Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3707

3707 - كما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن داود الزاهد حدثني محمد بن الفتح السامري نا عباس بن الربيع بن ثعلب حدثني أبي نا يحيى بن عقبة عن محمد بن جحادة عن أنس بن مالك قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من صلى المغرب و العشاء في جماعة حتى ينقضي شهر رمضان فقد أصاب من ليلة القدر بحظ وافر

جیسے کہ ہمیں ان کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن داؤد زاہد نے ان کو محمد بن فتح سامری نے ان کو عباس بن ربیع بن ثعلب نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن عقبہ نے محمد بن جحادہ سے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مغرب اور عشاء جماعت کے ساتھ پڑھے حتیٰ کہ پورا رمضان گزر جائے تحقیق اس نے پا لیا لیلۃ القدر کا وافر حصہ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ، ← أَبِي ← عباس بن الربيع بن ثعلب ← محمد بن الفتح السامري ← أبو بكر بن داود الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← كَمَا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3707

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3708

3708 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الطيب محمد بن عبد الله بن المبارك نا أحمد بن معاذ السلمي نا سليمان بن سعد القرشي نا أبو مطيع نا سفيان الثوري عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سلم رمضان سلمت السنة و إذا سلمت الجمعة سلمت الأيام قال الإمام أحمد رحمه الله : هذا لا يصح عن هشام و أبو مطيع الحكم بن عبد الله البلخي ضعيف و إنما يعرف هذا الحديث من حديث عبد العزيز بن أبان البلخي أبي خالد القرشي عن سفيان و هو أيضا ضعيف بمرة 3708 - مكرر ـ أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا علي بن إسحاق بن زاطيا نا إبراهيم بن سعيد نا أبو خالد القرشي عن سفيان الثوري : فذكره و قال أبو أحمد بن عدي : و هذا الحديث عن الثوري باطل ليس له أصل و إبراهيم بن سعيد يقول أبو خالد القرشي و لا يسميه لضعفه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الطیب محمد بن عبداللہ بن مبارک نے ان کو احمد بن معاذ سلمی نے ان کو سلیمان بن سعد قرشی نے ان کو ابو مطیع نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جب رمضان سلامتی سے گزر جائے (اعمال کے اعتبار سے) پورا سال سلامتی کے ساتھ گزرتا ہے اور جب ہفتہ سلامتی کے ساتھ گزر جائے (جمعہ ) سارے ایام سلامتی سے گزر تے ہیں ۔ امام احمد نے فرمایا کہ یہ روایت ہشام سے صحیح نہیں ہے اور ابو مطیع حکم بن عبداللہ بلخی ضعیف ہے باقی یہ حدیث پہچانی گئی ہے عبدالعزیز بن ربان کی حدیث سے وہ بلخی ہے یعنی ابو خالد قرشی اس نے سفیان سے اور وہ بھی ضعیف ہے بار بار۔ مکرر ہے ۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدل حافظ نے ان کو علی بن اسحٰق بن زاطیا نے ان کو ابراہیم بن سعید نے ان کو ابو خالد قرشی نے ان کو سفیان ثوری نے پھر اس کو ذکر کیا ہے اور ابو احمد بن عدی نے کہا کہ یہ حدیث ثوری سے باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور ابراہیم بن سعید کہتے ہیں کہ ابو خالد قرشی اس کے ضعف کی وجہ سے اس کانام نہیں لیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو مُطِيعٍ، ← سليمان بن سعد القرشي ← أَحْمَدُ بْنُ مُعَاذٍ السُّلَمِيُّ، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3708

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3709

3709 - أخبرناه أبو طاهر الفقيه أنا عبدوس بن الحسين بن منصور نا أبو حاتم الرازي نا محمد بن عبد الله الأنصاري حدثني حميد الطويل عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قدمت المدينة و لأهل المدينة يومان يلعبون فيهما في الجاهلية و إن الله قد أبدلكم بهما خيرا منهما يوم الفطر و يوم النحر

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو عبدوس بن حسین بن منصور نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو محمد بن عبداللہ انصاری نے ان کو حمید طویل نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ میں مدینے میں آیا اور اہل مدینہ کے لیے دن مقرر تھے جن میں وہ کھیل کود کرتے تھے جاہلیت میں اور بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دونوں کا بدل دے دیا ہے جو کہ ان دونوں سے بہتر ایک یوم فطر دوسرا یوم نحر۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← عبدوس بن الحسين بن منصور ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3709

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3710

3710 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى ابن أبي طالب نا عبد الوهاب بن عطاء نا الربيع بن صبيح عن الحسن و حميد الطويل عن أنس بن مالك قال : قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة و لهم يومان يلعبون فيهما فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل قد أبدلكم يومين هذين خيرا منهما الفطر و الأضحى و زاد الحسن فقال : أما يوم الفطر فصلاة و صدقة قال : يعني الصاع و أما يوم الأضحى فصلاة و نسك يعني ذبائحكم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو ربیع بن صبیح نے ان کو حسن نے ان کو حمید طویل نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں حضور مدینے میں تشریف لائے تو ان لوگوں کے کھیل کود کے دو دن مقرر تھے جن میں وہ کھیلتے تھے ۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دو دنوں کے بدلے میں دو دن اور تمہیں دئیے ہیں جو کہ ان دونوں سےبہتر ہیں۔ ایک ہے عید الفطر دوسرا ہے عید الاضحیٰ اور حسن نے اضافہ کیا ہے حضور نے فرمایا یہ بہر حال یوم فطر میں تو نماز ہے اور صدقہ ہے انہوں نے کہا کہ (ایک صاع صدقہ کرنا مراد لیا تھا) بہر حال یوم الاضحیٰ میں نما ز ہے اور قربانی ہے یعنی تمہارا جانوروں کا ذبح کرنا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الحسن و حميد الطويل ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى ابنُ أبي طَالِبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3710

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3711

3711 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى نا أبو العباس الأصم أنا الربيع أنا الشافعي أنا إبراهيم بن محمد قال : قال ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن أبي الدرداء قال : من قام ليلتي العيدين لله محتسبا لم يمت قلبه حين تموت القلوب قال الشافعي : و بلغنا أنه كان يقال : إن الدعاء يستجاب في خمس ليال في ليلة الجمعة و ليلة الأضحى و ليلة الفطر و أول ليلة من رجب و ليلة النصف من شعبان

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ربیع نے ان کو شافعی نے ان کو ابراہیم بن محمد نے انہوں نے کہا ہے کہ ثور بن یزید روایت کرتے ہیں خالد بن معدان سے وہ ابو درداء سے اس نے کہا ہے کہ جو شخص قیام کرے (رات بھر عبادت کرے) عیدین کی دونوں راتوں میں ثواب کی نیت کے ساتھ اس کا دل نہیں مرے گا اس دن جس دن دل مر جائیں گے (دل کی موت اللہ کی یاد سے اور اس کے دل سے غافل ہونا ہے) مترجم ۔ امام شافعی نے فرمایا کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ کہا جاتا تھا کہ پانچ راتوں میں دعا قبول ہوتی ہے شب جمعہ میں عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی راتیں۔ رجب کی پہلی رات اور شعبان کی پندرہویں شب۔

من قام ليلتي العيدين لله محتسبا لم يمت قلبه حين تموت القلوب ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3711

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3712

3712 - و بإسناده قال : أنا الشافعي أنا إبراهيم بن محمد قال : رأيت مشيخة من خيار أهل المدينة يظهرون على مسجد النبي صلى الله عليه و سلم ليلة العيد فيدعون و يذكرون الله حتى يذهب ساعة من الليل قال الشافعي : و بلغنا أن ابن عمر كان يحيي ليلة جمع و ليلة جمع هي ليلة العيد لأن في صبحها النحر

اپنی اسناد کے ساتھ کہا ہے انہوں نے کہا ہمیں خبردی شافعی نے ان کو ابراہیم بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اہل مدینہ کے بعد چنیدہ بعض مشائخ کو دیکھا تھا کہ وہ مسجد نبوی کی چھت پر چڑھ جاتے تھے عید کی رات کو پھر وہ دعا کرتے تھے اور اللہ کا ذکر کرتے تھے حتیٰ کہ رات کا ایک حصہ گزر جاتا ۔ شافعی نے کہا کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ حضر ت ابن عباس عمر شب جمعہ کو عبادت کرتے تھے اور وہ جمعہ کی رات عید ی رات ہے۔ اس لیے کہ اس صبح کو قربانی ہوتی ہے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3712

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3713

3713 - و مما أنبأني أبو عبد الله الحافظ إجازة و رواه عنه الإمام أبو عثمان إسماعيل بن عبد الرحمن الصابوني أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أخبرني من سمع ابن البيلماني يحدث عن أبيه عن ابن عمر قال : خمس ليال لا يرد فيهن الدعاء ليلة الجمعة و أول ليلة من رجب و ليلة النصف من شعبان و ليلتا العيد

اور ان میں سے جس کی مجھے خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے بطور اجازت کے اور اس کو روایت کیا ہے اس سے امام ابو عثمان اسماعیل بن عبدالرحمٰن صابونی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو خبر دی ہے اس نے جس نے سنا تھا ابن یمانی سے وہ حدیث بیان کرتے تھے اپنے والد سے اس نے ابن عمر سے انہوں نے کہا کہ پانچ راتیں ہیں۔ ان میں دعا رد نہیں ہوتی شب جمعہ اور رجب کی پہلی شب اور شعبان کی پندرہویں شب او ر عیدین کی دو راتیں۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3713

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3714

3714 - أخبرنا عمر بن أحمد العبدوي أنا أبو أحمد بن إسحاق الحافظ أنا محمد بن إسحاق بن خزيمة عن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم : كان يخرج من العيدين رافعا صوته بالتهليل و التكبير فيأخذ طريق الحدادين حتى يأتي المصلى فإذا فرغ رجع على الحدادين حتى يأتي منزله

ہمیں خبر دی عمر بن احمد عبدوی نے ان کو ابو احمد بن اسحٰق حافظ نے ان کو محمد بن اسحٰق بن خزیمہ نے ان کو احمد بن عبدالرحمٰن بن وہب نے ان کو ان کے چچا نے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کو نافع نے ان کو حضرت عبداللہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدین کے لیے نکلتے تو اونچی آواز سے تکبیر و تہلیل پڑھتے اور حد دین کا راستہ چلتے حتیٰ کہ عید گاہ پہنچتے جب وہ عید سے فارغ ہو جاتے تو دوسرے راستے سے لوٹتے حتیٰ کہ اپنے گھر پہنچ جاتے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ ← عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3714

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3715

3715 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان نا عبد الله بن صالح أبو صالح كاتب الليث بن سعد الجهني حدثني الليث بن سعد عن إسحاق بن روح عن الحسن بن علي قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نلبس أجود ما نجد و أن نتطيب بأجود ما نجد و أن نضحي بأسمن ما نجد و البقرة عن سبعة و الجزور عن سبعة و أن نظهر التكبير و عليه السكينة و الوقار

ہمیں خبر دی ابو علی بن شاذان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عبداللہ بن صالح ابو صالح کاتب لیث بن سعد جہنی نے ان کو لیث بن سعد بن اسحٰق بن روح نے حسن بن علی سے انہوں نے کہا کہ ہمیں رسول اللہ نے حکم دیا ہے کہ ہم سب سے بہتر کپڑا پہنیں جو ہمیں میسر ہوں اور ہم خوشبو لگائیں بہترین جو ہمیں میسر ہو اور ہم قربانی کریں موٹے تازے جانور کی جو ہمیں میسر ہو اور گائے سات آدمیوں کی طرف سے اور اونٹ سات کی طرف سے۔ یہ حکم دیا کہ ہم زور زور سے تکبیر پڑھیں اور حضور پر سکینہ اور وقار ہوتا تھا۔

الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← إسحاق بن روح ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عبد الله بن صالح أبو صالح كاتب الليث بن سعد الجهني ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو علي بن شاذان

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3715

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3716

3716 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أحمد بن محمد ين يحيى بن بلال نا يحيى بن الربيع نا سفيان عن جعفر بن برقان : أتانا كتاب عمر بن عبد العزيز تصدقوا قبل الصلاة { قد أفلح من تزكى * وذكر اسم ربه فصلى } و قولوا كما قال أبوكم { ربنا ظلمنا أنفسنا و إن لم تغفر لنا و ترحمنا لنكونن من الخاسرين } و قولوا كم قال نوح : { و إلا تغفر لي و ترحمني أكن من الخاسرين } و قولوا كما قال إبراهيم : { و الذي أطمع أن يغفر لي خطيئتي يوم الدين } و قولوا كما قال موسى : { قال رب إني ظلمت نفسي فاغفر لي فغفر له إنه هو الغفور الرحيم } و قولوا كما قال ذو النون : { لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين } فأراه كتب من لم يكن عنده ما يتصدق به فليصم يريد و الله أعلم بعد العيد

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال نے ان کو یحییٰ بن ربیع نے ان کو سفیان نے ان کو جعفر بن برقان نے ہمارے پاس عمر بن عبدالعزیز کا خط آیا ہے کہ نماز سے قبل صدقہ کرو۔ " قد افلح من تزکہ و ذکر اسم ربہ فصلی " تحقیق کامیاب ہو گیا وہ جن کو تزکیہ حاصل کیا اور اپنے رب کے نام کا ذکر کیا اور نماز پڑھی جیسے تمہارے باپ آدم نے کہا تھا ۔ " ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وتر حمنا لنکونن من الخاسرین" اے ہمارے رب ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا تھا اور آپ ہمیں معاف نہ کریں اور ہمارے اوپر رحم نہ کریں تو ہم نقصان اٹھائیں گے۔ اور کہ کرو جیسے نوح علیہ السلام نے کہا تھا۔ " والا تغفرلی وترحمنی اکن من الخاسرین" اگر آپ مجھے معاف نہ کریں اور مجھ پر رحم نہ کریں تو میں نقصان اٹھانے والوں میں ہو جاؤں گا۔ اور ایسے کہو جیسےا براہیم علیہ السلام نے کہا تھا: "والذین اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین" وہ ذات ہے جس سے میں امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے بخش دے گا میری غلطی کو قیامت کے دن۔ اور یوں کہو جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا۔ " رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی مغفرۃانہ ھوا الغفور الرحیم" اے میرے رب میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا مجھے بخش دے اللہ نے اس کو بخش دیا بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور یوں کہو جیسے کہا تھا مچھلی والے نے۔ "لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین" کوئی معبود نہیں ہے مگر تو ہی ہے تو پاک ہے بے شک میں ہی ہوں ظلم کرنے والوں میں سے۔ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ اس نے لکھا کہ جس کے پاس صدقہ کرنے کو کچھ نہ ہو چاہیے کہ وہ روزہ رکھے مراد لیا کرتے تھے کہ عید کے بعد رکھے۔

سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ ← أحمد بن محمد ين يحيى بن بلال ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3716

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3717

3717 - أخبرنا أبو سعد عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد نا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن رجاء أنا عبد الله بن سليمان بن الأشعث نا محمد بن عبد العزيز الأزدي نا أصرم بن حوشب نا محمد بن يونس الحارثي عن قتادة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان ليلة القدر نزل جبريل عليه السلام في كبكبة من الملائكة يصلون على كل عبد قائم أو قاعد يذكر الله عز و جل فإذا كان يوم عيدهم يعني يوم فطرهم باهى بهم ملائكته فقال : يا ملائكتي ما جزاء أجير وفى عمله قالوا : ربنا جزاؤه أن يؤتى أجره قال : يا ملائكتي عبيدي و إمائي قضوا فريضتي عليهم ثم خرجوا يعجون إلي بالدعاء و عزتي و جلالي و كرمي و علوي و ارتفاع مكاني لأجيبنهم فيقول ارجعوا فقد غفرت لكم و بدلت سيئاتكم حسنات قال : فيرجعون مغفورا لهم قال أحمد : تفرد به محمد بن عبد العزيز هذا عن أصرم بن حوشب الهمداني و قد رويناه في الحديث الطويل في ليلة القدر و قد روي عن كعب الأحبار في فضل صوم شهر رمضان و بروز المسلمين يوم الفطر لعيدهم ما

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید عبدالملک بن ابو عثمان زاہد نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن رجاء نے ان کو عبداللہ بن سلیمان بن اشعث نے ان کو محمد بن عبدالعزیز ازدی نے ان کو اشرم بن حوشب نے ان کو محمد بن یونس حارثی نے ان کو قتادہ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جب لیلۃ القدر آتی ہے تو جبریل علیہ السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں اترتے ہیں جو رحمت کی دعا کرتے ہیں ہر اس بندے پر جو قیام کر رہا ہویا بیٹھا ہوا عبادت کر رہا ہو یا ذکر کر رہا ہو جب ان کی عید کا دن ہوتا ہے یعنی عید الفطر کا اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ساتھ فخر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے میرے فرشتو اس اجرت پر کام کرنے والے کا کیا اجر ہے جو اپنا کام پورا کر کے آئے ۔ فرشتے جواب دیتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگاراس کی جزا یہ ہے کہ اس کا معاوضہ اس کو پورا پورا دے دیا جائے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے فرشتو ! میرے بندے اور میری بندیاں وہ فریضہ پورا پورا کر چکے ہیں جوان پر تھا۔ اب وہ نکلے ہیں (میدان میں) دعا کے ساتھ آواز بلند کرتے ہیں مجھے میری عزت کی قسم ہے میرے جلال کی قسم ہے میرے کرم کی قسم میری عظمت شان کی قسم ہے مجھے اپنے رفعت مقام کی قسم ہے میں ضرور ان کی پکار اور فریاد کا جواب دوں گا پھر فرماتا ہے واپس لوٹ جاؤ تحقیق میں نے تم لوگوں کو بخش دیا ہے اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ واپس لوٹتے ہیں تو بخشے ہوئے ہوتے ہیں۔ احمد بیہقی نے فرمایا : اس روایت کے ساتھ محمد بن عبدالعزیز منفرد ہے یہ اصرم بن حوشب ہمدانی سے ہے اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے لیلۃ القدر کے بارے میں طویل حدیث میں اور تحقیق یہ روایت کی گئی ہے کعب الاحبار سے ماہ رمضان کی فضیلت کے سلسلے میں مروی ہے اور عید کے دن یوم فطر ے دن مسلمانوں کا ظاہر ہونا( جو آنے والی روایت میں مذکور ہے)۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← محمد بن يونس الحارثي ← أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ ← محمد بن عبد العزيز الأزدي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن رجاء ← أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3717

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3718

3718 - حدثنا عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد أنا عبد الله بن محمد الأشعري نا إبراهيم بن محمد نا عبد الله بن عبد البصري نا عبد الله بن عبد الوهاب نا موسى بن سعيد الراسي عن هلال بن عبد السلام الوراني عن كعب الأحبار قال : أوحى الله عز و جل إلى موسى عليه السلام إني افترضت على عبادي الصيام و هو شهر رمضان يا موسى من وافى يوم القيامة و في صحيفة عشر رمضانات فهو من الأبدال و من وافى القيامة و في صحيفة عشرون رمضانا فهو من المخبتين ومن وافى القيامة و في صحيفته ثلاثون رمضانا فهو من أفضل الشهداء عندي ثوابا يا موسى إني آمر حملة العرش إذا دخل شهر رمضان أن يمسكوا عن العبادة فكلما دعا صائمو رمضان بدعوة أن يقولوا آمين و إني أوجبت على نفسي أن لا أرد دعوة صائمي رمضان

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالملک بن ابو عثمان زاہد نے ان کو ابو عبداللہ بن محمد اشعری نے ان کو ابراہیم بن محمد نے ان کو عبداللہ بن عبدالبصری نے ان کو عبداللہ بن عبدالوہاب نے ان کو موسیٰ بن سعید راسی نے ان کو ہلال بن عبدالسلام الورانی نے ان کو کعب الاحبار نے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی کہ میں نے اپنے بندوں پر روزے فرض کر دئیے ہیں اور وہ ماہ رمضان کے روزے ہیں۔ اے موسیٰ جو شخص قیامت کے دن آئے گ پورا کر کے اور اس کے اعمال نامے میں دس رمضان ہوئے وہ ابدالوں میں سے ہو گا اور جو شخص پورا کر کے قیامت کے دن آیا اور اس کے صحیفہ عمل میں بیس رمضان ہوئے وہ مخبتین میں سے ہو گا اور جو شخص قیامت میں آیا اور اس کے صحیفہ اعمال میں تیس رمضان ہوئے وہ شہداء سے افضل ہو گا۔ میرے نزدیک ثواب کے اعتبار سے۔ اے موسیٰ میں حکم دیتا ہون فرشتوں کو جو عرش اٹھانے والے ہیں جب رمضان آ جائے کہ وہ عبادت سے رک جائیں جب بھی روزہ دار رمضان میں کوئی دعا کریں بس یہ لوگ آمین کہیں اور میں اپنی ذات پر لازم کر لیا ہے کہ میں رمضان کا روزہ رکھنے والوں کی کوئی دعا رد نہیں کروں گا۔

كعب الأحبار ← هلال بن عبد السلام الوراني ← موسى بن سعيد الراسي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← عبد الله بن عبد البصري ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عبد الله بن محمد الأشعري ← عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3718

chevron_left Previous
1…838485…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood