شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3635
3635 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سهل أحمد بن محمد بن إبراهيم المهراني و أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكى قالوا : ثنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم البغوي ببغداد ثنا الحسن بن عليل العنبري ثنا هشام بن يونس اللؤلؤي ثنا محمد بن مروان السدي عن داود بن أبي هند عن أبي نضرة العبدي عن عطاء بن أبي رباح عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان أول ليلة من رمضان فتحت أبواب السماء فلا يغلق منها باب حتى يكون آخر ليلة من رمضان و ليس من عبد مؤمن يصلي في ليلة منها إلا كتب الله له ألف و خمسمائة حسنة بكل سجدة و بنى له بيتا في الجنة من ياقوته حمراء لها ستون ألف باب لكل منها قصر من ذهب موشح بياقوته حمراء فإذا صام أول من رمضان غفر له ما تقدم من ذنبه إلى مثل ذلك اليوم من شهر رمضان و استغفر له كل يوم سبعون ألف ملك من صلاة الغداة إلى أن يوارى بالحجاب و كان له بكل سجدة يسجدها في شهر رمضان بليل أو نهار شجرة يسير الراكب في ظلها خمس مائة عام قد روينا في الأحاديث المشهورة ما يدل على هذا أو بعض معناه
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اورابو سہل احمد بن محمد بن ابراہیم مہرانی نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق مزکی نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد عبداللہ بن اسحاق بن ابراہیم بغوی نے بغداد میں ان کو حسن بن علیل عنبری نے ان کو ہشام بن یونس لؤلؤی نے ان کو محمد بن مروان سدی نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو ابو نضرہ عبدی نے ان کو عطاء بن ابو رباح نے ان کو ابو سعید خدری نے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ رمضان کی آخری رات ہو جاتی ہے۔ اور جو بھی بندہ مؤمن ان راتوں میں سے کسی رات میں عبادت کرتا ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں اس کے لیے پندرہ سو نیکیاں ہر سجدے کے بدلے میں اور اس کے لیے جنت میں یاقوت سرخ سے ایک گھر بنایا جاتا ہے جس کے ساتھ بڑے دروازے ہوتے ہیں۔ ہر دروازے پر سونے کا حول ہوتا ہے۔ جو مرصع ہوتا ہے۔ سرخ یاقوت کے ساتھ جب وہ رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے توا س کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ماہ رمضان میں سے مثل اس دن کے اورا س بندے کے لیے ہر روز ستر ہزار استغفار کرتے رہتے ہیں۔ صبح سے سورج غروب ہونے تک اور اس کے لیے ہر ایک سجدے کے بدلے میں جو وہ رمضان میں سجدے کرتا ہے دن میں ہو ں یا رات میں ایک درخت ہوتا ہے جس کے سائے تلے پانچ سو سال تک سوار چلتا رہے۔ اور ہم نے روایت کیا ہے احادیث مشہورہ میں جو اس مذکورہ پر دلالت کرتی ہیں یا اس کے کچھ معنی پر۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ، ← هِشَامُ بْنُ يُونُسَ اللُّؤْلُؤِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عُلَيْلٍ الْعَنْبَرِيُّ ← أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم البغوي
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3635
