Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3539

3539 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا ابن أبي ذئب حدثني سعيد بن خالد القرشي عن عطاء بن يسار و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد أنا أحمد بن عبيد الله النرسي نا يزيد بن هارون أنا ابن أبي ذئب عن سعيد بن خالد عن إسماعيل بن عبد الرحمن بن ذؤيب عن عطاء بن يسار عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج عليهم فقال : ألا أنبئكم بخير الناس منزلة ؟ قالوا : بلى يا رسول الله قال رجل ممسك بعنان فرسه في سبيل الله حتى يموت أو يقتل ألا أنبئكم بالذي يليه امرىء معتزل في شعبه يقيم الصلاة و يؤتي الزكاة و يعتزل سرور الناس ألا أنبئكم بشر الناس منزلة الذي يسأل بالله و لا يعطي لفظ حديث ابن عبدان و كذلك رواه عاصم بن علي عن ابن أبي ذئب و قال : إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي ذئب قال البخاري تابعه عثمان بن عمر و أسد بن موسى قال الشيخ أحمد : و كذلك رواه بكير بن عبد الله الأشج عن أبيه عن عطاء بن يسار

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابن ابو ذئب نے ان کو سعید بن خالد قرشی نے ان کو عطا بن یسار نے (ح) اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے انکو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن عبیداللہ قرشی کو سعید بن خالد قرشی نے ان کو عطا بن یسار نے (ح) اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید نے ان کو احمد بن عبید اللہ قرشی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابن ابو ذئب نے ان کو سعید بن خالد نے ان کو اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذوئب نے ان کو عطاء بن یسار نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر تشریف لائے اور فرمایا کیا میں تمہیں مرتبے کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر لوگ بتاؤں؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ ۔ آپ نے فرمایا کہ وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے اللہ کی راہ میں ہو حتیٰ کہ خود مر جائے یا قتل ہو جائے۔ کیا میں تمہیں خبر دوں اس شخص کے بارے میں جومرتبے میں اس مذکور کے متصل ہے وہ شخص ہے جو اپنی وادی میں علیحدہ ہو گیا ہے نماز قائم کرتا ہے زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور لوگوں کی خوشیوں سے الگ تھلگ رہتا ہے ۔ کیا میں تمہیں خبر دوں اس کے مرتبے کے اعتبار سے جو لوگوں سے بد تر ہے وہ جس سے اللہ کے نام کے ساتھ مانگا جاتا ہے مگر وہ نہیں دیتا ۔ یہ الفاظ ابن عبدان کی حدیث کے ہیں اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے عاصم بن علی نے ابن ابی ذئب سے اور کہا ہے کہ اسماعیل بن عبدالرحمٰن ابوذئب نے کہ بخاری نے کہا ہے کہ اس کے متابع بیان کیا ہے عثمان بن عمر نے اور اسد بن موسیٰ نے ۔ شیخ احمد بیہقی کہتے ہیں کہ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے بکیر بن عبداللہ اشج نے ان کو ان کے والد نے ان کو عطا بن یسار نے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← إسماعيل بن عبد الرحمن بن ذؤيب ← سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← عطاء بن يسار و ← سعيد بن خالد القرشي ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3539

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3540

3540 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن أبي قماش نا سعدويه عن محمد بن مسلم الطائفي عن إبراهيم بن ميسرة عن يعقوب بن عاصم عن عبد الله بن عمرو و قال : و لا أعلمه إلا رفعه قال : من سئل بالله فأعطى كتب له سبعون حسنة

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابراہیم بن میسرہ نے ان کو یعقوب بن عاصم نے ان کو عبداللہ بن عمر نے اور کہا ہے کہ میں اس کو نہیں جانتا مگر اس کا مرفوع ہونا۔ فرمایا کہ جس شخص سے اللہ کے نام کے ساتھ مانگا جائے اور وہ دے دے اس کے لئے ستر نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

له سبعون حسنة ← مَنْ سُئِلَ بِالله فَأَعْطَى، ← و لا أعلمه إلا رفعه ← عبد الله بن عمرو و ← يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← سَعْدَوَيْهِ، ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3540

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3541

3541 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي أنا أحمد بن عبيد نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا إسماعيل بن عياش عن جبرة بنت محمد بن ثابت عن أبيها عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اطلبوا الخير عند حسان الوجوه قال الشيخ أحمد : محمد بن ثابت هذا هو ابن سباع قال البخاري و قال معن : نا عبد الرحمن بن أبي بكر المليكي عن امرأته جبرة بهذا

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن ابو بکر اہوازی نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابو ربیع نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کوجبرہ بنت محمد بن ثابت نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا خیر (یعنی مال) کو طلب کر خوب صورت چہروں والوں کے پاس ۔ شیخ احمد بیہقی فرماتے ہیں کہ محمد بن ثابت یہ وہی ابن سباع ہے بخاری نے کہا ہے اور معن کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابو بکر ملیکی روایت کرتے ہیں اپنی بیوی جبرۃ سے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهَا ← جبرة بنت محمد بن ثابت ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3541

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3542

3542 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو نا عبد الصمد بن الفضل البلخي نا خالد بن عبد الرحمن المخزومي نا جبرة بنت محمد بن ثابت بن سباع عن أبيها عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اطلبوا الخير عند حسان الوجوه و رواه أيضا عبد الله بن عبد العزيز عن جبرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو احمد بکر بن محمد بن حمدان صیرنی نے مرد میں ان کو عبدالصمد بن فضل بلخی نے ان کو خالد بن عبدالرحمٰن مخزومی نے ان کو جبرہ بنت محمد بن ثابت بن سباع نے اس نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مال خوب صورت چہرے والوں کے ہاں طلب کرو۔ اس کو بھی روایت کیا ہے عبداللہ بن عبدالعزیز جبرہ نے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهَا ← جبرة بنت محمد بن ثابت بن سباع ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3542

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3543

3543 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي بمرو نا محمد بن جابر الفقيه نا أبو أنس كثير بن محمد التميمي نا خلف بن خالد البصري أبو محمد نا سليم و هو ابن مسلم الخشاب عن ابن جريح عن ابن أبي ملكية عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أتاه الله وجها حسنا و اسما حسنا و جعله في موضع غير شائن له فهو من صفوة الله من خلقه قال ابن عباس : قال الشاعر : ( أنت شرط النبي إذ قال يوما اطلبوا الخير من حسان الوجوه ) في هذا الإسناد ضعف

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محبوبی نے مرو میں ان کو محمد بن جابر فقیہ نے ان کو ابو یونس کثیر بن محمد تمیمی نے ان کو خلف بن خالد بصری نے ان کو ابو محمد نے اس کو سلیم نے وہ ابن مسلم ہیں یعنی خشاب اس نے ابن جریج سے اس نے ابن ابو ملیکہ سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ نے خوبصورت چہرہ دیا ہو اور خوبصورت نام دیا ہو اور اس کو ایسے مقام پر رکھا ہو جو ا س کے لئے غیر مناسب ہو وہ اللہ کی مخلوق میں سے چنیدہ اور برگزیدہ ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کسی شاعر نے کہا تھا ۔" انت شرط النبی اذقال یوما ، اطلبو الخیر من حسان الوجوہ " تم شریف زادے اور سردار ہو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا تھا کہ مال کو خوب صورت چہروں والوں سے طلب کرو ۔ مگر اس اسناد میں ضعف ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابن أبي ملكية ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← سليم و هو ابن مسلم الخشاب ← خلف بن خالد البصري أبو محمد ← أبو أنس كثير بن محمد التميمي ← محمد بن جابر الفقيه ← أبو العباس المحبوبي بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3543

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3544

3544 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا الفضل بن عبد الله بن سليمان نا يحيى بن حبيب أبو عقيل نا خالد بن مخلد العبدي نا سليم بن مسلم المكي : فذكره بإسناده نحوه و قال ثم أنشأ ابن عباس يقول : و قال عند شرط النبي : الصعلوك الذي لم يقدم شيئا

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو فضل بن عبداللہ بن سلیمان نے انکو یحییٰ بن حبیب ابو عقیل نے ان کو خالد بن مخلد عبدی نے ان کو سلیم بن مسلم مکی نے پھر اس نے اسی کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل اور کہا ہے کہ اس کے بعد ابن عباس نے شعر پڑھا کہہ رہے تھے کہ شاعر نے کہا ہے عند شرط النبی۔ صعلوک وہ ہے جو کوئی چیز آگے نہ بھیج سکے۔ (درویش فقیر)۔

عند شرط النبي الصعلوك الذي لم يقدم شيئا ← و، ← ثم أنشأ ابن عباس ← سليم بن مسلم المكي فذكره بإسناده نحوه و ← خالد بن مخلد العبدي ← يحيى بن حبيب أبو عقيل ← الفضل بن عبد الله بن سليمان ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3544

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3545

3545 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك نا يحيى بن بكير نا الليث عن يونس عن ابن شهاب عن سالم بن عبد الله قال : قال عبد الله : سمعت عمر بن الخطاب يقول : كان النبي صلى الله عليه و سلم يعطيني العطاء فأقول أعطه أفقر مني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم خذه و ما جاءك من هذا المال و أنت غير مشرف و لا سائله فخذه و ما لا فلا تتبعه نفسك رواه البخاري عن يحيى بن بكير و أخرجه مسلم من وجه آخر عن يونس

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سالم بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا میں نے عمر بن خطاب سے سنا کہ وہ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کچھ عطا اور بخشش دیتے تھے میں نے کہا آپ یہ عطا مجھ سے زیادہ ضرورت مند کو دےدیجئے تو رسول اللہ نے فرمایا آپ اس کو لے لیجئے یہ جو مال تیرے پاس آیا ہے یہ ایسے نہیں آیا کہ آپ اس کے مستحق نہیں ہیں اور نہ ہی آپ اس کے سائل ہیں لہٰذا اسے لے لیجئے اور جو نہ ملے اپنے آپ کو اس کے پیچھے مت لگائیے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے یحییٰ بن بکیر سے اور اس کو نقل کیا ہے مسلم نے دوسرے طریق سے یونس سے۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3545

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3546

3546 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا أحمد بن الوليد الفحام نا أبو أحمد الزبيري نا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال : سمعت عمر بن الخطاب يقول : أرسل إلي رسول الله صلى الله عليه و سلم بمال فرددته فلما جئته قال : ما حملك على أن ترد ما أرسلت به إليك ؟ قال : قلت يا رسول الله أليس قلت لي إن خيرا لك أن لا تأخذ من الناس شيئا قال : إنما ذلك أن تسأل الناس و ما جاءك من غير مسألة فإنما هو رزق رزقكه الله تعالى

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو احمد بن الولید فحام نے ان کو ابو احمد زبیری نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب سےسنا وہ کہتے تھے رسول اللہ نے میرے پاس کچھ مال بھیجا تو میں نے اسے واپس کر دیا جب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو آپ نے پوچھا کہ میں نے جو مال تیرے پاس بھیجا تھا تم نے اس کو واپس کیوں کر دیا؟وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ نے مجھے فرمایا نہیں تھا بے شک تیرے لئے بہتر ہے کہ تم لوگوں سے کوئی شے نہ لو۔ آپ نے فرمایا وہ بات لوگوں سے سوال کرنے کی اور مانگنے کی تھی۔ بہر حال جو چیز تیرے پاس بن مانگے آ جائے سوائے اس کے نہیں کہ وہ ایک رزق ہے جو اللہ نے تجھے اس کا رزق دیا ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3546

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3547

3547 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان أنا أحمد بن يوسف السلمي نا إسماعيل بن أبي أويس حدثني سليمان بن بلال عن جعفر بن محمد عن نافع : أن المختار بن عبيد الثقفي كان يرسل إلى عبد الله بن عمر بالمال فيقبله و يقول : لا أسأل أحدا شيئا و لا أرد ما رزقني

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے انکو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو نافع نے کہ مختار بن عبید ثقفی حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس مال بھیجتے تھے اور وہ اس کو قبول کر لیتے تھے اور کہتے تھے میں کسی سے بھی کچھ نہیں مانگتا اور مجھے جو رزق دیتا ہے میں اس کو واپس نہیں کرتا۔

جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3547

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3548

3548 - أخبرنا عبد الله بن يوسف أنا دعلج بن أحمد السجري ببغداد أنا محمد بن غالب نا أبو حذيفة نا سفيان عن محمد بن عجلان عن القعقاع بن حكيم قال : كتب عمر بن عبد العزيز إلى ابن عمر سلني فكتب إليه ابن عمر فقال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن اليد العليا خير من اليد السفلى و لست بسائلك شيئا و لا أرد رزقا رزقني الله منك و السلام

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو دعلج بن احمد سجزی نے بغداد میں ان کو محمد بن غالب نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو قعقاع بن حکیم نے وہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے خط لکھا حضرت عبداللہ بن عمر کی طرف کہ آپ مجھ سے مانگئے (اپنی کوئی ضرورت اگر ہو) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جواب لکھا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا تھا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہے ۔ میں آپ سے کچھ نہیں مانگوں گا اور نہ ہی اس رزق کو واپس کروں گا اللہ تعالیٰ جو مجھے تیری طرف سے رزق دے گا۔ والسلام۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إِنِّي ← إِلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ ← عمر بن عبد العزيز إلى ابن عمر سلني ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← دعلج بن أحمد السجري ببغداد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3548

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3549

3549 - أخبرنا عبد الخالق بن علي المؤذن أنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان المروزي نا موسى بن سهل الوشاء نا إسحاق بن يوسف نا سفيان الثوري : فذكره غير أنه قال : بعث عبد العزيز بن مروان إلى عبد الله بن عمر أن أرفع إلي حاجتك فكتب إليه ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فذكره قال : و لست أسألك شيئا و لا أرد رزقا رزقني الله منك و هذا أصح

ہمیں خبر دی عبدالخالق بن علی مؤذن نے انکو ابو احمد بکر بن محمد بن حمدان مروزی نے انکو موسیٰ بن سہل الوشاء نے ان کو اسحٰق بن یوسف نے ان کو سفیان ثوری نے پھر انہوں نے اسی کو ذکر کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا ہے عبدالعزیز بن مروزی نے پیغام بھیجا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کہ آپ اپنی ضرورت میرے پاس لکھ بھیجئے۔ حضرت ابن عمر نے اس کی طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ پھر اسی مذکور کو ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا اور نہ ہی رزق کو ردکروں گا جو اللہ مجھے تیری طرف سے رزق دے گا۔ یہ زیادہ صحیح ہے۔

سفيان الثوري فذكره غير ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← موسى بن سهل الوشاء ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3549

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن أتاه الله مالا من غير مسألة · حديث 3550

3550 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قال : نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا إسحاق بن إبراهيم أخو إسماعيل بن علية عن حفص بن عمر بن ثابت عن أبي رافع قال : قال أبو هريرة : نحن لا نسأل أحدا شيئا فمن أعطانا شيئا قبلناه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظنے اور محمد بن موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ ابو العباس اصم نے کہا ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم اسماعیل بن علیہ کے بھائی نے ان کو حفص بن عمر بن ثابت نے ان کو ابو رافع نے وہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ نے کہا ہم کسی سے کسی چیز کاسوال نہیں کرتے مگر بن مانگے جو ہمیں کوئی چیز دیتا ہے اس کو قبول کر لیتے ہیں۔

أبو هريرة نحن لا نسأل أحدا شيئا فمن أعطانا شيئا قبلناه ← أَبِي رَافِعٍ ← حفص بن عمر بن ثابت ← إسحاق بن إبراهيم أخو إسماعيل بن علية ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine who God has given money without issue · Hadith 3550

chevron_left Previous
1…697071…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood