Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2781

2781 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن المصري ثنا روح بن الفرج ثنا سعيد بن عفير حدثني يحيى بن أيوب عن علي بن غالب الفهمي عن واهب بن عبد الله المغافري عن عبد الله بن عمرو بن العاص أنه قال : إن الأرواح يعرج بها في منامها و تؤمر بالسجود عند العرش فمن كان طاهرا سجد عند العرش و من كان ليس بطاهر سجد بعيدا من العرش هكذا جاء موقوفا و تابعه ابن لهيعة عن واهب

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن مصری نے ان کو روح بن فرج نے ان کو سعید بن عفیر نے ان کو یحیٰ بن ایوب نے ان کو علی بن غالب فہمی نے ان کو واھب بن عبداللہ مغافری نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے انہوں نے فرمایا کہ انسان کی نیند کیا حالت میں ارواح کو لے جایا جاتا ہے اور عرش کے پاس سجدہ کرنے کو کہا جاتا ہے جو شخص پاک ہو تا ہے اس کی روح عرش کے نزدیک سجدہ کرتی ہے اور جو پاک نہیں ہوتا وہ عرش سے دور سجدہ کرتی ہے یہ روایت اس طرح موقوف آئی ہے اور ابن لہیمہ نے واھب سے اس کی طرح روایت بیان کی ہے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← واهب بن عبد الله المغافري ← علي بن غالب الفهمي ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2781

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2782

2782 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا هارون بن سليمان ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور و الأعمش عن سالم عن يزيد السكسكي قال : دخلت على رجل من أهل الكتاب فقال له البستي فقال أن الله عز و جل أوحى إلى موسى عليه السلام : إذا أصابتك مصيبة و أنت على غير وضوء فلا تلومن إلا نفسك ثم ذكر الصدقة فقال يدفع بها سبعين بابا من السوء قال : قلت : و من النار قال : و من النار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید بن ابو عمرہ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہےا بو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ہارون بن سلیمان نے ان کو عبدالرحمٰن بن مھدی نے ان کو سفیان نے ان کو منصور اور اعمش نے سالم سے اس نے یزید سکسکی سے ا نہوں نے کہا کہ میں ایک آدمی کے پاس گیا جو کتاب اصل میں سے تھا۔ بستی نے اس سے کہا کہ اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی کہ جب تجھے کوئی مصیبت پہنچے اور تم اس وقت وضو سے ہو تو تم اپنے آپ کو ہی ملامت کرنا اس کے بعد صدقہ کا ذکر کیا : فرمایا کہ اس کے ذریعے برائی کے ستر دروازے دفع ہوتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آگ سے فرمایا کہ آگ سے بھی۔ (یعنی برائی خواہ آگ ہی کیوں نہ ہو)۔

له البستي ← دخلت على رجل من أهل الكتاب ← يزيد السكسكي ← سَالِمٍ ← منصور و الأعمش ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2782

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2783

2783 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو عمرو بن مطر أنا محمد بن يحيى بن سليمان المروزي ثنا بشر بن الوليد ثنا كثير بن عبد الله أبو هاشم الباجي قال : سمعت أنسا يقول : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا بني إن استطعت أن تكون أبدا على وضوء فافعل فإن ملك الموت إذا قبض روح العبد و هو على وضوء كتب له شهادة

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمر بن مطر نے ان کو محمد بن یحی بن سلیمان مروزی نے ان کو بشر بن ولید نے ان کو کثیر بن عبداللہ ھاشم باجی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا انس سے وہ فرماتے تھے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بیٹے اگر استطاعت رکھتے ہیں کہ آپ ہمیشہ با وضو رہیں تو ایسا ضرور کیجیے کیونکہ ملک الموت جب بندے کی روح قبض کرتا ہے اور وہ باوضو ہوتا ہے تو اس کے حق میں شہادت لکھ دیتا ہے۔

أَنَسًا ← كثير بن عبد الله أبو هاشم الباجي ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2783

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2784

2784 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو نعيم و قبيصة قالا : ثنا سفيان عن إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم بن جابر : أن الحسين بن علي رضي الله عنهم وضأ الأشعث عند موته وضوءا

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو نعیم اور قبیصہ نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو سفیان نے اسماعیل بن ابو خالد سے ان کو حکیم بن جابر نے کہ حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت اشعث کو ان کی موت کے وقت وضو کرایا تھا۔ (اللہ اکبر یہ لوگ وضو کی عظمت کو کس قدر سمجھے تھے)۔

حكيم بن جابر أن الحسين بن علي وضأ الأشعث عند موته وضوءا ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← أبو نعيم و قبيصة ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2784

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2785

2785 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا المعلى ثنا عبد الواحد ثنا قدامة بن عبد الرحمن قال : أخبرني الضحاك بن أبي مزاحم قال : قال ابن عباس : من ذكر الله و هو طاهر فالواحد عشرة و من ذكره و هو غير طاهر فواحدة بواحدة

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو معلیٰ نے ان کو عبدالواحد نے ان کو قدامہ بن عبدالرحمٰن نے کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ضحاک بن ابو مزاحم نے وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا جو شخص اللہ کا ذکر کرے اور وہ با وضو ہو تو ایک کے بدلے دس ہوں گے اور جو ذکر کرے مگر بے وضو ہو تو ایک کی جگہ ایک ہی ذکر رہے گا۔

ابن عباس من ← الضحاك بن أبي مزاحم ← قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← المعلى ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2785

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2786

2786 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة أنا عاصم بن بهدلة عن سواء الخزاعي عن حفصة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا أوى إلى فراشه اضطجع على يده اليمنى ثم يقول : رب قني عذابك يوم تبعث عبادك ثلاث مرت و كان يجعل يمينه لأكله و شربه و وضوئه و ثيابه و يجعل شماله لما سوى ذلك و كان يصوم من الشهر ثلاثة أيام الإثنين و الخميس و الإثنين من الجمعة الأخرى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صغانی نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عاصم بن بہدلہ نے ان کو سواء خزاعی نے ان کو حفصہ زوجۃ الرسول نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر آرام کرنے کے لیے آتے تو سیدھے ہاتھ پر لیٹتے تھے پھر وہ یہ کہتے تھے " رب قنی عذابک یوم تبعث عباد " اے میرے رب مجھے اپنے عذاب سے بچانا جس دن رب اپنے بندوں کو اٹھائیں گے تین بار پڑھتے تھے اور اپنا سیدھا ہاتھ آپ اپنے کھانے اور پینے کے لیے اور وضو کے لیے اور کپڑوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اپنا بایاں ہاتھ ان کا موں کے سوا کاموں کے لیے اور مہینہ میں تین روزے رکھتے تھے پیر اور جمعرات اور پھر دوسرے جمعہ سے ۔

حفصة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2786

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2787

2787 - و أخبرنا به في موضع آخر فقال : لأكله و شربه و ثيابه و أخذه و عطائه

ہمیں خبر دی ہے اس کی دوسرے مقام پر اور فرمایا (کہ آپ دایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے) اپنے کھانے ، پینے ، کپڑے پہننے کے لیے اور کوئی چیز لینے کے لیے اور دینے کے لیے۔

به في موضع آخر ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2787

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2788

2788 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا يعقوب بن إبراهيم المخرمي ثنا قتيبة بن سعيد بن جميل البلخي ثنا ابن لهيعة عن حيي بن عبد الرحمن عن أبي عبد الرحمن الحبلى عن عبد الله بن عمرو : أن النبي صلى الله عليه و سلم مر بسعد و هو يتوضأ ما هذا السرف يا سعد قال : و في الوضوء إسراف قال : نعم و إن كنت على نهر جار

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو یعقوب بن ابراہیم مخرمی نے ان کو قتیبہ بن سعید بن جمیل بلخی نے ان کو ابن لھیعہ نے ان کو حیی بن عبداللہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن حبلی نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سعد کے پاس سے گزرے وہ وضو کررہے تھے آپ نے فرمایا یہ کیا اسراف ہے اے سعد انہوں نے عرض کی کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے آپ نے فرمایا کہ بالکل خواہ تم جار ی نہر پر ہو۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حيي بن عبد الرحمن ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← قتيبة بن سعيد بن جميل البلخي ← يعقوب بن إبراهيم المخرمي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2788

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2789

2789 - و قد ذكر الحليمي رضي الله عنه : في كتاب الطهارة و الصلاة و غيرهما من كيفيتها و سننها و آدابها ما لا بد من معرفته

اور تحقیق شیخ حلیمی نے ذکر کیا ہے کہ کتاب الطہارۃ اور کتا ب الصلوٰۃ وغیرہ میں وضو کی کیفیت اس کی سنتیں اور اس کے مستحبات جن کی معرفت ضروری ہے۔

و قد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2789

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2790

2790 - و قد ذكرنا : جميع ذلك في كتاب السنن و المعرفة من أراد الوقوف عليه رجع إليهما إن شاء الله تعالى

ہم نے وہ سارے جمع کر دئیے ہیں کتا ب السنن و المعرفہ میں جو شخص ان پر واقفیت حاصل کرنا چاہے گا ان کی طرف رجوع کرے گا انشاء اللہ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2790

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2791

2791 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا محرز بن عون ثنا حسين بن إبراهيم ثنا عبد العزيز بن أبي رواد عن نافع عن ابن عمر قال : قيل يا رسول الله الوضوء من خدخد أحب إليك أم من المطاهر قال : لا بل من المطاهر أن دين الله الحنيفية السمحة قال : و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يبعث إلى المطاهر فيؤتى بالماء فيشربه أو قال فيشرب يرجوا بركة أيدي المسلمين

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن یحی حلوانی نے ان کو محرز بن عون نے ان کو حسین بن ابراہیم نے ان کو عبدالعزیز بن ابو داود نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہا گیا یا رسول اللہ کیا وضو (خدخد سے) نالہ نہر تالاب وغیرہ سے آپ نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے یا (مطاہر سے) لوٹا کوزہ وغیرہ کے برتن سے آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ مطاہر سے یعنی وضو کے برتن سے بےشک اللہ کا دین توحید ہے جس میں تنگی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مطاہر کی طرف بھیجتے تھے برتن میں پانی لایا جاتا تھا۔ آپ اسے پیتے تھے۔ یا یوں کہا کہ پیتے تھے وضو کے برتنوں سے اس لیے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت کی امید کرتے تھے۔

قِيلَ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← حسين بن إبراهيم ← مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ، ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2791

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2792

2792 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو ثنا سعيد بن مسعود ثنا عبيد الله بن موسى ثنا إسرائيل ثنا سماك بن حرب عن عكرمة عن ابن عباس قال : لما وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الكعبة قالوا : يا رسول الله فكيف بالذين ماتوا وهو يصلون إلى بيت المقدس فأنزل الله عز و جل و ما كان الله ليضيع إيمانكم إلى آخر الآية قال عبيد الله بن موسى هذا الحديث يخبرك أن الصلاة من الإيمان قال البيهقي رضي الله عنه قد روينا معناه من حديث البراء بن عازب من ذلك الوجه أخرجه البخاري في الصحيح

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے مقام مرو میں ان کو سعید بن مسعود نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنا چہرہ پوری طرح کعبہ کی طرف متوجہ کر لیا تو لوگوں نے سوال کیا یا رسول اللہ ان لوگوں کا کیا بنے گا جو مر چکے ہیں حالانکہ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ " وما کان اللہ لیضیع ایمانکم"۔ الخ اللہ تعالیٰ ایسے نہیں ہیں کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کر دیں۔ سوال چونکہ نما ز سے متعلق تھا اس لیے مطلب یہی ہو گا کہ ایمان بمعنی نماز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری نمازوں کو ضائع نہیں کیا۔ (مترجم) عبیداللہ بن موسیٰ نے کہا کہ یہ حدیث تمہیں خبر دے رہی ہے کہ صلوٰۃ ایمان میں سے ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ہم نے اسی وجہ سے براء بن عازب والی حدیث سے یہی مفہوم روایت کیا ہے اسے بخاری نے نقل کیا ہے۔

لما وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الكعبة ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2792

chevron_left Previous
1…678…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood