Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3575

3575 - أخبرنا علي بن محمد المقرىء ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا حفص بن عمر ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن جري عن رجل من بني سليم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذ بيده فإما عقدهن بيده و إما عقدهن بيد السليمي و قال : سبحان الله نصف الميزان و الحمد لله تملأ الميزان و الله أكبر تملأ ما بين السماء و الأرض و الوضوء نصف الإيمان و الصيام نصف الصبر قال الحليمي رحمه الله : و هذا و الله أعلم على أن جماع العبادات فعل أشياء و كف عن أشياء و الصوم يقمع الشهوات فيتيسر به الكف عن المحارم و هو شطر الصبر لأنه صبر عن الشهوات فيتيسر به الكف عن المحارم و هو شطر الصبر لأنه صبر عن الشهوات و يبقى و رواءه الصبر عن المشاق و هو تخلف الأفعال المأمور بها فهما صبران صبر عن أشياء و صبر على أشياء و الصوم يعين على أحدهما فهو إذا نصف الصبر و منها أنه سماه فرضا مجزيا و في خبر آخر زكاة و يرجع معناهما إلى أنه ينقص من قوة البدن و ينحل الجسم فيكون الصائم كأنه أخرج شيئا من جسده لوجه الله و هو يجزيه به

ہمیں خبر دی علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو حفص بن عمر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحٰق نے انکو جری نے ان کو ایک آدمی نے بنی سلیم سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا پھر ان کو اپنے ہاتھ میں بند کر لیا مٹھی بنا کر یا اپنے ہاتھ کو مٹھی بنا لیا سلیمی کے ہاتھ کے ساتھ اور فرمایا: سبحان اللہ آدھا ترازو ہے ۔ اور الحمد للہ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ اور اللہ اکبر بھر دیتا ہے اس خلا کو جو آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ اور وضو نصف ایمان ہے اور روزے نصف صبر ہیں شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مذکورہ تحقیق اس بنا پر ہے کہ عبادات کو جمع کرنے والا کچھ چیز کرتا ہے اور کچھ چیزوں سے رک جاتا ہے۔ اور روزہ خواہشات و شہوات کا قلع قمع کرتا ہے لہذا اس کے ذریعے محارم سے رکنا آسان ہو جاتا ہے اور محارم سے رک جانا آدھا صبر ہے اس لئے کہ وہ شہوات سے صبر کرنا ہے۔ اور باقی رہتا ہے اس کے بعد نصف صبر وہ ہے فعل مامور بہا سے تخلف۔ پس وہ دو صبر ہیں۔ ایک ہے اشیاء سے صبر کرنا اور دوسرا ہے اشیاء پر صبر کرنا اور روزہ دونوں میں سے ایک پر اعانت کرتا ہے لہٰذا اس لیے وہ نصف صبر ہے۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جري ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← علي بن محمد المقرىء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3575

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3576

3576 - أخبرنا أبو بكر بن فورك ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا المسعودي عن أبي عمرو الشامي عن عبيد بن الخشخاش عن أبي ذر قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم و هو في المسجد فجلست إليه فقال : يا أبا ذر فقلت : لبيك قال : أصليت ؟ قلت : لا قال : قم فصل فصليت ثم أتيته فجلست إليه فقال : يا أبا ذر استعذت من شياطين الجن و الإنس ؟ فقلت : و هل للإنس شياطين ؟ قال : نعم يا أبا ذر ثم قال لي : ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة ؟ قلت بلى يا رسول الله بأبي أنت و أمي قال : لا حول و لا قوة إلا بالله فإنها كنز من كنوز الجنة قلت : فالصلاة يا رسول الله قال : خير موضوع فمن شاء أقل و من شاء أكثر قلت فالصوم يا رسول الله ؟ قال : فرض مجزىء قلت : و الصدقة يا رسول الله ؟ قال : أضعاف مضاعفة و عند الله مزيد قلت : فأيهما أفضل قال : جهد من مقل و سر إلى فقير قلت يا رسول الله أيما أنزل عليك أعظم ؟ قال : الله لا إله إلا هو الحي القيوم قلت : فأي الأنبياء كان أول يا رسول الله ؟ قال : آدم قلت : أو نبي كان ؟ قال نعم نبي مكلم قلت : كم كان المرسلون يا رسول الله ؟ قال : ثلاثمائة و خمس عشرة جما غفيرا

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو داؤد نے ان کو مسعود ی نے ان کو ابو عمرو شامی نے ان کو عبید بن خشحا ش نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں کہ میں آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وہ مسجد میں تھے میں ان کے پاس بیٹھ گیا آپ نے فرمایا اے ابو ذر میں نے کہا کہ میں حاضر ہوں فرمایا کہ کیا آپ نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں آپ نے فرمایا کہ اٹھ نماز پڑھ لے۔ کہتے ہیں میں نے نماز پڑھی اس کے بعد آ کر بیٹھ گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے ابو ذر آپ نے شیطانوں اور انسانی شیطانوں سے پناہ مانگی ہے؟ میں نے کہا کہ کیا انسانوں کے لئے بھی شیطان ہوتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہوتے ہیں۔ اے ابو ذر اس کے بعد مجھے فرمانے لگے ۔ کیا میں تجھے رہنمائی نہ کروں ایک خزانے پر جنت کے خزانوں میں سے؟ میں نے عرض کی بالکل کیجیے یار سول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں۔ فرمایا کہ لا حول ولا قوۃ الا بااللہ۔ فرمایا کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ پھر نماز کیا ہے؟ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)؟ فرمایا وہ رکھی ہوئی چیز ہے۔ جو چاہے اس میں سے کم کرے جو چاہے زیادہ کرے۔ میں نے پوچھا روزہ کیا ہے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)؟ فرمایا یہ فرض ہے جزا دیا ہوا۔ پھر میں پوچھا صدقہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ فرمایا کئی گنا اضافہ کے ساتھ بدلہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے پاس اس سے بھی زائد ہے۔ میں نے پوچھا ان دونوں میں افضل کونسا ہے؟ فرمایا تنگدست کا تھوڑا سا صدقہ جو فقیر کو آسانی پیدا کر دے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ کونسی آیت سب سے بڑے مرتبے والی اتری ہے آپ کے اوپر؟ آپ نے فرمایا "اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم" میں نے پوچھا کہ پہلے نبی کون تھے فرمایا کہ آدم علیہ السلام تھے میں نے پوچھا کہ کیا وہ صرف نبی تھے؟ فرمایا کہ وہ نبی تھے جب سے اللہ نے کلام کی تھی۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ رسول کتنے گذرے فرمایا کہ تین سو پندرہ ایک بہت بڑا جماعت تھے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّامِيِّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3576

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3577

3577 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر بن أحمد بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر قال : قرأ علي عبد الله بن وهب أخبرني سليمان بن بلال و القاسم بن عبد الله عن موسى بن عبيدة عن جمهان عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فذكر الحديث إلى أن قال : و الصيام نصف الصبر و على كل شيء زكاة و زكاة الجسد الصيام

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو بکر ابن احمد بن حسن قاضی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے انہوں نے کہا کہ پڑھا تھا انہوں نے عبداللہ بن وہب اور انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی سلیمان بن بلال نے اور قاسم بن عبداللہ نے ان کو موسیٰ بن عبیدہ نے ان کو جمہان نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ نے فرمایا پھر آپ نے حدیث ذکر کی یہاں تک کہ کہا کہ رسول نصف صبر ہے ۔ اور ہر شی میں زکوٰۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوٰۃ روز ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جُمْهَانَ ← موسى بن عبيدة ← سليمان بن بلال و القاسم بن عبد الله ← قَرَأَ عَلَيَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر بن أحمد بن الحسن القاضي ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3577

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3578

3578 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن و أحمد بن الحسن القاضي قالوا ثنا أبو العباس ثنا أبو عتبة ثنا بقية ثنا عمرو بن عيسى الأسدي ثنا موسى بن عبيدة عن زيد بن أسلم عن جمهان عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث إلى أن قال : و الصبر نصف الصوم و إن لكل شيء زكاة و زكاة الجسد الصيام و روى حماد بن الوليد عن سفيان الثوري عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل شيء زكاة و زكاة الجسد الصوم أخبرنا ابن عبدان ثنا أبو القاسم الطبراني ثنا أحمد بن زهير التستري ثنا الحسن بن عرفة ثنا حماد بن الوليد فذكره أخبرنا أبو سعد الماليني أخبرنا أبو أحمد بن عدي ثنا النعمان بن أحمد بن نعيم أبو بشير و محمد بن منير الطبري قالا ثنا الحسن بن عرفة ثنا حماد بن الوليد عن سفيان الثوري و عبد الله بن عبد الرحمن عن أبي حازم فذكره 3578 - مكرر أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو جعفر محمد بن سليمان بن موسى المزكى ثنا جنيد بن حكيم الدقاق ثنا حامد بن يحيى البلخي ثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن عبيد بن عمير عن أبي هريرة قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن السائحين فقال : هم الصائمون هكذا روي بهذا الإسناد موصولا و المحفوظ عن ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو عبدالرحمٰن اور احمد بن حسن قاضی نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوالعباس نے ان کو عتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو عمرو بن عیسی اسدی نے ان کو موسی بن عبیدہ نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو جمہان نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس نے حدیث ذکر کی یہاں تک کہ کہا: صبر نصف روزہ ہے اور ہر شے کے لئے ایک زکوٰۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔ اور روایت کیا ہے حماد بن ولید نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابو حازم نے ان کو سہل بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: "لکل شیء زکوٰۃ وزکوٰۃ الجسد الصوم" ہر شی کی ایک زکوٰۃ ہوتی ہے اور جس کی زکوٰۃ روزہ ہے۔ ہمیں خبر دی ابن عبدان نے ان کو ابو القاسم طبرانی نے ان کو احمد بن زبیر تستر نے ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو حماد بن ولید نے پھر اس کو ذکر کیا ۔ ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کوا بو احمد بن عدی نے ان کو نعمان بن احمد بن نعیم نے ان کو ابو بشیر نے اور محمد بن منیر طبری نے دونوں نے کہا کہ ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو حماد بن ولید نے ان کو سفیان ثوری نے اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابو حازم نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے۔ یہ مکرر ہے ۔ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن سلیمان بن موسیٰ مزکی نے ان کو جنید بن حکیم دقاق نے ان کو حامد بن یحییٰ بلخی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو عبید بن عمیر نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور سے پوچھا گیا کہ سائحین کے بارے میں فرمایا ھم الصائمون کو وہ روزہ دار ہیں اس طرح روایت کیا گیا ہے اس ا سنا دکے ساتھ بطور موصول روایت کے۔ اور محفوظ ہے وہ ابن عیینہ سے وہ عمرو سے اس نے عبید بن عمیر سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بطور مرسل روایت کے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3578

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3579

3579 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي عن سعدان ثنا إبراهيم بن عبد الله بن عمر العبسي ثنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة عشرة أمثالها إلى سبع مائة ضعف قال الله تعالى : ( إلا الصوم فإنه لي و أنا أجزي به يدع طعامه و شهوته من أجلي للصائم فرحتان فرحة عند فطره و فرحة عند لقاء ربه و لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك الصوم جنة ) لفظ حديث وكيع و قال أبو معاوية في حديثه كل حسنة يعملها ابن آدم تضاعف إلى عشر إلى سبع مائة و قال : و فرحة يوم القيامة و لم يذكر قوله : الصوم جنة رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة عن أبي معاوية و وكيع و رواه البخاري عن أبي نعيم عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ بن عتاب عبدی نے ان کو سعدان نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ بن عمر عبسی نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ابن آدم کا ہر عمل نیک اپنے دس امثال سے لے کر سات سو تک بڑھا کر دی جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ سوائے روزے کے بے شک وہ میرے ہی لیے ہے اور میں اس کی خود جز ا دوں گا اس نے اپنا کھانا پینا اور اپنی ہر خواہش کو میرے لیے چھوڑ دیا تھا۔ روزے دار کے لئے دو فرحتیں اور سرور ہوتے ہیں ایک تو افطار کے وقت اور دوسرا ہو گا اس کی رب سے ملاقات کے وقت ۔ البتہ روزہ دا کے منہ کی بو اللہ کے ہاں زیادہ پاکیزہ ہے کستوری کی خوشبو سے۔ روزہ ڈھال ہے۔ یہ الفاظ حدیث وکیع کے ہیں اور ابو معاویہ نے کہاکہ اس کی روایت میں یوں ہے ہر نیکی ابن آدم جس کا عمل کرتا ہے وہ دگنی کی جاتی ہے دس گنا تک اور سات سو گونا تک اور فرمایا کہ ایک فرحت ہوگی قیامت کے دن مگر اس نے قول ذکر نہیں کیا کہ روزہ ڈھال ہے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو بکر ابن ابو شیبہ سے اس نے ابو معاویہ سے اور وکیع سے اور اس کو روایت کیا ہے بخاری نے ابو نعیم سے اس نے اعمش سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إبراهيم بن عبد الله بن عمر العبسي ← سَعْدَانُ، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← الأَعْمَشِ، وَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3579

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3580

3580 - كما أخبرنا أبو الفوارس الحسن بن أحمد بن أبي الفوارس أخو الشيخ أبي الفتح الحافظ ثنا أبو علي محمد بن أحمد الصواف ثنا بشر بن موسى ثنا أبو نعيم ثنا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله تعالى : الصوم لي و أنا أجزي به يدع شهوته و أكله و شربه من أجلي و الصوم جنة و للصائم فرحتان فرحة حين يفطر و فرحة حين يلقى الله تعالى و لخلوف فيه أطيب عند الله من ريح المسك

ہمیں خبر دی ہے اس کی ابو الفوارس حسن بن احمد بن ابو الفوارس شیخ ابو الفتح حافظ ابو علی محمد بن احمد صواف نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو ابو نعیم نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا اس نے اپنی خواہش اپنا کھانا پینا میرے لئے چھوڑا تھا۔ اور روزہ ڈھال ہے۔ روزہ دار کے لیے دو فرحتیں ہیں ایک فرحت اس وقت جب وہ روزہ کھولتا ہے اور دوسری اس وقت جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا۔ اور اس کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أبو علی: محمد بن أحمد الصواف، ← أبو الفوارس الحسن بن أحمد بن أبي الفوارس أخو الشيخ أبي الفتح الحافظ ← كَمَا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3580

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3581

3581 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا محمد بن أيوب و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا معاذ بن المثنى قالا : ثنا إسحاق بن عمر بن سليط ثنا عبد العزيز بن مسلم ثنا ضرار بن مرة عن أبي صالح عن أبي هريرة و أبي سعيد قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الله تعالى : الصوم لي و أنا أجزي به و للصائم فرحتان إذا أفطر فرح و إذا لقي ربه فجزاه فرح و لخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن عمر بن سليط 3581 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصنعاني ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة ثنا سعيد الجريري عن أبي العلاء عن مطرف بن عبد الله بن الشخير قال : دخلت على عثمان بن أبي العاص فأمر لي بلبن لقحة فقلت : إني صائم قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الصوم جنة من عذاب الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ اور ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو محمد بن ایوب نے اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو معاذ بن مثنیٰ نے دونوں کو اسحٰق بن عمر بن سلیط نے ان کو عبدالعزیز بن مسلم نے ان کو ضرار بن مرہ نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ اور ابو سعید نے دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں دوں گا اور روزہ دار کے لیے دو فرحتیں ہیں جب افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جس وقت اپنے رب سے ملاقات کرے گا جب خوش ہو گا اور روزہ دار کے منہ کے بو اللہ کے نزدیک زیادہ پاکیز ہ ہے کستوری کی خوشبو سے۔ اورا س کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن عمر بن سلیط سے۔ مکرر ہے ۔ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو سعید جریری نے ان کو ابو العلاء نے ان کومطرف بن عبداللہ بن شخیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں داخل ہوا عثمان بن ابو العاص کے پاس انہوں نے میرے لیے اونٹنی کے دودھ کا کہا :میں روزہ دار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سنا رسول اللہ سے فرماتے تھے۔ الصوم جنۃ من عذاب اللہ۔ کہ روزہ عذاب الٰہی سے ڈھال ہے۔

أبي هريرة و أبي سعيد ← اَبِیْ صَالِحٍ ← ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← محمد بن أيوب و ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3581

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3582

3582 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا عبد الله بن وهب أخبرني ابن لهيعة أن أبا الزبير أخبره أن جابر بن عبد الله أخبره : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قال ربنا الصيام جنة يستجن العبد بها من النار و هو لي و أنا أجزي به قال الشيخ أحمد رحمه الله : و قوله الصوم لي و أنا أجزي به فمعناه و الله أعلم أني العالم بجزائي و المالك له و ليس ذلك مما أخبرتكم به من أن الحسنة بعشر أمثالها و أن مثل النفقة في سبيل الله كمثل حبة أنبتت سبع سنابل في كل سنبلة مائة حبة لكن جزاء الصوم يجل عن هذا كله و أنا أعلم به و إلي أمره و هذا لأن كل عمل يعمله ابن آدم من الطاعات فإنما هو تبرر لا تنقص من بدته شيئا إلا الصيام فإنه تعريض من الصائم نفسه للنقصان الذي قد يعف و قد يؤدي إلى الهلاك و الصائم بصيامة مؤثر للرجوع إلى ربه مستلم لذلك منشرح الصدر فكان صومه له عز اسمه من هذا الوجه و أما قوله للصائم فرحتان : فرحة عند إفطاره و فرحة عند لقاء ربه فمعناه و الله أعلم فرحة عند إفطاره بما يجب له من الثواب الذي لا يعلمه إلا الله تعالى أو يأذن له في الإفطار و لم يأذن له في وصل الليل بالنهار فيتعجل هلاكه و إنما جاء في الحديث من أن للصائم عند فطره دعوة مستجابة و فرحة يوم القيامة بما يصل إليه من الثواب و الجزاء و أما الخلوف فإنما جعله أطيب عند الله من ريح المسك ليبين انه و إن كان في الطباع من باب الأذى فإنه عند الله مرضي لا ينبغي إزالته بالسواك و غيره كما لا يزال دم الشهيد عنه بالغسل و أنه يثاب على الصبر عليه كما يثاب على الطعام و الشراب و الله أعلم و قد حكي عن ابن عيينة في قوله الصوم لي 3582 - مكرر ـ كما أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو الطيب المظفر بن سهل الخليلي ثنا إسحاق بن أيوب بن حسان الواسطي عن أبيه قال : سمعت رجلا يسأل سفيان بن عيينة فقال : يا أبا محمد ما تقول في ما يرويه النبي صلى الله عليه و سلم عن ربه تعالى : كل عمل ابن آدم له إلا الصوم فإنه لي و أنا أجزي به ؟ فقال ابن عيينة : هذا من أجود الأحاديث و أحكمها إذا كان يوم القيامة يحاسب الله تعالى عبده و يؤدي ما عليه من المظالم من سائر عمله حتى لا يبقى إلا الصوم فيتحمل الله تعالى ما بقي عليه من المظالم و يدخله بالصوم الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو خبر دی ہے ابن لہیعہ نے کہ ابو الزبیر نے ان کو خبر دی ہے کہ جابر بن عبداللہ نے اس کو خبر دی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہمارا رب فرماتا ہے کہ روزے ڈھال ہیں۔ ان کے ساتھ بندہ جہنم سے اپنا بچاؤ کرتا ہے اور وہ محض میرے لیے ہے اور ان کی جزا میں خود دوں گا۔ شیخ احمد نے فرمایا کہ آپ کا یہ فرمان کہ روزہ میرے لیے ہے اور ا سکی جزا میں دوں گا اس کا مطلب ہے کہ میں ہی جانتا ہوں اپنی جزا کو جو میں ود ں گا۔ اور اس کا میں ہی مالک ہوں۔ یہ اس قبیل سے نہیں ہے جس کی میں نے تمہیں خبر دی ہے مثلا یہ کہ نیکی کا اجر دس گنا ہے وغیرہ ۔ یا یہ کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مثال اس ایک دانے جیسی ہے جو سات بالیں اگائے ہر بال اور سٹے میں ایک سودانے ہوں۔ بلکہ روزے کی جزا ان سب سے بڑی ہے اور میں اس کو خوب جانتا ہوں اس کا معاملہ میرے حوالے ہے یہ اس لیے ہے کہ ہر عمل ابن آدم جس کا عمل کرتا ہے طاعات میں سے وہ بڑھتا ہے گھٹتا نہیں ہے۔ اس کے جسم میں سے کوئی چیز بھی سوائے روزے (کہ اس سے تو بدن کم ہو تا ہے) بلکہ روزہ دار اپنی طرف سے اس کمی کے لیے اپنے آپکو خود پیش کرتا ہے جس سے کبھی تو پاکدامنی آتی ہے اور کبھی ہلاکت تک پہنچاتا ہے اور روزے دار اپنے روزے کے ساتھ رب کی طرف رجوع ہونے کو ترجیح دیتا ہے اور اسی کے حوالے ہوتا ہے۔ سپرد ہے شرح صدر کے ساتھ لہٰذا اس کا صرف اس ذات کے لئے ہوتا ہے ۔ اسی اعتبار سے۔ بہرحال رسول اللہ کا یہ فرمان کہ روزہ دار کے لیے دو راحتیں ہیں ایک اس کے افطار کے وقت ہوتی ہے اور دوسری اس کی اس کے رب کے ساتھ ملاقات کےوقت ہو گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک راحت افطار کے وقت ہوتی ہے یعنی وہ راحت و خوشی اس کا افطار اصل ثواب پر ہوتی ہےجو اس کے لیے واجب ہو چکا ہے اس کو اللہ جانتا ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا یا یوں خوشی ہوتیہے کہ اللہ نے اب اس کو افطار کرنے کی اجازت دے دی ہے اور دن بھر کے روزے کے ساتھ رات کو بھی جوڑنے کا حکم یا اجازت نہیں دی ورنہ تو بھوک سے ہلاکت تک نوبت پہنچتی اور حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ روزے دار کے لیے افطار کے وقت ایک دعا قبول ہوتی ہے۔ اورقیامت میں خوشی ہو گی اس لیے کہ ثواب اور جزا اس کی طرف پہنچے گا۔ بہرحال منہ کی بدبو کو جو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے وہ اس لیے ہے کہ تاکہ واضح کر دے کہ وہ اگرچہ طبائع میں تکلیف اور ناگوار چیز ہے تا ہم اللہ کے ہاں وہ پسندیدہ ہے مسواک کے ساتھ اس کو ختم کرنا مناسب نہیں ہے۔ جیسے کے شہید کا خون غسل کے ساتھ اس سے زائل نہیں کیا جاتا ، اور روزہ دار صبر کرنے پر ثواب دیا جاتا ہے جیسے وہ کھانے پینے پر ثواب دیا جاتا ہے ۔ واللہ اعلم۔ اور تحقیق نقل کی گئی ہے ابن عیینہ سے حضور کے اس قول کے بارے میں روزہ میرے لیے ہے۔

أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← ابن لهيعة أن أبا الزبير ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3582

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3583

3583 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا أبو الحسن الكارزي ثنا علي بن عبد العزيز قال : قال أبو عبيد : قد علمنا أن أعمال البر كلها لله تعالى و هو يجزي فنرى و الله أعلم أنه إنما أخص الصوم بأن يكون هو الذي يتولى جزاءه لأن الصوم ليس يظهر من ابن آدم بلسان و لا فعل فيكتبه الحفظة إنما هو نية القلب و إمساك عن حركة المطعم و المشرب يقول : فأنا أتولى جزاءه على ما أحب من التضعيف و ليس على كتاب كتب له و مما يبين ذلك قوله صلى الله عليه و سلم : ليس في الصوم رياء قال أبو عبيد حدثنيه عن ليث عن عقيل عن ابن شهاب رفعه قال و ذلك لأن الأعمال كلها لا تكون إلا بالحركات إلا الصوم خاصته فإنما هي بالنية التي قد خفيت على الناس فإذا نواها فكيف يكون ها هنا رياء ؟ هذا عندي وجه الحديث و الله أعمل قال أبو عبيد : بلغني عن سفيان بن عيينة أنه فسر قوله في الصوم قال : لأن الصوم هو الصبر يصبر الإنسان عن المطعم و المشرب و النكاح ثم قرأ : { إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب } يقول : فثواب الصوم ليس له حساب يعلم من كثرته قال أبو عبيد : و مما يقوي قول سفيان الذي يروى في التفسير في قوله السائحون الصائمون فالصائم بمنزلة السائح 3583 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا سعيد بن أبي مريم و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عثمان سعيد بن محمد بن عبدان النيسابوري بها ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصنعاني ثنا ابن أبي مريم ثنا أبو غسان حدثني أبو حازم عن سهل بن سعد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : في الجنة ثمانية أبواب فيها باب يسمى الريان لا يدخلها إلا الصائمون و في رواية الدارمي : للجنة و قال : لا يدخله إلا الصائمون رواه البخاري في الصحيح عن سعيد بن أبي مريم

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن کا رزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہ ابو عبید نے کہا تحقیق ہم جانتے ہیں کہ نیکی کے سارے اعمال اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور وہی جزا دے گا پس ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے روزے رکھے کو زیادہ خاص یا ہے بایں طور کہ وہی متولی و سرپرست بنے اس کی جزا کا اس لیے کہ روزہ نہیں ظاہر ہوتا ابن آدم سے زبان کے ساتھ نہ فعل کے ساتھ لہذا اس کو فرشتے لکھ لیا کریں سوائے اس کے نہیں کہ وہ دل کی نیت ہے۔ اور رک جانا ہے کھانے پینے کے حرکت سے۔ لہٰذا وہ فرماتے ہیں کہ میں ہی متولی ہون اس کی جزا کا اس بنا پر کہ جو میں پسند کروں گا ڈبل کروں گا وہ کسی کتا ب پر تحریر نہیں ہو گا وہ دلیل جو اس بات کو بیان کرتی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول ہے: "لیس فی الصوم ریاء" روزے میں دکھاوا نہیں ہے۔ ابو عبداللہ نے کہا ہے کہ مجھے اس کے بارے میں حدیث بیان کی ہے لیث سے اس نے عقیل سے اس نے ابن شہاب سے اس نے اسے مرفوع کیا ہے اور کہا کہ یہ اس لیے ہے کہ سارے کے سارے اعمال حرکات کے ساتھ ہوتے ہیں یعنی جسمانی طور پر ظاہر ہو جاتے ہیں سوائے روزے کے خاص طور پر کہ وہ صرف نیت کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ لوگوں سے مخفی رہ جاتی ہے جب روزے کی نیت کر لیتا ہے تو وہاں دکھاوا کہاں سے ہو سکتا ہے؟ حدیث کی یہی توجیہ ہے میرے نزدیک ۔ ابو عبید نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے سفیان بن عیینہ سے کہ اس نے فی الصوم کی تفسیر یوں بیان کی ہے۔ اس لیے کہ صوم صبر ہے انسان صبر کرتا ہے کھانے سے پینے سے اور صحبت سے۔ اس کے لیے انہوں نے یہ آیت پڑھی: "انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب" یعنی یہ بات ہے کہ صبر کرنے والے اپنا اجر بغیر حساب کے دئیے جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ روزے کا ثواب ایسا ہے کہ اس کے لیے کوئی حساب نہیں ہے جو اپنی کثرت سے معلوم ہو سکے۔ ابو عبید نے کہا ہے کہ وہ دلیل جو سفیان کے قول کی تائید کرتی ہے جو مروی ہے اس قول کی تفسیر میں کہ سائحون سے مراد روزے دار ہیں۔صائم بمنزلہ سائح کے ہوتا ہے۔ مکرر ہے ۔ ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ا بو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان سعید بن محمد بن عبدانی نیساپوری نے نیسا پور میں ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو ابن ابو مریم نے ان کو ابو غسان نے ان کو ابو حازم نے ان کو سہل بن سعد نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان سبھی سے ایک دروازے کا نام ریان ہے اس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔ اور دارمی کی روایت میں ہے للجنۃ۔ اور یوں کہا ہے کہ: "لا یدخلۃ الاالصائمون" بخاری نے ان کو روایت کیا ہے سعید بن ابی مریم سے۔

أبو عبيد قد علمنا ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3583

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3584

3584 - أخبرنا أبو نصر أحمد بن علي الغامي ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب ثنا خالد بن مخلد عن سليمان بن بلال حدثني أبو حازم عن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة بابا يقال له الريان يدخل منه الصائمون يوم القيامة لا يدخل معهم أحد غيرهم يقال أين الصائمون فيدخلون منه فإذا دخل آخرهم أغلق فلم يدخل منه أحد

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر احمد بن علی الغامی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو خالد بن مخلد نے انکو سلیمان بن بلال نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابو حازم نے ان کو سہل بن سعد نے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا: بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے اسے ریان کہا جاتا ہے قیامت کے دن اس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔ ان کے ساتھ اور کوئی وہاں داخل نہیں ہو گا۔ کہا جائے گا کہاں ہیں روزہ دار وہ اس سے داخل ہو جائیں جب آخری بندہ ان میں سے داخل ہو گا تو وہ بند کر دیا جائے گا اور پھر وہ کبھی نہیں کھلے گا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو نصر أحمد بن علي الغامي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3584

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3585

3585 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر المقري بن الحمامي سعدان حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه ثنا عبد الملك بن محمد ثنا روح ثنا شعبة و أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا علي بن الحسن الهلالي ثنا عبد الملك بن إبراهيم الجدي ثنا شعبة أخبرني حبيب الأنصاري قال : سمعت مولاة لنا يقال لها ليلى تحدث عن أم عمارة بنت كعب : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل عليها فقربت إليه طعاما فقال : كلي فقالت : إني صائمة فقال : إن الصائم إذا أكل عنده صلت عليه الملائكة حتى يفرغوا أو يقضوا لفظ حديث الفقيه و في رواية المقري عن جدتها أم عمارة امرأة كعب رجل من الأنصار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الصائم إذا أكل عنده صلت عليه الملائكة حتى يفرغوا

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عمر مقری بن حمامی سعد ان نے ان کو حدیث بیان کی ہے احمد بن سلمان فقیہ نے ان کوابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو علی بن حسن ہلالی نے ان کو عبدالملک بن ابراہیم جدی نے ان کو شعبہ نے ان کو حبیب انصاری نے وہ کہتے ہیں کہ اس نے سنا ایک لونڈی سے جو ہم لوگوں کی تھی اسے لیلیٰ کہا جاتا تھا وہ حدیث بیان کرتی تھی ام عمارہ بنت کعب سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس گئے۔ ام عمارہ نے کھانا لا کر ساتھ رکھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا کھائیے آپ بھی تو وہ بولی میں روزے سے ہوں تو حضور نے فرمایا جب روزہ دار کے سامنے کھایا جائے تو روزے دار پر فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ فارغ ہو جائیں۔ یقضوا کے الفاظ تھے۔ یہ فقیہ کی روایت کے الفاظ ہیں۔ اور مقری کی ر وایت میں یوں ہے وہ بیان کرتی ہے اپنی دادی ام عمارہ سے جو کعب کی بیوی تھی وہ انصار کے ایک آدمی تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ روزے دار کے سامنے جب کھایا جائے فرشتے اس پر رحمت بھیجتے ہیں حتیٰ کہ فارغ ہو جائیں۔

اُمِّ عُمَارَۃَ بِنْتِ کَعْبٍ، ← مَوْلَاۃً لَنَا یُقَالُ لَھَا لَیْلٰی تُحَدِّثُ ← حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← شُعْبَةُ و ← رَوْحٌ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر المقري بن الحمامي سعدان

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3585

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضائل الصوم · حديث 3586

3586 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي و أبو القسم بن حبيب المفسر من أصله و أبو صادق محمد بن أحمد العطار قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو عتبة ثنا بقية ثنا محمد بن عبد الرحمن عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال : دخل بلال على رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو يتغذى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الغدا يا بلال قال : إني صائم يا رسول الله قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نأكل رزقنا و فضل رزق بلال في الجنة أشعرت يا بلال قال : إن الصائم تسبح عظامه و تستغفر به الملائكة ما أكل عنده

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے اور ابو القاسم بن حبیب مفسر نے اپنی اصل کتاب اور ابو صادق محمد بن احمد عطار نے سب نے کہا کہ ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو عقبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن نے ان کو سلیمان بن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ بلال رسول اللہ کے پاس آئے اور وہ ناشتہ کر رہے تھے حضور نے فرمایا ناشتہ کروائے بلال۔ وہ بولے کہ یا رسول اللہ میں روزے سے ہوں تو حضور نے فرمایا ہم اپنے رزق کھا رہے ہیں اور بلال کا رزق بچ گیا ہے جنت میں۔ کیا سمجھ گئے ہو تم اے بلال ۔ فرمایا کہہ روزے دار کی ہڈیاں تسبیح کرتی ہیں اور فرشتے اس کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں جب تک اس کے پاس کھایا جاتا رہے۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtues of fasting · Hadith 3586

chevron_left Previous
1…727374…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood