Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3599

3599 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : ثنا والدي ثنا أبو العباس محمد بن إسحاق الثقفي ثنا أبو كريب : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال : صفدت الشياطين و مردة الجن لم يذكر الواو فيه و قال في آخره : و ذلك كل ليلة

اور ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ا بو اسحٰق نے وہ کہتے ہیں ان کو ان کے والد نے ان کو ابو العباس محمد نے بن اسحٰق ثقفی نے ان کو ابوکریب نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ مذکورہ کی مثل علاوہ ازیں سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا ہے۔ شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں اور سرکش جن۔ اور اس نے بیچ میں واو کو ذکر نہیں کیا اور آخر میں کہا ہے : یہ عمل رات بھر رہتا ہے۔

في آخره و ذلك كل ليلة ← صفدت الشياطين و مردة الجن لم يذكر الواو فيه و ← أبو كريب فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← أبو العباس محمد بن إسحاق الثقفي، ← وَالِدِي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3599

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3600

3600 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله الصفار ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ثنا سليمان بن حرب و عارم هو ابن الفضل قالا : ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لأصحابه يبشرهم : قد جاءكم رمضان شهر مبارك افترض الله عليكم صيامه تفتح فيه أبواب الجنة و تغلق فيه أبواب الجحيم و تغلق فيه الشياطين فيه ليلة خير من ألف شهر من حرم خيرها فقد حرم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے اور عارم نے وہی ابن فضل ہے دونوں نے کہا کہ ان کو حماد بن زید نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاپنے اصحا ب سے فرمایا کہ ان کو خوشخبری دیتا ہے۔ تحقیق آچکا ہے تمہارے پاس رمضان برکت والا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کےروزے فرض کر دئیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس میں ہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اس میں ایک رات ہزار مہینے سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیر سے محروم کیا گیا ہے وہ محروم ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سليمان بن حرب و عارم هو ابن الفضل ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3600

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3601

3601 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن المقري ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا عبد الواحد بن غياث ثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن عرفجة قال : كنا عند عتبة بن فرقد و هو يحدثنا عن رمضان إذ دخل رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فسكت عتبة بن فرقد ثم قال : يا أبا عبد الله حدثنا عن رمضان كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول فيه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : رمضان شهر مبارك تفتح فيه أبواب الجنة و تغلق فيه أبواب السعير و تصفد فيه الشياطين و ينادي منادي كل ليلة يا باغي الخير هلم و يا باغي الشر أقصر قال الإمام أحمد رحمه الله قال الحليمي : و تصفد الشياطين في شهر رمضان يحتمل أن يكون المراد به أيامه خاصة و أراد الشياطين التي هي تسترق السمع ألا تراه قال : مردة الشياطين لأن شهر رمضان كان وقتا لنزول القرآن إلى السماء الدنيا و كانت الحراسة قد وقعت بالشهب كما قاله : { و حفظا من كل شيطان مارد } و التصفيد في شهر رمضان مبالغة في الحفظ و الله أعلم و يحتمل أن يكون المراد به أيامه و بعده و المعنى أن الشياطين لا يخلصون فيه في إفساد الناس إلى ما يخلصون إليه في غيره لاشتغال أكثر المسلمين بالصيام الذي فيه قمع الشهوات و بقراءة القرآن و سائر العبادات و أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عبدالواحد بن غیاث نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو عرفجہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عقبہ بن فرقد کے پاس تھے وہ ہمیں حدیث بیان کرتے تھے۔ رمضان شریف کے بارے میں اچانک اصحاب نبی میں سے ایک آدمی آ گیا۔ تو عقبہ بن فرقد چپ ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اےا بو عبداللہ ہمیں آپ حدیث بیان کیجیے۔ رمضان کے بارے میں آپ نے کیا سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا فرماتے تھے؟ اس نے کہا میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: رمضان برکت والا مہینہ ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اس میں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں شیطان باندھ دئیے جاتے ہیں اوررات بھر اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے اے جنت کے طلب کرنے والے آ جا۔ اے شر کے طالب رک جا۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے۔ ماہ رمضان میں شیطان کی تصفید ہونا اور بند کرنا۔ اس کے بارے میں احتمام ہے کہ اس سے مراد اس کے مخصوص ایام مراد ہوں۔ اور شیاطین سے مرادہ وہ ہوں جو وحی کی آواز سن کر چراتے تھے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مردۃ الشیاطین۔سرکش شیطان فرمایا ہے۔ اس لیے کہ ماہ رمضان نزول قرآن کا وقت تھا ۔ آسمانی دنیا کی طرف اور نگرانی اور حفاظت واقع ہوئی تھی شہابوں کےساتھ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : " وحفظا من کل شیطان مارد" ہم نے ستارے بنائے ہر سرکش شیطان سے حفاظت کے لیے۔ رمضان شریف میں تصفید کرنا اور جکڑنا حفاظت کے سلسلے میں مبالغہ ہے۔ اور احتمال ہے کہ اس سے مراد رمضان کے دن ہوں۔ اور اس کے بعد بھی۔ اور مطلب یہ ہے کہ شیاطین رمضان میں نہیں اخلاص پاتے لوگوں میں فساد اور خرابی پیدا کرنے کےلیے اس قدر جتنی کہ وہ اس کام کے لیے غیر رمضان میں خلاصی پاتے ہیں۔ اس لیے کہ اکثر مسلمان روزوں میں مصروف ہوتے ہیں اور روزوں میں شہوت خواہشات کا قلع قمع ہوتا ہے تلاوت قرآن اور دیگر تمام عبادات (مگر اسی صورت میں یہ ممکن ہو سکتا ہے جب قرآن اولیٰ کی یاد تازہ کرنے والا روزہ رکھا جائے۔ جس طرح دور حاضر میں روزہ رکھا جاتا ہے اور دونوں وقت بے تحاشا پیٹ بھر کر کھایا جاتا ہے اور اللہ کی ہر نعمت کی فراوانی ہوتی ہے اورعام دنوں کے مقابلے میں کم کھانے کی بجائے کئی کئی گنا زیادہ کھایا جائے اور عبادت کم سے کم کی جائے تو نہ اس طرح شہوات کم ہوتی ہیں بلکہ اور زیادہ ہو جاتی ہیں اور نہ ہی روحانی ترقی ہوتی ہے نہ ہی تقویٰ کا معیار بلند ہو تا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی حقیقت کو سمجھ کر عمل کی توفیق دے ) اور اانسان رمضان میں قرآن کی قرات اور دیگر عام عبادات میں مصروف رہتے ہیں لہذا شیطانوں کو کم موقع ملتا ہے فساد پر ابھارنے کا۔

رَمَضَانَ ← كنا عند عتبة بن فرقد و هو يحدثنا ← عَرْفَجَةَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن المقري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3601

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3602

3602 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن مكرم ثنا يزيد بن هارون ثنا هشام بن أبي هشام عن محمد بن محمد بن الأسود عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعطيت أمتي في شهر رمضان خمس خصال لم يعط أمة قبلهم خلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك و تستغفر لهم الملائكة حتى يفطروا و يزين الله كل يوم جنته ثم قال : يوشك عبادي الصالحون أن يلقوا عنهم المؤنة و الأذى و يصيرون إليك و تصفد فيه الشياطين و لا يخلصون فيه إلى ما يخلصون في غيره و يغفر لهم في آخر ليلة قيل يا رسول الله هي ليلة القدر قال : لا و لكن العامل إنما يوفى أجره إذا قضى عمله

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ہشام بن ابو ہشام نے ان کو محمد بن محمد بن اسود نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت کو رمضان کے بارے میں پانچ خصلتیں دی گئی ہیں جو کہ ان سے قبل وہ خصلتیں کسی امت کو نہیں ملی تھیں۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے ۔ روزے دار کے لیے فرشتے افطار تک استغفار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر روز جنت کو آراستہ کرواتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ قریب ہے میرے نیک بندے پائیں ان سے مشقت کو اور تکلیف کو اور تیری طرف لوٹ کریں۔ اور اس میں شیطان باند ھ دیے جاتے ہیں اور اس قدر خلاصی نہیں پاتے جس قدر وہ غیر رمضان میں خلاصی پاتے ہیں اور آخر رات میں انکو بخش دیا جاتا ہے۔ کہا گیا یا رسول اللہ یہ شب قدر ہوتی ہے؟ فرمایا نہیں بلکہ عمل کرنے والے کو ااس کے اجر کی جزا پوری یوں دی جاتی ہے جب وہ اپنا عمل پورا کر دیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← محمد بن محمد بن الأسود ← هشام بن أبي هشام ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3602

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3603

3603 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا محمد بن إسماعيل الصائغ ثنا عبد الوهاب بن عطاء الخفاق ثنا الهيثم بن الحواري عن زيد العمي عن أبي نضرة قال : سمعت جابر بن عبد الله يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعطيت أمتي في شهر رمضان خمسا لم يعطهن نبي قبلي أما واحدة فإنه إذا كان أول ليلة من شهر رمضان نظر الله تعالى إليهم و من نظر الله إليه لم يعذبه أبدا و أما الثانية فإن خلوف أفواههم حين يمسون أطيب عند الله من ريح المسك و أما الثالثة فإن الملائكة تستغفر لهم في كل يوم و ليلة و أما الرابعة فإن الله تعالى يأمر جنته فيقول لها : استعدي و تزيني لعبادي أوشكوا أن يستريحوا من تعب الدنيا إلى داري و كرامتي و أما الخامسة فإنه إذا كان آخر ليلة غفر لهم جميعا فقال رجل من القوم : أهي ليلة القدر ؟ فقال : لا ألم تر إلى العمال يعملون فإذا فرغوا من أعمالهم وفوا أجورهم

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن اسماعیل صائغ نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء خفاق نے ان کو ہیثم بن حواری نے انکو زید عمی نے انکو ابو نضر ہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جابر بن عبداللہ سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا: میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں۔ جو مجھ سے قبل کسی نبی کو نہیں دی گئیں بہر حال ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان کی طرف دیکھتا ہے اور جس کی طر ف اللہ تعالیٰ کی نظر کرم سے دیکھ لے اس کو کبھی بھی عذاب نہیں دے گا۔ بہر حال دوسری چیز یہ ہے کہ ان کے منہ کی بو جب وہ شام کرتے ہیں ۔ اللہ کے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے۔ بہر حال تیسری چیز تو وہ یہ ہے کہ فرشتے ان کے لیے دن رات استغفار کرتے رہتے ہیں بہر حال چوتھی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جنت کو حکم دیتے ہیں وہ یوں کہتی ہے تیار ہو جا۔ اور آراستہ ہو جا میرے بندوں کےلیے قریب ہے کہ وہ دنیا کی تعب و مشقت سے استراحت پالیں گے میرے گھر کی طرف اور میرے اکرام کی طرف۔ بہر حال پانچویں چیز یہ ہے کہ جب آخری شب ہوتی ہے تو ان کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ مجلس میں سے کسی نے پوچھا کہ کیا یہ سب قدر ہوتی ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ نہیں شب قدر نہیں ہوتی بلکہ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ عمل کرنے والے عمل کرتے ہیں پھر جب وہ فارغ ہو جاتے ہیں اپنے اعمال سے تو وہ اپنا اجر پورا پورا پاتے ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← الهيثم بن الحواري ← عبد الوهاب بن عطاء الخفاق ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3603

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3604

3604 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا إبراهيم بن مضارب بن إبراهيم ثنا جعفر بن محمد بن الحسين ثنا الحسين بن منصور ثنا مبشر بن عبد الله بن رزين ثنا أبو الأشهب جعفر بن الحارث عن أبي سهل عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لله تعالى في كل ليلة من رمضان ستمائة ألف عتيق من النار فإذا كان آخر ليلة أعتق الله بعدد كل من مضى هكذا جاء مرسلا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو ابراہیم بن مضارب نے ان کو جعفر بن محمد حسین نے ان کو حسین بن منصور نے ان کو مبشر بن عبداللہ بن زرین نے ان کو ابو الاشہب جعفر بن حارث نے ان کو ابو سہل نے حسن سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے رمضان کی ہر رات میں چھ لاکھ انسان جہنم سے آزاد ہوتے ہیں اور جب آخر رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کر تے ہیں جتنے پہلے آزاد ہو چکے ہوتے ہیں ۔ اس طرح یہ روایت مرسل آئی ہے۔

الْحَسَنِ، ← أَبِي سَهْلٍ ← أبو الأشهب جعفر بن الحارث ← مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُزَيْنٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ← إبراهيم بن مضارب بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3604

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3605

3605 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن يعقوب الفقيه بالطابران ثنا أبو علي محمد بن أحمد بن الحسن الصواف ثنا أحمد بن يحيى ثنا سعيد بن سليمان عن ابن نمير عن الأعمش عن حسين بن واقد عن أبي غالب عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لله تعالى عند كل فطر عتقاء من النار و هذا غريب في رواية الأكابر عن الأصاغر و هي رواية الأعمش عن حسين بن واقد

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن یعقو ب فقیہ نے طابران میں ان کو ابو علی محمد بن احمد بن حسن صواف نے ان کو احمد بن یحییٰ نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو ابن نمیر نے اعمش سے ان کو حسین بن واقد نے انکو ابو غالب نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر افطار کے وقت آگ سے آزاد شدہ لوگ ہوتے ہیں (یعنی اس وقت آزاد کرتا ہے) یہ حدیث غریب ہے روایت ہے اکابر کی اصاغر سے۔ اور یہی روایت ہے اعمش کی حسین بن واقد سے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي غَالِبٍ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، ← أبو علي محمد بن أحمد بن الحسن الصواف، ← أبو الحسين محمد بن يعقوب الفقيه بالطابران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3605

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3606

3606 - أخبرنا أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان ثنا أبو بكر محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن عبد الجبار النسوي ثنا حميد بن زنجويه ثنا أبو أيوب الدمشقي ثنا ناشب بن عمرو الشيباني قال : و كان ثقة صائما و قائما قال : ثنا مقاتل بن حيان عن ربعي بن حراش عن عبد الله بن مسعود : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا كان أول ليلة من شهر رمضان فتحت أبواب الجنات فلم يغلق منها باب واحد الشهر كله و غلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب واحد الشهر كله و غلت عتات الجن و نادى منادي من السماء كل ليلة إلى انفجار الصبح يا باغي الخير يمم و أبشر و يا بغي الشر أقصر و انظر هل من مستغفر نغفر له هل من تائب نتوب عليه هل من داعي نستجيب له هل من سائل نعطي سؤله و لله تعالى عند كل فطر من شهر رمضان كل ليلة عتقاء من النار ستون ألفا فإذا كان يوم الفطر أعتق مثل ما أعتق في جميع الشهر ثلاثين مرة ستين ألفا

ہمیں خبر دی ہے ابو عثمان سعید بن محمد بن عبدان نے ان کو ابو بکر محمد بن مومل بن حسن بن عیسیٰ نے ان کو ابو جعفر محمد بن احمد بن عبدالجبار نسوی نے ان کو حمید بن زنجویہ نے ان کو ابو ایوب دمشقی نے ان کو ناشب بن عمرو شیبانی نے وہ پکے آدمی تھے روزہ دار تھے عبادت گزار تھے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی مقاتل ابن حیان نے ان کو ربعی ابن حراش نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے رسول اللہ سے وہ کہتے ہیں کہ جب رمضان کی پہلی شب ہوتی ہے جبت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ان میں سے کوئی ایک دروازہ بند نہیں ہوتا۔ اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ان میں سے کوئی بھی نہیں کھولا جاتا۔ پورے مہینے تک۔ اور بند کر دئیے جاتے ہیں سرکش جن اور اعلان کرنے والا آسمان سے اعلان کرتا ہے پوری رات صبح پھوٹنے تک اے خیر کے طالب آگے بڑھو اور اے شر کے طالبورک جاؤ۔ دیکھئے کون بخشش مانگنے والا ہے ہم اس کو بخش دیں ۔ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے ہم اس کی توبہ قبول کریں۔ کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے ہم اس کی دعا قبول کر لیں کیا کوئی سائل ہے ہم اس کا سوال اس کو دے دیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر افطار کے وقت ماہ رمضان میں ۔ ساٹھ ہزار جہنم سے لوگ آزاد ہوتے ہیں۔ پھر جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے اس دن اس قدر لوگ آزاد کیے جاتے ہیں جتنے پورے مہینے میں آزاد کیے گئے تھے۔ یعنی تیس مرتبہ ساٹھ ساٹھ ہزار۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← و كان ثقة صائما و قائما ← ناشب بن عمرو الشيباني ← أبو أيوب الدمشقي ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن عبد الجبار النسوي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3606

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3607

3607 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد ثنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا أحمد بن الوليد الفحام ثنا أبو أحمد الزبيري ثنا كثير بن زيد عن عمرو بن تميم عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أظلكم شهركم هذا بمحلوف رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما مر على المسلمين شهر خير لهم منه و لا يأتي أظنه قال : على المنافقين شهر لهم منه بمحلوف رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله يكتب أجره و ثوابه من قبل أن يدخل زاد فيه غيره و يكتب وزره و شقاءه من قبل أن يدخل و ذلك أن المؤمن يعد فيه النفقة للقوة في العبادة و يعد فيه المنافقين اغتياب المؤمنين و اتباع عوراتهم فهو غنم للمؤمن و معصية على الفاجر يعني شهر رمضان

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے بغداد میں ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو رزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو ابو احمد زبیری نے ان کو کثیر بن زید نے ان کو عمرو بن تمیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: " اظلکم شہر کم ھذا" تمہارا یہ مہینہ تم پر سایہ کر آیاہے۔ رسول اللہ کی قسم کے ساتھ نہیں گزرا مسلمانوں پر کوئی مہینہ جو زیادہ بہتر ہو اس سے اور نہ ہی آئے گا۔ میرا خیال ہے کہ کہا تھا کہ منافقوں پر کوئی مہینہ برا نہیں ان کے لیے اس مہینے سے۔ بے شک اللہ تعالیٰ لکھ دیتا ہے اس کے اجر کو اور ثواب کو اس کے داخل ہونے سے قبل۔ اس کے علاوہ دوسروں نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ لکھ دیا جاتا ہے اس کا بوجھ بھی اور محرومی بھی اس کے داخل ہونے سے قبل۔ یہ ایسی بات ہے کہ مؤمن اس میں تیار کرتا ہے خرچ قوت کا عبادت میں اور منافق اس میں تیار کرتا ہے اہل ایمان کی برائی اور غیبت کرنا۔ اور ان کی کمزوریوں کا تعاقب کرنا۔ یہ مہینہ مؤمن کے لیے غنیمت ہے اور فاجر و بد کردار پر معصیت ہے یعنی ماہ رمضان۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3607

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3608

3608 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الضرير بأكاري بالري ثنا محمد بن الفرج الأزرق ثنا عبد الله بن بكر السهمي ثنا إياس بن عبد الغفار عن علي بن زيد بن جدعان و أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد ثنا جعفر بن محمد بن سوار أخبرني علي بن حجر و أخبرنا أبو سعد عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد ثنا أبو عمرو بن جعفر بن مطر ثنا جعفر بن محمد بن نصر الحافظ ثنا علي بن حجر و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكى ثنا والدي قال : قرأ علي محمد بن إسحاق بن خزيمة أن علي بن حجر السعدي حدثهم ثنا يوسف بن زياد عن همام بن يحيى عن علي بن زيد بن جدعان عن سعيد بن المسيب عن سلمان الفارسي قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في آخر يوم من شعبان فقال : أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم شهر مبارك شهر فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله صيامه فريضة و قيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه و من أدى فريضة فيه كان كمن أدى فريضة فيما سواه و هو شهر الصبر و الصبر ثوابه الجنة و شهر المواساة و شهر يزاد فيه رزق المؤمن من فطر فيه صائما كان له مغفرة لذنوبه و عتق رقبته من النار و كان له مثل أجره من غير أن ينتقص من أجره شيء قلنا : يا رسول الله كلنا يجد ما يفطر الصائم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يعطي الله هذا الثواب من فطر صائما على مذقة لبن أو تمرة أو شربة من ماء و من أشبع صائما سقاه الله من حوضي شربة لا يظمأ حتى يدخل الجنة و هو شهر أوله رحمة و أوسطه مغفرة و آخره عتق من النار زاد همام في روايته فاستكثروا فيه من أربع خصال خصلتان ترضون بها ربكم و خصلتان لا غنى لكم عنهما فأما الخصلتان اللتان ترضون بهما ربكم فشهادة أن لا إله إلا الله و تستغفرونه و أما اللتان لا غنى لكم عنهما فتسألون الله الجنة و تعوذون به من النار لفظ حديث همام و هو أتم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر اسماعیل بن محمد ضریر باکاری نے مقام ری میں ان کو محمد بن فرج ازرق نے انکو عبداللہ بن بکر سہمی نے ان کو رایا س بن عبدالغفار نے ان کو علی بن زید بن جدعان نے۔ اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمر و اسماعیل بن نجید نے ان کو جعفر بن محمد بن سوار نے۔ ان کو خبر دی علی بن حجر نے اور ہمیں خبر دی ابو سعد عبدالملک بن ابو عثمان زاہد نے ان کو ابو محمد بن جعفر مطر نے ان کو جعفر بن محمد نصر نے ان کو حافظ علی بن حجر نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میرے سامنے پڑھا محمد بن اسحاق بن خزعہ نے ان کو علی بن حجر سعدی نے ان کو حدیث بیان کی ہے یوسف خزیمہ نے ان کو علی بن حجر سعدی نے ان کو حدیث بیان کی ہے یوسف بن زیاد نے ان کو ھمام بن یحییٰ نے ان کو علی بن زید بن جدعان نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو سلمان فارسی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخری دن خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو تحقیق سایہ کر آیا ہے تمہارے اوپر ایک عظیم مہینہ برکت والا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں ہزار مہینے سے بہتر ایک رات ہے اللہ نے اس مہینے کے روزے فرض کر دئیے ہیں اور اس کی راتوں کا قیام نفل بنا دیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں کسی خصلت کے ساتھ خیر میں سے، اللہ کا قرب حاصل کرے اس کی مثال ایسے ہے جیسے اس نے رمضان کے علاوہ ستر فرض ادا کیے ہیں وہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ اور عمر خواری کا مہینہ ہے اور ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق زیادہ کر دیا جاتا ہے۔ جو شخص اس میں روزہ افطار کرائے گا اس کے گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی اور ا س کی گردن جہنم سے آزاد کر دی جائے گی اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا۔ اور روزے دار کا اجر بھی کم نہیں ہو گا۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ہم میں سے ہر شخص تو روزہ افطار کرانے کے لیے کچھ نہیں رکھتا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہی ثواب اللہ تعالیٰ اس کو دے گا جو روزے دار کا روزہ کھلوائے دودھ کے ایک گھونٹ کے ساتھ۔ یا ایک کھجور کے ساتھ۔ یا پانی کے ایک گھونٹ کے ساتھ۔ اور جو شخص روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا اللہ اس کو میرے حوض سے ایسا مشروب پلائے گا کہ وہ پیاسا نہیں ہو گا۔ حتیٰ کہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ وہ ایسا مہینہ ہے۔ جس کا اول رحمت ہے اوسط مغفرت ہے اور اس کا آخر جہنم سے آزادی ہے۔ ہمام نے اپنی روایت میں یہ اضافہ فرمایا ہے۔ اس مہینہ میں چار کام کثرت کے ساتھ کرو۔ ان میں سے دو کاموں کے ساتھ تم اپنے رب کو راضی کرو گے۔ اور دو کام تمہاری اہم ضرورت ہیں جس کے بغیر تمہارا گزارہ نہیں ہے ۔ وہ کام جس کے ساتھ تم اپنے رب کو راضی کرو گے۔ وہ یہ ہے یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور اس سے استغفار بھی کرو۔ (یعنی لا الہ الا اللہ کا ذکر اور استغفر اللہ کا رود کثرت سے کرو) اور وہ دو جو تمہاری ضرورت اور مجبوری نہیں وہ یہ ہیں۔ جنت اللہ سے مانگو اور اسی سے جہنم سے پناہ مانگو۔ یہ حدیث ہمام کے الفاظ ہیں اور یہ زیادہ مکمل ہے۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يُوسُفُ بْنُ زِيَادٍ، ← قرأ علي محمد بن إسحاق بن خزيمة أن علي بن حجر السعدي ← وَالِدِي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي ← علي بن حجر و ← جعفر بن محمد بن نصر الحافظ ← أبو عمرو بن جعفر بن مطر ← أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ ← علي بن حجر و ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← علي بن زيد بن جدعان و ← إِيَاسُ بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أبو بكر إسماعيل بن محمد الضرير بأكاري بالري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3608

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3609

3609 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء ثنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد ثنا الحسن بن محمد بن الصباح الزعفراني ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من صام رمضان إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه رواه البخاري عن علي عن سفيان

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد نے ان کو حسن بن محمد بن صباح زعفرانی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو زہری نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابو رہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب ملنے کے عزم کے ساتھ رکھے اس کے سابقہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے علی سے اس نے سفیان سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3609

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3610

3610 - أخبرنا أبو نصر محمد بن أحمد بن إسماعيل بن إبراهيم البزار الطابراني بها ثنا عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي سنة ست و عشرين و ثلاثمائة ثنا أبو بكر يوسف بن يعقوب النجاحي بمكة ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من صام رمضان إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه

ہمیں خبر دی ابو نصر محمد بن احمد بن اسماعیل بن ابراہیم بزار طابرانی نے طابران میں ۔ ان کو عبداللہ بن احمد بن منصور طوسی نے سنہ 326 تین سو چھبیس میں ان کو ابو بکر یوسف بن یعقوب نجاحی نے مکہ میں ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو زہری نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص رمضان کے روزے رکھے ایمان کی حالت میں طلب ثواب کے لیے اس کے پہلے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أبو بكر يوسف بن يعقوب النجاحي ← عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي ← أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ الطَّابَرانِيُّ بِهَا،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3610

chevron_left Previous
1…747576…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood