شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3659
3659 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : في قوله : { إنا أنزلناه في ليلة القدر } قال : أنزل الله عز و جل القرآن جملة واحدة في ليلة القدر فكان بموقع النجوم و كان الله ينزله على رسوله صلى الله عليه و سلم بعضه في اثر بعض ثم قرأ علي : { وقال الذين كفروا لولا نزل عليه القرآن جملة واحدة كذلك لنثبت به فؤادك ورتلناه ترتيلا }
ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن مقرئی نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابوالربیع نے ان کو جریری بن عبدالحمید نے منصور سے اس نے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس سے اللہ کے اس فرمان میں: "انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" ہم نے قرآن کو عزت والی رات میں اتارا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو یکبارگی نازل کیا تھا لیلۃ القدر میں۔ س تھا یہ علم موقع النجوم کے اور اللہ تعالیٰ اتارتا تھا۔ اس کو اپنے رسول پر بعض کا پیچھے بعض کے۔ پھر پڑھا اس نے وقالی الولا انزل علیہ القران جملۃ واحدۃ، کذالک لنشت بہ فوادک روتلنا ترتیلا"۔ (اور کفار ) نے کہا محمد پر قرآن یکبارگی کیوں نہیں اتارہ گیا۔ (فرما دیجئے اس کی حکمت یہ ہے) اس طرح اتارنے کی تاکہ ہم جمادیں اس کے ساتھ تیرے دل کو اور آہستہ آہستہ اتارا ہے ہم نے اس کو۔ آہستہ اتارنا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن المقرىء
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3659
