Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3587

3587 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد قال : قرىء على عبد الملك بن محمد الرقاشي و أنا أسمع ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ثنا شعبة عن محمد بن أبي يعقوب قال : سمعت أبا نصر الهلالي يحدث عن رجاء بن حيوة عن أبي أمامة قال : قلت : يا رسول الله دلني على عمل قال : عليك بالصوم فإنه لا عدل له

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے بغداد میں انہوں نے کہا کہ یہ حدیث پڑھی گئی تھی عبدالملک بن محمد رقاشی پر اور میں سن رہا تھا ان کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے ان کو شعبہ نے ان کو محمد بن ابو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابو بصر ہلالی سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں رجاء بن حیوۃ سے وہ ابو امامہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے کسی عمل کے بارے میں بتائیے۔ روزے کو لازم کر لیجیے اس لیے کہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← اَبَا نَصْرٍ الْھِلَالِیَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أسمع ← قرىء على عبد الملك بن محمد الرقاشي و ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3587

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3588

3588 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن نصر ثنا عبد الله بن وهب أخبرني عمر بن محمد بن زيد العمري أن زيدا حدثه قال : لا أعلم إلا أنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الأعمال عند الله سبع فعمل بمثله و عمل بمثليه و عمل بعشرة و عمل بسبع مائة و عمل موجب و عمل لا يعلم ثواب عامله إلا الله فأما العمل الذي بمثله فالرجل يعمل سيئة فيكتب واحدة و الرجل يهم بحسنة فلا يعملها فيكتب له حسنة و رجل يعمل حسنة فيكتب له عشرا و رجل يعمل في سبيل الله أو ينفق في سبيل الله بسبع مائة و العمل الموجب من لقي الله لا يعبد إلا هو وجبت له الجنة و العمل الموجب من لقي الله يعبد غيره وجبت له النار و العمل الذي لا يعلم ثواب عامله إلا الله الصيام هكذا رواه ابن وهب منقطعا

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا ب ابو اسحٰق نے اور ابو بکر قاضی نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن نصر نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو خبر دی عمر بن محمد بن زید عمری نے کہ ان کو زید نے حدیث بیان کی ہے کہتے ہیں کہ میں اس کو نہیں جانتا مگر رسول اللہ سے انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ہاں اعمال سات طرح پر ہیں۔ بعض عمل اپنی مثل بعض دو مثل یعنی دھرا اجر بعض عمل دس مثل بعض سات سو مثل بعض عمل واجب کرنے والے ہیں بعض عمل ایسے ہیں کہ ان کا ثواب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جو عمل ایک مثل والا ہے جب کوئی آدمی گناہ کرتا ہے تو ایک گناہ لکھا جاتا ہے۔ اور ایک آدمی نیکی کرنے کا ارادہ کرتا ہے مگر کرتا نہیں ہے۔ اس کےلیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے (یہ عمل ایک مثل والا ہے) وہ آدمی جو نیکی کرتا ہے اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ( یہ عمل دس مثل والا ہے) اور وہ آدمی جو فی سبیل اللہ عمل کرتا ہے یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اس کو سات سو گنا ثواب ملتا ہے ( یہ سات سو مثل والا عمل ہے اور وہ آدمی جو اللہ کو ملے یعنی مرتے وقت تک نہ عبادت کرے مگر اس کی اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ اور جو شخص اللہ کو اس طرح ملے کہ غیر اللہ کی عبادت بھی کرتا ہو اس کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے۔ (یہ عمل موجب واجب کرنے والا ہوا) اور وہ عمل جس کا ثواب جانتا ہو بس اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہو وہ روزہ ہے۔ اسی طرح روایت کیا ہے اس کو ابن وہب نے بطور منقطع روایت کے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ ← عمر بن محمد بن زيد العمري أن زيدا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر القاضي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3588

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3589

3589 - و رواه أبو عقيل كما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا سعيد بن سليمان ثنا أبو عقيل يحيى بن المتوكل ثنا عمر بن محمد بن زيد عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الأعمال عند الله سبعة عملان موجبان و عملان بأمثالهما و عمل بعشر أمثاله و عمل بسبع مائة و عمل لا يعلم ثوابه إلا الله تعالى فأما الموجبتان من لقي الله يعبده مخلصا لا يشرك به شيئا وجبت له الجنة و من لقي الله قد أشرك به و جبت له النار ومن عمل سيئة جزي بمثلها أظنه ذكر من هم بحسنة جزي بمثلها فسقط من كتابي قال : و من عمل حسنة جزي عشرا و من أنفق ماله في سبيل الله ضعف له نفقته الدرهم بسبع مائة و الدينار بسبع مائة دينار و الصيام لله تعالى لا يعلم ثواب عمله إلا الله تعالى

اور اس کو روایت کیا ہے ابن عقیل نے جیسے ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو ابو عقیل یحییٰ بن متوکل نے ان کو محمد بن زید نے ان کو عبداللہ بن دینار نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال (اپنے اجر کے اعتبار سے) سات قسم کے ہوتے ہیں۔ دو عمل موجب (واجب کرنے والے) ہیں اور دو عمل اپنی ایک مثل والے ہیں۔ ایک عمل دس امثال والا ہے ایک عمل سات سو مثل والا ہے۔ اور ایک وہ ہے جس کا ثواب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ واجب کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کو ملا صرف اس کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو۔ اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کو ملا اس کے ساتھ کسی شئی کو شریک کرتا تھا اس کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے (گویا عقیدہ توحید و عمل توحید جنت کو واجب کرتا ہے۔ اور عقید ہ شرک اور عمل شرک جہنم کو واجب کرتا ہے) مترجم : اور جو شخص گناہ کا عمل کرتا ہے اس کی مثل جزا دیا جائیگا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے ذکر کیا کہ جو نیکی کا ارادہ کرے تو اس کی مثل جزا دیا جائے گا۔ مگر میری کتاب سے ساقط ہو گیا ہے۔ فرمایا جو عمل کرے نیکی کا جزا دیا جائے گا دس مثل۔ جو انسان مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے دہرا کیا جائے گا اس کے لیے اس کا خرچہ ، ایک درہم کے بدلے سات سو درہم اور ایک دینار کے بدلے سات سو دینار۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے روزہ رکھنا اس کا ثواب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و رواه أبو عقيل كما

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3589

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3590

3590 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا عبد الله بن وهب أخبرني ابن لهيعة عن زبان بن فائد أن لهيعة بن عقبة حدثه عن عمرو بن ربيعة عن سلمة بن فيض : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من صام يوما ابتغاء وجه الله بعده الله من جهنم كبعد غراب طار و هو فرخ حتى مات هرما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وھب نے ان کو خبر دی ابن لھیعہ نے ان کو زبان بن فائد نے ان کو لھیعہ بن عقبہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے عمر بن ربیعہ نے ان کو سلمہ بن فیض نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دن میں اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھے اللہ اس کو جہنم سے اتنی دور کر دیں گے مثل اس فاصلے کے کہ ایک کو اپرواز کرے جب کہ وہ ابھی بچہ ہو حتیٰ کہ وہ بوڑھا ہو کر مر جائے (کہتے ہیں کہ کوے کی بڑی لمبی عمر ہوتی ہے)۔

سلمة بن فيض ← عمرو بن ربيعة ← زبان بن فائد أن لهيعة بن عقبة ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3590

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3591

3591 - أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا عبد الله بن عبد الحميد الواسطي ثنا زياد بن يحيى ثنا سهل بن حماد ثنا جرير بن أيوب البجلي ثنا محمد بن عبد الرحمن عن الشعبي عن مسروق عن عائشة قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من عبد أصبح صائما إلا فتحت له أبواب السماء و سبحت أعضاؤه و استغفر له أهل السماء الدنيا إلى أن يوارى بالحجاب فإن صلى ركعة أو ركعتين أضاءت له السموات نورا و قلن أزواجه من الحور العين اللهم اقبضه إلينا فقد اشتقنا إلى رؤيته و إن هلل و سبح أو كبر تلقاه سبعون ألف ملك يكتبون ثوابها إلى أن يوارى بالحجاب

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو عبداللہ بن عبدالحمید واسطی نے ان کو زیاد بن یحی نے ان کو سھل بن حماد نے ان کو جریر بن ایوب بجلی نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن نے ان کو شعبی نے ان کو مسروق نے ان کو سیدہ عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے۔ جو بھی بندہ صبح کرتا ہے اس حال میں کہ روزہ دار وہ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس کے اعضاء تسبیح کرتے ہیں۔ اور آسمان دنیا والے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں یہاں تک کہ چھپ جائے سورج حجاب میں پھر اگر وہ ایک رکعت پڑھ لیتا ہے یا دو رکعت تو روشن ہو جاتے ہیں اس کے لیے آسمان نور سے اور حوروں میں سے اس کی ہونے والی بیویاں کہتی ہیں۔ اے اللہ اس کو ہمارے پاس بھیج دے ہم لوگ اس کے دیدار کے مشتاق ہیں اگر وہ بندہ لا الہ الا اللہ کہتا ہے۔ اور سبحان اللہ کہتا ہے یا اللہ اکبر کہتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کا ثواب لکھتے ہیں یہاں تک کہ وہ حجاب میں چھپ جائے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ← زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3591

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3592

3592 - و حدثنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا أبو ميسرة محمد بن الحسين الهمداني ثنا محمد بن عبيد ثنا القاسم بن الحكم و حدثنا أبو سعد عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد ثنا أبو الحسين محمد بن جميع الغساني ثنا محمد بن أحمد بن ساه مرد الفارسي بحلب ثنا محمد بن حسان الأزرق ثنا القاسم بن الحكم ثنا جرير بن أيوب البجلي ثنا محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن ابن إسحاق عن مسروق عن عائشة : و ذكره بمعناه مرفوعا

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو میسرہ نے محمد بن حسین ہمدانی سے ان کو محمد بن عبید نے ان کو قاسم بن حکم اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو سعد عبدالملک بن ابو عثمان زاہد نے۔ ان کو ابو الحسین محمد بن جمیع غسانی نے ان کو محمد بن احمد بن شاہ مرد فارسی نے حلب میں۔ ان کو محمد بن حسان ازرق نے ان کو قاسم بن حکم نے ان کو جریر بن ایوب بجلی نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ نے ان کو ابن اسحٰق نے ان کو مسروق نے ان کو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اور اس کو ذکر کیا ہے اسی کے مفہوم میں بطور مرفوع روایت کے۔

عائشة و ذكره بمعناه مرفوعا ← مَسْرُوقٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، ← القاسم بن الحكم ← مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ، ← محمد بن أحمد بن ساه مرد الفارسي بحلب ← أبو الحسين محمد بن جميع الغساني ← أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ ← القاسم بن الحكم و ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← أبو ميسرة محمد بن الحسين الهمداني ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3592

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3593

3593 - أخبرنا أبو بكر بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب حدثني حيوة بن شريح و الليث بن سعد و جابر بن إسماعيل عن عقيل بن خالد عن ابن شهاب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليس في الصيام رياء هكذا روي بهذا الإسناد منقطعا و رواه منصور بن عمار عن سهل مولى المغيرة بن أبي الصلت عن ابن شهاب عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصيام لا رياء فيه قال الله هو لي و أنا أجزي به يدع طعامه و شرابه من أجلي

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حسن اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان دونوں کو ابو العباس رحمہ اللہ علیہ نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو حیوۃ بن شریح نے اور لیث بن سعد نے اور جابر بن اسماعیل نے ان کو عقیل بن خالد نے ان کو ابن شہاب نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " لیس فی الصیام ریاء" کہ روزوں میں دکھاوا نہیں ہے۔ اسی طرح روایت کیا گیئ ہے اس اسناد کے ساتھ منقطع روایت ۔ اور اس کو روایت کیا ہے منصور بن عمار نے سہل سے وہ غلام ہیں مغیرہ بن ابو الصلت کے ابن شھاب سے اس نے ابو سلمہ سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ روزوں میں کوئی ریا کاری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا اس نے میرے لیے اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دیا تھا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← حيوة بن شريح و الليث بن سعد و جابر بن إسماعيل ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3593

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3594

3594 - أخبرنا أبو أحمد الحسين بن علوشا الأسد آبادي بها ثنا محمد عبد الله بن ماسي ثنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله البصري إملاء سنة تسعين و مائتين ثنا أبو عاصم الضحاك بن مخلد عن الحجاج هو ابن أبي عثمان الصواف عن يحيى عن محمد بن علي عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث دعوات مستجابات دعوة الصائم و دعوة المسافر و دعوة المظلوم

ہمیں خبر دی ابو احمد الحسین بن علو شاہ اسد آبادی نے ان کو ابو محمدعبداللہ بن ماسی نے ان کو ابو مسلم ابراہیم بن عبداللہ بصری نے بطور املاء کے سنہ 290 میں اس کو ابو عاصم ضحاک بن مخلد نے ان کو حجاج نے وہ ابن ابو عثمان صواف ہے اس نے یحییٰ سے اس نے محمد بن علی سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا تین دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ روزہ دار کی دعا۔ مسافر کی دعا ۔ مظلوم کی دعا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← محمد بن علي ← يَحْيَى ← الحجاج هو ابن أبي عثمان الصواف ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله البصري إملاء سنة تسعين و مائتين ← محمد عبد الله بن ماسي ← أبو أحمد الحسين بن علوشا الأسد آبادي بها

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3594

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3595

3595 - أخبرنا أبو منصور المظفر بن أحمد بن زياد العلوي ثنا أبو جعفر بن دحيم ثنا عبد الله بن يحيى الغساني أبو القسم ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا عبد الملك بن قدامة بن إبراهيم بن حاطب الجمحي عن أبيه و عن عمرو بن الحسين عن عائشة بنت قدامة بن مظعون عن أبيها عن عمها عثمان بن مظعون قال : قلت : يا رسول الله إني رجل يشق علي هذه العزبة في المغازي أفأختصي قال : يا بن مظعون عليك بالصوم فإنه الخصي

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور مظفر بن احمد بن زیاد علوی نے ان کو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو عبداللہ بن یحییٰ غسانی نے ان کو ابوالقاسم نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ان کو عبدالملک بن قدامہ بن ابراہیم بن حاطب جمحی نے ان کو ان کے والد اور عمرو بن حسین سے اس نے عائشہ سے قدامہ بن مظعون سے اس نے اپنے والد سے اس نے کہا کہ میں نے کہا یا رسول اللہ میں ایسا آدمی ہوں کہ جنگوں میں چھڑا رہتا ہوں یعنی بغیر بیویوں کے رہنا مجھ پر بہت ہی مشکل گذرتا ہے کیا میں خصی ہو جاؤں (یعنی خصے نکلوا دوں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن مظعون تم روزے کو لازم کر لو بے شک یہی خصی ہونا ہے (یعنی خصی ہونے کے ضرورت نہیں پڑے گی وہ مقصد روزے سے حاصل ہو جائے گا)۔

قُلْتُ ← عمها عثمان بن مظعون ← أَبِيهَا ← عائشة بنت قدامة بن مَظعُون. ← عمرو بن الحسين ← أَبِيهِ، [وَ] ← عبد الملك بن قدامة بن إبراهيم بن حاطب الجمحي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عبد الله بن يحيى الغساني أبو القسم ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو منصور المظفر بن أحمد بن زياد العلوي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3595

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3596

3596 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا العباس بن محمد ثنا علي بن عبد الحميد ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت البناني عن أنس بن مالك قال : خرج النبي صلى الله عليه و سلم إلى المسجد و فيه فتية من أصحابه فقال : من كان عنده طول فلينكح و إلا فعليه بالصوم فإنه له و جاء و محسمة للعرق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس رحمہ اللہ علیہ نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو علی بن عبدالحمید نے ان کو سلیمان بن مغیرہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی طرف نکلے مسجد میں ان کے اصحاب میں سے کچھ نوجوان بیٹھے تھے آپ نے فرمایا جن کے پاس طاقت ہو یعنی مالی گنجائش ہو وہ ضرور نکاح کر لے ورنہ اس پر روزہ رکھنا لازمی ہے بے شک وہ اس کے لیے پاکدامنی ہے (اور خواہش پر کنٹرول کرنا ہے) اور رگ کو کاٹنے والا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3596

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3597

3597 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه و أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه قالا : ثنا عبيد بن عبد الواحد حدثني يحيى بن بكير ثنا الليث عن عقيل عن ابن شهاب قال : حدثني ابن أبي أنس مولى التيميين أن أباه حدثه أنه سمع أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دخل رمضان فتحت أبواب الرحمة و غلقت أبواب جهنم و سلسلت الشياطين و في حديث ابن سلمان فتحت أبواب الجنة رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير و أخرجاه من حديث إسماعيل بن جعفر عن أبي سهيل نافع بن مالك و هو ابن أبي أنس عم مالك بن أنس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے اور ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے دونوں کو عبید بن عبدالواحد نے ان کو یحی بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو عقیل نے ان کو بن شہاب نے وہ کہتے ہیں کہ کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابن ابو انس مولی تیمیین کہ ان کو والد نے ان کو بیان کی اس نے سنا ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جب رمضان آجاتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ور جہنم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور شیطان جکڑ دئیے جاتے ہیں اور بخاری و مسلم دونوں نے روایت کیا ہے اس کو حدیث اسماعیل بن جعفر سے اس نے ابو سہیل نافع بن مالک سے وہ ابن ابو انس چچا ہیں مالک بن انس کے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← ابْنُ أَبِي أَنَسٍ مَوْلَی التَّيْمِيِّينَ أَنَّ أَبَاهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه و أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3597

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل شهر رمضان · حديث 3598

3598 - حدثنا أبو سعد عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد ثنا أبو عمرو بن نجيد ثنا أبو بكر محمد بن إسماعيل بن مهران ثنا أبو كريب محمد بن العلاء ثنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين و مردة الجن و غلقت أبواب النار فلم ينفتح منها باب و فتح أبواب الجنة فلم يغلق منها باب و ينادي منادي كل ليلة يا باغي الخير أقبل و يا باغي الشر أقصر و لله تعالى عتقاء من النار و ذلك عند كل ليلة

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو سعد عبدالملک بن ابو عثمان زاہد نے ان کو ابو عمرو بن نجید نے ان کو ابو بکر محمد بن اسماعیل بن مہران نے ان کو ابو کریب محمد بن علاء نے ان کو ابو بکر بن عیاش نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے شیطان اور سرکش ن باندھ دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا۔ اور ساری رات اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے اے خیر کے متلاشی آگے بڑھ اورا ے شر کے متلاشی پیچھے ہٹ جا اور اللہ تعالیٰ کے لیے کئی جہنم سے آزاد شدہ لوگ ہوتے ہیں ۔ اور یہ سلسلہ رات بھر جاری رہتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أبو كريب محمد بن العلاء ← أبو بكر محمد بن إسماعيل بن مهران ← أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ← أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of Ramadan · Hadith 3598

chevron_left Previous
1…737475…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood