شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3719
3719 - و بإسناده عن كعب الأحبار قال : أوحى الله إلى موسى عليه السلام : يا موسى إني ألهم في رمضان السموات و الأرض و الجبال و الطير و الدواب و الهوام أن يستغفروا لصائمي رمضان : يا موسى أطلب ثلاثة ممن يصوم رمضان فصل معهم و كل اشرب معهم فإني لا أنزل عقوبتي و لا نقمتي في بقعة فيها ثلاثة ممن يصوم رمضان يا موسى إن كنت مسافرا فأقدم و عن كنت مريضا فمرهم أن يحملوك و قل للنساء و الحيض و الصبيان الصغار أن يبرزوا معك حيث يبرز صائمو رمضان عند تصرم رمضان فإني لو أذنت لسمائي و أرضي لسلمتا عليهم و لكلمتاهم و لبشرتاهم بما أخبرهم إني أقول عبادي الذين صاموا رمضان ارجعوا إلى رحالكم فقد أرضيتموني و جعلت ثوابكم من صيامكم أن أعتقكم من النار و أن أحاسبكم حسابا يسيرا و أن أقبل لكم العثرة و أن أخلف لكم النفقة و أن لا أفضحكم بين يدي أحد و عزتي لا تسألوني شيئا بعد صيام رمضان و موقفكم هذا من آخرتكم إلا أعطيتكم و لا تسألوني شيئا من أمر دنياكم إلا نظرت لكم
اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے کہ کعب الاحبار سے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی کہ اے موسیٰ بے شک میں رمضان میں الہام کرتا ہوں آسمانوں کو اور زمین کو اور پہاڑوں کو اور پرندوں کو اور چوپائیوں کو اور بلوں میں رہنے والے موذی جانوروں کو کہ وہ استغفار کریں رمضان کا روزہ رکھنے والوں کے لیے۔ اے موسیٰ تین چیزیں طلب کر ان لوگوں سے جو رمضان کا روزہ رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ نماز پڑھو ان کے ساتھ کھا پی بے شک میں اپنا عذاب نہیں اتاروں گا اور نہ ہی اپنی ناراضگی اس ٹکرائے زمین پر جس پر تین رمضان کے روزہ رکھنے والے موجود ہوں اے موسیٰ اگر تو مسافر ہوا کرے تو بیٹھ جا اور تو بیمار ہو تو ان کو کہہ وہ تجھ کو سواری دیں اور کہہ دے عورتوں سے اور ناپاکی والی خواتین سے اور چھوٹے بچوں سے کہ وہ تیرے ساتھ نکل کر آیا کریں جس جگہ رمضان کا روزہ رکھنے والے نکل کر آئیں۔ رمضان کے اختتام کے وقت بے شک میں اگر اجازت دے دوں اپنے آسمانوں سے اور اپنی زمین سے تو وہ ان روزہ رکھنے والوں کو سلام کریں اور ان سے بات چیت کریں اور ان کو بشارت دیں ان باتوں کی جو میں ان کو خبر دوں۔ بے شک میں کہوں گا کہ میرے وہ بندے جنہوں نے رمضان کے روزے رکھے ہیں واپس لوٹ جاؤ اپنے گھروں کو تم لوگوں نے مجھ کو راضی کر لیا ہے اور میں نے تمہارا ثواب تمہارے روزوں میں سے یہ بنا دیا ہے کہ میں تمہیں جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہوں اور میں تمہارا حساب آسان کر دوں گا اور میں تمہاری لغزش معاف کر دوں گا اور تمہیں اپنی طرف سے نفقہ دوں گا اور تمہیں میں کسی کے آگے رسوا نہیں کروں گا مجھے میری عزت کی قسم ہے تم جو بھی چیز مانگتے تھے بعد صیام رمضان کے اور میں اس کو تمہاری آخرت کی ضرورت سمجھتا تھا تو تمہیں وہ ضرور دے سکتا تھا اور جو چیز تم امر دنیا میں سے مانگتے تھے وہ تمہارے لیے محفوظ کر دیتا تھا۔
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3719
