Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في القرض · حديث 3563

3563 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري قالا : ثنا أبو العباس الأصم نا جعفر بن محمد الصائغ نا غسان بن الربيع بن منصور الغساني نا جعفر بن ميسرة الأشجعي عن هلال أبي ضياء عن الربيع بن خيثم عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل قرض صدقة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو جعفر محمد صائغ نے ان کو حسان بن ربیع بن منصور غسانی نے ان کو جعفر بن میسرہ اشجعی نے ا ن کو ہلال ابو ضیاء نے ربیع بن خیثم سے اس نے ابن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : ہر قرض صدقہ ہوتا ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← الرَّبِيعِ بْنِ خَيْثَمٍ ← هِلَالٍ أَبِي ضِيَاءٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيُّ، ← غسان بن الربيع بن منصور الغساني ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of the loan · Hadith 3563

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في القرض · حديث 3564

3564 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر نا جعفر بن محمد بن المستفاض الفريابي نا سليمان بن عبد الرحمن نا ابن عياش حدثني عتبة بن حميد عن القاسم عن أبي أمامة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : دخل رجل الجنة فرأى على بابها مكتوبا الصدقة بعشر أمثالها و القرض بثمانية عشر

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمر و بن مطر نے ان کو جعفر بن محمد بن مستفاض فریابی نے ان کو سلیمان بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابن عیاش نے ان کو عقبہ بن حمید نے ان کو قاسم نے ان کو ابو امامہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے فرمایا : ایک آدمی جنت میں داخل ہو ا اس نے اس کے دروازے پر دیکھا لکھا ہوا تھا کہ صدقہ اپنے دس امثال کے ساتھ ہے (یعنی دس گنازیادہ ثواب دیا جائے گا) اور قرض اٹھارہ گنا ہو گا (یعنی اٹھارہ گنا زیادہ دیا جائے گا)۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عُتْبَةَ بْنِ حُمَيْدٍ، ← ابْنُ عَيَّاشٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَفَاضِ الْفِرْيَابِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of the loan · Hadith 3564

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في القرض · حديث 3565

3565 - و رواه أيضا جعفر بن الزبير الحنفي عن القاسم عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : انطلق برجل إلى باب الجنة فرفع رأسه فإذا علي باب الجنة مكتوب الصدقة بعشر أمثالها و القرض الواحد بثمانية عشر لأن صاحب القرض لا يأتيك إلا و هو محتاج و أن الصدقة ربما وضعت في غنا أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا جعفر فذكره

جعفر بن زبیر حنفی نے اس کو روایت کیا ہے قاسم سے اس نے ابو امامہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ایک آدمی کو جنت کےد روازے کے باہر ے جایا گیااس نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا تو یکا یک دیکھا کہ جنت کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ صدقہ اپنے دس امثال کے ساتھ ہے (یعنی دس گنا ہ زیادہ اجر ملے گا) اور قرض اپنے اٹھارہ امثال کے ساتھ ہے (یعنی اس کی ادائیگی اٹھارہ گنا زیادہ کے ساتھ کرائی جائے گی اس لئے کہ قرض دینے والا تیرے پاس نہیں آئے گا مگر وہ محتاج ہے یعنی حاجت مند ہے اور صدقہ بسا اوقات غنی کو دیا گیا ہوتا ہے۔ ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو داؤد نے ان کو خبر دی جعفر نے پھر اسی مذکور کو ذکر کیا ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← و رواه أيضا جعفر بن الزبير الحنفي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of the loan · Hadith 3565

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في القرض · حديث 3566

3566 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن محمد بن سليمان الباغندي نا هشام بن خالد ثنا خالد بن يزيد بن أبي مالك عن أبيه عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأيت ليلة أسري بي مكتوب على باب الجنة الصدقة بعشر أمثالها و القرض بثمانية عشر قال النبي صلى الله عليه و سلم : قلت لجبريل ما بال القرض أفضل من الصدقة ؟ قال : إن السائل يسأل و عنده و المستقرض لا يستقرض إلا من حاجة

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو محمدبن محمد بن سلیمان باغندی نے انکو ہشام بن خالد نے ان کو خالد بن یزید بن ابو مالک نے ان کو ان کے والد نے ان کو انس نے و ہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: میں نے شب معراج میں جنت کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ صدقہ اپنے دس مثلوں کے ساتھ ہو گا اور قرضہ اٹھارہ کے ساتھ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جبریل امین سے کہا قرض کا کیا حال ہے کیا وہ صدقہ سے افضل ہے؟ جبریل نے جواب دیا: بے شک سائل مانگتا ہے اور اس کے پاس (ہو یا نہ وہ) اور قرض لینے والا ضرورت اور مجبوری کے بغیر قرض نہیں مانگتا۔

أَنَسٍ، ← أَبِيهِ ← خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، ← هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ← محمد بن محمد بن سليمان الباغندي، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of the loan · Hadith 3566

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3567

3567 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي قالا ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف ثنا حامد بن أبي حامد ثنا إسحاق بن سليمان قال : سمعت حنظلة بن أبي سفيان يقول : سمعت عكرمة بن خالد يحدث طاوسا : أن رجلا قال لعبد الله بن عمر ألا نغزو فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله و إقام الصلاة و إيتاء الزكاة و صوم رمضان و حج البيت أخرجاه في الصحيح من حديث حنظلة قال الإمام أحمد رحمه الله : و قد سمى رسول الله صلى الله عليه و سلم الصيام بأسماء منها أنه سماه جنة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب بن یوسف نے ان کو حامد بن ابو حامد نے ان کو اسحاق بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حنظلہ بن ابو سفیان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عکرمہ بن خالد سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں طاؤس سے کہ ایک آدمی نے کہا حضرت عبداللہ بن عمر سے کیا ہم جہاد نہ کریں انہوں نے فرمایا کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ سے وہ کہتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور نما ز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا ، رمضان کے روزے رکھنا ، بیت اللہ کاحج کرنا، بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حنظلہ کی روایت سے۔ "حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزوں کے کئی نام رکھے"۔ "روزے کا نام ڈھال ہے"۔ امام احمد رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تحقیق نام رکھا رسول اللہ نے روزوں کا کئی ناموں کے ساتھ ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام ڈھا ل رکھا ہے۔

لعبد الله بن عمر ألا نغزو ← طَاوُسًا: أَنَّ رَجُلًا ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ، ← أبو عبد الله محمد بن يعقوب بن يوسف ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3567

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3568

3568 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا جعفر بن محمد بن نصير الخلدي ثنا موسى بن هارون ثنا قتيبة بن سعيد ثنا المغيرة بن عبد الرحمن عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصيام جنة رواه مسلم عن القعنبي و قتيبة و أخرجه البخاري من حديث مالك عن أبي الزناد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر خلدی نے ان کو موسیٰ بن ہارون نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو الزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: الصیام جنۃ۔ روزہ ڈھال ہے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے قعنبی سے اور قتیبہ نے اور بخاری نے اس کو نقل کیا ہے حدیث مالک سے اس نے ابو زناد سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3568

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3569

3569 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبيد الله بن المنادي ثنا يونس بن محمد ثنا شيبان عن قتادة قال : و حدث جري بن كليب بن بشير بن الخصاصية قال حدثنا أصحاب لنا عن أبي هريرة : أن نبي الله صلى الله عليه و سلم كان يقول يروي ذلك عن ربه تعالى قال ربكم : ( الصوم جنة يجتن بها عبدي من النار )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان وک ابو امجد بن موسی نے ان دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن منادی نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو شیبان نے ان کو قتادہ نے اور حدیث بیان کی ہے جری بن کلیب بن بشیر بن خصاصیہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ہمارے اصحاب نے ابو ہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ روایت کرتے ہیں کہ اس کو اپنے رب تعالیٰ سے کہ تمہارے رب نے فرمایا ہے: "الصوم جنۃ یجتن بھا عبدی من النار" روزہ ڈھال ہے جبکہ بندہ اس کے ذریعے جہنم سے بچاؤ کرتا ہے۔

ربكم الصوم جنة يجتن بها عبدي من النار ← ربه تعالى ← يُرْوَى ذَلِكَ ← أبي هريرة أن نبي الله صلى الله عليه و سلم كان ← أَصْحَابٌ لَنَا، ← و حدث جري بن كليب بن بشير بن الخصاصية ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3569

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3570

3570 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرىء ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا أحمد بن عيسى ثنا ابن وهب أخبرني ابن لهيعة أن أبا الزبير حدثه أن جابرا أخبره : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قال ربنا عز و جل : ( الصيام جنة يجتن بها العبد من النار و هو لي و أنا أجزي به ) و سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : الصيام جنة حصينة من النار

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب بن قاضی نے ان کواحمد بن عیسیٰ نے ان کو ابن وھب نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو ابوالزبیر نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ جابر نے اس کو خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہمارا رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ ڈھا ل ہے بندہ اس کے ذریعے جہنم کی آگ سے بچتا ہے اور وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی خبر دوں گا۔ اورمیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا فرماتے تھے کہ " الصیام جنۃ حصینۃ من النار" روزہ ڈھال ہے جو آگے سے حفاظت کرتا ہے۔

أن جابرا ← ابن لهيعة أن أبا الزبير ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أحمد بن عيسى، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3570

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3571

3571 - أخبرنا محمد بن موسى ثنا أبو العباس الأصم ثنا الربيع بن سليمان ثنا عبد الله بن وهب أخبرني ابن لهيعة عن أبي يونس مولى أبي هريرة أنه سمع أبا هريرة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الصيام جنة و حصن حصينة من النار

ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العبا س رحمہ اللہ علیہ نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وھب نے ان کو خبر دی ہے ابن لھیعہ نے ان کویونس مولی ابو ہریرہ نے کہ اس نے سنا ابو ھریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے ہیں : " الصیام جنۃ وحصن حصینۃ من النار" روزے ڈھال ہیں اور آگ سے حفاظت کرنے والا قلعہ ہیں۔

الصيام جنة و حصن حصينة من النار ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3571

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3572

3572 - أخبرنا أبو بكر بن فورك ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا جرير بن حازم عن بشار بن أبي سيف عن الوليد بن عبد الرحمن عن غطيف بن الحارث قال : سمعت أبا عبيدة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أنفق نفقة في سبيل الله فاضلة فالحسنة بسبع مائة و من أنفق على نفسه أو قال على أهله أو عاد مريضا أو أماط أذى فالحسنة بعشر أمثالها و الصوم جنة ما لم يخرقها و من ابتلاه الله ببلاء في جسده فله حطة كذا وجدته و رواه ابن وهب و غيره عن جرير بن حازم و قالوا : عن عياض بن غضيف و كذلك قاله واصل مولى أبي عيينة عن بشار

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو جریر بن حازم نے ان کو بشار بن یوسف نے ان کو ولید بن عبدالرحمٰن نے ان کو غطیف بن حارث نے انہوں نے سنا ابو عبیدہ سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں۔ جو شخص خرچ کرے خرچ کرنا اللہ کی راہ میں ضرورت سے زائد مال میں سے ایک نیکی سات سو کے برابر ہے۔ اور جو شخص خرچ کرے اپنے نفس پر یا فرمایا کہ اپنے اہل پر یا مریض کی مزاج پرسی کرے یا تکلیف دو چیز کو ہٹائے بس ایک نیکی سا کی دس مثالوں کے ساتھ ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اس کو خود نہ پھاڑ ڈالے۔ اور وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ آزمائے اور کسی تکلیف میں مبتلا کرے اس کے جسم میں بس اس کے لئے گناہوں کا کفارہ ہے۔ اسی طرح میں نے اس کو پایا ہے اور اس کو روایت کیا ہے ابن وھب وغیرہ نے جریر بن حازم سے اور انہوں نے کہا مروی ہے عیاض بن غطیف سے۔۔ اور اسی طرح کہا ہے اس کو واصل مولی ابو عیینہ نے بشار سے۔

أَبَا عُبَيْدَةَ، ← غُطَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3572

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3573

3573 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا عبيد بن شريك و ابن ملحان قالا ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن سعيد بن أبي هند أن مطرفا من بني عامر بن صعصعة حدثه : أن عثمان بن أبي العاص الثقفي دعا له بلبن يسقيه فقال مطرف : إني صائم فقال عثمان : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الصيام جنة كجنة أحدكم من القتال و سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : صيام حسن صيام ثلاثة أيام من كل شهر و منها أن سماه صبرا و سمى في حديث آخر الصبر ضياء

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو ابن ملحان نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو یزید بن ابو حبیب نے ان کو سعید بن ابو ھند نے یہ کہ مطرف نے بنی عامر بن صعصعہ سے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ عثمان بن ابو العاص ثقفی نے پینے کے لئے دودھ منگوایا تو مطرف نے کہا کہ میرا روزہ ہے عثمان نے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا تھا ۔ فرماتے تھے کہ روزہ ڈھال ہے جیسے تمہارے ایک کی قتال کے لئے ڈھال ہوتی ہے۔ اچھے روزے ہر ماہ تین دن کے روزے ہیں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الصيام جنة كجنة أحدكم من القتال و ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُثْمَانَ، ← مُطَرِّفٌ اِنِّی صَائِمٌ ← أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ يَسْقِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّ مُطَرِّفًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عبيد بن شريك و ابن ملحان ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3573

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3574

3574 - أخبرنا أبو بكر بن فورك ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن أبي عثمان قال : كنا مع أبي هريرة في سفر فحضر الطعام فبعثنا إلى أبي هريرة و هو يصلي فجاء الرسول فذكر أنه صائم فوضع الطعام ليؤكل إلى أبي هريرة و هو يصلي فجاء الرسول فذكر أنه صائم فوضع الطعام ليؤكل فجاء أبو هريرة و قد كادوا يفرغون منه فتناول فجعل يأكل فنظروا إلى الرجل الذي أرسلوه إلى أبي هريرة فقال : ما تنظرون إلي قد و الله أخبرني أنه صائم قال : صدق ثم قال أبو هريرة : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : صوم شهر الصبر و ثلاثة أيام من الشهر صوم الدهر فأن صائم في تضعيف الله و مفطر في تخفيفه قال الإمام أحمد : و روي نحوا عن أبي ذر و روينا في حديث أبي مالك الأشعري عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : الصبر ضياء و إنما سمي الصيام صبرا لأن الصبر في كلام العرب الحبس و الصائم يحبس نفسه عن أشياء جعل الله تعالى قوام بدنه بها و سمي الصبر ضياء لأن الشهوات إذا انقمعت به و انجلى عن القلب الظلام الغاشي إباه باستيلاء الشهوات على النفس فانظر مواضع النظر له من عبادة الله تعالى فآثرها و ابتدر إليها و مواضع الضر الذي يلحق من معاصي الله فاعتزلها و كف عنها و قد سماه في خبر آخر نصف صبر

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو ابو عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو ہریرہ کے پاس تھے ایک سفر میں ۔ کھانا حاضر ہوا تو ہم نے حضرت ابو ہریرہ کو بلانے بھیجا وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ بندہ واپس آیا اس نے بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ میرا روزہ ہے کھانا کھانے کے لئے جایا گیا تو ابو ہریرہ بھی آ گئے لوگ کھا کر فارغ ہورہے تھے ابو ہریرہ نے بھی اور کھانے لگے تو سب لوگوں نے اس بندے کو گھورنا شروع کیا جس کو انہوں نے بھیجا تھا ابو ہریرہ کے پاس۔ اس نے کہا مجھے کیوں گھورتے ہو اللہ کی قسم انہوں نے مجھے کہا تھا کہ میں روزہ دار ہوں۔ ابو ہریرہ نے کہا کہ یہ سچا ہے ۔ اس کے بعد ابو ہریرہ نے کہا میں نے رسول اللہ سے سنا تھا: صبر کے مہینے کا روزہ اور ہر مہینے تین روزے سال بھر کے روزے کے برابر ہیں۔ اب گویا میں اللہ کے ڈبل کرنے کے اعتبار سے تو میں روزہ دار ہوں اور اس کی تخفیف کے اعتبار سے میں روزہ دار نہیں ہوں۔

أَبِي عُثْمَانَ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3574

chevron_left Previous
1…717273…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood