Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3695

3695 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مكرم البزاز ببغداد نا يعقوب بن يوسف القزويني نا القاسم بن الحكم العرني نا هشام بن الوليد عن حماد بن سليمان السدوسي البصري شيخ لنا يكنى أبا الحسن عن الضحاك بن مزاحم عن عبد الله بن عباس : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الجنة لتخبر و تزين من الحول إلى الحول لدخول شهر رمضان فإذا كانت أول ليلة من شهر رمضان هبت ريح من تحت العرش يقال لها المثيرة تصفق ورق أشجار الجنات و حلق المصاريع فيسمع لذلك طنين لم يسمع السامعون أحسن منه فتبرز الحور العين حتى يشرفن على شرف الجنة فينادين هل من خاطب إلى الله فيزوجه ثم يقلن الحور العين : يا رضوان الجنة ما هذه الليلة فيجبهن بالتلبية ثم يقول يا خيرات حسان هذه أول ليلة من شهر رمضان فتحت أبواب الجنة على الصائمين من أمة محمد صلى الله عليه و سلم قال : و يقول الله عز و جل يا رضوان افتح أبواب الجنان و يا مالك أغلق أبواب الجحيم على الصائمين من أمة محمد و يا جبريل اهبط إلى الأرض فاصفد مردة الشياطين و غلهم بالأغلال ثم اقذفهم في لجج البحار حتى لا يفسدوا على أمة محمد حبيبي صيامهم قال و يقول الله عز و جل : في كل ليلة من شهر رمضان لمناد ينادي ثلاث مرات هل من سائل فأعطيه سؤله هل من تائب فأتوب عليه ؟ هل من مستغفر فأغفر له ؟ من يقرض المليء غير المعدم و الوفي غير الظلوم قال : و لله عز و جل في كل يوم من شهر رمضان عند الإفطار ألف ألف عتيق من النار كلهم قد استوجبوا النار فإذا كان ليلة الجمعة اعتق في كل ساعة منها ألف ألف عتيق من النار كلهم قد استوجبوا العذاب فإذا كان آخر يوم من شهر رمضان أعتق الله في ذلك اليوم بقدر ما أعتق من أول الشهر إلى آخره و إذا كانت ليلة القدر يأمر الله عز و جل جبريل عليه السلام فيهبط في كبكبة من الملائكة إلى الأرض و معهم لواء أخضر فيركز اللواء على ظهر الكعبة و له مائة جناح منها جناحان لا ينشرهما إلا في تلك الليلة فينشرهما في تلك الليلة فيجاوزان المشرق إلى المغرب فيبث جبريل عليه السلام الملائكة في هذه الليلة فيسلمون على كل قائم و قاعد و مصل و ذاكر يصافحونهم و يؤمنون على دعائهم حتى يطلع الفجر فإذا طلع الفجر ينادي جبريل معاشر الملائكة الرحيل الرحيل فيقولون يا جبريل فما صنع الله في حوائج المؤمنين من أمة أحمد صلى الله عليه و سلم فيقول جبريل : نظر الله إليهم في هذه الليلة فعفا عنهم و غفر لهم إلا أربعة فقلنا يا رسول الله من هم ؟ قال : رجل مدمن خمر و عاق لوالديه و قاطع رحم و مشاحن قلنا : يا رسول الله ما المشاحن ؟ قال : هو المصارم فإذا كانت ليلة الفطر سميت تلك الليلة ليلة الجائزة فإذا كانت غداة الفطر يبعث الله الملائكة في كل بلاد فيهبطون إلى الأرض فيقومون على أفواه السكك فينادون بصوت يسمع من خلق الله عز و جل إلا الجن و الإنس فيقولون : يا أمة محمد اخرجوا إلى رب كريم بعطي الجزيل و يعفو عن الذنب العظيم فإذا برزوا لمصلاهم يقول الله عز و جل للملائكة : ما جزاء الأجير إذا عمل عمله قال فتقول الملائكة إلهنا و سيدنا جزاؤه أن توفيه أجره قال : فيقول فإني أشهدكم با ملائكتي أني قد جعلت ثوابهم من صيامهم شهر رمضان و قيامه رضائي و مغفرتي و يقول : يا عبادي سلوني فوعزتي و جلالي لا تسألوني اليوم شيئا في جمعكم لآخرتكم إلا أعطيتكم و لا لدنياكم إلا نظرت لكم فوعزتي لأسترن عليكم عثراتكم ما راقبتموني و عزتي لا أخزيكم و لا أفضحكم بين يدي أصحاب الحدود انصرفوا مغفورا لكم قد أرضيتموني و رضيت عنكم فتفرح الملائكة و يستبشرون بما يعطي الله عز و جل هذه الأمة إذا افطروا من شهر رمضان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین عبدالصمد بن علی بن مکرم بزاز نے بغداد میں ان کو یعقوب بن یوسف قزوینی نے ان کو قاسم بن حکم عرفی نے ان کو ہشام بن ولید نے ان کو حماد بن سلیمان سدوسی بصیری نے وہ ہمارے شیخ تھے جن کی کنیت ابو الحسن تھی انہوں نے ضحاک بن مزاحم سے اس نے عبداللہ بن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک جنت البتہ آراستہ کی جاتی رہتی ہے اور مزین کی جاتی رہتی ہے اس سال سے اگلے سال تک ماہ رمضان کی دخول کے لیے پھر جب ماہ رمضان کی پہلی شب ہوتی ہے تو عرش الٰہی کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کا نام مثیرہ ہے وہ جنت کے درختوں کے پتوں کو کھڑ کھڑا تی ہے اور دروازوں کے کونڈوں اور کڑوں کو چنانچہ اس سے ایک خوبصورت آواز بجنے کی سنائی دیتی ہے سننے والوں نے اس سے پہلے اتنی خوب صورت آواز کبھی نہیں سنی ہوتی لہٰذا حور العین سامنے آتی ہیں اور وہ جنت کی اونچائی پر سامنے چڑھ آتی ہیں اور وہ آواز دیتی ہیں کہ کیا ہے کوئی اللہ کی بارگاہ میں اس کا خطبہ کرنے والا اس کا نکاح مانگنے والا اللہ اس کے ساتھ اس کو بیاہ دیں اس کے بعد وہ حوریں کہتی ہیں اے جنت کے دربان رضوان یہ کون سی رات ہے وہ اس کو لبیک کہہ کر جواب دیتا ہے پھر کہتا ہے اے خیرات حسان یہ رمضان کی پہلی شب ہے جنت کے دروازے روزہ داروں کے لیے کھول دئیے گئے ہیں امت محمد یہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے۔ اس نے کہا پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رضوان جنت کے دروازے کھول دو اور اے مالک جہنم کے دربان جہنم کے دروازے بند کر دو روزہ دارں پر امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ۔ اے جبریل تم زمین پر اتر جاؤ سر کش شیطانوں کو باندھ دو اور ان کو طوق پہنا دو اور ان کو سمندر کی موجوں میں پھینک دو کہ امت محمد پر فساد نہ پھیلا ئیں یعنی میرے حبیب کی امت کے روزوں کو خراب نہ کریں۔ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں رمضان کی ہر رات منادی کرنے والا تین بار منادی کرتا ہے کیا ہے کوئی سائل میں اس کو عطا کروں اور کیا ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اس کی توبہ قبول کروں؟ کیا ہے کوئی معافی مانگنے والا میں اس کو معاف کر دوں؟ کون قر ض دیتاہے اس کو جو دیر سے دیتا ہے مگر لے کر کھا نہیں جاتا اور پورا پورا دیتا ہے کمی اور نقصان نہیں دیتا انہوں نے کہا کہ اللہ عزوجل کے لئے رمضان کے ہر دن افطار کے وقت جہنم سے ایک لاکھ لوگ جہنم سے آزاد کیے جاتے ہیں۔ وہ سب ایسے ہوتے ہیں جب پر جہنم واجب ہو چکی ہوتی ہے اور جب شب جمعہ ہوتی ہے اس رات کی ہر ساعت میں ایک لاکھ لوگ جہنم سے آزاد کیے جاتے ہیں جوسب کے سب اپنے اوپر جہنم واجب کر چکے ہوتے ہیں پھر جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے اس دن اللہ تعالیٰ اتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کر تے ہیں جتنی کہ پہلی تاریخ سے آخر مہینے تک لوگ آزاد کیے تھے پھر جب لیلۃ القدر آتی ہے اللہ تعالیٰ جبریل کو حکم دیتے ہیں وہ زمین پر اتر آتے ہیں فرشتو ں کے جھرمٹ میں ان کےساتھ سبز جھنڈا ہوتا ہے اسے وہ کعبے کی چھت پر نصب کرتے ہیں اور اس کے چھ سو پر ہیں دو پر ایسے ہیں جنہیں وہ کھولتے نہیں ہیں صرف اسی رات میں کھولتے ہیں وہ مشرق و مغرب سے تجاوز کر جاتے ہیں جبریل فرشتوں کو پھیلا دیتے ہیں اس رات میں وہ جا کر سلام کرتے ہیں ہر اس بندے پر جو نما ز پڑھ رہا ہوتا ہے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اور ہر ذکر کرنے والے پران سب کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں اور ان کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے جب فجر طلوع ہوجاتی ہے تو جبریل آواز لگاتے ہیں کہ اے فرشتوں کی جماعتو کوچ کرو کوچ کرو ۔ وہ کہتے ہیں اے جبریل اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے حوائج کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے امت محمد کے مؤمنین میں سے۔ جبریل کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر اس رات میں خاص نظر کرم فرمائی ہے اور انہیں معاف کر دیا ہے اور ان کو بخش دیا ہے سوائے چار قسم کے لوگوں کے۔ صحابہ کہتے ہیں ہم نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں؟ حضور نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں عادی اور دائمی شرا ب پینے والا ' والدین کا نافرمان ' قطع رحمی کرنے والا' بغض اور کینہ پرور۔ ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ مشاحن کیا ہوتا ہے ؟ حجور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ وہ مصارم ہے یعنی قطع تعلق کرنے والا پھر جس وقت عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو یہ رات جائز ے کی رات کہلاتی ہے پھر جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں زمین پر اترتے ہیں اور وہ گلیوں اور سڑکوں راستوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور آواز لگاتے ہیں جس کو تمام مخلوقات سنتی ہے سوائے جن و انس کے وہ کہتے ہیں اے امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلو تم لوگ رب کریم کے پاس جو بہت بڑا عطیہ دیتا ہے بڑے بڑے گناہ معاف کر تا ہے۔ جب وہ اپنی عید گاہ میں سامنے آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کیا جزا ء ہے اس اجرت پر کام کرنے والے کی جو اپنا کام پورا کر کے آئے حضور نے فرمایا فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے معبود ہمارے سردار اس کی جزا یہ ہے کہ آپ اس کا اجر پورا پورا دے دیں حضور نے فرمایا کہ وہ کہتا ہے کہ میں تمہیں گوہ کرتا ہوں اے میرے فرشتو کہ میں نے ان کے روزوں کو ثواب ماہ رمضان میں اور ان کے راتوں کے قیام و عبادت کا ثواب اپنی رضا اور مغفرت کر بنا دیاہے اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو تم مجھ سے مانگو مجھے میرے عزت کی قسم اور مجھے میرے جلال کی قسم تم لوگ آج کے دن جو چیز بھی مجھ سے مانگو گے اپنی اس جماعت کے اندر اپنی آخرت کے لیے مگر میں تمہیں ضرور وہ دے دوں گا اور جو بھی مانگو گے اپنی دنیا کے لئے میں تمہاے لیے نظر کر م کر دوں گا مجھے میری عزت کی قسم ہے میں تمہاری غلطیوں پر ضرور پردہ ڈالوں گا جب تک تم مجھے اپنا نگران سمجھو گے میری عزت کی قسم ہے تمہیں رسوا نہیں کرو ں گا اور نہ ہی تمہیں شرمندہ کروں گا حدود والوں کے سامنے تم لوگ واپس لوٹ جاؤ میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے تم لوگوں نے مجھ کو راضی کر دیا ہے اور تم لوگوں سے راضی ہو چکا ہوں فرشتے خوش ہو جاتے ہیں اور خوشی کی خبریں دیتے ہیں سب کو بسبب اس کے جو اللہ تعالیٰ دیتے ہیں اس امت کو جب وہ ماہ رمضان کے روزے ختم کرتے ہیں اور روزوں سے فارغ ہو تے ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← حماد بن سليمان السدوسي البصري شيخ لنا يكنى أبا الحسن ← هِشَامُ بْنُ الْوَلِيدِ ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْقَزْوِينِيُّ ← أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مكرم البزاز ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3695

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3696

3696 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الخراساني ببغداد نا محمد بن عبيد بن أبي هارون نا عبيد بن إسحاق نا سيف بن عمر عن سعد بن طريف عن الأصبغ عن علي قال : أنا حرضت عمر على القيام في شهر رمضان أخبرته أن فوق السماء السابعة حظيرة يقال لها حظيرة القدس يسكنها قوم يقال لهم الروح فإذا كان ليلة القدر استأذنوا ربهم في النزول إلى الدنيا فلا يمرون على أحد يصلي أو على الطريق إلا أصاب منهم بركة فقال له عمر : يا أبا الحسن تحرض الناس على الصلاة حتى يصيبهم من البركة فأمر الناس بالقيام

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اابو محمد عبداللہ بن اسحٰق خراسانی نے بغداد میں ان کو محمد بن عبید بن ابو ہارون نے ان کو عبید بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن عمر نے ان کو سعید بن طریف نے انکو اصبغ نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو رمضان میں قیام کرنے کی ترغیب دی اور میں نے ان کو خبر دی کہ ساتویں آسمان پر ایک خطیرہ (احاطہ ہے) ہے جس کو خطیرۃ القدس کہا جاتا ہے اس میں کچھ لوگ رہتے ہیں ان کو روح کہا جاتا ہے جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو وہ لوگ رب تعالیٰ سے زمین پر اترنے کی اجازت طلب کرتے ہیں (چنانچہ اس کو اجازت دی جاتی ہے اور وہ دورہ پر پھرتے ہیں) جب وہ کسی ایسے آدمی کے پاس سے گزرتے ہیں جو نماز پڑھ رہا ہوتا ہے یا راستے میں وہ ان سے برکت پالیتا ہے حضرت عمر نے ان سے پوچھا اے ابو الحسن آپ لوگوں کو نماز کی ترغیب دیجئے تاکہ ان کو برکت پہنچ جائے لہٰذا میں لوگوں کو قیام اللیل کی یعنی رات کی نماز تہجد کی ترغیب دیتاہوں۔

عَلِيٍّ، ← الأَصْبَغَ ← سعد بن طريف ← سَيْفُ بْنُ عُمَرَ ← عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← محمد بن عبيد بن أبي هارون ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3696

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3697

3697 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني بالكوفة نا أبي نا أبو بكر محمد بن عبيد بن إسحاق العطار حدثني أبي حدثني سيف بن عمر نا سعد بن طريف الأسكيف عن الأصبغ بن نباتة قال : قال علي بن أبي طالب : أنا و الله حرضت عمر على القيام شهر رمضان فقيل و الله يا أمير المؤمنين و كيف ذلك ؟ قال : أخبرته أن في السماء السابعة حظيرة يقال لها حظيرة القدس و فيها ملائكة يقال لهم الروحانيون فإذا كان ليلة القدر استأذنوا الرب عز و جل للنزول إلى الدنيا فيأذن لهم فلا يمرون بمسجد يصلى فيه و لا يستقبلون أحدا في طريق إلا دعوا له فأصابه منهم خير قال عمر أفلا نعرف الناس بالخير فأمرهم بالقيام قال الإمام أحمد : هذا حديث ينفرد به عبيد بن إسحاق العطار عن سيف بن عمر و هو إن صح مع ما قبله من حديث المسند ففيهما أخبار عن نزول الملائكة و تسليمهم على المسلمين ليلة القدر و دعائهم لهم و في كتاب الله تعالى بيان نزولهم و تسليمهم جعلنا الله ممن يصيبه بركاته هذه الليلة و دعوات هؤلاء الملائكة و تسليمهم بفضله و رحمته

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن عقبہ شیبانی نے کوفے میں ان کو ان کے والد نے ان کو ابو بکر محمد بن عبید بن اسحٰق عطار نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیف بن عمر نے ان کو سعد بن طریف اسکیف نے ان کو اصبغ بن نباتہ نے وہ کہتے ہیں کہ علی بن ابو طالب نے کہا میں اللہ کی قسم حضرت عمر کو ترغیب دے رہا تھا قیام کی ماہ رمضان میں پس کہا گیا کہ اللہ کی قسم اے امیرالمؤمنین یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کو خبر دی تھی کہ ساتویں آسمان میں ایک خطیرہ (ایک مخصوص احاطہ) ہے جس کو خطیرۃ القدس کہا جاتا ہے اس میں فرشتے رہتے ہیں ان کو روحانین کہا جاتا ہے جب لیلۃ القدر آتی ہے تو وہ مقدس فرشتے رب تعالیٰ سے دھرتی پر اترنے کی اجازت چاہتے ہیں دنیا کی طرف ۔ بس ان کو اجازت دے دی جاتی ہے لہٰذا جب وہ کسی مسجد کے پاس سے گزرتے ہیں جس میں نماز پڑھی جا رہی ہو یا کسی کو وہ راستے میں ملیں وہ ان سب کے لیے دعا کرتے ہیں لہٰذا اس بندے کو ان سے خیر پہنچتی ہے حضرت عمر نے کہا کیا پس ہم لوگوں کو خیر نہیں پہنچاتے ان کو قیام کا حکم دیجئے۔ امام احمد کہتے ہیں یہ ایسی حدیث ہے جس کے ساتھ منفرد ہے عبید بن اسحٰق عطار سیف بن عمر سے وہ اگر صحیح ہو اپنے ماقبل کے ساتھ حدیث مسند سے تو ان دونوں کے بارے میں کئی کئی احادیث ہیں فرشتوں کے نزول کے بارے میں اور لیلۃ القدر میں مسلمانوں کو فرشتوں کے سلام کرنے کے بارے میں اور ان کے لیے ان کے دعا کرنے کے بارے میں اور اللہ کی کتاب میں فرشتوں کے نزول کا بیان ہے اور ان کے سلام کرنے کا اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں سے بنا دے جس کو اس رات کی برکات پہنچ جائیں اور ان فرشتوں کی دعائیں اور ان کی تسلیمات محض اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ۔

الأصبغ بن نباتة ← سعد بن طريف الأسكيف ← سَيْفُ بْنُ عُمَرَ ← أَبِي ← أبو بكر محمد بن عبيد بن إسحاق العطار ← أَبِي ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3697

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3698

3698 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا هشيم عن أبي إسحاق عن الشعبي : في قوله { من كل أمر * سلام هي حتى مطلع الفجر } قال : تسليم الملائكة ليلة القدر على أهل المساجد حتى يطلع الفجر

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ہیثم بن ابو اسحٰق نے ان کو شعبی نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں۔ "من کل امر سلام۔ ہی حتی مطلع الفجر۔" شعبی نے فرمایا لیلۃ القدر میں فرشتوں کا سلام کرنا (مراد ہے) اہل مساجد پر حتیٰ کہ فجر طلوع ہو جائے۔

تسليم الملائكة ليلة القدر على أهل المساجد حتى يطلع الفجر ← الشعبي في قوله من كل أمر سلام هي حتى مطلع الفجر ← أَبِي إِسْحَاقَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3698

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3699

3699 - و بإسناده نا سعيد بن منصور نا عيسى بن يونس نا الأعمش عن مجاهد : في قوله { سلام هي } قال : هي سالمة لا يستطيع الشيطان أن يعمل فيها سوء و لا يحدث فيها أذى

اور اس کی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے سعید بن منصور نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو اعمش نے ان کو مجاہد نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں۔ سلام ہی ۔ مجاہد نے کہا کہ یہ سلامتی والی رات ہے اس میں شیطان کو طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اس میں کئی برائی کا کام کر سکے اور نہ ہی اس میں وہ کوئی تکلیف دے سکتا ہے۔

فيها أذى ← هي سالمة لا يستطيع الشيطان أن يعمل فيها سوء و لا ← مجاهد في قوله سلام هي ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3699

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3700

3700 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم نا يزيد بن هارون أنا كهمس بن الحسن عن عبد الله بن بريدة عن عائشة قالت : يا رسول الله أرأيت إن وافقت ليلة القدر فما أقول قال : قولي اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني قال يزيد لا أعلمه إلا قال ثلاثا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو کہمس بن حسن نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ یا رسول اللہ آپ خبر دیجئے اگر میں لیلۃ القدر کو پا لوں تو میں اس میں کیا دعا کروں حضور نے فرمایا تم یوں کہو ۔ " اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی" اے اللہ تو بہت معاف کرنے والا ہے اور تو درگزر کو پسند بھی کرتاہے لہٰذا مجھ کو بھی معاف فرما دے۔ یزید نے کہا کہ میں نہیں جانتا اس کو مگر آپ نے اس کو کہا تھا تین بار۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3700

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3701

3701 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه و أبو بكر القاضي و محمد بن موسى قالوا ثنا الأصم نا يحيى بن أبي طالب نا علي بن عاصم نا الجريري عن عبد الله بن بريدة عن عائشة أم المؤمنين قالت : قلت : يا رسول الله أرأيت لو علمت ليلة القدر ما كنت أسأل ربي و أدعو به ربي قال قولي اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قاضی نے اور محمد بن موسیٰ نے سب نے کہا کہ ان کو بیان کیا اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو جریری نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے ان کو عائشہ ام المؤمنین نے وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ بے شک تو بہت معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے لہٰذا مجھے معاف کر دے۔

قُلْتُ ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الأَصَمُّ: ← أبو طاهر الفقيه و أبو بكر القاضي و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3701

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3702

3702 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم أنا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن أبي إسحاق عن عباس بن ذريع عن شريح بن هاني عن عائشة قالت : لو عرفت أي ليلة ليلة القدر ما سألت الله فيها إلا العافية

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عباس بن ذریع نے ان کو شریح بن ہانی نے ان کو سیدہ عائشہ نے کہتی ہیں کہہ اگر میں پہچان لوں کہ کون سی ہے لیلۃالقدر تو میں اس میں اللہ تعالیٰ سے کچھ نہیں مانگوں گی سوائے عافیت کے۔

لو عرفت أي ليلة ليلة القدر ما سألت الله فيها إلا العافية ← عَائِشَةَ ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← عباس بن ذريع ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3702

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3703

3703 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعد الشعيبي قالا : سمعنا أبا عمرو بن أبي جعفر الحيري يقول سمعت أبا عثمان سعيد بن إسماعيل : كثيرا يقول في مجلسه و في غير المجلس عفوك ثم يقول عفوك يا عفو في المحيا عفوك و في الممات عفوك و في القبور عفوك و عند النشور عفوك و عند تطاير الصحف عفوك و في القيامة عفوك و في مناقشة الحساب عفوك و عند ممر الصراط عفوك و عند الميزان عفوك و في جميع الأحوال عفوك يا عفو عفوك قال أبو عمرو و رؤي أبو عثمان في المنام بعد وفاته بأيام فقيل له بماذا انتفعت من أعمالك في الدنيا فقال : بقولي عفوك عفوك لفظ أبي عبد الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعد شعبی نے دونوں نے سنا ابو عمر بنا بو جعفر حیری سے انہوں نے سنا ابو عثمان حیدر بن اسماعیل سے کثرت کے ساتھ وہ اپنی مجلس میں کہتے تھے اور غیر مجلس میں بھی ۔ ہم تجھ سے تیرے عفو و در گزر کا سوا ل کرتے ہیں پھر کہتے تھے کہ تیرے درگزر کرنے کا سوا ل کرتے ہیں اے معاف کرنے والے یا اے در گزر کرنے والے زندگانی میں۔ ہم تیری معافی کا سوال کرتے ہیں وفات میں اور تیری معافی کا قبروں میں اور قبروں سے اٹھتے وقت تیری معافی کا اور اعمال ناموں کے اڑائے جانے کے وقت معافی کا اور قیامت میں تیری معافی کا اور حساب کے مناقشے کے وقت تیری معافی کا اور صراب پر گزرتے تھے وقت تیری معافی کا اور اعمال کے وزن ہونے کے وقت تیری معافی کا اور جمیع حالات میں تیری معافی کا اے معاف کرنے والے تیری معافی کا سوال ہے۔ ابو عمرو کہتے ہیں کہ ابو عثمان نے خواب میں دیکھا ان کی موت کے بعد کچھ ہی دن کے بعد کہ آپ نے اپنے اعمال دنیا میں سے کس عمل کے ساتھ فائدہ اٹھایا۔ اس نے کہا کہ اپنے اسی قول کے ساتھ۔ میں تجھ سے تیری معافی کا سوال کرتا ہوں میں تجھ سے تیری معافی کا سوال کرتا ہوں یہ ابو عبداللہ کے الفاظ ہیں۔

أبا عثمان سعيد بن إسماعيل كثيرا ← أبا عمرو بن أبي جعفر الحيري ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعد الشعيبي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3703

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3704

3704 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك أنه بلغه عن سعيد بن المسيب أنه كان يقول : من شهد العشاء ليلة القدر فقد أخذ بحظه منها

ہمیں خبر دی ہے ابو ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے مالک کے سامنے پڑھی ۔ ان کو یہ خبر پہنچی ہے سعید بن مسیب سے کہ انہوں نے کہا کہ وہ کہتے تھے جو شخص لیلۃ القدر میں عشاء کی نماز میں حاضر ہو اس نے اس میں حصہ پا لیا۔

من شهد العشاء ليلة القدر فقد أخذ بحظه منها ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ كَانَ ← القعنبي فيما قرأ على مالك أنه بلغه ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3704

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3705

3705 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا محمد هو ابن إسحاق نا علي بن قادم أنا عبد الله بن عبد الرحمن بن موهب عن الحسن بن محمد بن علي عن علي قال : من صلى العتمة كل ليلة في شهر رمضان حتى ينسلخ فقد قامه أظنه أراد بالجماعة و قد روي فيه حديث مرفوع أخرجه ابن خزيمة في كتابه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد نے وہ ابن اسحٰق ہے ان کو علی بن قادم نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن موہب نے ان کو حسن بن محمد بن علی نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص عشاء کی نماز رمضان میں روزانہ پڑھتا رہے حتیٰ کہ رمضان گزر جائے اس نے گویا پورے رمضان میں قیام کر لیا میرا خیال ہے کہ اس سے مراد لیا تھا جماعت کے ساتھ پڑھنے کا اور تحقیق اس بارے میں حدیث مرفوع روایت کی گئی ہے نقل کیا ہے اس کو ابن خزیمہ نے اپنی کتا ب میں۔

عَلِيٍّ، ← الحسن بن محمد بن علي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← علي بن قادم ← مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3705

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3706

3706 - أخبرنا الإمام أبو عثمان الصابوني أنا أبو طاهر بن خزيمة أنا جدي نا عمرو بن علي نا عبد الله بن عبد المجيد الحنفي نا فرقد بن الحجاج قال : سمعت عقبة بن أبي الحسناء اليماني قال : سمعت أبا هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صلى العشاء الآخرة في جماعة في رمضان فقد أدرك ليلة القدر و روي من وجه آخر

ہمیں خبر دی ہے امام ابو عثمان صابونی نے ان کو ابو طاہر ابن خزیمہ نے ان کو ان کے دادا نے ان کو عمرو بن علی نے ان کو عبداللہ بن عبدالمجید حنفی نے ان کو فرقد بن حجاج نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عقبہ بن ابو الحسناء یمانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو شخص عشاء کی نماز رمضان میں باجماعت پڑھے اس نے لیلۃ القدر پالی اور ایک دوسری وجہ سے بھی مروی ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عقبة بن أبي الحسناء اليماني ← فَرْقَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ← عبد الله بن عبد المجيد الحنفي، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← جَدِّي، ← أبو طاهر بن خزيمة ← الإمام أبو عثمان الصابوني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3706

chevron_left Previous
1…828384…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood