Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2793

2793 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه ثنا إسماعيل بن قتيبة ثنا يحيى بن يحيى ثنا جرير عن الأعمش عن أبي سفيان قال : سمعت جابرا يقول : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن بين الرجل و بين الشرك و الكفر ترك الصلاة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یحییٰ بن یحی نے ان کو جریر نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا جابر سے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ فرماتے تھے ۔ بے شک بندہ مؤمن کے اور شرک و کفر کے درمیان (فرق کرنے والی چیز ) نماز کا چھوڑنا ہی ہے۔

إن بين الرجل و بين الشرك و الكفر ترك الصلاة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← جَابِرًا ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2793

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2794

2794 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن أحمد بن تميم القنطري ببغداد ثنا أبو قلابة ثنا أبو عاصم عن ابن جريح أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره رواه مسلد في الصحيح عن يحيى بن يحيى و أبو غسان عن أبي عاصم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین محمد بن احمد بن احمد بن تمیم قنطری نے بغداد میں ان کو ابو قلابہ نے ان کو عاصم نے ان کو ابن جریج نے ان کو ابو زبیر نے خبر دی ہے کہ اس نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےسنا پھر ا س نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا اور اس کو روایت کیا ہے مسلد نے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے اور ابو غسان سے اس نے عاصم سے۔

أَبِي عَاصِمٍ ← يحيى بن يحيى و أبو غسان ← رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره رواه مسلد في الصحيح ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أبو الحسين محمد بن أحمد بن أحمد بن تميم القنطري ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2794

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2795

2795 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا الحسن بن يعقوب بن يوسف ثنا يحيى بن أبي طالب أنا زيد بن الحباب أنا الحسين بن واقد ثنا عبد الله بن بريدة بن الحصيب عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : العهد الذي بيننا و بينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر قال البيهقي رحمه الله : و يحتمل المراد بهذا الكفر كفرا يبيح الدم لا كفرا يرده إلى ما كان عليه في الإبتداء و قد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه جعل إقامتها من أسباب حقن الدم

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو حسن بن یعقوب بن یوسف نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو زید بن حباب نے ان کو حسین بن واقد نے ان کو عبداللہ بن بریدہ بن حصیب نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور کفار کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہی ہے جس نے چھوڑ دیا اس نے کفر کیا' (وہ کافر ہو گیا)۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : احتمال ہے کہ اس کفر سے مراد ایسا کفر ہو جو اس کے خون بہانے کو مباح کر دے وہ کفر مراد نہ ہو جو اس کو اس کیفیت پر واپس کر دے ابتداء میں جس کیفیت پر تھا۔ اور تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز قائم کرنے کو خون کے محفوظ کرنے والے اسباب میں سے قرار دیا ہے۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن بريدة بن الحصيب ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الحسن بن يعقوب بن يوسف ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2795

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2796

2796 - أخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد عن ابن بكير ثنا مالك عن ابن شهاب عن عطاء بن يزيد الليثي عن عبيد الله بن عدي بن الخيار أنه حدثه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه بينما هو جالس بين ظهراني الناس إذ جاءه رجل فساره و لم يدر ما ساره به حتى جهر رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا هو يستأذنه في قتل رجل من المنافقين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم حين جهر أليس يشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله قال الرجل : بلى يا رسول الله و لا شهادة له فقال : أليس يصلي قال : بلى و لا صلاة له فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أولئك الذين نهاني الله عنهم قال البيهقي رضي الله عنه هكذا رواه مرسلا و رواه معمر بن راشد عن الزهري عن عطاء عن عبيد الله بن عدي بن الخيار عن عبد الله بن عدي الأنصاري موصولا

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ابن بکیر سے ان کو مالک نے ابن شہاب سے ان کو عطا بن یزید لیثی نے ان کو عبیداللہ بن عدی بن خیار نے اس نے ان کو حدیث بیان کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے مابین تشریف فرما تھے۔ اچانک آپ کے پاس ایک آدمی آیا اوراس نے آہستہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ کہا یہ نہ معلوم ہو سکا کہ اس نے آپ کے ساتھ کیا سرگوشی کی ہے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود زور سے بات کی یکا یک وہ منافقین میں سے ایک آدمی کے قتل کی اجازت چاہتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے بات کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: کیا وہ یہ شہادت نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس آدمی نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ وہ یہ شہادت تو دیتا ہے مگر اس کی شہادت کوئی شہادت نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ شخص نماز نہیں پڑھتا۔ عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ وہ نماز بھی پڑھتا ہے مگر اس کی نماز کوئی نماز نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں اللہ نے مجھے ان کے (قتل کرنے سے) منع کر دیا ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں۔ اس حدیث کو اس طرح انہوں نے مسلاً روایت کیا ہے اور اس کو معمر بن راشد نے زہری سے اس نے عطاء سے اس نے عبید اللہ بن عدی بن خیار سے اس نے عبداللہ بن عدی انصاری سے موصولاً نقل کیا ہے۔

الرجل: بلى، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّهُ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو زكريا يحيى بن إبراهيم،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2796

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2797

2797 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر : فذكره بإسناده و معناه موصولا

ہمیں خبردی ہے ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری سے اس نے اسماعیل بن محمد صفار سے اس نے احمد بن منصور سے اس نے عبدالرزاق سے اس نے معمر سے ۔ پس انہوں نے اس کو ذکر کیا اس کی اسناد کے ساتھ اور اس کے مفہوم کو بطور موصول روایت کے۔

معمر فذكره بإسناده و معناه موصولا ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2797

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2798

2798 - أخبرنا الحسين بن محمد بن علي الطوسي أنا أبو بكر محمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا هارون بن عبد الله و محمد بن العلاء أن أبا أسامة أخبرهم عن مفضل بن يونس عن الأوزاعي عن أبي يسار القرشي عن أبي هاشم عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم أتى مخنث قد خضب يديه و رجليه بالحناء فقال النبي : ما بال هذا فقيل يا رسول الله يتشبه بالنساء فأمر به فنفي إلى البقيع قالوا يا رسول الله ألا تقتله ؟ قال : إني نهيت عن قتل المصلين

ہمیں خبر دی ہے حسین بن محمد بن علی طوسی نے ان کو ابو بکر محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ہارون بن عبداللہ اور محمد بن علاء نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو خبر دی ہے مفضل بن یونس سے اس نے اوزاعی سے اس نے ابو یسار قرشی سے اس نے ابو ہاشم سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ہیجڑے کو پکڑ کر لایا گیا اس نے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگا رکھی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اس نے یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے۔ بتایا گیا یا رسول اللہ عورتوں کے ساتھ مشابہت بنانے کے لیے اس نے یہ کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اسے بقیع کی طرف ہٹا دیا گیا۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا اپ اسے قتل نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نمازیوں کے قتل کرنے سے منع کر دیا گیا ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← أَبِي يَسَارٍ الْقُرَشِيِّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُفَضَّلِ بْنِ يُونُسَ ← هارون بن عبد الله و محمد بن العلاء أن أبا أسامة ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ← الحسين بن محمد بن علي الطوسي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2798

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2799

2799 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس قاسم بن القاسم السياري ثنا إبراهيم بن هلال أنا علي بن الحسن بن شقيق أنا الحسين بن واقد حدثني أبو غالب حدثني أبو أمامة قال : جاء علي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا نبي الله إدفع إلينا خادما قال : إذهب فإن في البيت ثلاثة فخذ أحد الثلاثة فقال : يا نبي الله إختر لي قال : إختر لنفسك قال : يا نبي الله إختر لي قال : إختر لنفسك قال : يا نبي الله إختر لي قال : إذهب فإن في البيت ثلاثة منهم غلام قد صلى فخذه و لا تضربه فإنا قد نيهنا عن ضرب أهل الصلاة قال البيهقي رضي الله عن : و من الدلالة على عظم أمر الصلاة أن الله عز اسمه ما ذكر الصلاة مع غيرها إلا قدم الصلاة عليه فقال : { الذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلاة ومما رزقناهم ينفقون } و قال : { أقيموا الصلاة و آتوا الزكاة } إلى غير ذلك من الآيات و قد ذكر الله جل جلاله الإيمان و الصلاة و لم يذكر معها غيرها دلالة بذلك على اختصاص الصلاة بالإيمان فقال : فلا صدق و لا صلى أي فلا هو صدق رسول الله صلى الله عليه و سلم فآمن به و لا صلى و قال : { وإذا قيل لهم اركعوا لا يركعون * ويل يومئذ للمكذبين * فبأي حديث بعده يؤمنون } فوبخهم على ترك الصلاة كما وبخهم على ترك الإيمان و قد ذكر الله جل جلاله الصلاة وحدها دلالة على أنها عماد أعمال الدين فذكر الأنبياء و المتقدمين و مدحهم بأنهم كانوا إذا تتلى عليهم آيات الرحمن خروا سجدا و بكيا ثم ذكر من خالف مذهبهم فذمهم فقال تعالى : { فخلف من بعدهم خلف أضاعوا الصلاة و اتبعوا الشهوات } ثم أخبر بما يؤديهم ذلك إليه من سوء العاقبة فقال { فسوف يلقون غيا } يعني ـ و الله أعلم ـ لا يرشد أمرهم مع إضاعة الصلاة و لكنهم يعودن فلا يزالون يقعون في فساد بعد فساد كمن يضل الطريق فلا يزال يقع في مهلكة بعد مهلكة إلى أن ينقطع به فيفسد فدل ذلك على عظم قدر الصلاة و جلال مواقعها من العبادات و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس قاسم بن قاسم سیار نے ان کو ابراہیم بن ہلال نے ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ان کو حسین بن واقد نے ان کو حدیث بیان کی ابو غالب نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی یا نبی اللہ ہمیں ایک خادم دیجیے۔ آپ نے فرمایا جائیے فلاں گھر میں تین ہیں تین میں سے ایک لے لیجئے۔ حضرت علی نے کہا کہ آپ میرے لیے منتخب کریں آپ نے کہا آپ اپنے لئے خود پسند کریں۔ تیسری بار انہوں نے عرض کی کہ میرے لیے آپ ہی منتخب فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم جاو اس گھر میں تین ہیں ان میں ایک وہ غلام ہے جس نے نماز پڑھی ہے ابھی ابھی۔ اس کے لے جائیے دیکھئے اسے مارنا نہیں۔ اس لیے کہ ہم اہل صلوٰۃ کو مارنے سے منع کر دئیے گئے ہیں۔

أَبُو أُمَامَةَ ← أبو غالب ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← إبراهيم بن هلال ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2799

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2800

2800 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو نعيم ثنا عمرو بن عثمان بن موهب قال : سمعت موسى بن طلحة يذكر عن أبي أيوب الأنصاري : أن أعرابيا عرض للنبي صلى الله عليه و سلم في مسيره فقال : أخبرني بما يقربني من الجنة و يباعدني من النار قال : تعبد الله و لا تشرك به شيئا و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تصل الرحم أخرجه مسلم في الصحيح عن محمد بن عبد الله بن نمير عن أبيه عن عمرو

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو نعیم نے ان کو عمرو بن عثمان بن موہب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا موسیٰ بن طلحہ سے وہ ذکر کرتے تھے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مقام میسرہ میں رسول اللہ کے سامنے آیا اور کہنے لگا آپ مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کےقریب کر دے اور مجھے جہنم سے دور کر دے آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کرو اور تم نماز قائم کرو اور تم زکوٰۃ ادا کرو اور تم صلہ رحمی کرو۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں محمد بن عبداللہ بن نمیر سے اس نے اپنے والد سے اس نے عمرو سے۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يَذْكُرُ، ← عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ مُوهِبٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2800

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2801

2801 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي إملاء أنا أبو بكر أحمد بن إسماعيل البخاري ثنا أبو الوليد ثنا شعبة ثنا الوليد بن العيزار قال : سمعت أبا عمرو الشيباني يقول : أخبرني صاحب هذه الدار و أومأ بيده إلى دار عبد الله قال : سألت النبي صلى الله عليه و سلم أي العمل أحب إلى الله تعالى ؟ قال : الصلاة لوقتها قلت ثم أي قال : بر الوالدين قلت ثم أي قال الجهاد في سبيل الله قال : و حدثني بهن و لو استزدته لزادني أخرجاه في الصحيح

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن محمد بن حسین علوی نے بطور املاء کے انکو ابو بکر احمد بن اسماعیل بخاری نے ان کو ابو الولید نے ان کو شعبہ نے ان کو ولید بن عیزار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعمرو شیبانی سے وہ کہتے ہیں مجھےخبر دی اس گھر کے مالک نے اور اس نے اس کے ساتھ اشارہ کیا عبداللہ کے گھر کی طرف وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے آپ نے فرمایا نماز اپنے وقت پر۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ والد کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا جہاد فی سبیل اللہ ۔ فرماتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ان کے بارے میں بتایا اگر میں ان سے اور زیادہ پوچھتا تو وہ اور زیادہ مجھےبتاتے۔ اس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے۔

أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أبو بكر أحمد بن إسماعيل البخاري ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2801

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2802

2802 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا هارون بن سليمان ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسين بن الحسن بن أيوب ثنا أبو يحيى بن أبي مسرة ثنا خلاد بن يحيى ثنا سفيان عن منصور عن سالم ابن أبي الجعد عن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إستقيموا و لن تحصوا و اعلموا أن خير أعمالكم الصلاة و لا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن لفظ حديثها سواء و قد مضى في كتاب الطهارة حديث أبي كبشة عن ثوبان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن عمرو نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ہارون بن سلیمان نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو ابو یحییٰ بن ابو مسرہ نے ان کو خلاد بن یحییٰ نے ان کو سفیان نے منصور سے اس نے سالم سے اس نے ابن ابو الجعد سے اس نے ثوبان سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدھے چلو (یا استقامت رکھو) تم ہر گز پورے دین کا احاطہ نہیں کر سکتے اور یقین جانو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی حفاظت تو مؤمن کر سکتا ہے۔ اس کی حدیث کے الفاظ برابر ہیں اور کتاب الطہارۃ میں حدیث ابو کبثہ ثوبان سے گزر چکی ہے۔

ثَوْبَانَ، ← سالم ابن أبي الجعد ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2802

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2803

2803 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن علي بن حشيش المقري بالكوفة ثنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم إملاء أنا أبو عمرو أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عبيد الله بن موسى أنا شيبان عن ليث عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إستقيموا و لن تحصوا و اعلموا أن خير أعمالكم الصلاة و لا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن

ہمیں خبر د ی ابو الحسین محمد بن علی بن حشیش مقری نے کوفےمیں ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے بطور املاء کے ان کو ابو عمرو احمد بن حازم غرزہ نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو شیبان نے ان کو لیث نے ان کو مجاہد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ سیدھے چلو تم ہر گز دین کا پورا احساء اور احاطہ نہیں کر سکو گے یقین جانو کہ بے شک تمہارے اعمال میں سے بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی حفاظت کوئی نہیں کرتا مگر مؤمن ہی کرتا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ← أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم إملاء ← أبو الحسين محمد بن علي بن حشيش المقرئ بالكوفة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2803

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2804

2804 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا سعيد بن أبي مريم أنا يحيى بن أيوب أنا إسحاق بن أسيد عن أبي حفص الدمشقي عن أبي أمامة الباهلي يرفع الحديث قال : استقيموا ونعما إن إستقمتم و خير أعمالكم الصلاة و لن يحافظ على الوضوء إلا مؤمن

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن محمد اشنانی نے ان کو ابو الحسن طرائعی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو سعید بن ابو مریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو اسحٰق بن اسید نے ان کو ابو حفص دمشقی نے ان کو ابو امامہ باہلی نے وہ حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں کہ فرمایا راست روی اختیار کرو اور یہ بہت ہی اچھی بات ہے کہ تم سیدھے رہو اور تمہارے بہترین اعمال نماز ہیں اور وضو کو تو ہر گز حفاظت نہیں کر سکتا مگر مؤمن ہی کر سکتا ہے۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ ← أَبِي حَفْصٍ الدِّمَشْقِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أُسَيْدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2804

chevron_left Previous
1…789…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood