Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3551

3551 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه و محمد بن موسى قالا : أنا أبو العباس الأصم نا محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادي نا أبو عبد الرحمن المقريء نا سعيد عن أبي الأسود عن بكير عن بشر بن سعيد عن خالد بن عدي الجهني : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من جاءه من أخيه معروف من غير سؤال و لا إشراف نفس فليقبله فإنما هو رزق ساقه الله إليه

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن عبیداللہ بن ابو داؤد منادی نے اس کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو سعید بن ابوالاسود نے بکیر سے ان کو بشر بن سعید نے ان کو خالد بن عدی جہنی نے کہ رسول اللہ نے فرمایا جس کے پاس اس کے بھائی کی طرف سے بغیر مانگے کوئی اچھی چیز آئے اور بغیر کسی طمع کے اسے قبول کر لے یقینی بات ہے کہ وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو دیا ہے۔

خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ، ← بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرٍ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← سَعِيدٌ، ← أبو عبد الرحمن المقرىء ← محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو طاهر الفقيه و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3551

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3552

3552 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا سعيد بن عثمان نا بشر بن بكير حدثني ابن جابر حدثني عثمان بن حيان مولى أبي الدرداء قال : سمعت أم الدرداء تقول : ما بال أحدكم يقول : اللهم ارزقني و قد علم أن الله لا يمطر عليه من السماء دنانير و دراهم و إنما يرزق الله بعضكم من بعض فمن أعطي شيئا فليقبله و إن كان غنيا فليضعه في الحاجة من أخوانه و إن كان فقيرا فليستعن به على حاجة و لا يرد على الله عز و جل رزق الله الذي رزقه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو سعید بن عثمان نے ان کو بشر بن بکیر نے ان کو ابن جابر نے ان کو عثمان بن حیان مولیٰ ابو درداء نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ام درداء سے وہ فرماتی تھیں کیا حال ہےتمہارے ایک کا۔ کہتا ہے اے اللہ مجھے رزق دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر دراہم اور دینار کی آسمان سے اس پر بارش نہیں برسائے گا۔ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ بعض تمہارے کو بعض سے رزق دیتا ہے جو شخص کچھ دیا جائے اسے چاہیے کہ وہ اس کو قبول کر لے پھر اگر وہ خود غنی ہو تو وہ چیز کسی حاجت مند کو دے دے اپنے بھائیوں میں سے اور خود فقیر ہو تو اپنی ضرورت پوری کرنے میں مدد لے اس چیز کےساتھ اور نہ روکے اللہ پر اللہ کے اس رزق کو جو اس نے بندے کو رزق دیا ہے۔

أم الدرداء تقول ما بال أحدكم ← عثمان بن حيان مولى أبي الدرداء ← ابْنِ جَابِرٍ ← بِشْر بن بكير، ← سعيد بن عثمان ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3552

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3553

3553 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : أنا أبو العباس هو الأصم نا الربيع بن سليمان حدثني أيوب بن سويد حدثني ابن جابر حدثني أبو سعيد عن أبي هريرة أنه قال : ما يزال أحدكم يقول : اللهم ارزقني و قد عرف أن الله عز و جل فذكر هذا الحديث بعينه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ا ن کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو ابن جابر نے ان کو ابو سعید نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ انہوں نے کہا ہمیشہ ایک تمہارا کہتا رہتا ہے اے اللہ مجھے رزق عطا فرما حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ۔۔۔۔ پھر اس نے بقیہ مذکورہ حدیث ذکر فرمائی۔

هذا الحديث بعينه ← اللهم ارزقني و قد عرف أن الله عز و جل ← مَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبُو سَعِيدٍ ← ابْنِ جَابِرٍ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3553

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3554

3554 - أخبرنا محمد بن موسى نا أبو العباس الأصم نا أحمد بن عبد الحميد نا أبو أسامة عن أبي الأشهب عن عامر الأحول و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا الحسن بن علي بن المتوكل نا عاصم هو ابن علي نا أبو الأشهب العطاردي عن عامر بن عبد الواحد عن عائذ بن عمرو المزني قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عرض عليه شيء من هذا الرزق من غير مسألة و لا إشراف نفس فليوسع به في رزقه فإن كانت به عنه غنى فليوجهه إلى من هو أحوج إليه منه و في رواية أبي أمامة من وجه إليه شيئا من هذا الرزق في غير مسألة و لا إشراف نفس فليأخذه فليتسع به في رزقه فإن كان عنه غنيا فليدفعه إلى من هو أحوج إليه منه

ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالحمید نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو ابو الاشہب نے ان کو عامر احوال نے (ح) اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو حسن بن علی بن متوکل نے ان کو عاصم نے ان کو ابن علی نے ان کو ابو الاشہب عطاری نے ان کو عامر بن عبدالواحد نے ان کو عائذ بن عمرو مزنی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: اس رزق میں سے جس پر کوئی شے پیش کی جائے بغیر مانگے اور بغیر طمع کے اسے چاہیے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے رزق میں وسعت کر لے اگر اس کو پھر اس کی ضرورت نہ ہو تو پھر اس کو اسکی طرف بھیج دے جو اس کا زیادہ حاجت مند ہو۔ اور ابو امامہ کی ایک روایت میں ہے جس کی طرف کوئی چیز متوجہ کی جائے اس رزق میں سے بغیر مانگے اور بغیر جمع و انتظار کے اسے چاہیے کہ اس کو لے لے اور اس کے ساتھ اپنے رزق میں توسیع کر لے پھر اگر وہ اس سے غنی ہو تو اس کو ایسے شخص کی طرف دے دے جو اس کے لئے اس سے زیادہ حاجت مند ہو۔

عائذ بن عمرو المزنى. ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أبو الأشهب العطاردي ← عاصم هو ابن علي ← الحسن بن علي بن المتوكل ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← عامر الأحول و ← أَبِي الْأَشْهَبِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3554

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3555

3555 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي أنا أحمد بن عبيد أنا ابن ملحان نا ابن بكير نا الليث عن ابن الهاد عن عمرو بن أبي عمرو مولى المطلب عن المطلب بن عبد الله أن عبد الله بن عامر : بعث إلى عائشة بنفقة و كسوة فقالت لرسوله : يا بني إني لا أقبل من أحد شيئا فلما خرج قالت ردوه علي قال : فرده فقالت : إني ذكرت شيئا قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عائشة من أعطى عطاء بغير مسألة فاقبليه فإنما هو رزق ساقه الله إليك

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن ابو بکر اہوازی نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ملحان نے ان کو ابن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو ابن الہاد نے ان کو عمرو بن ابو عمر مولیٰ مطلب نے ان کو مطلب بن عبداللہ نے کہ عبداللہ بن عامر نے سیدہ عائشہ کے پاس کچھ خرچہ اور کپڑا بھیجا سیدہ نے ان کے نمائندے سے کہا اے بیٹے میں کسی سے کوئی شے قبول نہیں کرتی ہوں۔ جب وہ نکل گیا تو فرمانے لگی اس کو میرے پاس واپس بلاؤ کہتے ہیں کہ اس نے اسے واپس بلایا پھر کہنے لگیں میں نے ایک بات یاد کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کہی تھی۔ اے عائشہ جو شخص بغیر مانگے کوئی بخشش دیا جائے اسے قبول کر لے سوائے اس کے نہیں کہ وہ رزق ہے اللہ نے اس کو تیری طرف روانہ کیا ہے۔

الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← ابْنُ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3555

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3556

3556 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا محمد بن يونس نا المحبر اليربوعي نا هلال بن مالك نا يونس بن عبيد عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تصدقوا و داووا مرضاكم بالصدقة فإن الصدقة تدفع عن الأعراض و الأمراض و هي زيادة في أعمالكم و حسناتكم و هذا منكر بهذا الإسناد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو محبر یر بوعی نے ان کو ہلال بن مالک نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صدقہ کیا کرو اور اپنے بیمار کا علاج کیا کرو صدقہ کے ساتھ بے شک صدقہ دفع کرتا ہے حادثات کو اور بیماریوں کو اور تمہارے اعمال میں اور تمہاری نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے۔۔ یہ روایت اس اسناد کے ساتھ منکر ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← هلال بن مالك ← المحبر اليربوعي ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3556

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3557

3557 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر نا محمد بن يحيى بن الحسن العمي البصري ببغداد نا طالوت بن عباد نا فضال بن جبير عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حصنوا أموالكم بالزكاة و داووا مرضاكم بالصدقة و استقبلوا أمواج البلاء بالدعاء فضال بن جبير صاحب مناكير

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو محمد بن یحییٰ بن حسن عمی بصری نے بغداد میں ان کو طالوت بن عباد نے ان کو فضال بن جبیر نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا زکوٰۃ کے ساتھ اپنے مالوں کی حفاظت کر اور صدقہ کے ساتھ اپنے بیماروں کا علاج کرو اور مصائب کی موجوں کا سامنا دعا کے ساتھ کرو۔ فضال بن جبیر منکر روایات لانے میں مشہور ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← فضال بن جبير ← طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ، ← محمد بن يحيى بن الحسن العمي البصري ببغداد ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3557

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3558

3558 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا الحسن بن الفضل بن السمح نا غياث بن كلوب الكوفي نا مطرف بن سمرة بن جندب عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم حصنوا أموالكم بالزكاة و داووا مرضاكم بالصدقة و ردوا بائنة البلاء بالدعاء غياث هذا مجهول

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن فضل بن سمح نے ان کو غیاث بن کلوب کوفی نے ان کو مطرف بن سمرہ بن جندب نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : اپنے مالوں کی حفاظت کرو زکوٰۃ کے ساتھ اور اپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کرو اور مصائب کو رد کرو دعا کے ساتھ۔ غیاث راوی مجہول ہے۔

أَبِيهِ ← مطرف بن سمرة بن جندب ← غياث بن كلوب الكوفي ← الحسن بن الفضل بن السمح ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3558

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3559

3559 - أخبرنا أبو بكر القاضي و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا العباس الدوري نا أبو داود الحفري عن محمد بن السماك عن الأعمش عن إبراهيم قال : كانوا يرون أن الصدقة تدفع عن الرجل الظلوم

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر قاضی نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو ابو داؤد حضرمی نے ان کو محمد بن سماک نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ لوگ یہ نظریہ رکھتے تھے کہ بے شک صدقہ ظالم آدمی سے بھی حفاظت کرتا ہے۔

الرجل الظلوم ← كانوا يرون أن الصدقة تدفع ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← محمد بن السماك ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر القاضي و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3559

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في القرض · حديث 3560

3560 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا علي بن محمد الجرجاني بحلب نا هاشم بن القاسم نا عيسى بن يونس عن سليمان ببن بشير عن قيس بن رومي عن سليم بن أذنان عن علقمة عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أقرض ورقا مرتين كان كعدل صدقة مرة كذا روي بهذا الإسناد مرفوعا و رواه الحكم و أبو إسحاق أن سليم بن أذنان النخعي كان له على علقمة ألف درهم فقال علقمة : قال عبد الله لأن أقرض مرتين أحب إلي من أن أتصدق به مرة و قيل غير ذلك و الموقوف أصح

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو علی بن محمد جرجانی نے حلب میں ان کو ہاشم بن قاسم نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو سلیمان بن بشیر نے ان کو قیس بن رومی نے ان کوسلیم بن اذنان نے ان کوعلقمہ نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جس نے دو مرتبہ نقد رقم کا قرضہ دیا وہ ایک مرتبہ صدقہ کرنے کے برابر ہو گا۔ اسی طرح اسی اسناد کے ساتھ یہ مرفوع روایت کے طور پر مروی ہے اور اسکوحکم نے اور ابو اسحٰق نے روایت کیا ہے کہ سلیم بن اذنان نخعی کے علقمہ پر ہزار درہم قرض تھے تو ابو عبداللہ نے کہا کہ البتہ اگر میں دو مرتبہ قرض دیتا تو مجھے زیادہ پسند تھا اس بات سے کہ ان کےساتھ ایک مرتبہ صدقہ کروں اور اس کے سوا بھی کہا گیا ہے اور موقوف روایت زیادہ صحیح ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← سُلَيْمِ بْنِ أُذْنَانِ ← قَيْسِ بْنِ رُومِيٍّ، ← سليمان ببن بشير ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← هاشم بن القاسم ← علي بن محمد الجرجاني بحلب ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of the loan · Hadith 3560

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في القرض · حديث 3561

3561 - أخبرنا أبو محمد المؤملي نا أبو عثمان البصري نا الحسن بن سفيان نا المقدمي نا عمر بن علي عن سليمان بن بشير عن قيس بن رومي عن علقمة عن عبد الله بن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أقرض رجلا مسلما دراهم مرتين كان له أجر صدقتها مرة واحدة

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد مؤملی نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو حسن بن سفیان مقدمی نے ان کو عمر بن علی نے ان کو سلیمان بن بشیر نے ان کو قیس بن آدمی نے ان کو علقمہ نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان آدمی کو کچھ دراہم قرض دے دو مرتبہ اس کے لئے ایک مرتبہ صدقہ کرنے کا اجر ہو گا۔

من أقرض رجلا مسلما دراهم مرتين كان له أجر صدقتها مرة واحدة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← قَيْسِ بْنِ رُومِيٍّ، ← سليمان بن بشير ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُؤَمِّلِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of the loan · Hadith 3561

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في القرض · حديث 3562

3562 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبد الله بن أحمد نا يحيى بن معين أنا سألته و أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا أبو يعلى نا يحيى بن معين نا معتمر قال : قرأت على الفضيل بن معاذ و في رواية الأهوازي قال : قرأته على فضيل بن ميسرة عن أبي جرير أن إبراهيم حدثه أنا الأسود بن يزيد كان يستقرض من مولى النخع تاجر فإذا خرج عطائه قضاه و أنه خرج عطائه فقال له الأسود : إن شئت أخرت عنا فإنه قد كانت علينا حقوق في هذا العطاء قال له التاجر : لست فاعلا فنقده الأسود خمس مائة درهم حتى إذا قبضها التاجر قال له التاجر : دونك فخذها فقال له الأسود : قد سألتك هذا فأبيت فقال التاجر : إني سمعتك تحدثنا عن عبد الله بن مسعود أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقول : من أقرض شيئا مرتين كان له مثل أجر أحدهما لو تصدق به

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن ابو بکر ہوازی نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبداللہ بن احمد نے ان کو یحییٰ بن معین نے میں نے ان سے پوچھا تھا اور ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو ابو یعلیٰ نے ان کو یحییٰ بن معین نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھا فضیل بن معاذ پر اور اہوازی کی ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا میں نے اسے پڑھا فضیل بن میسرہ پر ابو جریر سے یہ کہ ابراہیم نے اس کو حدیث بیان کی ہے ان کو خبر دی اسود بن یزید نے وہ قرض مانگتے تھے مولیٰ نخع سے وہ تاجر تھے جب کہیں سے اس کی بخشش آتی تو وہ قرض ہو چکا دیتے تھے۔ ایک مرتبہ اس کی بخشیں نکلی تو اسود نے تاجر سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو ابھی نہ لیں اس وظیفے پر ہمارے اوپر حقوق زیادہ ہیں تو تاجر نے اسے کہا نہیں میں ابھی لوں گا لہٰذا اسود نے پانچ سو درہم نقد اس کو دے دئیے تاجر نے جب قبضے میں لے لئے تو پھر واپس اسود کو دے دئیے کہ یہ لے لیجئے تو اسود نے پوچھا۔ میں نے جب تم سے مانگے تو آپ نے انکار کر دیا (پھر آپ نے خود کیوں دے دیا؟) تاجر نے کہا کہ میں نے آپ سے سنا تھا آپ ہمیں حدیث بیان کرتے تھے عبداللہ بن مسعود سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے جو شخص ایک چیز دو مرتبہ قرض دے اس کے لئے ایسے اجر ہوتا ہے جیسےدو میں سے ایک مرتبہ صدقہ کیا ہو اس چیز کے ساتھ۔

أَبِي جَرِيرٍ، ← قرأته على فضيل بن ميسرة ← على الفضيل بن معاذ و في رواية الأهوازي ← مُعْتَمِرٌ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← سألته و ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of the loan · Hadith 3562

chevron_left Previous
1…707172…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood