Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3526

3526 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا العباس الدوري نا ثابت بن محمد العابد نا الحارث بن النعمان عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سأل الناس في غير فاقة نزلت به أو عيال لا يطيقهم جاء يوم القيامة بوجه ليس عليه لحم و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من فتح على نفسه باب مسألة من غير فاقة نزلت به أو عيال لا يطيقهم فتح الله عليه باب فاقة من حيث لا يحتسب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو ثابت بن محمد عابد نے ان کو حارث بن نعمان نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں سے مانگے بغیر فاقہ کی حالت کے اس پر فاقہ نازل ہو جاتا ہے یا ایسی عیالداری کہ جس کی اس کو طاقت نہیں ہوتی اور قیامت کے دن ایسا چہرہ لے کر آئے گا جس کے اوپر گوشت نہیں ہو گا۔ اور رسول اللہ نے فرمایا جو شخص اپنے آپ پر بغیر فاقہ کی حالت کے مانگنے کا دروازہ کھول دے اس پر فاقہ اتر پڑتاہے یا ایسی عیالداری جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا اور اللہ تعالیٰ اس پر فاقہ کا دروازہ ایسی جگہ سے کھول دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ ← ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3526

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3527

3527 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسماعيل القاضي نا حجاج بن منهال نا عبد العزيز بن مسلم عن سليمان الأعمش عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : استغنوا عن الناس و لو بشوص سواك قال القاضي : هكذا رواه عبد العزيز بن مسلم و قد خالفه غير واحد رواه الأعمش عن الحكم عن ابن أبي ليلى قال الشيخ أحمد : كذا وجدته عن ابن أبي ليلى و الحديث عندنا عن الأعمش و غيره عن الحكم عن ميمون بن أبي شبيب عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید اسماعیل قاضی نے ان کو حجاج بن منہال نے ان کو عبدالعزیز بن مسلم نے ان کو سلیمان اعمش نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ لوگوں سے مستغنی ہو جاؤ اگرچہ مسواک کے چبانے کے ساتھ ہو۔ قاضی نے کہا کہ اسی طرح روایت کیا ہے اس کو عبدالعزیز بن مسلم نے اور تحقیق مخالفت کی ہے اس کی متعدد نے اور روایت کیا ہے اس کو اعمش نے حکم سے ان کو ابن ابو لیلیٰ نے۔ شیخ احمد نے کہا اسی طرح پایا ہے اس نے اس کو ابن ابی لیلیٰ سے اور ہمارے نزدیک یہ حدیث اعمش وغیرہ سے حکم سے اور میمون بن شبیب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بطور مرسل روایت کے ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3527

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3528

3528 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر نا وهب بن حرير نا أبي قال : سمعت الأعمش و منصور بن زاذان يحدثان عن الحكم بن عيينة عن ميمون بن أبي شبيب قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فنزل للصلاة فلما توجه إلى الصلاة رجع إلى راحلته ليعقلها فقال الناس : نكفيك يا رسول الله فأبى و قال : ليستغن أحدكم عن الناس بقضيب سواك قال : فعقلها

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابوالازہر نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اعمش اور منصور بن زاذان سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ حکم بن عیینہ سے اس نے میمون بن ابی شبیب سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے لہٰذا نماز پڑھنے کے لئےسواری سے نیچے اترے جبب نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو واپس اپنی سواری کی طرف چلے گئے۔ اس کے پیروں میں رسی ڈالنے کے لئے۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم آپ کو کافی ہیں مگر آپ نے انکار کر دیا اور فرمایا چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک لوگوں سے مستغنی ہو جائے مسواک کی ڈنڈی کے ساتھ ابو شبیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کے پیروں میں خود رسی ڈالی۔

مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← الْحَكَمِ بْنِ عُيَيْنَةَ، ← الأعمش و منصور بن زاذان يحدثان ← أَبِي ← وهب بن حرير ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3528

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3529

3529 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا عمر بن قيس عن عاصم بن عبيد الله عن عبد الله بن عامر بن ربيعة عن أبيه قال : كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم في الطواف فانقطعت شعسه فقلت : يا رسول الله ناولني أصلحه فقال هذا اثرة و لا أحب الأثرة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عمر بن قیس نے ان کو عاصم بن عبید اللہ نے ان کو عبداللہ بن ربیعہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں طواف کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا دوران طواف آپ کا تسمہ ٹوٹ گیا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دے دیں میں اس کو درست کر دوں گا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اثرۃ ہے (یعنی اپنے آپ کو دوسرے پر ترجیح دینا یا اچھی چیز دوسروں کے سوا اپنے لئے منتخب کرنا) اور میں آثرت کو پسند نہیں کرتا۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3529

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3530

3530 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا أبو خراسان محمد بن بكير نا عمر بن علي المقدمي قال : سمعت عمر مولى آل منظور قال : سمعت عاصم بن عبيد الله : فذكره بإسناده و معناه و عمر مولى آل منظور هو عمر بن قيس

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو خراسانی محمد بن بکیر نے ان کو عمر بن علی مقدمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمر مولیٰ ال منظور سے اس نے کہا کہ میں نے سنا عاصم بن عبیداللہ سے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ اور اس کے مفہوم کے ساتھ اور عمر مولیٰ ال منظور وہی عمر بن قیس ہے۔

عمر مولى آل منظور ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ← أبو خراسان محمد بن بكير ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3530

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3531

3531 - أخبرنا أبو الحسن فهر المصري بمكة أنا أبو طاهر محمد بن أحمد نا موسى بن هارون نا أحمد بن عيسى المصري نا سفيان بن عيينة عن أيوب بن موسى قال : المسألة للمضطر ألا ترى أن موسى عليه السلام و صاحبه استطعما

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن مصری نے مکہ میں ان کو ابو طاہر محمد بن احمد انکو موسیٰ بن ہارون نے ان کو احمد بن عیسیٰ مصری نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو ایوب بن موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ سوال کرنا (مانگنا) مجبور اور پریشانی کے لئے جائز ہے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے اور ان کے ساتھی نے دوران سفر کھانا مانگا تھا۔

المسألة للمضطر ألا ترى أن موسى و صاحبه استطعما ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أبو طاهر محمد بن أحمد ← أبو الحسن فهر المصري بمكة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3531

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3532

3532 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أحمد بن محمد الفراء يقول : سمعت أبا بكر بن طاهر يقول : من حكم الفقير أن لا يكون له رغبة فإن كان و لا بد فلا تجاوز رغبته كفايته

میں نے سنا ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن محمد فراء سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو بکر بن صابر وے وہ کہتے ہیں کہ فقیر کے حکم میں سے ہے کہ اس کو رغبت نہ ہو اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو پھر اس کی رغبت اس کی ضرورت اور کفایت سے آگے نہیں پڑھنی چاہیئے۔

أَبَا بَكْرِ بْنَ طَاهِرٍ، ← أحمد بن محمد الفراء ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3532

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3533

3533 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف قال : سمعت المظفر بن سهل الخليلي بمكة يقول سمعت محمد بن نصر الصائغ يقول سمعت بشر بن الحارث يقول : الفقراء ثلاثة فقير لا يسأل الناس و إن أعطي لم يأخذ فذاك مع الروحانيين و فقير لا يسأل فإذا أعطي أخذ فذاك في رياض القدس و فقير يسأل كفارته صدقة في سؤاله

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مظفر بن سہل خلیلی سے مکہ میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن نصر صائغ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشر بن حارث سے وہ کہتے ہیں کہ فقراء تین قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا اور اگر اس کو کچھ دیا جائے تو وہ اس کو بھی نہیں لیتا یہ فقیر فرشتوں کے ساتھ ہو گا۔ دوسرا وہ فقیر ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا اگر اسے کچھ دیا جائے تو لے لیتا ہے۔ یہ ریاض القدس میں ہوگا ۔ تیسرا وہ فقیر ہے جو سوال کرے اس کو کفارہ صدقہ کرنا ہے اس کے سوال میں۔

بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ ← المظفر بن سهل الخليلي بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3533

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3534

3534 - أنشدنا أبو القاسم بن حبيب المفسر أنشدنا أبو عبد الله الصفار أنشدنا ابن أبي الدنيا قال : أنشدني الحسين بن عبد الرحمن الشافعي : ـ ( أقسم بالله لرضخ النوى و شرب ماء القليب المالحة ) ( أعز للإنسان من حرصه و من سؤال الأوجه الكالحة )

ابو القاسم بن حبیب مفسر نے ہمیں شعر سنائے تھے۔ ان کو عبداللہ صفار نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو شعر سنائے تھے حسین بن عبدالرحمٰن شافعی نے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کھجور کی گٹھلی کو کوٹ کر کھا لینا اور کھائی کا نمکین پانی پی (کر گزارہ کر لینا) انسان کے لئے زیادہ عزت کا باعث ہے اس کے حرص کرنے سے اور سڑا ہوا منہ بنانے والوں کے آگے سوال کرنے سے۔ "اقسم باللہ الرضخ النوی ، وشرب ماء القلیب المالحۃ، اعز للانسان من حرصہ ،ومن سوال الاوجہ الکالحۃ"

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3534

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3535

3535 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن المحمودي نا محمد بن علي الحافظ نا أبو موسى محمد بن المثنى نا عبد الله بن بكر بن حبيب السهمي حدثني بعض أصحابنا رفعه إلى مطرف بن عبد الله بن الشخير أنه قال لبعض أصحابه : إذا كانت لك حاجة فلا تكلمني فيها و لكن اكتبها في رقعة ثم ارفعها إلي فإني أكره أن أرى في وجهك ذل السؤال قال عبد الله بن بكر قال بعض الشعراء ( لا تحسبن الموت موت البلى فإنما الموت سؤال الرجال ) ( كلاهما موت و لكن ذا أشد من ذاك لذل السؤال ) للقائل : ( من عف خف عن الصديق لقاءه و أخ الحوائج وجهه مملول )

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن محمودی نے ان کو محمد بن علی حافظ ن ے ان کو ابو موسیٰ محمد بن مثنیٰ نے ان کو عبداللہ بن بکر بن حبیب سہمی نے ان کو ہمارے بعض اصحاب نے اس نے مرفوع کیا اس کو مطرف بن عبداللہ شخیر کی طرف کہ انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے کہا کہ جب تمہیں کوئی حاجت درپیش ہوا کرے تو اس بارے میں مجھ سے بات نہ کیا کریں بلکہ اسے رقعہ میں لکھ کر میرے پاس بھیج دیا کریں میں پسند نہیں کرتا کہ میں آپ کے چہرے پر سوال کی ذلت دیکھوں عبداللہ بن بکر نے کہا کہ بعض شعراء نےکہا ہے: '' لا تحسبن الموت موت البلی ، فانما الموت سوال الرجال، کلا ھما موت ولکن ذاشد، من ذاک لذل السوال " نہ گمان کر موت کو صرف مصیبت کی موت کی، حقیقت یہ ہے کہ لوگوں سے مانگنا بھی موت ہے، پر دونوں موت ہیں مگر یہ زیادہ سخت ہے اس سے سوال کرنے کے ذلت کی وجہ سے۔ کسی نے یہ بھی کہا ہے:" من عف خف عن الصدیق لقاءہ ، واخ الحوائج وجھہ مملول " جس نے سوال سے اجتناب کیا دوست سے اس کی ملاقات ہلکی پھلکی رہتی ہے اور ضرورت مند کا چہرہ بجھا سا ہوتا ہے۔

بعض أصحابنا رفعه إلى مطرف بن عبد الله بن الشخير ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرِ بْنِ حَبِيبٍ السَّهْمِيُّ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ← أَبُو الْحَسَنِ الْمَحْمُودِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3535

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3537

3537 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا محمد بن عبد الله بن عمار الموصلي نا يعقوب بن إسحاق الحضرمي عن سليمان بن معاذ عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يسأل بوجه الله شيء إلا الجنة قال أحمد : فينبغي للسائل أن يعظم أسماء الله تعالى فلا يسأل بشيء منها من عرض الدنيا شيئا و ينبغي للمسؤل إذا سئل بالله تعالى أن لا يمنع ما استطاع فقد :

ہمیں خبر دی ہے ابو علی بن شاذانی نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے انکو محمد بن عبداللہ بن عمار موصلی نے ان کو یعقوب بن اسحٰق حضرمی نے ان کو سلیمان بن معاذ نے ان کو محمد بن منکدر نے جابر بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ کے واسطہ کے ذریعہ جنت کے سوا کوئی چیز نہ مانگی جائے (یعنی لوجہ اللہ کے ساتھ سوال کرنا) یا اللہ کی ذات کے ذریعے جنت کے سوا کچھ نہ مانگا جائے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ سائل کو چاہیے کہ وہ اسماء الٰہی کی تعظیم کرے ان میں سے کسی اسم کے ساتھ دنیوی اسباب میں سے کوئی چیز نہ مانگے۔ مسئول کو چاہیے (یعنی جس سے مانگا ہے) کہ وہ جس قدر استطاعت ہو منع نہ کرے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ ← يعقوب بن إسحاق الحضرمي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3537

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3538

3538 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا الأحوص بن جواب نا عمار بن رزيق عن الأعمش من مجاهد عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من سألكم بالله فاعطوه و من استعاذكم بالله فأعيذوه و من دعاكم فأجيبوه و من أهدى إليكم فكافئوه فإن لم تجدوا ما تكافئونه فادعوا له حتى ترون أن قد كافئتموه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو احوص بن جواب نے ان کو عمار بن رزاق نے ان کو اعمش نے مجاہد سے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص تم سے اللہ کے نام سے مانگے اس کو دے دو اور جو تم سے اللہ کے نام کے ساتھ پناہ مانگے اس کو پناہ دے دو اور تمہیں جو بلائے اس کی بات مانو جو شخص تمہاری طرف ہدیہ بھیجے اس کو اس کا ہدیہ ضرور دو اگر تم اس کا بدلہ دینے کے لئے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں دعا کرو یہاں تک کہ تم دیکھو تم نے اس کا بدلہ اس کو دے دیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← الأعمش من مجاهد ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3538

chevron_left Previous
1…686970…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood