شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3695
3695 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مكرم البزاز ببغداد نا يعقوب بن يوسف القزويني نا القاسم بن الحكم العرني نا هشام بن الوليد عن حماد بن سليمان السدوسي البصري شيخ لنا يكنى أبا الحسن عن الضحاك بن مزاحم عن عبد الله بن عباس : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الجنة لتخبر و تزين من الحول إلى الحول لدخول شهر رمضان فإذا كانت أول ليلة من شهر رمضان هبت ريح من تحت العرش يقال لها المثيرة تصفق ورق أشجار الجنات و حلق المصاريع فيسمع لذلك طنين لم يسمع السامعون أحسن منه فتبرز الحور العين حتى يشرفن على شرف الجنة فينادين هل من خاطب إلى الله فيزوجه ثم يقلن الحور العين : يا رضوان الجنة ما هذه الليلة فيجبهن بالتلبية ثم يقول يا خيرات حسان هذه أول ليلة من شهر رمضان فتحت أبواب الجنة على الصائمين من أمة محمد صلى الله عليه و سلم قال : و يقول الله عز و جل يا رضوان افتح أبواب الجنان و يا مالك أغلق أبواب الجحيم على الصائمين من أمة محمد و يا جبريل اهبط إلى الأرض فاصفد مردة الشياطين و غلهم بالأغلال ثم اقذفهم في لجج البحار حتى لا يفسدوا على أمة محمد حبيبي صيامهم قال و يقول الله عز و جل : في كل ليلة من شهر رمضان لمناد ينادي ثلاث مرات هل من سائل فأعطيه سؤله هل من تائب فأتوب عليه ؟ هل من مستغفر فأغفر له ؟ من يقرض المليء غير المعدم و الوفي غير الظلوم قال : و لله عز و جل في كل يوم من شهر رمضان عند الإفطار ألف ألف عتيق من النار كلهم قد استوجبوا النار فإذا كان ليلة الجمعة اعتق في كل ساعة منها ألف ألف عتيق من النار كلهم قد استوجبوا العذاب فإذا كان آخر يوم من شهر رمضان أعتق الله في ذلك اليوم بقدر ما أعتق من أول الشهر إلى آخره و إذا كانت ليلة القدر يأمر الله عز و جل جبريل عليه السلام فيهبط في كبكبة من الملائكة إلى الأرض و معهم لواء أخضر فيركز اللواء على ظهر الكعبة و له مائة جناح منها جناحان لا ينشرهما إلا في تلك الليلة فينشرهما في تلك الليلة فيجاوزان المشرق إلى المغرب فيبث جبريل عليه السلام الملائكة في هذه الليلة فيسلمون على كل قائم و قاعد و مصل و ذاكر يصافحونهم و يؤمنون على دعائهم حتى يطلع الفجر فإذا طلع الفجر ينادي جبريل معاشر الملائكة الرحيل الرحيل فيقولون يا جبريل فما صنع الله في حوائج المؤمنين من أمة أحمد صلى الله عليه و سلم فيقول جبريل : نظر الله إليهم في هذه الليلة فعفا عنهم و غفر لهم إلا أربعة فقلنا يا رسول الله من هم ؟ قال : رجل مدمن خمر و عاق لوالديه و قاطع رحم و مشاحن قلنا : يا رسول الله ما المشاحن ؟ قال : هو المصارم فإذا كانت ليلة الفطر سميت تلك الليلة ليلة الجائزة فإذا كانت غداة الفطر يبعث الله الملائكة في كل بلاد فيهبطون إلى الأرض فيقومون على أفواه السكك فينادون بصوت يسمع من خلق الله عز و جل إلا الجن و الإنس فيقولون : يا أمة محمد اخرجوا إلى رب كريم بعطي الجزيل و يعفو عن الذنب العظيم فإذا برزوا لمصلاهم يقول الله عز و جل للملائكة : ما جزاء الأجير إذا عمل عمله قال فتقول الملائكة إلهنا و سيدنا جزاؤه أن توفيه أجره قال : فيقول فإني أشهدكم با ملائكتي أني قد جعلت ثوابهم من صيامهم شهر رمضان و قيامه رضائي و مغفرتي و يقول : يا عبادي سلوني فوعزتي و جلالي لا تسألوني اليوم شيئا في جمعكم لآخرتكم إلا أعطيتكم و لا لدنياكم إلا نظرت لكم فوعزتي لأسترن عليكم عثراتكم ما راقبتموني و عزتي لا أخزيكم و لا أفضحكم بين يدي أصحاب الحدود انصرفوا مغفورا لكم قد أرضيتموني و رضيت عنكم فتفرح الملائكة و يستبشرون بما يعطي الله عز و جل هذه الأمة إذا افطروا من شهر رمضان
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین عبدالصمد بن علی بن مکرم بزاز نے بغداد میں ان کو یعقوب بن یوسف قزوینی نے ان کو قاسم بن حکم عرفی نے ان کو ہشام بن ولید نے ان کو حماد بن سلیمان سدوسی بصیری نے وہ ہمارے شیخ تھے جن کی کنیت ابو الحسن تھی انہوں نے ضحاک بن مزاحم سے اس نے عبداللہ بن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک جنت البتہ آراستہ کی جاتی رہتی ہے اور مزین کی جاتی رہتی ہے اس سال سے اگلے سال تک ماہ رمضان کی دخول کے لیے پھر جب ماہ رمضان کی پہلی شب ہوتی ہے تو عرش الٰہی کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کا نام مثیرہ ہے وہ جنت کے درختوں کے پتوں کو کھڑ کھڑا تی ہے اور دروازوں کے کونڈوں اور کڑوں کو چنانچہ اس سے ایک خوبصورت آواز بجنے کی سنائی دیتی ہے سننے والوں نے اس سے پہلے اتنی خوب صورت آواز کبھی نہیں سنی ہوتی لہٰذا حور العین سامنے آتی ہیں اور وہ جنت کی اونچائی پر سامنے چڑھ آتی ہیں اور وہ آواز دیتی ہیں کہ کیا ہے کوئی اللہ کی بارگاہ میں اس کا خطبہ کرنے والا اس کا نکاح مانگنے والا اللہ اس کے ساتھ اس کو بیاہ دیں اس کے بعد وہ حوریں کہتی ہیں اے جنت کے دربان رضوان یہ کون سی رات ہے وہ اس کو لبیک کہہ کر جواب دیتا ہے پھر کہتا ہے اے خیرات حسان یہ رمضان کی پہلی شب ہے جنت کے دروازے روزہ داروں کے لیے کھول دئیے گئے ہیں امت محمد یہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے۔ اس نے کہا پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رضوان جنت کے دروازے کھول دو اور اے مالک جہنم کے دربان جہنم کے دروازے بند کر دو روزہ دارں پر امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ۔ اے جبریل تم زمین پر اتر جاؤ سر کش شیطانوں کو باندھ دو اور ان کو طوق پہنا دو اور ان کو سمندر کی موجوں میں پھینک دو کہ امت محمد پر فساد نہ پھیلا ئیں یعنی میرے حبیب کی امت کے روزوں کو خراب نہ کریں۔ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں رمضان کی ہر رات منادی کرنے والا تین بار منادی کرتا ہے کیا ہے کوئی سائل میں اس کو عطا کروں اور کیا ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اس کی توبہ قبول کروں؟ کیا ہے کوئی معافی مانگنے والا میں اس کو معاف کر دوں؟ کون قر ض دیتاہے اس کو جو دیر سے دیتا ہے مگر لے کر کھا نہیں جاتا اور پورا پورا دیتا ہے کمی اور نقصان نہیں دیتا انہوں نے کہا کہ اللہ عزوجل کے لئے رمضان کے ہر دن افطار کے وقت جہنم سے ایک لاکھ لوگ جہنم سے آزاد کیے جاتے ہیں۔ وہ سب ایسے ہوتے ہیں جب پر جہنم واجب ہو چکی ہوتی ہے اور جب شب جمعہ ہوتی ہے اس رات کی ہر ساعت میں ایک لاکھ لوگ جہنم سے آزاد کیے جاتے ہیں جوسب کے سب اپنے اوپر جہنم واجب کر چکے ہوتے ہیں پھر جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے اس دن اللہ تعالیٰ اتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کر تے ہیں جتنی کہ پہلی تاریخ سے آخر مہینے تک لوگ آزاد کیے تھے پھر جب لیلۃ القدر آتی ہے اللہ تعالیٰ جبریل کو حکم دیتے ہیں وہ زمین پر اتر آتے ہیں فرشتو ں کے جھرمٹ میں ان کےساتھ سبز جھنڈا ہوتا ہے اسے وہ کعبے کی چھت پر نصب کرتے ہیں اور اس کے چھ سو پر ہیں دو پر ایسے ہیں جنہیں وہ کھولتے نہیں ہیں صرف اسی رات میں کھولتے ہیں وہ مشرق و مغرب سے تجاوز کر جاتے ہیں جبریل فرشتوں کو پھیلا دیتے ہیں اس رات میں وہ جا کر سلام کرتے ہیں ہر اس بندے پر جو نما ز پڑھ رہا ہوتا ہے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اور ہر ذکر کرنے والے پران سب کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں اور ان کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے جب فجر طلوع ہوجاتی ہے تو جبریل آواز لگاتے ہیں کہ اے فرشتوں کی جماعتو کوچ کرو کوچ کرو ۔ وہ کہتے ہیں اے جبریل اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے حوائج کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے امت محمد کے مؤمنین میں سے۔ جبریل کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر اس رات میں خاص نظر کرم فرمائی ہے اور انہیں معاف کر دیا ہے اور ان کو بخش دیا ہے سوائے چار قسم کے لوگوں کے۔ صحابہ کہتے ہیں ہم نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں؟ حضور نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں عادی اور دائمی شرا ب پینے والا ' والدین کا نافرمان ' قطع رحمی کرنے والا' بغض اور کینہ پرور۔ ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ مشاحن کیا ہوتا ہے ؟ حجور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ وہ مصارم ہے یعنی قطع تعلق کرنے والا پھر جس وقت عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو یہ رات جائز ے کی رات کہلاتی ہے پھر جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں زمین پر اترتے ہیں اور وہ گلیوں اور سڑکوں راستوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور آواز لگاتے ہیں جس کو تمام مخلوقات سنتی ہے سوائے جن و انس کے وہ کہتے ہیں اے امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلو تم لوگ رب کریم کے پاس جو بہت بڑا عطیہ دیتا ہے بڑے بڑے گناہ معاف کر تا ہے۔ جب وہ اپنی عید گاہ میں سامنے آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کیا جزا ء ہے اس اجرت پر کام کرنے والے کی جو اپنا کام پورا کر کے آئے حضور نے فرمایا فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے معبود ہمارے سردار اس کی جزا یہ ہے کہ آپ اس کا اجر پورا پورا دے دیں حضور نے فرمایا کہ وہ کہتا ہے کہ میں تمہیں گوہ کرتا ہوں اے میرے فرشتو کہ میں نے ان کے روزوں کو ثواب ماہ رمضان میں اور ان کے راتوں کے قیام و عبادت کا ثواب اپنی رضا اور مغفرت کر بنا دیاہے اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو تم مجھ سے مانگو مجھے میرے عزت کی قسم اور مجھے میرے جلال کی قسم تم لوگ آج کے دن جو چیز بھی مجھ سے مانگو گے اپنی اس جماعت کے اندر اپنی آخرت کے لیے مگر میں تمہیں ضرور وہ دے دوں گا اور جو بھی مانگو گے اپنی دنیا کے لئے میں تمہاے لیے نظر کر م کر دوں گا مجھے میری عزت کی قسم ہے میں تمہاری غلطیوں پر ضرور پردہ ڈالوں گا جب تک تم مجھے اپنا نگران سمجھو گے میری عزت کی قسم ہے تمہیں رسوا نہیں کرو ں گا اور نہ ہی تمہیں شرمندہ کروں گا حدود والوں کے سامنے تم لوگ واپس لوٹ جاؤ میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے تم لوگوں نے مجھ کو راضی کر دیا ہے اور تم لوگوں سے راضی ہو چکا ہوں فرشتے خوش ہو جاتے ہیں اور خوشی کی خبریں دیتے ہیں سب کو بسبب اس کے جو اللہ تعالیٰ دیتے ہیں اس امت کو جب وہ ماہ رمضان کے روزے ختم کرتے ہیں اور روزوں سے فارغ ہو تے ہیں۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← حماد بن سليمان السدوسي البصري شيخ لنا يكنى أبا الحسن ← هِشَامُ بْنُ الْوَلِيدِ ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْقَزْوِينِيُّ ← أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مكرم البزاز ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3695
