Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3683

3683 - كما أخبرناه أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا وهب عن داود بن أبي هند عن الوليد بن عبد الرحمن عن جبير بن نفير عن أبي ذر قال : صمنا رمضان مع النبي صلى الله عليه و سلم فلم يقم بنا شيئا من الشهر حتى إذا كانت ليلة أربعة و عشرين السابعة مما يبقى صلى بنا حتى كاد أن يذهب ثلث الليل فلما كانت ليلة خمس و عشرين لم يصل بنا فلما كانت ليلة ست و عشرين الخامسة مما يبقى صلى بنا حتى كاد أن يذهب شطر الليل فقلت يا رسول الله لو نفلتنا بقية ليلتنا فقال : لا إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام فلما كانت ليلة سبع و عشرين لم يصل بنا فلما كانت ليلة ثمان و عشرين أظنه قال : جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم أهله و اجتمع له الناس فصلى بنا حتى كاد أن يفوتنا الفلاح ثم يا ابن أخي لم يصل بنا شيئا من الشهر قال : و الفلاح السحور

جیسے ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو وہب نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو ولید بن عبدالرحمٰن نے ان کو جبیر بن نفیر نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے روزہ رکھا تھا۔ رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ نے (اس سال) ہم سب کو کچھ قیام نہ کروایا مہینے میں حتیٰ کہ جب چوبیسویں رات ہوئی (ساتویں) ان میں سے جو باقی رہ گئی تھیں تو حضور نے ہم لوگوں کو نماز پڑھائی۔ یہاں تک کہ قریب تھا کہ رات کی ایک تہائی چلی گئی۔ جب چھبیس ہوئی گئی۔ یعنی پانچویں ان میں سے جو باقی رہ گئی تھیں پھر ہمیں نماز پڑھائی حتیٰ کہ قریب تھا کہ چلی گئی آدھی رات۔ میں نے کہا یا رسول اللہ اگر آپ ہمیں نفل پڑھاتے رہتے بقیہ حصہ رات کا۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ جب کوئی آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھ لیتا ہے۔ حتیٰ کہ ہٹ جاتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے۔ جب ستائیسویں رات ہوئی تو ہمیں نماز نہ پڑھائی جب اٹھائیسویں ہو گئی تو میرا گمان ہے کہ اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو جمع کیا لوگ آپ کے پاس اکٹھے ہو گئے تھے۔ تو ہم لوگوں کو نما زپڑھائی حتیٰ کہ قریب تھا کہ ہم سے سحری فوت ہو جائے۔ پھر اے بھتیجے ہمیں بقیہ مہینہ ہمیں نمازیں نہیں پڑھائیں انہوں نے فرمایا کہ الفلاح سحور ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← وَھْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ ← كَمَا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3683

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3684

3684 - قال أحمد : فعلى هذا يحتمل أن يكون المراد بالخبرين الأولين في طلبها من أوتار العشر أوتارها إذا عدت من آخرها فيكون موافقا لهذه الأخبار و يحتمل أن يكون قال : ذلك في سنة علم أنها في أوتارها من أول العشر فحرض أصحابه على التماسها فيها ثم في سنة أخرى علم أنها في أوتارها عدت من آخرها و هي أشفاعها إذا عدت من أولها فحرضهم على طلبها فيها 3684 - و قد روي عن أبي قلابة : أنها تجول في ليالي العشر يعني ففي سنة تكون ليلة إحدى و عشرين و في سنة أخرى تكون ليلة غيرها و من قال هذا قال : فضيلتها الآن بعدما نزل القرآن في نزول الملائكة و نزول الملائكة بإذن الله تعالى و قد يختلف في هذه الليالي فأية ليلة نزلت يضاعف فيها عمل من عمل فيها و قد ذهب أبي بن كعب إلى أنها ليلة سبع و عشرين

احمد بیہقی فرماتے ہیں کہ مذکورہ روایات کی بنا پر احتمال ہے کہ پہلی دو خبروں سے مراد شب قدر کی عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں تلاش اس طرح مراد ہو کہ جب اس کو شمار کیا جائے آخری تاریخ سے پھر یہ گنتی تمام اخبار کے مطابق ہو گی اور ایہ بھی احتما ل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ اس سال میں فرمایا ہو جس میں آپ نے جان لیا تھا کہ اس سال شب قدر پہلے عشرے کی طاق راتوں میں ہو گی لہٰذا آپ نے اپنے اصحاب کو ان راتوں میں تلاش کرنے میں ابھارا ہو پھر دوسرے سال آپ نے جان لیا ہو کہ وہ فلاں عشرے کے طاق راتوں میں سے جو گنا گیا ہو آخر سے حالانکہ وہ اس کی جفت راتیں ہوں جب ان کو گنا جائے اول سے لہٰذا آپ نے ان کو ابھارا ہو اور ترغیب دی ہو ان راتوں میں طلب کرنے کی۔ تحقیق روایت کی گئی ہے ابو قلابہ سے کہ شب قدر گھومتی ہے دس راتوں میں یعنی ایک سال میں ہوتی ہے اکیسویں شب اور دوسرے سال ہوتی ہے اس کے علاوہ کوئی اور رات جس نے یہ قول کیا ہے اس کی فضیلت اب توقف ہے بعد اس کے جو قرآن اترا ہے ملائکہ کے نزول پر اور ملائکہ کا نزول اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ہوتا ہے اور تحقیق وہ ان راتوں میں مختلف ہوتا ہے۔ پس جس رات فرشتے اترتے ہیں اس میں عمل دگنا ہو جاتا ہے اس کو جو اس رات کو عمل کرے گا اور تحقیق ابو بن کعب اس طرف گئے کہ وہ ستائیسویں شب ہے۔

ھَذَا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3684

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3685

3685 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا سعدان بن نصر نا سفيان بن عيينة عن عبدة بن أبي لبابة و عاصم بن أبي النجود عن زر بن حبيش قال : سألت أبي بن كعب عن ليلة القدر فحلف لا يستثني أنها ليلة سبع و عشرين قلت : ثم يقول ذلك أبا المنذر قال : بالآية و العلامة التي قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنها تصبح من ذلك اليوم تطلع الشمس ليس لها شعاع أخرجه مسلم من حديث سفيان و هذا أيضا من طريق الاستدلال و هذه العلامة قد وجدت في غيرها أيضا و كان صلى الله عليه و سلم أخبر بها عن الليلة التي رآها فيها

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو رزاز نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عبدہ بن ابو لبابہ اور عاصم بن ابی نجود نے ان کو ذر بن حبیش نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ ابی بن کعب سے شب قدر کے بارے میں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک آیت یا ایک علامت کی بناء پر جو رسول اللہ نے فرمائی تھی کہ بے شک صبح ہوتی ہے اس دن سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاعیں نہیں ہوتی بوقت طلوع اور اس کو مسلم نے تخریج کیا ہے حدیث سفیان سے اور یہ بھی استدلال کے طریقے سے ہے اور یہ علامت تحقیق پائی گئی ہے اس رات کی صبح کے علاوہ میں بھی اور تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہوں نے خبر دی تھی اس علامت کی اس رات کے بارے میں جس رات میں انہوں نے دیکھا تھا۔

بالآية و العلامة التي ← ذلك أبا المنذر ← ليلة القدر فحلف لا يستثني أنها ليلة سبع و عشرين قلت ثم ← سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عبدة بن أبي لبابة و عاصم بن أبي النجود ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3685

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3686

3686 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا ابن فضيل عن عاصم بن كليب عن أبيه عن ابن عباس قال : كنت عند عمر رضي الله عنهما و عنده أصحابه فسألهم فقال : أرأيتم قول رسول الله صلى الله عليه و سلم في ليلة القدر التمسوها في العشر الأواخر وترا أي ليلة ترونها ؟ فقال بعضهم : ليلة إحدى و عشرين و قال بعضهم ليلة ثلاث و قال بعضهم ليلة خمس و قال بعضهم : ليلة سبع فقالوا و أنا ساكت فقال : مالك لا تكلم ؟ فقلت : إنك أمرتني ألا أتكلم حتى يتكلموا فقال : ما أرسلت إليك إلا لتكلم فقال : إني سمعت الله يذكر السبع فذكر سبع سموات و من الأرض مثلهن و خلق الإنسان من سبع و نبت الأرض سبع فقال عمر : هذا أخبرتني ما أعلم أرأيت ما لا أعلم قولك نبت الأرض سبع قال : قلت قال الله عز و جل : { ثم شققنا الأرض شقا * فأنبتنا فيها حبا * وعنبا وقضبا * وزيتونا ونخلا * وحدائق غلبا * وفاكهة وأبا } قال : فالحدائق غلب الحيطان من النخل و الشجر و فاكهة و أبا فالأب ما أنبتت الأرض مما يأكل الدواب و النعام و لا يأكله الناس فقال عمر لأصحابه : أعجزتم أن تقولوا كما قال هذا الغلام الذي لم تجتمع شئون رأسه و الله إني لأرى القول كما قلت قال الإمام أحمد رحمه الله : و هذا أيضا إنما قال استدلالا و قد روى عكرمة عن ابن عباس هذه القصة فقال فيها : إني لأظن أي ليلة هي قال : و أي ليلة هي ؟ قال : سابعة تمضي أو سابعة تبقى من العشر الأواخر قال عمر : و من أين تعلم ؟ قال : قلت خلق الله سبع سموات و سبع أرضين و سبع أيام و إن الدهر يدور في سبع خلق الإنسان و يسجد على سبع أعضاء و الطواف سبع و الجمار سبع

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابن فضیل نے ان کو عاصم بن کلیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس بیٹھا تھا ان کے پاس نے کے احباب بیٹھے تھے۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ کا کوئی قول شب قدر کے بارے میں کہ اس کو تم تلاش کرو آخری دس راتوں میں طاق راتوں میں۔ تم لوگ کون سی رات دیکھتے ہو اس کو؟ بعض نے کہا کہ اکیسویں شب اور بعض نے کہا کہ تیسری رات بعض نے کہا کہ پانچویں رات بعض نے کہا ساتویں ات۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ میں خاموش بیٹھا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا کیا ہوا آپ کیوں خاموش بیٹھے ہیں؟ میں نے کہا کہ آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں کلام نہ کروں حتیٰ کہ وہ کلام کر لیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے آپ کو بات کرنے کے لیے بلوایا تھا۔ ابن عباس بولے میں نے اللہ تعالیٰ کا فرمان سنا ہے کہ وہ سات کو ذکر کرتے ہیں۔ اس نے سات ارکان ذکر کیے ہیں اور زمین میں ان کی مثل اور انسان کو پیدا کیا ہے سات چیزوں سے اور زمین سے اگنے والی چیزیں سات طرح ہیں حضرت عمر نے کہا یہ تو وہ باتیں ہیں جو میں جانتا ہوں وہ بتائیے جو میں نہیں جانتا تیرا یہ کہنا کہ زمین کی انگور یا نبا تات الارض سات ہیں کہتے ہیں کہ تم نے یہ بات کہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (انا) شققناالارض شقا فانبتنا فیھا حباً۔ وعنبا وقضبا وزیتونا ونخلا۔ وحدائق غلبا۔ وفاکھۃ وابا۔ " بے شک ہم نے زمین کو چیرا ہے ہم نے اس دانے کو اگایا ہے اور انگو اور رکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گھنے باغ اور پھل اور بھوسہ (گھاس)۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا: حدائق غلب سے مراد باغات ہیں کھجوروں سے اور درختوں سے اور پھل اور اباً سےمرد جس کو زمین اگائے اور وہ چیز جو چوپائے اور مویشی کھاتے ہیں جسے لوگ نہیں کھاتے۔ اللہ کی قسم مٰں بات کو ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے تم نے کہی ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اور یہ بھی انہوں نے بات کہی بطور استدلال کے اور تحقیق روایت کیا ہے عکرمہ نے ابن عباس سے یہی قصہ اس میں سے اس نے کہا ہے بے شک میں البتہ یہ گمان کرتا ہوں کہ کون سے رات ہے یہ انہوں نے کہا کہ اور کون سی رات ہے یہ؟ ابن عباس نے فرمایا: ساتویں جو گزر رہی ہیں یا دسویں جا باقی ہو آخر دس راتوں میں سے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ آپ نے یہ کہاں سے جانا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ نے سات آسمان بنائے ہیں سات زمین ہیں ۔ ہفتہ کے سات دن ہیں اور سال گھومتا ہے سات میں۔ انسان بنا ہے سات سے وہ سجدہ کرتاہے سات اعضاء پر اور طواف کی باریاں سات ہیں رمی کرنے کے لئے جمرے ساتھ ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3686

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3687

3687 - أخبرنا أبو القاسم عبيد الله بن عمر بن علي الفقيه الفامي ببغداد نا أحمد بن سلمان نا ابراهيم بن إسحاق نا محمود بن غيلان أنا عبد الرزاق نا معمر عن قتادة و عاصم أنهما سمعا عكرمة يقول : قال ابن عباس : دعا عمر أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فسألهم عن ليلة القدر فاجتمعوا أنها في العشر الأواخر فقلت لعمر إني لأعلم و إني لأظن أي ليلة هي ثم ذكره و قال في آخره : فقال عمر : لقد فطنت لأمر ما فطنا له

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبید اللہ بن عمر بن علی فقیہ نے الفامی نے بغدادمیں ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابراہیم بن اسحٰق نے ان کو محمود بن غیلان نے انکو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے ان کو عاصم نے ان دونوں نے سنا عکرمہ سے وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا حضرت عمر نے اصحاب رسول کو بلایا اور ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا وہ سب متفق تھے کہ وہ آخر دس راتوں میں ہے لہٰذا میں نے حضرت عمر سے کہا کہ بے شک میں جانتا ہوں اور میں گمان کرتا ہوں کہ یہ کون سی رات ہے پھر اسی مذکورہ وضاحت کو ذکر کیا ہے اور اس کے آخر میں کہا ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا البتہ تحقیق آپ نے ایسی بات اور ایسا امر سمجھا یا ہے کہ ہم اس کو نہیں سمجھ سکے تھے۔

ليلة القدر فاجتمعوا ← ابن عباس دعا عمر أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فسألهم ← قتادة و عاصم أنهما سمعا عكرمة ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم عبيد الله بن عمر بن علي الفقيه الفامي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3687

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3688

3688 - أخبرنا أبو سعد يحيى بن أحمد بن علي الصائغ بالري أنا أبو الحسن علي بن الحسن القاضي الجراحي نا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز نا أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني نا معاذ بن هشام الدستوائي حدثني أبي عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس : أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا نبي الله إني شيخ كبير يشق علي القيام فمرني بليلة لعل الله أن يوفقني فيها لليلة القدر قال : عليك بالسابعة

ہمیں خبر دی ہے بو سعد یحییٰ بن احمد بن علی صائغ نے مقام رئے میں ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن حسن قاضی جراحی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے ان کو احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن اسد شیبانی نے ان کومعاذ بن ہشام دستوائی نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے قتادہ سے اس نے عکرمہ سے اس نے ابن عباس سے کہ ایک آدمی آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اور بولا اے اللہ کے نبی میں انتہائی بوڑھا آدمی ہوں مجھ پر رات کو کھڑے ہو کر عبادت کرنا انتہائی مشکل گزرتاہےمجھے کسی ایک رات کا حکم فرما دیجئے شاید اللہ مجھے اس رات میں لیلۃ القدر کی توفیق دے دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم ساتویں کو لازم پکڑ لو (یعنی بیس کے بعد)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← معاذ بن هشام الدستوائي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلِ بْنِ هِلاَلِ بْنِ أَسَدٍ الشَّيْبَانِىُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي الْجَرَّاحِيُّ، ← أَبُو سَعْدٍ يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ الصَّائِغُ بِالرَّىِّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3688

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3689

3689 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا منصور محمد بن عبد الله بن حمشاذ يقول : سمعت أبا سعيد بن الأعرابي يقول : سمعت أبا يحيى بن أبي مسرة يقول : طفت ليلة السابع و العشرين من شهر رمضان فأريت الملائكة تطوف في الهواء حوالي البيت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو منصور بن عبداللہ حمشاد سے انہوں نے سنا ابو سعید اعرابی سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا یحییٰ بن ابومسرہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رمضان کی ستائیسویں کو کعبہ کا طواف کیا تو میں فرشتے دکھلایا گیا جو بیت اللہ کےگرد ہوا میں طواف کر رہے تھے۔

أبا يحيى بن أبي مسرة ← أبا سعيد بن الأعرابي ← أبا منصور محمد بن عبد الله بن حمشاذ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3689

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3690

3690 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا أبو سهل بن زياد نا عبد الله بن أحمد بن حنبل نا أبي نا إبراهيم بن خالد المؤذن الصنعاني أبو محمد و أثنى عليه خيرا نا رباح حدثني أبو عبد الرحمن يعني عبد الله بن المبارك عن عبد الرحمن بن يزيد عن الأوزاعي عن عبدة بن أبي لبابة قال : ذقت ماء البحر ليلة سبع و عشرين من شهر رمضان فإذا هو عذب

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل نے ان کو ابو سہل بن زیاد نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن خالد مؤذن صنعانی نے ان کو ابو محمد نے اور اس نے تعریف کی ہے ان کے بارے میں خیر کی ان کو خبر دی ہے رباح نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے یعنی عبداللہ بن مبارک نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید نے اوزاعی سے ان کو عبدہ بن ابو لبابہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ستائیسویں رمضان کی شب کو سمندر کے پانی کو چکھا تو وہ میٹھا ہو چکا تھا۔

عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أبو عبد الرحمن يعني عبد الله بن المبارك ← رَبَاحٍ، ← إبراهيم بن خالد المؤذن الصنعاني أبو محمد و أثنى عليه خيرا ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3690

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3691

3691 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا روح بن عبادة نا موسى بن عبيدة عن أيوب بن خالد قال : كنت في البحر فأحييت ليلة و عشرين من رمضان فاغتسلت من ماء البحر فوجدته عذبا فراتا قال أحمد : و روينا عن معاوية بن أبي سفيان موقوفا و مرفوعا أنها ليلة سبع و عشرين و روينا عن عبد الله بن مسعود أنه كان يقول : من يقم الحول يصبها ثم روي عنه أنه قال : تحروا ليلة القدر ليلة تسع عشر صبيحة بدر أو إحدى و عشرين أو ثلاث و عشرين و روي من وجه آخر عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم اطلبوها ليلة سبع عشرة من رمضان و ليلة إحدى و عشرين و ليلة ثلاث و عشرين و قد ذكرنا جميع ذلك في كتاب السنن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو موسیٰ بن عبیدہ نے ان کو ایوب بن خالد نے وہ کہتے ہیں کہ سمندر میں تھا میں نے تئیسویں شب کو رمضان میں عبادت کی تو میں نے سمندر کے پانی سے غسل کیا میں نے اس کو میٹھا پایا۔ احمد بیہقی نے کہا کہ ہم نے روایت کی ہے معاویہ بن ابو سفیان سے بطور موقوف اور بطور مرفوع روایت کی وہ ستائیسویں شب ہے اور ہم نے روایت کی ہے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ وہ کہتے تھے کہ جو شخص سال بھر شب بیداری کرتاہے وہ ضرور لیلۃ القدر کو پا لے گا ان سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ لیلۃ القدر انیسویں شب میں تلاش کرو بدر کی صبح کو یا اکیسویں یا تئیسویں میں اور ابن مسعود سے ایک اور طریق سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو سترہویں رمضان کو تلاش کرو اور اکیسویں شب کو اور تئیسویں شب کو اور ہم نے یہ تمام روایات کتاب السنن میں ذکر کر دی ہیں۔

أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ← موسى بن عبيدة ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3691

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3692

3692 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا أحمد بن الخليل نا أبو النصر نا المسعودي عن حوط العبدي قال : سئل زيد بن أرقم عن ليلة القدر فقال : ليلة تسع عشرة ما يشك و لا يستثني و قال قوم : الفرقان يوم التقى الجمعان قال الإمام أحمد : و قد روينا في السنة الثانية عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يطلبها من العشر الأوسط ثم بين له أنها في العشر الأواخر إلا أنه نسي في أي ليلة هي من العشر الأواخر قال الحليمي رحمه الله : تدل الأخبار على أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يعلم هذه الليلة وقتا غير أنه لم يكن مأذونا له في الإخبار بها ثم أنه نسيها فأما أنه يؤذن له في الإخبار بها كي لا يتكلوا على علمهم بها فيحيونها دون سائر الأوتار بل يحيوا الأوتار كلها فيصيبوها في جملتها و كان عبد الله يزيد الناس على هذا القول فيقول : من يقم الحول يصبها فقال أبي بن كعب : و الله لقد علم أبو عبد الرحمن أنها في رمضان و لكنه أراد أن يعمي على الناس لئلا يتكلوا قال : و أما أنه أنسيها فلئلا يسأل عن شيء من أمر الدين يعلمه فلا يخبر به أو لأنه كان مجبولا على أكرم الخلاق و أحسنها و علم الله من قلبه الرأفة بأمته و أنه يشق عليه أن يسئل شيئا مما عنده فيبخل به فأنساه علم هذه الليلة حتى إذا سئل عنها فلم يخبر بها لم يكن كاتم علم عنده و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو احمد بن خلیل نے ان کو ابو نصر مسعودی نے ان کو حوط عبدی نے وہ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم سے پوچھا گیا تھا لیلۃ القدر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انیسویں شب ہے نہیں شک کیا گیا نہ ہی استثنا کیا گیا ہے اور ایک جماعت نے کہا ہے الفرقان یوم التقیٰ الجمعان (یعنی جنگ بدر کی صبح) امام احمد نے فرمایا کہ ہم نے روایت کیا ہے سنت ثانیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ لیلۃ القدر درمیانے عشرہ میں تلاش کرتے تھے پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بیان کر دیا گیا کہ وہ آخری دس راتوں میں ہے مگر وہ بھول گئے یا بھلوا دئیے گئے کہ آخری دس راتوں میں سے کون سی ہے؟ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ احادیث اس بات کی دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو جانتے تھے متعین طور پر مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں بتانے کی اجازت نہیں تھی اس کے بعد وہ اسے بھول گئے۔ بہر حال بے شک ان کواس کے بارے میں بتانے کی جازت اس لیے نہیں تھی تاکہ لوگ اس کے بارے میں اپنے علم پر تکیہ اور سہارا نہ کر لیں بس اسی رات کو جاگ لیں گے اور باقی طاق راتوں کو چھوڑ دیں گے بلکہ پوری طاق راتوں کو جاگیں گے تو ان سب کے ساتھ شب قدر کو ضرور پا لے گا ابی بن کعب نے سنا تو فرمایا کہ اللہ کی قسم البتہ ابو عبدالرحمٰن جانتے تھے کہ وہ رمضان میں ہی ہے مگر وہ چاہتے تھے کہ لوگوں پر معاملہ اندھا کر دیں تاکہ آسرا نہ کریں۔ شیخ حلیمی نے فرمایا یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات کو بھلوائے گئے تھے تاکہ ایسا نہ ہو کہ دین کے ایک امر کے بارے میں آپ سے پوچھا جائے اور آپ اس کو جانتے ہوں پھر بھی اس کے بارے میں نہ بتلائیں یا اس لیے کہ آپ اعلیٰ اخلاق اور احسن اخلاق کے بارے میں مامور اور اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ آپ کے دل میں امت کی شفقت ہے لہذا اس کے اوپر یہ امر مشکل گزرے گا کہ لوگ ایک چیز کا پوچھیں جس کاآپ کے پاس علم ہو پھر اس کے بتانے میں بخل کریں اور اللہ تعالیٰ نے ان سے اس کا علم بھلوا دیا تاکہ لوگ اس کے بارے میں سوال کریں تو آپ علم اور حق میں کتمان کرنے والے نہ ٹھہریں۔ (واللہ اعلم)

حَوْطٍ الْعَبْدِيِّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أبو النصر ← أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3692

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3693

3693 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داوج نا زمعة عن سلمة بن بهرام عن عكرمة عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في ليلة القدر : ليلة سمحة طلقة لا حارة و لا باردة تصبح شمسها صبيحها ضعيفة حمراء قال الإمام أحمد : و في حديث معاوية بن يحيى عن الزهري عن محمد بن عبادة بن الصامت عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم في فضل قيام ليلة القدر ثم قال : و من أماراتها أنها ليلة بلجة صافية ساكنة لا حارة و لا باردة كأن فيها قمرا و إن الشمس تطلع في صبيحتها مستوية لا شعاع لها

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو زمعہ نے ان کو سلمہ بن بہرام نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے کہ رسول اللہ نے فرمایا لیلۃ القدر کے بارے میں وہ رات ہوتی ہے صاف فیاض نہ زیادہ گرم نہ سرد صبح کو سورج اس کی چمک اس کی کمزور ہوتی ہے سرخ ہوتی ہے امام احمد نے کہا کہ حدیث معاویہ بن یحییٰ میں ہے زہری سے اس نے محمد بن عبادہ بن صامت سے اس نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیلۃ القدر کے قیام کی فضیلت کے بارے میں اس کے بعد فرمایا اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ کشادہ رات ہوتی ہے ٹھنڈی۔ سکون والی نہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی ایسی ہوتی ہے جیسے اس میں چاند کی چاندنی ہے اور اس کا سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ اپنی چمک کے اعتبار سے معتدل ہوتا ہے اس کی کرنیں منتشر نہیں ہوتیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سلمة بن بهرام ← زَمْعَةُ، ← أبو داوج ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3693

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التماس ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3694

3694 - أخبرناه أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو يوسف نا إسحاق بن بهلول نا إسحاق بن سليمان قال : سمعت معاوية بن يحيى عن الزهري : فذكره و في كلا الإسنادين ضعف

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو یوسف نے ان کو اسحٰق بن بہلول نے ان کو اسحٰق بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا معاویہ بن یحییٰ سے اس نے زہری سے پھر اس کو اس نے ذکر کیا ہے مگر دونوں اسنادوں میں ضعف ہے۔

الزهري فذكره و في كلا الإسنادين ضعف ← مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ بُهْلُولٍ، ← أَبُو يُوسُفَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Seek the Night of Power in the Witr of the last ten days of Ramadan · Hadith 3694

chevron_left Previous
1…818283…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood