Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصائم ينزه صيامه عن اللغط و المشاتمة و ما لا يليق به · حديث 3647

3647 - أخبرنا أبو يعلى حمزة بن عبد العزيز الصيدلاني ثنا عبد الله بن محمد بن المنازل ثنا إسماعيل بن قتيبة نا أبو بكر بن أبي شيبة نا وكيع بن الجراح عن أبي العميس عن عمرو بن مرة عن أبي صالح الحنفي عن أخيه طليق بن قيس قال قال أبو ذر : إذا صمت فتحفظ ما استطعت فكان طليق إذا كان يوم صومه دخل فلم يخرج إلا للصلاة

ہمیں خبر دی ہے یعلی حمزہ بن عبدالعزیز نے صیدلانی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن منازل نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو وکیع بن جراح نے ان کو ابو عمیس نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو ابو صالح ختمی نے ان کو ان کے بھائی طلیق بن قیس نے انہوں نے کہا کہ حضرت ابو ذر نے فرمایا ۔ جب تم روزہ رکھو تو جتنی طاقت ہو اس کی حفاظت کرو۔ طلیق کی عادت تھی کہ جب ان کے روزے کا دن ہوتا تو صرف نماز ہی کے لیے باہر نکلتے تھے۔

أَخِيهِ طَلِيقِ بْنِ قَيْسٍ ← أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي الْعُمَيْسِ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عبد الله بن محمد بن المنازل ← أَبُو يَعْلَى حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الصَّيْدَلَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The fasting person relieves his fast from confusion and insults and what is not appropriate for him · Hadith 3647

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصائم ينزه صيامه عن اللغط و المشاتمة و ما لا يليق به · حديث 3648

3648 - قال و نا أبو بكر نا هشيم أنا مجالد عن الشعبي عن علي قال : إن الصيام ليس من الطعام و الشراب و لكن من الكذب و الباطل و اللغو

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو بکر نے ان کو ھیثم نے ان کو مجالد نے ان کو شعبی نے ان کو علی نے انہوں نے فرمایا: بے شک روزہ کھانے پینے (سے رکنے کا صرف نام نہیں) بلکہ جھوٹ سے اور باطل سے اور بے ہودہ بات سے بھی روزہ ہے۔

عَلِيٍّ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← هُشَيْمٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The fasting person relieves his fast from confusion and insults and what is not appropriate for him · Hadith 3648

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصائم ينزه صيامه عن اللغط و المشاتمة و ما لا يليق به · حديث 3649

3649 - قال و نا أبو بكر ثنا وكيع و محمد بن بشر عن مسعر عن عمرو بن مرة عن أبي البختري : أن امرأة كانت تصوم على عهد النبي صلى الله عليه و سلم في لسانها شيء فقال : ما صامت فتحفظت فقال النبي صلى الله عليه و سلم الآن

فرماتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے ابو بکر نے انن کو وکیع نے اور محمد بن بشر نے ان کو سعد نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو ابوالبختری نے کہ ایک عورت عہد رسول میں روزہ رکھتی تھی اپنی زبان میں کوئی شی تھی (یعنی زبان کو نہیں روکتی تھی) کسی نے کہا کہ اس کا روزہ نہیں ہے۔ پھر اس نے زبان کی حفاظت کی حضور نے فرمایا اب روزہ ہے۔

أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← وكيع و محمد بن بشر ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The fasting person relieves his fast from confusion and insults and what is not appropriate for him · Hadith 3649

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصائم ينزه صيامه عن اللغط و المشاتمة و ما لا يليق به · حديث 3650

3650 - و بإسناده قال نا أبو بكر نا محمد بن فضيل عن ليث عن مجاهد قال : خصلتان من حفظهما يسلم له صومه الغيبة و الكذب

مذکورہ اسنا دکے ساتھ کہا ابو بکر نے ان کو محمد بن فضل نے لیث سے اس نے مجاہد سے اس نے کہا دو خصلتیں ہیں جوان سے حفاظت کر لے اس کا روزہ اس کے لیے بچ جائے گا۔ غیبت کرنا اور جھوٹ بولنا۔

خصلتان من حفظهما يسلم له صومه الغيبة و الكذب ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The fasting person relieves his fast from confusion and insults and what is not appropriate for him · Hadith 3650

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصائم ينزه صيامه عن اللغط و المشاتمة و ما لا يليق به · حديث 3651

3651 - و بإسناده أخبرنا أبو بكر نا وكيع عن سفيان عن هشام عن حفصة عن أبي العالية قال : الصائم في عبادة ما لم يغتب

اوراپنی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے ابو بکر نے ان کو وکیع نے ان کو سفیان نے ان کو ھشام نے ان کو حفصہ ابوالعالیہ نے انہوں نے کہا کہ روزے دار عبادۃ میں ہوتا ہے جب تک وہ غیبت نہ کرے۔

الصَّائِمُ فِي عِبَادَةٍ مَا لَمْ يَغْتَبْ. ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَکْرٍ ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The fasting person relieves his fast from confusion and insults and what is not appropriate for him · Hadith 3651

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصائم ينزه صيامه عن اللغط و المشاتمة و ما لا يليق به · حديث 3652

3652 - و بإسناده قال : نا أبو بكر نا كثير بن هشام عن جعفر قال : سمعت ميمون بن مهران يقول : إن أهون الصوم ترك الطعام و الشراب

اور اپنی اسناد کے ساتھ کہا ابو بکر نے ان کو کثیر بن ھشام نے ان کو جعفر نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا میمون بن مہران سے وہ کہتے ہیں کہ بے شک آسان ترین روزہ کھانا اور پینا چھوڑ دینا ہے۔

إن أهون الصوم ترك الطعام و الشراب ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← جَعْفَرٌ، ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ ← أَبُو بَکْرٍ ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The fasting person relieves his fast from confusion and insults and what is not appropriate for him · Hadith 3652

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصائم ينزه صيامه عن اللغط و المشاتمة و ما لا يليق به · حديث 3653

3653 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق نا عفان نا شعبة عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي المطوس أما إني لم اسمع منه أخبرني عمارة بن عمير عن أبي المطوس عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أفطر يوم من رمضان في غير رخصة رخصها الله لم يقضه عنه صيام الدهر

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن حسن اور محمد بن موسی نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو عفان نےان کو شیبہ نے ان کو حبیب بن ابوثابت نے ان کو ابوالمطوس نے۔ بہرحال میں نے ان سے نہیں سنا مجھے خبر دی ہے عمارہ بن عمیر نے ان کو ابوالمطوس نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے فرمایا۔ جو شخص بلا عذر رمضان کا روزہ ترک کر دے نہیں پورا کرسکتا اس کو سال بھر کاروزہ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أَبِي الْمُطَوِّسِ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← أبي المطوس أما إني لم اسمع منه ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر أحمد بن الحسن و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The fasting person relieves his fast from confusion and insults and what is not appropriate for him · Hadith 3653

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصائم ينزه صيامه عن اللغط و المشاتمة و ما لا يليق به · حديث 3654

3654 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس نا إبراهيم بن مرزوق نا أبو داود و بشر بن عمار قالا : نا شعبة عن حبيب بن أبي ثابت قال : سمعت عمارة بن عمير يحدث عن أبي المطوس قال حبيب : فقد رأيت أبا المطوس عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أفطر يوما من رمضان في غير رخصة رخصها الله عز و جل لم يقضه عنه و لو صام الدهر

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ان کو محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو ابو ذر اور بشر بن عمار نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے حبیب بن ابو ثابت سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے عمارہ بن عمیر سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابو المطوس سے کہا حبیب نے کہ میں نے دیکھا تھا ابو المطوس کو بیان کرتے اپنے والد سے اس نے ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے بغیر رخصت کے جس کی اللہ نے رخصت دی ہو نہیں پورا ہو گا اس سے اگرچہ وہ سال بھر روزہ رکھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← حبيب فقد رأيت أبا المطوس ← أَبِي الْمُطَوِّسِ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أبو داود و بشر بن عمار ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The fasting person relieves his fast from confusion and insults and what is not appropriate for him · Hadith 3654

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصائم ينزه صيامه عن اللغط و المشاتمة و ما لا يليق به · حديث 3655

3655 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عثمان بن عمر الضبي نا مسدد نا يحيى حدثني المهلب بن أبي حبيبة حدثني الحسن عن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يقولن أحدكم إني قمت رمضان كله و صمته فلا أدري أكره التزكية أو قال لا بد من نومة أو رقدة تابعه همام عن قتادة عن الحسن

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد ن عبید صفار نے ان کو عثمان بن عرم ضبی نے ان کو مسدد نے ان کو یحی نے ان کو مھلب نے بن ابو حبیبہ سے انکو حسن نے ان کو ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک آدمی بھی ایسے نہ کہے کہ میں نے پورا رمضان قیام کیا ہے (رات کی عبادت) اور پورا رمضان روزہ رکھا ہے (راوی کہتا ہے کہ )مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بندے کا اپنی تعریف کرنا ناپسند کیا ہے یا یہ مطلب تھا کہ لازمی ہے کہ نیند بھی کی ہو ، جاگے بھی ہوں گے تو پورا کیسے ہو؟ اس کا متابع بیان کیا ہے۔ ھمام نے قتادہ سے اس نے حسن سے۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الْمُهَلَّبُ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The fasting person relieves his fast from confusion and insults and what is not appropriate for him · Hadith 3655

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الاجتهاد في العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3656

3656 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصفهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا سفيان عن أبي يعفور العبدي عن مسلم عن مسروق قال : سمعت عائشة رضي الله عنها تقول : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا دخلت العشر الأواخر من شهر رمضان أحيا الليل و أيقظ أهله و شد المئزر أخرجاه في الصحيح من حديث ابن عيينة

ہمیں خبردی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو سفیان نے ان کو ابویعفور عبدی نے ان کو مسلم نے ان کو مسروق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی جب ماہ رمضان کا آخری عشرہ آتا آپ رات بھر عبادت کرتےاور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور تہہ بند کس لیتے (یعنی سخت کوشش کرتے جدو جہد کرتے) بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں ابن عیینہ کی حدیث سے۔

مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← أَبِي يَعْفُورَ الْعَبْدِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصفهاني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Diligence in the last ten days of Ramadan · Hadith 3656

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الاجتهاد في العشر الأواخر من شهر رمضان · حديث 3657

3657 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن سختوية نا إسماعيل بن إسحاق نا عارم بن الفضل نا عبد الواحد بن زياد نا الحسن بن عبيد الله قال : سمعت إبراهيم بن يزيد يحدث عن الأسود بن يزيد عن عائشة قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم يجتهد في العشر الأواخر من رمضان مالا يجتهد في غيرها رواه مسلم عن قتيبة عن عبد الواحد

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد سختویہ نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے ان کو عارم بن فضل نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو حسن بن عبیداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن یزید سے وہ حدیث بیان کرتے تھے اسود بن یزید سے اس نے سیدہ عائشہ سے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ رمضان کے آخری عشروں میں اتنی کوشش کرتے تھے۔ جس قدر ان کے ماسوا میں نہیں کرتے تھے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا قتیبہ سے اس نے عبدالواحد سے۔

عَائِشَةَ ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Diligence in the last ten days of Ramadan · Hadith 3657

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ليلة القدر · حديث 3658

3658 - ـ : قال الله عز و جل : { بسم الله الرحمن الرحيم } { إنا أنزلناه في ليلة القدر } إلى آخر السورة قال الحليمي رحمه الله : و معنى ليلة القدر الليلة التي يقدر الله تعالى لملائكته جميع ما ينبغي أن يجري علي أيديهم من تدبير بني آدم محياهم و مماتهم إلى ليلة القدر من السنة القابلة و كان يدخل في هذه الجملة أيام حياة النبي صلى الله عليه و سلم أن يقدر فيها ما هو منزله من القرآن إلى مثلها من العام القابل و إنما قيل ليلة القدر بتسكين الدال لأنه لم يرد به ليلة القضاء فإن القضاء سابق و إنما أريد به تفصيل ما قد جرى به القضاء و تحديده ليكون ما يلقى إلى الملائكة في السنة مقدار بمقدار يحصره علمهم و قال الله عز و جل في وصف هذه الليلة { إنا أنزلناه في ليلة مباركة } أي مباركة أي مبارك فيها لأولياء الله فإنما جعلت خيرا من ألف شهر إذا أحيوها و قدروها حق قدرها و قطعوها بالصلاة و قراءة القرآن و الذكر دون اللغو و اللهو ثم قال : { إنا كنا منذرين * فيها يفرق كل أمر حكيم } أي كل أمر مبين على السداد و الحكمة حكيم بمعنى محكم و قيل معناه يفرق كل أمر حكيم أي يفصل أجزاء القرآن فيكون ذلك الفصل و ذلك الفرق أمرا حكيما و قيل أيضا ليلة القدر لتقدير ما ينزل من القرآن فيها إلى مثلها من السنة القابلة فقط فأما سائر الأمور التي تجري على يدي الملائكة من تدبير أهل الأرض فإنما تبين ليلة النصف من شعبان

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم انا انزلناہ فی لیلۃ القدر " شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ بے شک ہم نے ہی اتارا ہے (قرآن مجید) کو شب قدر میں۔ شیخ حلیمی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ لیلۃ القدر کا معنی ہے ، وہ رات اللہ تعالیٰ نے جس کو مقدر فرمایا ہے اپنی تدبیر میں ۔ ان کی زندگی ان کو موت وغیرہ آنے والے سال کی شب قدر تک۔ اسی مجموعے میں داخل تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کے ایام یہ اس شب میں مقدر کیا گیا تھا وہ جو آپ کا مقام تھا قرآن میں اس کے مثل تک آنے والے سال تک۔ سوائے اس کے نہیں کہ قرآن لیلۃ القدر فرمایا گیا ہے دال کے سکون کے ساتھ اس لیے کہ اس سے مرا د لیلۃ القضا یعنی فیصلے کی رات نہیں لی گئی۔ کیونکہ قضاء اور فیصلے کا تعلق مستقبل سے ہوتا ہے۔ بلکہ اس سے جو چیز مراد لی گئی ہے وہ ہے، اس چیز کی تفصیل جس کے ساتھ قضاء یعنی فیصلہ جاری ہو چکا اور اس کی تحریر ہو۔ تانکہ جو چیز فرشتوں کی طرف القاء کی جائے سال میں وہ ایک مقدار کے ساتھ جس کو ان کا علم احاطہ کیے ہوئے یعنی ان کو علم کے احاطے میں ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے اس رات کی تعریف میں فرمایا ہے: انا انزالناہ فی لیلۃ مبارکۃ" برکت والی رات دی ہوئی ہے اولیاء اللہ کے لیے۔ پس بے شک وہ ہزار مہینے سے بہتر بنائی گئی ہے۔ جب اس کو زندہ کریں گے یعنی اس میں عبادت کریں گے اور اس کی قدر کریں گے جیسے اس کے قدر کرنے کاحق ہے ۔ اور اس کو عبادت کرتے ہوئے گزاریں نماز کے ساتھ تلاوت قرآن اور ذکر اللہ کے ساتھ۔ لہو اور لغو سے ہٹ کر۔ پھر ارشاد فرمایا۔ : "انا کنا منذرین فیھا یفرق کل امرحکیم" بے شک ہم ہیں ڈرانے والے۔ اسی رات میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر امر محکم۔ یعنی ہر امر جو بیان کرنے والا ہے صحیح اور درست کو اور حکمت کو۔ اور حکمت بمعنی محکم بھی ہے اور کہا گیا ہے کہ آیت کا معنی یوں ہے الگ کی جاتا ہے ہر امر حکیم۔ یعنی قرآن کے اجزا تفصیل و وضاحت کرتے ہیں اس اعتبار سے یہ فصل اور فرق امر حکیم کا ہو گا اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ لیلۃ القدر بوجہ اس تقدیر و انداز کے ہے جو اس میں قرآن اتاراجاتا ہو۔ آنے والے سال تک فقط۔ بہر حال تمام امور جو جاری ہوتے ہیں ملائکہ کے ہاتھ پر اہل زمین کی تدبیر سے۔ بقیا وہ شعبان کی پندرھویں شب میں واضح ہوتے ہیں۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on Laylat al-Qadr · Hadith 3658

chevron_left Previous
1…787980…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood