Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3611

3611 - و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد ثنا عبد الله بن جعفر النحوي ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الحميدي ثنا سفيان عن الزهري أخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من صام رمضان إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم و رواه عقيل و يونس عن الزهري في قيام رمضان دون الصيام و رواه يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة كما رواه ابن عيينة عن الزهري

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو حمید نے ان کو سفیان نے ان کو زہری نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ نے فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں ثواب کے حصول کی نیت کے ساتھ رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے اور اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو ابو سلمہ ن جیسے اس کو روایت کیا ہے ابن عیینہ نے زہری سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3611

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3612

3612 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق و جعفر بن محمد بن نصير الخلدي قالا : ثنا أبو عمرو مسلم بن إبراهيم ثنا هشام عن يحيى عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قام ليلة القدر إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه و من صام رمضان إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه رواه البخاري عن مسلم بن إبراهيم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے اور جعفر بن محمد نصیر خلدی نے دونوں کو ابو عمرو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ہشام نے ان کو یحییٰ نے ان کو ابو سلمہ نے ابو ہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص شب قدر کی رات کو عبادت کرے ایمان کےساتھ اور حصول ثواب کی نیت کے ساتھ اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسلم بن ابراہیم سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← أبو عمرو مسلم بن إبراهيم ← أبو بكر بن إسحاق و جعفر بن محمد بن نصير الخلدي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3612

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3613

3613 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب قال : ثنا عبد الوهاب بن عطاء ثنا عطاء ثنا محمد بن عمرو بن أبي سلمة عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من صام شهر رمضان و قامه إيمانا و احتسابا غفر له ما مضى من ذنبه و من قام ليلة القدر إيمانا و احتسابا غفر له ما مضى من ذنبه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحی بن ابو طالب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو عطاء نے ان کو محمد بن عمرو بن ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے روزے رکھے ماہ رمضان کے اور اس کا قیام عبادت کی ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت کے ساتھ اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اور جس نے شب قدر میں عبادت کی ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت کے ساتھ اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3613

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3614

3614 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا أبو عقيل ثنا النضر بن شيبان الحداني عن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن لله تعالى افترض صوم رمضان و سننت قيامه فمن صامه إيمانا و احتسابا و يقينا كان كفارة لما مضى أو لما سلف أو كما قال كذا رواه غيره عن النضر بن شيبان فقال عن أبيه : تفرد هو به

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان وک ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے بےشک اللہ تعالیٰ نے رمضان کا روزہ فرض کر دیا ہے اور اس کی رات کی عبادت سنت قرار دی گئی ہے۔ جو شخص اس کا روزہ رکھے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت کےساتھ اور یقین کے ساتھ۔ اس کے سابقہ گناہ کا کفارہ ہو گا یا الما سلف کہا تھا۔ یا جیسے بھی کہا۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے دیگر نے نصر بن شیبان سے اس نے کہا کہ اپنے والد سے۔ اور وہ اس کے ساتھ متفرد ہے۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← النضر بن شيبان الحداني، ← أَبُو عَقِيلٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3614

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3615

3615 - حدثنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود الطيالسي ثنا نصر بن علي الجهضمي ثنا النضر بن الشيبان قال : لقيت أبا سلمة بن عبد الرحمن فقلت : حدثني حديثا حدثك أبوك عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : حدثني أبي قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم رمضان فقال : شهر فرض الله عليكم صيامه و سننت أنا قيامه فمن صامه و قامه إيمانا و احتسابا خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے ان کو نصر بن علی جہضمی نے ان کو نصر بن شیبان نے وہ کہتے ہیں کہ میں ملا ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے میں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کیجیے کوئی حدیث جو اس کو آپ کے والد رسول اللہ سے بیان کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد نے مجھے حدیث بیان کی تھی وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے رمضان کا ذکر فرمایا تو ارشاد فرمایا یہ وہ مہینہ ہے اللہ نے تمہارے اوپر اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں۔ اور میں نے اس کا قیام یعنی رات کی عبادت کو سنت بنا دیا ہے جو شخص اس کے دن کا روزہ رکھے اور اس کی عبادت کرے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت کےساتھ وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسے اس کو اس کی ماں نے آج جنم دیا ہے۔

شهر فرض الله عليكم صيامه و سننت ← رسول الله صلى الله عليه و سلم رمضان ← أَبِي ← النبي صلى الله عليه و سلم ← حَدِيثًا حَدَّثَكَ أَبُوكَ ← لَقِيتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ: ← النضر بن الشيبان ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3615

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3616

3616 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو الأزهر ثنا ابن أبي فديك عن ربيعة بن عثمان عن محمد بن المنكدر عن إسحاق بن أبي إسحاق أن أبا هريرة قال لكعب : تجدون رمضان عندكم ؟ قال : نجده حطة فهل سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو هريرة : نعم سمعته يقول : من صام رمضان و لا أعلمه إلا قال و قامه إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه قال كعب الأحبار : أخبرك أنه حطة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو ابو الازھر نے ان کو ابن فورک نے ان کو ربیعہ بن عثمان نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو اسحاق بن اب اسحٰق نے کہ ابو ہریرہ نے حضرت کعب سے کہا تم لوگ رمضان کو اپنے ہاں کیا پاتے ہو؟ اس نے کہا کہ ہم اس کو گناہوں کو مٹانے والا پاتے ہیں۔ کیا تم نے رسول اللہ سے پوچھا تھا۔ ابو ہریرہ نے کہا جی ہاں میں نے سنا تھا آپ فرماتے تھے۔ جو شخص رمضان کے روزے رکھے ۔ میں نہیں جانتا مگر کہا تھا کہ اس کا قیام کرے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت کے ساتھ معاف کر دئیے جائیں گے اس کے سارے گناہ ۔ کعب الاحبار نے کہا میں تمہیں خبر دوں گا کہ وہ گناہوں کو مٹانے والا ہے۔

كعب الأحبار أخبرك أنه حطة ← و قامه إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ← من صام رمضان و لا أعلمه إلا ← أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ ← نجده حطة فهل سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لكعب تجدون رمضان عندكم ← إسحاق بن أبي إسحاق أن أبا هريرة ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3616

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3617

3617 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو اليمان ثنا شعيب عن عبد الله بن أبي حسين حدثني عيسى بن طلحة عن عمرو بن مرة الجهني قال : جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم رجل من قضاعة فقال : شهدت أن لا إله إلا الله و أنك رسول الله و صليت الصلوات و صمت الشهر و قمت رمضان و آتيت الزكاة فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : من كان على هذا كان من الصديقين و الشهداء

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو ریحان نے ان کو شعیب نے ان کو عبداللہ بن ابو حسین نے ان کو عیسیٰ بن طلحہ نے ا ن کو عمرو بن مرہ جہنی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے پاس ایک آدمی آیا بنی قضاعہ میں سے اور بولا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبو د نہیں ہے۔ اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور میں پانچ نمازیں بھی پڑھتا ہوں۔ رمضان کے روزے بھی رکھتا ہوں رات کا قیام بھی کرتا ہوں اور زکوٰۃ بھی دیتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حالت پر وہ وہ صدیقین میں سے ہوتا ہے اور شہداء میں سے۔

عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ الْجُهَنِيَّ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← عَبْد اللَّه بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3617

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3618

3618 - أخبرنا أبو الحسن العلوي ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه الدقاق ثنا أحمد بن الأزهر بن منيع ثنا عبد الرحمن بن جبلة ثنا عبد العزيز بن المختار ثنا موسى بن عقبة ثنا بكير بن مسمار عن عبد الله بن حراش عن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من صام رمضان و قامه إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن دلویہ دقاق نے ان کو احمد بن ازہر بن رفیع نے ان کو عبدالرحمٰن بن جبلہ نے ان کو عبدالعزیز بن مختار نے ان کو موسی بن عقبہ نے ان کو بکیر بن مسمار نے ان کو عبداللہ بن حراش نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ سے فرماتے تھے ۔ جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور رات کو قیام کرے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کے ساتھ اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ حِرَاشٍ، ← بُکَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبَلَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ بْنِ مَنِيعٍ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن دلوية الدقاق ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3618

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3619

3619 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد الفقيه ثنا الحسن بن سفيان ثنا هارون بن سعيد الأيلي ثنا ابن وهب عن أبي صخر أن عمر بن إسحاق مولى زائدة حدثه عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : الصلوات الخمس و الجمعة إلى الجمعة و رمضان إلى رمضان مكفرات ما بينهما إذا اجتنبت الكبائر رواه مسلم عن هارون بن سعيد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو الولید فقیہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ہارون بن سعید ایلی نے ان کو ابن وہب نے ان کو ابو صخر نے ان کو عمر بن اسحٰق (مولی زائدہ) نے حدیث بیان کی ہے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانچ نما زیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک گناہوں کو مٹانے والی چیزیں ہیں ان گناہوں کو جو درمیان میں ہیں۔ جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ہارون بن سعید سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أبي صخر أن عمر بن إسحاق مولى زائدة ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3619

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3620

3620 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي بالمقريء ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا أبو الربيع ثنا هشيم ثنا العوام بن حوشب ثنا عبد الله بن السائب الكندي عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصلاة المكتوبة إلى الصلاة التي قبلها كفارة و الجمعة إلى الجمعة التي قبلها كفارة ما بينهما إلا من ثلاث : الإشراك بالله و ترك السنة و نكث الصفقة قال أبو هريرة : فعلمت أن ذلك لأمر حدث فقلت : يا رسول الله الإشراك بالله فقد عرفناه فما نكث الصفقة و ترك السنة قال : أما نكث الصفقة أن تبايع رجلا بيمينك ثم تخالف إليه فتقابله بسيفك و أما ترك السنة فالخروج من الجماعة

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابوالربیع نے ان کو ہیثم نے ان کو عوام بن حوشب نے انکو عبداللہ بن سائب کندی نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فرض نماز اس نماز تک جو اس سے پہلے تھی کفارہ ہے اور جمعہ سے جمعہ تک جو اس سے پہلے تھا کفارہ ہے اس گناہ کا جو ان دونوں کے درمیان تھا مگر تین گناہوں سے کفارہ نہیں ہو گا۔ (1)۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ (2)۔ رسول اللہ کا طریقہ چھوڑ دینا۔ (3)۔ بیع توڑنا۔ ابو ہریرہ نے فرمایا میں نے جان لیا کہ یہ بات ایک اور وجہ سے ہو جو پیدا ہو گیا ہے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ کے ساتھ شرک کرنا تو ہم نے سمجھ لیا ہے یہ بیع توڑنا اور ترک سنت کیا ہوا؟ فرمایا کہ نکث صفقہ یہ ہے کہ تم کسی آدمی کے ساتھ ایسے سیدھے ہاتھ سے بیع کرو پھر اس کی طرف مخالفت کرو۔ پھر تم اپنی تلوار کےساتھ اس کے سامنے آؤ۔ بہر حال ترک سنت وہ ہے جماعت سے نکل جانا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عبد الله بن السائب الكندي ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي بالمقريء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3620

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3621

3621 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أحمد بن إسحاق الفقيه ثنا محمد بن أيوب ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا عمرو بن حمزة بن أسيد ثنا خلف بن الربيع عن أنس بن مالك قال : لما أقبل شهر رمضان قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سبحان الله ما تستقبلون و ماذا يستقبلكم ؟ قال عمر بن الخطاب : بأبي أنت و أمي يا رسول الله وحي نزل أو عدو حضر قال : لا و لكن شهر رمضان يغفر الله في أول ليلة لكل أهل هذه القبلة قال : و في القوم رجل يهز رأسه فيقول : بخ بخ فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : كأنه ضاق صدرك بما سمعت قال : لا و الله يا رسول الله و لكن ذكرت المنافق فقال النبي صلى الله عليه و سلم : المنافق كافر و ليس ذي ذلك شيء و كذلك رواه إسحاق بن الحسن الحربي و الكديمي عن مسلم بن إبراهيم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن ایوب نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو عمرو بن حمزہ بن اسید نے ان کو خلف بن ربیع نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: سبحان اللہ ! تم لوگ عنقریب کس چیز کا استقبال کرنے والے ہو اور وہ چیز تمہارے سامنے آنے والی ہے؟ کہتے ہیں کہ عمربن خطاب نے فرمایا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں یا رسول اللہ کیا ہوا؟ کوئی وحی اتری ہے یا کوئی دشمن آیا چاہتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں مگر ماہ رمضان (آیا چاہتا ہے) اللہ تعالیٰ اس کی پہلی رات میں اہل قبلہ کی ہر فرد کو بخش دیں گے کہ محفل میں ایک آدمی اپنا سر ھلا رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔ بس بس۔ نخ نخ۔ رک رک۔ حضور نے ان کو فرمایا شاید تیرا دل تنگ ہو رہا ہے یہ سن کر۔ وہ بولا نہیں اللہ کی قسم یا رسول اللہ یہ بات نہیں ہے۔ مگر نہیں خیال کیا تھا منافق کا(کہ کیا منافق اھل قبلہ کی بھی معافی ہو جائے گی؟ ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ منافق کافر ہے۔ اس میں منافق ت کسی کھاتے میں نہیں ہے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے اسحاق بن حسن حربی اور کدیمی نے مسلم بن ابراہیم سے۔

لما أقبل شهر رمضان ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← خلف بن الربيع ← عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أُسَيْدٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أحمد بن إسحاق الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3621

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3622

3622 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن جعفر القاري ببغداد ثنا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدورقي ثنا موسى بن إسماعيل التبوذكي ثنا أبو يحيى صاحب الطعام عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : لما بنى رسول الله صلى الله عليه و سلم المنبر جعل له ثلاث عتبات فلما صعد رسول الله صلى الله عليه و سلم العتبة الأولى قال : آمين ثم صعد العتبة الثانية فقال آمين حتى إذا صعد العتبة الثالثة قال : آمين فقال المسلمون يا رسول الله رأيناك تقول آمين و لا يرد أحد فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن جبريل عليه السلام صعد قبلي العتبة الأولى فقال : يا محمد قلت : لبيك و سعديك قال : من أدرك أبويه أو أحدهما فلم يغفر له فأبعده الله قل آمين فقلت : آمين فلما صعد الثانية قال : يا محمد قلت : لبيك و سعديك قال : من أدرك شهر رمضان فصام نهاره و قام ليلة ثم مات و لم يغفر له فدخل النار فأبعده الله قل آمين فقلت آمين فلما صعد العتبة الثالثة قال : يا محمد قلت : لبيك وسعديك قال : من ذكرت عنده و لم يصل عليك فمات و لم يغفر له فدخل النار فأبعده الله قل آمين فقلت : آمين قال أبو عبد الله الحافظ : و أبو يحيى صاحب الطعام اسمه محمد بن عيسى العبدي سماه بكنيته أبو عتاب سهل بن حماد في روايته عنه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر قاری نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن احمد بن ابرہیم دورقی نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل تبوذکی نے ان کو ابو یحییٰ صاحب طعام نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے انہوں نے کہا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر بنوایا تو آپ نے اس کی تین سیڑھیاں یا تین درجے رکھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی پر چڑھے تو فرمایا آمین۔ اس کے بعد دوسری پر چڑھے تو فرمایا آمین۔ جب تیسری پر چڑھے تو فرمایا آمین۔ مسلمانوں نے پوچھا یا رسول اللہ ہم نے دیکھا ہے کہ آپ نے آمین کہی ہے لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ حضور نے فرمایا بے شک جرائیل علیہ السلام مجھ سے پہلے پہلے درجہ پر چڑھے تھے انہوں نے کہا اے محمد میں نے بولا میں حاضر ہوں سعادت حاصل کرتا ہوں۔ بولے کہ جس شخص نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پالیا یا دونوں کو مگر اس کی مغفرت نہ ہو سکی اللہ اس کو اپنے رحمت سے دور کر دے۔ میں نے سن کر کہا آمین۔ جب دوسرے پر جبرائیل علیہ السلام چڑھے بولے اے محمد میں نے کہا میں حاضر ہوں سعادت حاصل کرتاہوں۔ اس نے کہا کہ جس نے ماہ رمضان کو پا لیا اور اسکے دن کا روزہ رکھا۔ رات کو قیام کیا پھر وہ مر گیا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی وہ آگ میں داخل ہو گیا۔ اللہ اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے میں نے کہا آمین۔ جب جبرائیل علیہ السلام تیسرے درجے پر چڑھا تو کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نے کہا میں حاضر ہوں اور سعادت حاصل کرتا ہوں۔ بولے جس کے سامنے تیرا ذکر ہو وہ تجھ پر درود نہ پڑھے وہ ہلاک ہو جائے۔ (تینوں مرتبہ جبرائیل نے کہا کہو آمین۔ لہٰذا میں نے آمین کہی) ابو عبداللہ حافظ نے کہا اور ابو یحی صاحب طعام کا نام محمد بن عیسیٰ عبدی نے اس نے اس کا نام اپنی کنیت کے ساتھ رکھا ہے۔ ابو عقاب سھل بن حماد ایک روایت میں اسی سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أبو يحيى صاحب الطعام ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ التَّبُوذَكِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَارِئُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3622

chevron_left Previous
1…757677…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood