها إلا في العاشر منه خير قال : فذكر في ذي الحجة في العاشر النحر و هو يوم الحج الأكبر و في المحرم العاشر يوم عاشوراء و في العاشر من رجب يمحو الله ما يشاء و يثبت قال : و نسيت ما قال في ذي القعدة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کو ابو نعمان نے ان کو معتمر بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا ایک آدمی نے مجھے حدیث بیان کی اپنے والد سے اس نے قیس بن عباد سے کہ انہوں نے اشہر حرم کا ذکر کیا تو فرمایا کہ نہیں ہے ان میں سے مگر دسویں میں اس سے کوئی چیز ۔ انہوں نے کہا کہ ذکر کیا گیا ہے ذوالحجہ میں دسویں میں قربانی کرنا اور وہی حج اکبر کا دن ہے اور محرم میں دسواں یوم عاشورہ ہے اور رجب میں دسواں دن مٹاتا ہے اللہ جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا جو چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بھول گیا ہوں کہ آپ نے کیا فرمایا تھا ذیقعدہ کے بارے میں۔ (ذیقعدہ ' ذوالحجہ ' محرم اور رجب یہ اشہر الحرام اور محترم مہینے ہیں)۔

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← أَبِيهِ ← رَجُلٌ: ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting during the sacred months · Hadith 3741

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصوم في الأشهر الحرم · حديث 3742

3742 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قال : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب نا يعقوب بن إسحاق الحضرمي نا عبيد الله بن نضر القيسي نا أبي عن جدي عن قيس بن عباد قال : الأشهر الحرم في اليوم العاشر من كل شهر منها أمر فاليوم العاشر من ذي الحجة يوم النحر و اليوم العاشر من المحرم عاشوراء و اليوم العاشر من رجب يمحو الله ما يشاء و يثبت و نسيت ما قال في ذي القعدة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو یعقوب بن اسحٰق حضرمی نے ان کو عبیداللہ بن نضر قیسی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو قیس بن عباد نے وہ کہتے ہیں کہ اشہر الحرام دراصل ہر مہینے کی دسویں تاریخ ہے یعنی اس میں کوئی امر ہے ذوالحجہ کا دسواں دن قربانی ہے اور محرم کا دسواں عاشورہ ہے اور رجب کا دسواں دن اس میں اللہ جو چاہے مٹاتے ہیں جو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں۔ میں بھول گیا کہ انہوں نے ذیقعدہ کے بارےمیں کیا فرمایا تھا ۔ ذوالحجہ کے دس ایام کی تخصیص ان میں عمل کرنے کی سخت کوشش کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : "والفجر ولیا ل عشر " صبح کی قسم اور دس راتوں کی قسم (یعنی عشرہ ذوالحجہ)

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← جَدِّي، ← أَبِي ← عبيد الله بن نضر القيسي ← يعقوب بن إسحاق الحضرمي ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting during the sacred months · Hadith 3742

chevron_left Previous
1…858687…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood