Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3659

3659 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : في قوله : { إنا أنزلناه في ليلة القدر } قال : أنزل الله عز و جل القرآن جملة واحدة في ليلة القدر فكان بموقع النجوم و كان الله ينزله على رسوله صلى الله عليه و سلم بعضه في اثر بعض ثم قرأ علي : { وقال الذين كفروا لولا نزل عليه القرآن جملة واحدة كذلك لنثبت به فؤادك ورتلناه ترتيلا }

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن مقرئی نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابوالربیع نے ان کو جریری بن عبدالحمید نے منصور سے اس نے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس سے اللہ کے اس فرمان میں: "انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" ہم نے قرآن کو عزت والی رات میں اتارا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو یکبارگی نازل کیا تھا لیلۃ القدر میں۔ س تھا یہ علم موقع النجوم کے اور اللہ تعالیٰ اتارتا تھا۔ اس کو اپنے رسول پر بعض کا پیچھے بعض کے۔ پھر پڑھا اس نے وقالی الولا انزل علیہ القران جملۃ واحدۃ، کذالک لنشت بہ فوادک روتلنا ترتیلا"۔ (اور کفار ) نے کہا محمد پر قرآن یکبارگی کیوں نہیں اتارہ گیا۔ (فرما دیجئے اس کی حکمت یہ ہے) اس طرح اتارنے کی تاکہ ہم جمادیں اس کے ساتھ تیرے دل کو اور آہستہ آہستہ اتارا ہے ہم نے اس کو۔ آہستہ اتارنا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن المقرىء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3659

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3660

3660 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا سفيان الثوري عن ابن نجيح عن مجاهد : في قوله عز و جل : { إنا أنزلناه في ليلة القدر } قال في ليلة الحكم

ہمیں خبر دی ابو ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوھاب نے انکو جعفر بن عون نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابن ابو نجیح نے ان کو مجاہد نے اللہ کے اس قول کے بارے میں: " انا انزلناہ فی لیلۃ القدر" فرمایا کہ : "ھی لیلۃ الحکم" یہ حکم اور فیصلے کی رات ہے۔

في ليلة الحكم ← أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ} ← مجاهد في قوله عز و جل ← ابْنِ نَجِيحٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3660

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3661

3661 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني محمد بن صالح بن هانيء نا الحسين بن محمد بن زياد القباني حدثني أبوعثمان سعيد بن يحيى بن سعيد الأموي حدثني أبي نا عثمان بن حكيم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : إنك لترى الرجل يمشي في الأسواق و قد وقع اسمه في الموتى ثم قرأ : { إنا أنزلناه في ليلة مباركة إنا كنا منذرين * فيها يفرق كل أمر حكيم } يعني ليلة القدر قال : ففي تلك الليلة يفرق أمر الدنيا إلى مثلها من قابل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ھانی نے ان کو حسین بنمحمد بن زیاد قبانی نے ان کو ابو عثمان سعید بن یحیی بن سعد اموی نے ان کو ان کے والد نے ان کو عثمان بن حکیم نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نہ وہ کہتے ہیں کہ تو البتہ دیکھتا ہے آدمی کو کہ وہ بازاروں میں کاروبار کر رہا ہوتا ہے حالانکہ اس کا نام موتی میں آ چکا ہوتا ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: "انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنا منذرین فیھا یفرق کل امر حکیم" بے شک ہم نے ان کو اتارا ہے برکت والی راتمیں بے شک ہم ہی ڈرانے والے ہیں اسی میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر امر محکم ۔ یعنی لیلۃ القدرمیں۔ ابن عباس نے فرمایا پس اس رات میں فیصلہ کیا جاتاہے امردینا آئندہ سال اسی رات تک۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← أَبِي ← أبوعثمانَ سعيدُ بنُ يحيى بنِ سعيدٍ الأمويُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3661

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3662

3662 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا محمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد نا سفيان عن سلمة بن كميل عن أبي مالك : في قوله عز و جل : { فيها يفرق كل أمر حكيم } قال : عمل السنة إلى السنة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے انکو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو سفیان نے سلمہ بن کھیل سے ان کو ابو مالک سے اللہ کے سے قول کے بارے میں: "فیھا یفرق کل امر حکیم " اس میں ہر حکمت والے یا ہر امر کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اور مالک نے کہا کہ اس سال کے اگلے سال تک سارے کام امر ہیں۔

عمل السنة إلى السنة ← أبي مالك في قوله عز و جل فيها يفرق كل أمر حكيم ← سلمة بن كميل ← سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3662

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3663

3663 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا أحمد بن عبد الجبار نا ابن فضيل عن حصين عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن : في قوله : { فيها يفرق كل أمر حكيم } قال : يدبر أمر السنة إلى السنة في ليلة القدر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کوابن فیصل نے ان کو حسین نے ان کو سعد بن عبیدہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے اس قول میں۔ " فیھا یفرق کل امر حکیم" ابو عبدالرحمٰن نے کہا کہ سال کے امور کی یعنی اگلے سال لیلۃ القدر تک امور کی تدبیر کرتا ہے۔ اور انتظام فرماتا ہے۔

يدبر أمر السنة إلى السنة في ليلة القدر ← أبي عبد الرحمن في قوله فيها يفرق كل أمر حكيم ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← حُصَيْنٍ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3663

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3664

3664 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عبد الرحمن بن محمد بن منصور نا معاذ بن هشام حدثني أبي عن عمرو بن مالك عن أبي الجوزاء : ـ { فيها يفرق كل أمر حكيم } قال : هي ليلة القدر يجاء بالديوان الأعظم السنة إلى السنة فيغفر الله عز و جل لمن شاء ألا ترى أنه قال : { رحمة من ربك }

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد منصور نے انکو معاذ بن ہشام نے ان کو ان کے والد نے ان کوعمرو بن مالک نے ان کو ابوالجوزاء نے کہ فیھا یفرق کل امر حکیم " سے مراد لیلۃ القدر ہے۔ دیوان اعظم اور سب سے بڑا رسٹر لایا جاتا ہے جس میں اس رات سے اگلے سال تک تمام معاملات دینا طے ہوتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ مغفرت کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے۔ کیا آپ دیکھے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "رحمۃ من ربک" یہ تیرے رب کی طرف سے رحمت ہے۔

أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3664

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3665

3665 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب نا سعيد عن قتادة : في قول الله عز و جل : { فيها يفرق كل أمر حكيم } قال : يفرق فيها أمر السنة إلى السنة قال : و أنا عبد الوهاب أنا أبو مسعود الجريري عن أبي نضرة قال : يفرق أمر سنة كله في ليلة بلاءها و رخاءها و معاشها إلى مثلها من السنة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس رحمہ اللہ علیہ نے انکو یحی بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں ۔ " فیھا یفرق کل امر حکیم " ۔ قتادہ نے فرمایا کہ اس سال سے اگلے سال تک کے امور اس رات میں فیصلہ کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے عبدالوہاب نے ان کو ابو مسعود جریری نے ان کو ابو نضرہ نے۔انہوں نے کہا اس میں فیصلہ کیاجاتا ہے سال بھر کے تمام امور کا اسی رات میں تمام مشکلات آسانیاں اس کی معاشی معاملات اس کی مثل اگلے سال تک۔

أَبِي نَضْرَةَ ← أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← و، ← يفرق فيها أمر السنة إلى السنة ← قتادة في قول الله عز و جل فيها يفرق كل أمر حكيم ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3665

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3666

3666 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق أنا عبيد الله بن موسى أنا ابن أبي ليلى عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : في قوله عز و جل : { يمحو الله ما يشاء و يثبت } قال : ينزل إلى السماء الدنيا في شهر رمضان فيدبر أمر السنة فيمحو ما يشاء غير الشقاوة و السعادة و الموت و الحياة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس رحمہ اللہ علیہ نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو ابن لیلیٰ نے ان کو منھال نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارےمیں: "یمحواللہ مایشاء ویثبت"مٹاتا ہے اللہ جو چاہے اور ثابت رکھتا ہے جو چاہے۔ اس کے پاس ہے اصل کتاب فرمایا کہ اترتا ہے آسمان دنیا کی طرف ماہ رمضان میں پس تدبیر و انتظام فرماتا ہے سال بھر کے معاملات کا جو چاہتا ہے مٹاتا ہے مگر بد بخت ہونا اور سعادت مند ہونا ۔ موت اور حیات کے سوا۔

ابن عباس في قوله عز و جل ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالُ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3666

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3667

3667 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسين الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك أنه بلغه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أري أعمال الناس قبله أو ما شاء الله من ذلك فكأنه تقاصر أعمال أمته أن لا يبلغوا من العمل مثل ما بلغ غيرهم في طول العمر فأعطاه الله ليلة القدر خير من ألف شهر

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسین طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک پر ان کو خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کے اعمال دکھائے گئے۔ پہلے اس کے یا جو کچھ اللہ چاہے اس میں سے پس گویا کہ قاصر ہو گئے اس کی امت کے اعمال اس سے کہ پہنچ جائیں دیگر امتوں کے اعمال کے برابر لمبی عمر میں تو اللہ نے ان کولیلۃ القدر عطا فرمائی جو بہتر ہے ہزار مہینے سے۔

القعنبي فيما قرأ على مالك أنه بلغه ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو الحسين الطرائفي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3667

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3668

3668 - و روينا في كتاب السنن عن مجاهد : أن النبي صلى الله عليه و سلم ذكر رجلا من بني إسرائيل ليس السلاح في سبيل الله ألف شهر فعجب المسلمون من ذلك فأنزل الله عز و جل هذه السورة

اور ہم نے روایت کی ہے کتاب السنن میں مجاہد سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جس نے اللہ کی راہ میں ہتھیار اٹھائے تھے ایک ہزار مہینے تک مسلمانوں کو یہ خبر سن کر حیرانی ہوئی (کہ ہم تو ایسا عمل نہیں کر سکتے) لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرمائی۔

مُجَاهِدٍ ← و روينا في كتاب السنن

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3668

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3669

3669 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن عبد الله بن عمرويه الصفار ببغداد نا أحمد بن زهير بن حرب نا موسى بن إسماعيل نا القاسم بن الفضل الحداني ح قال أبو عبد الله : و أخبرني أبو الحسن العمري نا محمد بن إسحاق الإمام نا زيد بن أخرم أبو طالب الطائي نا أبو داود نا القاسم بن الفضل نا يوسف بن مازن الراسبي قال : قام رجل إلى الحسن بن علي قال : يا مسود وجه المؤمنين فقال الحسن : لا لا تؤنبني رحمك الله فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد رأى بني أمية يخطبون على منبره رجلا فرجلا فساءه ذلك فنزلت : { إنا أعطيناك الكوثر } نهر من الجنة و نزلت : { إنا أنزلناه في ليلة القدر * و ما أدراك ما ليلة القدر * ليلة القدر خير من ألف شهر } مملكة بنو أمية فحسنا ذلك فإذا هو لا يزيد و لا ينقص

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ حافظ نے ان کومحمد بن عبداللہ بن عمرویہ صفار نے بغداد میں ان کو احمد بن زبیر بن حرب نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو قاسم بن فضل حدانی نے (ح) ابو عبداللہ نے کہا۔ اور مجھے خبر دیہے ابو الحسن عمری نے ان کومحمد بن اسحٰق امام نے ان کو زید بن احرم ابو طالب طائی نے۔ان کو ابو داؤد نے ان کو قاسم بن فضل نے ان کویوسف بن مازن (رابسی نے وہ کہتے ہیں ایک آدمی کھڑا ہوا حسن بن علی کے پاس اور کہنے لگا اے مؤمنوں کا منہ کالا کرنےوالے) یعنی معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےساتھ صلح کر کے) حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا آپ اس بارے میں مجھے تکلیف نہ پہنچائیں اللہ تعالیٰ ان کے اوپر رحم فرمائے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (خواب میں عالم مثال میں) بنو امیہ کو اپنےمنبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا تھا کہ ایک آدمی کے پیچھے دوسرا آدمی باری باری (منبر پر آ رہا ہے جو کہ اشارہ تھا ان کو بار بار حکومت و خلافت پر آنےکا) مگر آپ کو یہ بات اچھی نہ لگی تو (حضور کی تالیف قلب کے لیے) یہ آیت نازل ہوئی۔ "انا اعطینٰک الکوثر" بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے۔ کہ وہ جنت میں ایک نہر ہے اور یہ آیت نازل ہوئی: " انا انزلناہ فی لیلۃ القدر ،وما ادراک مالیلۃ القدر ، لیلۃ القدر خیر من الف شھر" بیشک ہم نے قرآن مجید کو اتارا ہے عزت والی رات میں۔ اور کیا معلوم آپ کو عزت والی رات کیا ہے؟عزت والی رات ہزار مہینے سے بہتر ہے گویا مملکت بنو امیہ آ کر رہے گی (یا بنو امیہ لے کر رہیں گے) ہم نے اس کا حساب لگایا تو بس وہ نہ کم ہوا نہ زیادہ۔

يا مسود وجه المؤمنين ← قام رجل إلى الحسن بن علي ← يوسف بن مازن الراسبي ← الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← زيد بن أخرم أبو طالب الطائي ← محمد بن إسحاق الإمام، ← أبو الحسن العمري ← أَبُو عَبْد اللَّهِ و ← الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ ← محمد بن عبد الله بن عمرويه الصفار ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3669

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3670

3670 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا مسلم بن إبراهيم نا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قام ليلة القدر إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه رواه البخاري عن مسلم بن إبراهيم و أخرجه مسلم من وجه آخر عن هشام

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ہشام دستوائی نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ھریرہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو شخص شب قدر کا قیام کرے (یعنی رات کی عبادت کرے) ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت کے ساتھ اس کے سابقہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے مسلم بن ابراہیم سے اوراس کو نقل کیا ہے مسلم نے دوسرے طریقے سے ہشام سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3670

chevron_left Previous
1…798081…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood