Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3719

3719 - و بإسناده عن كعب الأحبار قال : أوحى الله إلى موسى عليه السلام : يا موسى إني ألهم في رمضان السموات و الأرض و الجبال و الطير و الدواب و الهوام أن يستغفروا لصائمي رمضان : يا موسى أطلب ثلاثة ممن يصوم رمضان فصل معهم و كل اشرب معهم فإني لا أنزل عقوبتي و لا نقمتي في بقعة فيها ثلاثة ممن يصوم رمضان يا موسى إن كنت مسافرا فأقدم و عن كنت مريضا فمرهم أن يحملوك و قل للنساء و الحيض و الصبيان الصغار أن يبرزوا معك حيث يبرز صائمو رمضان عند تصرم رمضان فإني لو أذنت لسمائي و أرضي لسلمتا عليهم و لكلمتاهم و لبشرتاهم بما أخبرهم إني أقول عبادي الذين صاموا رمضان ارجعوا إلى رحالكم فقد أرضيتموني و جعلت ثوابكم من صيامكم أن أعتقكم من النار و أن أحاسبكم حسابا يسيرا و أن أقبل لكم العثرة و أن أخلف لكم النفقة و أن لا أفضحكم بين يدي أحد و عزتي لا تسألوني شيئا بعد صيام رمضان و موقفكم هذا من آخرتكم إلا أعطيتكم و لا تسألوني شيئا من أمر دنياكم إلا نظرت لكم

اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے کہ کعب الاحبار سے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی کہ اے موسیٰ بے شک میں رمضان میں الہام کرتا ہوں آسمانوں کو اور زمین کو اور پہاڑوں کو اور پرندوں کو اور چوپائیوں کو اور بلوں میں رہنے والے موذی جانوروں کو کہ وہ استغفار کریں رمضان کا روزہ رکھنے والوں کے لیے۔ اے موسیٰ تین چیزیں طلب کر ان لوگوں سے جو رمضان کا روزہ رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ نماز پڑھو ان کے ساتھ کھا پی بے شک میں اپنا عذاب نہیں اتاروں گا اور نہ ہی اپنی ناراضگی اس ٹکرائے زمین پر جس پر تین رمضان کے روزہ رکھنے والے موجود ہوں اے موسیٰ اگر تو مسافر ہوا کرے تو بیٹھ جا اور تو بیمار ہو تو ان کو کہہ وہ تجھ کو سواری دیں اور کہہ دے عورتوں سے اور ناپاکی والی خواتین سے اور چھوٹے بچوں سے کہ وہ تیرے ساتھ نکل کر آیا کریں جس جگہ رمضان کا روزہ رکھنے والے نکل کر آئیں۔ رمضان کے اختتام کے وقت بے شک میں اگر اجازت دے دوں اپنے آسمانوں سے اور اپنی زمین سے تو وہ ان روزہ رکھنے والوں کو سلام کریں اور ان سے بات چیت کریں اور ان کو بشارت دیں ان باتوں کی جو میں ان کو خبر دوں۔ بے شک میں کہوں گا کہ میرے وہ بندے جنہوں نے رمضان کے روزے رکھے ہیں واپس لوٹ جاؤ اپنے گھروں کو تم لوگوں نے مجھ کو راضی کر لیا ہے اور میں نے تمہارا ثواب تمہارے روزوں میں سے یہ بنا دیا ہے کہ میں تمہیں جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہوں اور میں تمہارا حساب آسان کر دوں گا اور میں تمہاری لغزش معاف کر دوں گا اور تمہیں اپنی طرف سے نفقہ دوں گا اور تمہیں میں کسی کے آگے رسوا نہیں کروں گا مجھے میری عزت کی قسم ہے تم جو بھی چیز مانگتے تھے بعد صیام رمضان کے اور میں اس کو تمہاری آخرت کی ضرورت سمجھتا تھا تو تمہیں وہ ضرور دے سکتا تھا اور جو چیز تم امر دنیا میں سے مانگتے تھے وہ تمہارے لیے محفوظ کر دیتا تھا۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3719

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3720

3720 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا العباس بن محمد نا أحمد بن إسحاق نا عبد السلام البزار عن أدهم مولى عمر بن عبد العزيز قال : كنا نقول لعمر بن عبد العزيز في العيدين تقبل الله منا و منك يا أمير المؤمنين فيرد علينا و لا ينكر ذلك علينا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو احمد بن اسحٰق نے ان کو عبدالسلام بزاز نے ان کو ادہم مولیٰ عمر بن عبدالعزیز نے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ عیدین میں عمر بن عبدالعزیز سے کہتے تھے اللہ قبول فرمائے ہم سے اور آپ سے اے امیر المؤمنین وہ ہمیں اس طرح جواب دیتے تھے اور ہمارے اوپر اس سے انکار نہیں کرتے تھے۔

أدهم مولى عمر بن عبد العزيز ← عبد السلام البزار ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3720

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3721

3721 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن أبي قماش نا مسلم بن إبراهيم عن ثواب بن عتبة عن ابن بريدة عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا يطعم يوم النحر حتى يرجع فيأكل من لحم نسكه و لا يخرج يوم الفطر حتى يأكل تمرات

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن قماش نے ان کومسلم بن ابراہیم نے ان کو ثواب بن عقبہ نے ان کو ابن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید قربان کے دن عید سے قبل کچھ نہیں کھاتے تھے حتیٰ کہ عید سے واپس آ جاتے اور اپنے قربانی کے گوشت میں سے کھاتے تھے اور عید الفطر کے دن نکلنے سے قبل چند کھجوریں کھا لیتے تھے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← ثَوَابُ1 بْنُ عُتْبَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3721

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3722

3722 - أخبرنا أبو عبد الله أنا حامد بن محمد الهروي نا محمد بن أحمد بن النضر نا أبو غسان مالك بن إسماعيل نا زهير بن معاوية نا عتبة بن حميد الضبي حدثني عبيد الله بن أبي بكر بن أنس سمعت أنس بن مالك يقول : ما خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فطر حتى يأكل تمرات ثلاثا أو خمسا أو سبعا أو أقل من ذلك أو أكثر من ذلك أخرجه البخاري في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حامد بن محمد ہروی نے ان کو محمد بن احمد بن نضر نے ان کو ابو غسان مالک بن اسماعیل نے ان کو زہیر بن معاویہ نے ان کو عتبہ بن حمید ضبی نے ان کو عبید اللہ بن ابو بکر بن انس نے کہ میں نے سنا ابن مالک سے وہ کہتے تھے نہیں نکلے رسول اللہ کبھی عید الفطر کے دن حتیٰ کہ آپ نے پہلے کھجوریں کھائیں تین یا پانچ یا سات یا دس سے کم یا زیادہ۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے صحیح میں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3722

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3723

3723 - حدثنا أبو سعد الزاهد أنا محمد بن عبد الواحد الخزاعي نا محمد بن هارون الثففي نا أحمد بن محمد بن مسروق نا محمد بن الحسين البرجلاني حدثني أبو الحسين الرقي سلمان بن مسلم الختلي قال : مر غزوان الرقاشي و نظر إلى الناس في يوم العيد يزاحم بعضهم بعضا فبكى فقال : ما رأيت شيئا أشبه بوقوف القيامة من هذا اليوم ثم رجع إلى منزله مريضا

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو سعد زاہد نے ان کو محمد بن عبدالواحد خزاعی نے ان کو محمد بن ہارون ثقفی نے ان کو احمد بن محمد بن مسروق نے ان کو محمد بن حسین برجلانی نے ان کو ابوالحسین رقی نے ان کو سلمان بن مسلم ختلی نے انہوں نے کہا کہ غزوان رقاشی گزرے اور عید کے دن انہوں نے لوگوں کی طرف دیکھا بعض بعض کو مزاحم ہو رہے تھے دیکھ کر رو پڑے اور کہنے لگے میں نے کوئی شے نہیں دیکھی جو قیامت کے دن کے قیام سے زیادہ مشابہ ہو آج کے اس اجتماع سے پھر اپنے گھر میں جا کر بیمار پڑ گئے۔

أبو الحسين الرقي سلمان بن مسلم الختلي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبُرْجُلَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ← محمد بن هارون الثففي ← محمد بن عبد الواحد الخزاعي ← أبو سعد الزاهد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3723

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3724

3724 - حدثنا أبو سعد الزاهد نا أبو الحسن عبد الوهاب بن الحسن الكلابي بدمشق نا أبو الجهم أحمد بن الحسين نا مؤمل نا سيار عن جعفر قال : سمعت شميط بن عجلان يقول : انظروا إلى الناس يوم عيدهم في محشرهم و مجمعهم فما يرى عليهم إلا خرقة تبلى أو لحم يأكله التراب غدا

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو سعد زاہد نے ان کو اابو الحسین عبدالوہاب بن کلابی نے دمشق میں ان کو ابوالجہم احمد بن حسین نے ان کومومل نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا شمیط بن عجلان سے وہ کہتے تھے لوگوں کی طرف دیکھ کر ان کی عید کے دن (یہی منظر ہو گا ان کا) ان کے حشر کے دن ان کےمجمع کا(فرق یہ ہے) نہیں نظر آتا آج کے دن جسم پر مگر کپڑے کا ایک چیتھڑا جو کل بوسیدہ ہو جائے گا یا جسم پر گوشت ہے جس کو کل کلاں کو مٹی کھا جائے گی۔

شميط بن عجلان ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أبو الجهم أحمد بن الحسين، ← أبو الحسن عبد الوهاب بن الحسن الكلابي بدمشق ← أبو سعد الزاهد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3724

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3725

3725 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا منصور بن محمد بن إبراهيم أنا محمد بن أحمد بن البنا قال نا أبي نا إبراهيم بن الجنيد عن محمد بن الجنيد عن محمد بن يزيد بن خنيس قال : رأيت وهيب بن الورد صلى ذات يوم العيد فلما انصرف الناس جعلوا يمرون به فنظر إليهم ثم زفر ثم قال : لئن كان هؤلاء القوم أصبحوا مستيقنين أنه قد تقبل منهم شهرهم هذا لكان ينبغي لهم أن يصبحوا مشاغيل بإداء الشكر و لئن كانت الأخرى لقد كان ينبغي لهم أن يصبحوا أشغل و أشغل

ہمیں حدیث بیان کی ہےعبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو منصور بن محمدبن ابراہیم نے ان کو محمد بن احمد بن بنانے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ہمارے والد نے ان کو ابراہیم بن جنید نے ان کو محمد بن جنید نے ان کو محمد بن یزید بن خنیس نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا وہیب بن ورد کو ایک دن انہوں نے عید کی نماز پڑھی جب لوگ واپس ہوئے تو لوگ ان کے سامنے گزرتے رہے اور وہ ان کو دیکھتے رہے اس کے بعد وہ واپس لوٹ آئے اس کے بعد وہ کہنے لگے اگر یہ سارے لوگ البتہ اگر صبح کرتے وقت یقین رکھتے تھے کہ ان سے یہ مہینہ قبول ہو جائے گا تو مناسب ہے کہ یہ لوگ صبح سے شکر ادا کرنے میں مشغول ہوں اور اگر دوسری کیفیت ہے تو مناسب تھا کہ وہ صبح کرتے زیادہ مشغول اور زیادہ مشغول ہوتے (یعنی معافی مانگنے میں)۔

مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْجُنَيْدِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← أَبِي ← محمد بن أحمد بن البنا ← منصور بن محمد بن إبراهيم ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3725

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3726

3726 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي ببغداد أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني هارون بن عبد الله قال نا محمد بن يزيد بن خنيس قال : انصرف الناس ذات يوم من العيد فرأى وهيب الناس و هم يمرون به في ذلك الزي فنظر إليهم ساعة ثم قال : عفا الله عنا و عنكم لئن كنتم أصبحتم مستيقنين أن الله عز و جل قد تقبل منكم هذا الشهر لقد كان ينبغي لكم أن تصبحوا مشاغيل عما أنتم فيه بطلب الشكر و إن كانت الأخرى خائفين أن لا يكون تقبل منكم لقد كان ينبغي لكم أن تكونوا أشغل قلوبا عما أنتم فيه اليوم

ہمیں خبر دی ابو القاسم حرفی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابو دنیا نے ان کو ہارون بن عبدالہ نے ان کو محمد بن یزید بن خنیس نے اس نے کہا کہ ایک دن لوگ عید سے واپس لوٹ رہے تھے کہ ان کو وہیب نے دیکھا وہ اس کے قریب کچھ ایسی صورت سے گزررہے تھے کہ وہ ان کو لحظہ بھر دیکھتے رہے پھر کہنے لگے اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں معاف فرمائے اگر تم لوگوں نے صبح اس یقین کے ساتھ کی ہے اللہ تعالیٰ سے یہ مہینہ قبول کر لیں گے تو یہ تمہارے لیے مناسب تھا کہ تم مصروف ہو جاتے (شکر کرنے میں) ان تمام مشاغل سے جن میں تم لگے ہوئے ہو اور ہے دوسری بات کہ تمہیں قبولیت کا کوئی یقین نہیں بلکہ خوف ہے کہ کہیں قبولیت رد نہ ہو جائے تو تمہیں اس غفلت کی بجائے جس میں تم اس وقت ہو اللہ کی طرف رجوع ہونا چاہیے تھا۔

مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم الحرفي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3726

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3727

3727 - و أخبرنا أبو القاسم نا أحمد نا عبد الله حدثني محمد بن عبد المجيد التميمي نا سفيان قال رأى وهيب قوما يضحكون يوم الفطر فقال : إن كان هؤلاء تقبل عنهم صيامهم فما هذا فعل الشاكرين و إن كان هؤلاء لم يتقبل منهم صيامهم فما هذا فعل الخائفين

ہمیں خبر دی ابو القاسم نے ان کو احمد بن عبداللہ نے ان کومحمد بن عبدالحمید تمیمی نے ان کو سفیان نے اس نے کہا کہ حضرت وہیب نے کچھ لوگوں کو ہنستے ہوئے دیکھا یوم فطر کے دن تو فرمایا کہ اگر ان سے ان کے روزے قبول ہو گئے ہیں تو یہ شکر کرنے والوں کا فعل نہیں ہے اور اگر یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کے روزے قبول نہیں ہوئے تو یہ خوف کرنے والوں کا فعل نہیں ہے۔

رَأَى وُهَيْبٌ قَوْمًا يَضْحَكُونَ يَوْمَ الْفِطْرِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ التَّمِيمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3727

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3728

3728 - و أخبرنا أبو القاسم نا أحمد نا عبد الله بن أبي الدنيا نا إبراهيم بن عبد الملك نا هشام بن عمار نا صدقة بن خالد نا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر حدثني سليم بن عامر قال : سمعت عبد الله بن قرظ الأزدي و كان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم على المنبر و هو يقول في يوم أضحى أو أفطر و رأى على الناس ألوان الثياب فقال يا لها من نعمة ما أسبغها و يا لها من كرامة ما أظهرها و إنه ما زال عن جادة قوم أشد من نعمة لا يستطيعون ردها و إنما تثبت النعمة لشكر المنعم عليه للمنعم

ہمیں خبر دی ابو القاسم نے ان کو احمد بن عبداللہ بن ابو الدنیا نے ان کو ابراہیم بن عبدالملک نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو صدقہ بن خالد نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے ان کو سلیم بن عامر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن قرظ ازدی سے اور وہ اصحاب نبی میں سے تھے اور منبر پر تھے اور وہ فرما رہے تھے عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن جب کہ انہوں نے لوگوں پر رنگ برنگے کپڑے دیکھے تھے تو انہوں نے کہا: اے افسوس کتنی نعمتیں ہیں جن کو ابھی اس نے پورا نہیں کیا اور کتنی مہربانیاں ہیں جن کو اس نے ظاہر نہیں کیا۔ اللہ کی وہی سنت ہے ذرا بھر بھی نہیں ہٹا اس سے کہ اس نے دیگر قوموں کی طرح ان پر بھی اتنے انعام کیے ہیں جن کا شکر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے سوائے اس کے نہیں کہ نعمت قائم ہوتی ہے اور پائیدار ہوتی ہے منعم علیہ کی طرف سے اپنے منعم کے شکر کرنے سے۔

سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3728

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3729

3729 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني املاء أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا محمد بن إسماعيل الصائغ نا يحيى بن عبد الحميد نا عبد الرحيم بن زيد العمي عن أبيه عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أدرك شهر رمضان بمكة من أوله إلى آخره صيامه و قيامه كتب له مائة ألف شهر رمضان في غيرها و كان له بكل يوم مغفرة و شفاعة و بكل ليلة مغفرة و شفاعة و بكل يوم حملان فرس في سبيل الله و له بكل يوم دعوة مستجابة تفرد به عبد الرحيم بن يزيد و ليس بالقوى

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن اسماعیل صائغ نے ان کو یحییٰ بن عبدالحمید نے ان کو عبدالرحیم ب زید عمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص اول سے آخر تک پورا رمضان کامہینہ مکہ مکرمہ میں پالے اس کے روزے بھی رکھے اور راتوں کو عبادت بھی کرے اس کے لیے سو ہزار رمضان کی عبادت (یعنی ایک لاکھ رمضان) لکھی جائے گی غیر مکے کے لحاظ سے اور اس کے لئے ان میں سے ہر دن مغفرت اور شفاعت ہو گی اور ہر رات میں مغفرت اور شفاعت ہو گی اور ہر دن اللہ تعالیٰ کی راہ میں یعنی جہاد فی سبیل میں سواری کرنے کی سعادت لکھی جائے گی اور ہر روز اس کے لیے ایک مستجاب دعا ہو گی۔ اس روایت کے ساتھ عبدالرحیم بن یزید منفرد ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِيهِ ← عبد الرحيم بن زيد العمي ← يحيى بن عبد الحميد ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عبد الله بن يوسف الأصبهاني املاء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3729

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ستة أيام من شوال · حديث 3730

3730 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و عبد الله بن يوسف الأصبهاني قالا نا الأصم نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا محاضر بن المورع نا سعد بن سعيد الأنصاري أخبرني عمر بن ثابت الأنصاري قال : سمعت أبا أيوب الأنصاري يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من صام رمضان ثم اتبعه ستا من شوال فذاك صيام الدهر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان دونوں کو اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کومحاضر بن مورع نے ان کو سعد بن سعید انصاری نے ان کو عمر بن ثابت انصاری نے انہوں نے سنا ابو ایوب انصاری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے تھے جو شخص رمضان کے روزے رکھ لے اس کے بعد ان کے پیچھے لگائے چھ روزے شوال کے یہ روزے ہوں گے سال بھر کے (ثواب کے اعتبار سے)۔

من صام رمضان ثم أتبعه ستاً من شوال فذاك صيام الدهر ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ ← سعد بن سعيد الأنصاري ← مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← الأَصَمُّ: ← أبو عبد الله الحافظ و عبد الله بن يوسف الأصبهاني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting six days of Shawwal · Hadith 3730

chevron_left Previous
1…848586…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood