Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3514

3514 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أبو بكر محمد بن محمويه العسكري نا جعفر بن محمد القلانسي نا آدم عن شعبة نا عبد الرحمن بن عدي الكندي قال : سمعت أبا أمامة الباهلي يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في رجل مات و ترك دينارا أو دينارين قال : كية أو كيتان

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابو بکر محمد بن محمویہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد قلانسی نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو عبید الرحمٰن بن عدی کندی نے انہوں نے سنا ابو امامہ باہلی سے کہ رسول اللہ نے فرمایا اس آدمی کی بابت جو مر گیا اور ایک دینار یا دو دینار چھوڑ ے ہیں۔ وہ ایک داغ ہے یا دو داغ ہیں۔

أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أبو بكر محمد بن محمويه العسكري، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3514

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3515

3515 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسماعيل بن إسحاق نا يحيى بن عبد الحميد نا ابن فضيل عن أبيه عن أبي حازم عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه أتي برجل يصلي عليه قال : كم ترك قالوا : دينارين أو ثلاثة قال : ترك كيتين أو ثلاث كيات فلقيت عبد الله بن القاسم مولى أبي بكر فذكرت ذلك له فقال : ذاك رجل كان يسأل الناس تكثرا

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق نے ان کو یحییٰ بن عبدالحمید نے ان کو ابن فضل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو حازم نے ان کو ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ کسی میت پر تشریف لے گئے جس پر آپ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ نے پوچھا کہ اس نے کتنا چھوڑا انہوں نے کہا کہ دو دینار یا تین دینار۔ فرمایا کہ اس نے دو یا تین داغ چھوڑے ہیں۔ پھر میں عبداللہ بن قاسم مولیٰ ابو بکر سے ملا میں نے یہ بات ان سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ آدمی تھا جو کثرت سے سوال کرتا تھا۔

دينارين أو ثلاثة. ← "كم ترك؟ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبِيهِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← يحيى بن عبد الحميد ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3515

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3516

3516 - أخبرنا علي بن أحمد أنا أحمد نا زياد بن الخليل نا مسدد نا جعفر بن سليمان نا عتيبة عن يزيد بن أصرم قال : سمعت عليا يقول : مات رجل من أهل الصفة فقيل يا رسول الله ترك دينارا أو درهما فقال كيتان صلوا على صاحبكم

ہمیں خبر دی علی بن احمد نے ان کو احمد بن زیاد بن خلیل نے ان کو مسدد نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو عتیبہ نے انکو یزید بن اصرم نے و ہ کہتے ہیں کہ میں نے علی المرتضی سے سنا کہتے تھے اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی کا انتقال ہو گیا تھا یا رسول اللہ ایک دینار یا درہم چھوڑ گیا ہے حضور نے فرمایا کہ دو داغ ہیں نماز پڑھ لو اپنے ساتھی پر۔

مات رجل من أهل الصفة فقيل ← عَلِيًّا ← يزيد بن أصرم ← عُتَيْبَةُ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُسَدَّدٌ ← زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، ← أَحْمَدُ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3516

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3517

3517 - أخبرنا علي بن أحمد ثنا أحمد نا عبد الله بن أحمد بن حنبل نا عباد بن زياد نا شريك عن أبي إسحاق عن حبش بن جنادة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الذي يسأل من غير حاجة كمثل الذي يلتقط الجمر

ہمیں خبر دی علی بن احمد نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو عباد بن زیاد نے ان کو شریک نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو حبش بن جنادہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے وہ شخص جو بغیر حاجت کے مانگتا ہے اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو انگارے اٹھاتا ہے۔

الذي يسأل من غير حاجة كمثل الذي يلتقط الجمر ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← حبش بن جنادة. ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3517

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3518

3518 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا إسماعيل بن جعفر نا شريك بن أبي نمر عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ليس المسكين الذي ترده التمرة و التمرتان و لا اللقمة و اللقمتان إن المسكين المتعفف اقرأوا إن شئتم : { لا يسألون الناس إلحافا } رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن أيوب و غيره عن إسماعيل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسین بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابو الربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو شریک بن ابو نمر نے ان کو عطا بن یسار نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ مسکین نہیں ہے جو ایک دو کھجوریں لے کر لوٹ جائے یا ایک دو لقمے ے کر بے شک مسکین وہ ہے جو سوال کرنے سے اجتنا ب کرے (باوجود ضرورت مند ہونے کے) اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھو:" لا یسئلون الناس الحافاً " وہ لوگوں سے چپک کر سوال نہیں کرتے۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن ایوب وغیرہ سے اس نے اسماعیل سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3518

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3519

3519 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف المصري بمكة نا أبو علي أحمد بن إبراهيم بن أحمد بن عطية البغدادي املاء أنا أبو عبد الله أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة و أبو بكر عبد الرحمن بن القاسم الرواس قالا : نا أبو مسهر عبد الأعلى بن مسهر الغساني نا سعيد بن عبد العزيز عن ربيعة بن زيد عن أبي إدريس الخولاني عن أبي مسلم الخولاني حدثني الحبيب الأمين أما هو فحبيب إلي و أما هو عندي فأمين عوف بن مالك الأشجعي قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم تسعة أو ثمانية و في حديث ابن الرواس سبعة أو ثمانية أو تسعة فقال : ألا تبايعون رسول الله صلى الله عليه و سلم فرددها ثلاث مرات فقدمنا أيدينا فبايعنا فقلنا يا رسول الله قد بايعناك فعلى ما نبايعك قال : أن تعبدوا الله و لا تشركوا به شيئا و الصلوات الخمس و أسر كلمة خفية و لا تسألوا الناس شيئا قال : فلقد رأيت بعض أولئك النفر يسقط سوطه فلا يسأل أحدا يناوله إياه أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن سعيد بن عبد العزيز

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نظیف مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو علی احمد بن ابراہیم بن احمد بن عطیہ بغدادی نے بطور املاء کے ان کو ابو عبداللہ احمد بن محمد بن یحییٰ بن حمزہ نے اور ابو بکر عبدالرحمٰن بن قاسم رواس نے ان کو ابو مسہر عبدالاعلیٰ بن مسہر غسانی نے ان کو سعید بن عبدالعزیز نے ان کو ربیعہ بن زید نے ان کو ابو اویس خولانی نے ۔ ان کو حبیب امین نے بہر حال وہ محبوب ہیں میرے نزدیک اور بہر حال وہ امین ہیں میرے نزدیک وہ امین ہیں عوف بن مالک اشجعی نے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے پاس آٹھ یا نو افراد تھے اور ابن رواس کی حدیث میں ہے کہ سات یا آٹھ تھے یا نو تھے۔ حضور نے فرمایا کیا تم لوگ رسول اللہ کی بیعت نہیں کر لیتے تین بار اس بات کو دہرایا لہٰذا ہم نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا دئیے حضور نے ہمیں بیعت کر لیا اب ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ تحقیق ہم اس کے ساتھ بیعت ہوتے ہیں پس کس بات پر ہم آپ کے ساتھ بیعت کریں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کرنا اور تم اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کرنا اور پانچ نمازوں پر (اور آپ نے چھپایا ایک کلمہ کو خفیہ) اور تم لوگ لوگوں سے کوئی شے نہ مانگنا۔ کہتے ہیں کہ البتہ تحقیق میں نے دیکھے بعض ان افراد میں سے کہ گر جاتا تھا چابک اس کا تو وہ کسی سے یہ نہیں کہتا تھا کہ مجھے اٹھا دو یا پکڑا دو۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں دوسرے طریق سے سعید بن عبدالعزیز سے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3519

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3520

3520 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا يحيى بن أبي بكير نا ابن أبي ذئب عن محمد بن قيس عن عبد الرحمن بن يزيد بن معاوية عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يتقبل لي بواحدة تقبلت له بالجنة قال ثوبان : أنا يا رسول الله قال : لا تسأل الناس شيئا قال : و ربما كان يسقط سوطه و هو على البعير فلا يقول لأحد ناولنيه حتى ينزل فيأخذه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے فرمایا انکو خبر دی ابو العباس محمد بن محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے ان کو ابن ذئب نے ان کو محمد بن قیس نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید بن معاویہ نے ان کو ثوبان مولیٰ رسول اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جو میرے لئے ایک بات قبول کرے میں اس کو جنت کے لئے قبول کرو ں گا ۔ ثوبان نے کہا یا رسول اللہ میں ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگنا فرمایا بسا اوقات اس کا سواری پر سے چابک گر جاتا حالانکہ وہ اونٹ پر بیٹھا ہوتا تھا مگر وہ کسی سے یہ نہ کہتا کہ چابک مجھے پکڑا دو حتیٰ کہ خود اترتا اور اس کو اٹھاتا۔

ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3520

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3521

3521 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن عاصم بن سليمان عن أبي العالية عن ثوبان : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من تكفل لي أن لا يسأل شيئا اتكفل له بالجنة قال ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا قال : فكان يعلم أن ثوبان لا يسأل أحدا شيئا قال معمر : و بلغني أن عائشة كانت تقول تعاهدوا ثوبان فإنه لا يسأل أحدا شيئا و كان يسقط منه العصا و السوط فما يسأل أحدا أن يناوله إياه حتى ينزل فيأخذه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو عاصم بن سلیمان نے ان کو ابو العالیہ نے ان کو ثوبان نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگے گا میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں رسول اللہ کے غلام ثوبان نے حامی بھر لی کہ میں اس پر عمل کروں گا لہٰذا سب کو یہ بات معلوم ہو گئی کہ ثوبان کسی ایک سے کچھ نہیں مانگتا ۔ معمر نے کہا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ سیدہ عائشہ فرماتی تھیں ثوبان سے سیکھو کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگتا ۔ بسا اوقات ان سے سواری پر سے عصا یا چابک گر جاتا تو وہ اس کا بھی کسی سے سوال نہیں کرتے تھے کہ وہ مجھے اٹھا دو بلکہ خود سواری سے اتر کر اس کوخود لیتے پھرسوار ہوتے۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3521

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3522

3522 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا محمد بن عثمان بن صفوان بن أمية الجمحي نا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما خالطت الصدقة مالا إلا أهلكته قال عبد الله : قال أي تفسيره أن الرجل يأخذ الصدقة و هي الزكاة و هو موسر أو غني و إنما هي للفقراء

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن عثمان بن صفوان بن امیہ جمحی نے ان کو ہشام بن عروۃ نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ااس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔ آپ نے فرمایا ۔ نہیں غلط ملط ہوتا صدقہ (واجب زکوٰۃ ) مال میں مگر اس کو ہلاک کر دیتا ابو عبداللہ نے کہا کہ تفسیر اس کی یہ ہے انسان صدقہ لے لیتا ہے حالانکہ یہ زکوٰۃ ہوتی ہے اور وہ آسودہ حال ہوتا ہے یا غنی ہوتا ہے (غریب و تنگدست نہیں ہوتا) حالانکہ وہ صدقہ زکوٰۃ تو فقراء کے لئے تھی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← ما خالطت الصدقة مالا إلا أهلكته ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3522

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3523

3523 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد قالا : نا محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب أنا سليمان بن بلال عن جعفر بن محمد عن أبيه قال : كان مروان بن الحكم يستعمل أبا أسيد الساعدي على الصدقة فكان إذا قدم أناخ على بابه فدفع إليهم حتى آخر ما يدفع إليهم السوط فيقول : هو من مالكم قال : فقدم مرة فدفع إليه كل شيء فرجع إلى منزله فنام فإذا حية تأخذ بعنقه فاستيقظ فقال : يا فلانة هل بقي شيء فقالت : لا قال : فما شأن حية تأخذ بعنقي انظري فقالت : بلى و قد بقي عقال موكى به جراب قال : فرده إليهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ مروان بن حکم عامل بناتے تھے صدقہ پر ابو اسید ساعدی کو وہ جب آتے دروازے پر اور اونٹ بٹھاتے اور ان کو ہر چیز دیتے آخری چیز جو ان کو دیتا وہ چابک ہوتا تھا۔ اسے دیتے ہوئے یوں کہتے کہ یہ تمہارے مال میں سے ہے۔ وہ ایک مرتبہ زکوٰۃ کا مال تقسیم کر نے آئے جو سامان تھے وہ پورا تقسیم کر کے چلے گئے۔ گھر میں جا کر جب سوئے تو دیکھتے ہیں کہ ایک سانپ ان کی گردن میں لپیٹ دیا جاتا ہے گھبرا کر اٹھے اور اہلیہ سے ( ا نوکرانی سے) پوچھا کہ اے فلانی کیامال میں سے کوئی شے رہ گئی ہے؟ وہ بولی کہ نہیں۔ فرمانے لگے کیا بات ہے کہ سانپ میری گردن میں لپٹ گیا ہے دیکھئے کچھ رہ گیا ہے اس نے دوبارہ دیکھا تو بولی ہاں ایک رسی رہ گئی ہے جو اونٹ کے پیر میں ہوتی ہے اس کے ساتھ ایک تھیلے کا منہ باندھ دیا گیا تھا چنانچہ انہوں نے وہ واپس کر دیا۔

أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ و أَبُو سَعِيدٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3523

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3524

3524 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسحاق الحربي نا أبو نعيم نا أبو العنبس عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليأتين يوم القيامة قوم ليس على وجوههم لحم اخلقوها في الدنيا بالمسئلة فمن فتح على نفسه باب مسألة و هو عنها غني فتح الله عليه باب فقر

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید اسحٰق ربی نے ان کو ابو نعیم نے ان کو ابو العنبس نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا البتہ قیامت کے دن ضرور ایک قوم آئے گی جن کے چہروں پر گوشت نہیں ہو گا وہ سوال کرنے سے دنیا میں اس کو پرانا اور بوسیدہ کر چکے ہوں گے۔ جو شخص اپنے نفس پر سوال کا دروازہ کھولے۔ حالانہ وہ اس سے غنی ہو اللہ اس پر فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أَبُو الْعَنْبَسِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3524

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3525

3525 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن عبد الملك بن مروان نا يزيد بن هارون نا شريك عن يزيد بن أبي زياد عن مقسم عن ابن عباس رفعه قال : ما نقصت صدقة من مال شيئا قط و لا مد عبد يده بصدقة إلا وقعت في يدي الله قبل أن تقع في يد السائل و لا فتح عبد عليه باب مسألة له عنها غنى إلا فتح الله عليه باب فقر

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن عبدالملک بن مروان نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو شریک نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے ان کو مقسم نے ان کو ابن عباس نے (انہوں نے اس کو مرفوع بیان کیا ہے) کہ صدقہ کسی مال میں سے ہر گز کوئی شے کم نہیں کرتا اور کوئی بندہ جب صدقہ دینے کےلئے اپنا ہاتھ لمبا کرتا تو وہ سائل کے ہاتھ میں جانے سے قبل اللہ کے ہاتھ میں پہنچ کر قبول ہو جاتا ہے۔ اور جب کوئی بندہ اپنے اوپر سوال کا دروازہ کھول لیتا ہے حالانکہ اس کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ ← مِقْسَمٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← شَرِيکٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3525

chevron_left Previous
1…676869…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood