شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3539
3539 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا ابن أبي ذئب حدثني سعيد بن خالد القرشي عن عطاء بن يسار و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد أنا أحمد بن عبيد الله النرسي نا يزيد بن هارون أنا ابن أبي ذئب عن سعيد بن خالد عن إسماعيل بن عبد الرحمن بن ذؤيب عن عطاء بن يسار عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج عليهم فقال : ألا أنبئكم بخير الناس منزلة ؟ قالوا : بلى يا رسول الله قال رجل ممسك بعنان فرسه في سبيل الله حتى يموت أو يقتل ألا أنبئكم بالذي يليه امرىء معتزل في شعبه يقيم الصلاة و يؤتي الزكاة و يعتزل سرور الناس ألا أنبئكم بشر الناس منزلة الذي يسأل بالله و لا يعطي لفظ حديث ابن عبدان و كذلك رواه عاصم بن علي عن ابن أبي ذئب و قال : إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي ذئب قال البخاري تابعه عثمان بن عمر و أسد بن موسى قال الشيخ أحمد : و كذلك رواه بكير بن عبد الله الأشج عن أبيه عن عطاء بن يسار
ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابن ابو ذئب نے ان کو سعید بن خالد قرشی نے ان کو عطا بن یسار نے (ح) اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے انکو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن عبیداللہ قرشی کو سعید بن خالد قرشی نے ان کو عطا بن یسار نے (ح) اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید نے ان کو احمد بن عبید اللہ قرشی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابن ابو ذئب نے ان کو سعید بن خالد نے ان کو اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذوئب نے ان کو عطاء بن یسار نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر تشریف لائے اور فرمایا کیا میں تمہیں مرتبے کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر لوگ بتاؤں؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ ۔ آپ نے فرمایا کہ وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے اللہ کی راہ میں ہو حتیٰ کہ خود مر جائے یا قتل ہو جائے۔ کیا میں تمہیں خبر دوں اس شخص کے بارے میں جومرتبے میں اس مذکور کے متصل ہے وہ شخص ہے جو اپنی وادی میں علیحدہ ہو گیا ہے نماز قائم کرتا ہے زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور لوگوں کی خوشیوں سے الگ تھلگ رہتا ہے ۔ کیا میں تمہیں خبر دوں اس کے مرتبے کے اعتبار سے جو لوگوں سے بد تر ہے وہ جس سے اللہ کے نام کے ساتھ مانگا جاتا ہے مگر وہ نہیں دیتا ۔ یہ الفاظ ابن عبدان کی حدیث کے ہیں اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے عاصم بن علی نے ابن ابی ذئب سے اور کہا ہے کہ اسماعیل بن عبدالرحمٰن ابوذئب نے کہ بخاری نے کہا ہے کہ اس کے متابع بیان کیا ہے عثمان بن عمر نے اور اسد بن موسیٰ نے ۔ شیخ احمد بیہقی کہتے ہیں کہ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے بکیر بن عبداللہ اشج نے ان کو ان کے والد نے ان کو عطا بن یسار نے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← إسماعيل بن عبد الرحمن بن ذؤيب ← سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← عطاء بن يسار و ← سعيد بن خالد القرشي ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3539
