Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاعتذار إذا سئل و لم يكن عنده ما يعطي منه · حديث 3502

3502 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم نا عبد الرزاق عن معمر حدثني شيخ لنا : أن امرأة جاءت إلى بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فقالت لها : ادعي الله أن يطلق يدي قالت : و ما شأن يدك ؟ قالت : كان لي أبوان و كان أبي كثير المال كثير المعروف كثير الفضل أو قالت : كثير الصدقة و لم يكن عند أمي من ذلك شيء لم أرها تصدقت بشيء قط غير أنا نحرنا بقرة فأعطت مسكينا شحمة في يده و كسته خرقة فماتت أمي و مات أبي فرأيت أبي على نهر يسقي الناس فقلت : يا أبتاه هل رأيت أمي فقال : لا أو ماتت ؟ فقلت : نعم فذهبت ألتمسها فوجدتها قائمة عريانة ليس عليها إلا تلك الخرقة و تلك الشحمة في يدها و هي تضرب بيدها على يدها الأخرى ثم تمص أثرها و تقول : و اعطشاه فقلت لها : يا أمه ألا أسقيك ؟ قالت : بلى فذهبت إلى أبي فأخذت إناء من عنده فسقيتها فيه فتنبه بي بعض من كان قائما فقال : من سقاها أشل الله يده قالت : فاستيقظت و قد شلت يدي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے معمر سے ان کو حدیث بیان کی ہے ہمارے ایک شیخ نے کہ ایک عورت بعض ازواج رسول کے پاس آئی اور بولی تم اللہ سے دعا کرو کہ وہ میرا ہاتھ کھولائے انہوں نے پوچھا کہ تیرے ہاتھ کی کیا حالت ہے بولی کے مرے والد تھے زندہ تھے میرا والد کثیر المال تھا اور کثیر المعروف تھا کثیر الفضل تھا یا یوں کہا کہ کثیر الصدقہ تھا اور اس میں سے میری امی کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور میں نے والدہ کو کبھی کسی کا صدقہ کرنے نہیں دیکھا تھا۔ سوائے اس کے کہ ہم لوگوں نے گائے ذبح کی تھی تو انہوں نے ایک مسکین کو چربی دی تھی اس کے ہاتھ میں اور اس کو کپڑا بھی پہنایا تھا۔ میری امی بھی مر چکی ہیں اور میرے والد بھی میں نے اپنے والد کو ایک نہر پر لوگوں کو پانی پلاتے دیکھا ہے اور میں نے ان سے کہا اے میرے ابا کیا تم میری امی کو دیکھا ہے انہوں نے کہا ہے کہ نہیں دیکھا کیا وہ مر گئی ہیں؟ میں نے جواب دیا ہاں وہ جا چکی ہیں۔ میں اس کو تلاش کر رہی ہوں پھر اسے میں نے پالیا اس حال میں ہے کہ وہ کھڑی ہوئی ہے مگر بغیر لباس کے ہے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے مگر وہ خرقہ یا کپڑے کا ٹکڑا اور وہی چربی اس کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارتی ہے اور س کے اثر کو چوستی ہے اور کہتی ہے ہائے اس کی پیاس یہ منظر دیکھ کر میں اس سے کہتی ہوں اے امی کیا میں آپ کو پانی نہ پلاؤں؟ وہ کہتی ہیں کہ ہائے پلائیے پھر میں اپنے ابا کے پاس جاتی ہوں اور اس کے ہاں سے ایک برتن اٹھاتی ہوں اور میں والدہ کو اس میں سے پلاتی ہوں اتنے میں کوئی میری اس بات سے آگاہ ہو جاتا ہے جو کوئی وہاں کھڑا تھا۔ وہ پوچھتا ہے کہ اس کو کس نے پلا دیا ہے ؟ اللہ اس کے ہاتھ کو شل (ناکارہ) کر دے کہتی ہے کہ میں نیند سے بیدار ہوئی ہوں تو میرا ہاتھ شل ہو چکا تھا۔

شَيْخٌ لَنَا ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine the apology if he is asked and he has nothing to give from it · Hadith 3502

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3503

3503 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن ابن شهاب عن عطاء بن يزيد الليثي عن أبي سعيد الخدري : أن ناسا من الأنصار سألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأعطاهم ثم سألوه فأعطاهم حتى نفد ما عنده قال : ما يكون عندي من خير فلن أدخره عنكم و من يستعفف يعفه الله و من يستغن يغنه الله و من يتصبر يصبره الله و ما أعطي أحد من عطاء هو خير و أوسع من الصبر أخرجاه في الصحيح من حديث مالك

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریان بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے ان کو مالک نے ابن شہاب نے ان کو عطا بن یزید لیثی نے ان کو ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ سے کچھ مانگا آپ نے ان کو دے دیا پھر مانگا تو پھر دے دیا یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا آپ نے فرمایا کہ میرے پاس جو کچھ مال ہوتا ہے میں تم سے ہر گز اسکو ذخیرہ کر کے نہیں رکھتا اور جو شخص سوال کرنے سے پرہیز گاری کرے اللہ تعالیٰ اس کو پرہیز گار بنائے گا اور جو شخص مستغنی ہو گا اللہ تعالیٰ اس کو غنی کر دے گا اور جو شخص صبر اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو صبر دے گا نہیں دیا گیا کوئی شخص کوئی عطیہ کہ وہ زیادہ بہتر ہو اور زیادہ وسعت والا ہو صبر سے۔ اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے حدیث مالک سے۔

عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3503

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3504

3504 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود عن شعبة أخبرني أبو جمرة قال : سمعت هلال بن حصين يقول : قدمت المدينة فنزلت على أبي سعيد في داره فضمني و إياه المجلس فسمعته يحدث قال : أصابني جوع على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى شددت على بطني حجرا فقالت لي امرأتي : لو أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألته فقد أتاه فلان فسأله فأعطاه و أتاه فلان فسأله فأعطاه فقلت : لا أسأله حتى لا أجد شيئا فالتمست فلم أجد شيئا فانطلقت إليه فوافقته يخطب فأدركت من قوله من يستعفف يعفه الله و من يستغن يغنيه الله و من سألنا فإما أن نبذل له و إما أن نواسيه و من استغنى عنا أحب إلينا ممن سألنا فرجعت فما سألت أحدا بعده شيئا فجاءت الدنيا فما من أهل بيت من الأنصار أكثر أموالا منا

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے انکو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو حمزہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہلال بن حصین سے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینے میں آیا اور میں ابو سعید کے گھر میں اترا اس نے مجھے اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کی مجلس میں می نے اس سے سنا کہ وہ حدیث بیان کر تے ہیں ۔ فرمانے لگے کہ رسول اللہ کے زمانے میں ایک مرتبہ مجھے بھوک لگی حتیٰ کہ میں نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا میری بیوی نے مجھ سے کہا اگر آپ رسول اللہ کے پاس جاتے اور ان سے کچھ مانگتے دیکھیں کہ فلاں گیا ہے اس نے مانگا ہے تو انہوں نے اس کو دے دیا ہے اور فلاں گیا ہے اس نے مانگا تو اس کو بھی انہوں نے دے دیا ہے میں نے کہا میں ان سے نہیں مانگوں گا حتیٰ کہ میں کوئی چیز نہ پاؤں لہٰذا میں نے تلاش کیا تو مجھے کچھ چیز نہ مل سکی پھر میں حضور کے پاس گیا میں جب گیا تو آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے میں وہ خطبہ اس قول سے پالیا جو شخص سوال کرنے سے پرہیز کرے اللہ تعالیٰ اس کو بچائے اور پرہیز گار بنائے گا اور جو شخص مستغنی ہو نا چاہے اللہ اس کو غنی کر دے گا جو شخص ہم سے مانگے گا یا تو ہم اس کے لئے خرچ کریں گے یا ہم اس کو غم خواری کریں گے اور جو شخص ہم سے مستغنی شے نہیں مانگی لہذا اب تو دنیا آ گئی ہے آج کوئی اہل بیت ایسا نہیں ہے انصار میں جو ہم سے مال میں زیادہ ہو۔

قدمت المدينة فنزلت على أبي سعيد في داره فضمني و إياه المجلس ← هِلَالَ بْنَ حُصَيْنٍ، ← أَبُو جَمْرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3504

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3505

3505 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي أنا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن نافع عن عبد الله بن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال و هو على المنبر و هو يذكر الصدقة و التعفف عن المسألة : اليد العليا خير من اليد السفلى و اليد العليا المنفقة و اليد السفلى السائلة رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن مسلمة القعنبي و رواه مسلم عن قتيبة عن مالك

اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن ظرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک کے آگے انہوں نے نافع سے اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور وہ منبر پر تشریف فرما تھے اور صدقہ کا اور سوال کرنے سے اجتناب کرنے کا ذکر فرما رہے تھے اوپر والا ہاتھ (خرچ کرنے دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عبداللہ بن مسلمہ قعنبی سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا قتیبہ سے اس نے مالک سے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3505

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3506

3506 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن أحمد بن بالويه المزكى أنا محمد بن الحسين بن الحسن القطان نا القطان نا قطن بن إبراهيم نا حفص بن عبد الله قال : حدثني إبراهيم بن طهمان عن إبراهيم الهجري عن أبي الأحوص عن عبد الله بن مسعود أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الأيدي ثلاثة يد الله هي العليا و يد المعطي التي تليها و يد السائل السفلى إلى يوم القيامة فاستعفف من السؤال ما استطعت قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أعطاه الله خيرا فيرى عليه فليشكر و ابدأ بمن تعول و ارتضخ من الفضل و لا تلام على كفاف و لا تعجز عن نفسك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن بن احمد بن بالویہ مزکی نے ان کو محمد بن حسین بن حسن قطان نے ان کو قطن بن ابراہیم نے انکو حفص بن عبداللہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن طہمان نے ان کو ابراہیم ہجری نے ان کو ابو الاحوص نے انکو عبداللہ بن مسعود نے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ نے فرمایا : ہاتھ تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ اللہ کا ہاتھ یہ اوپر والا ہوتا ہے اور دینے والا ہاتھ جو اس کے بعد متصل ہوتا ہے اور مانگے والے کا ہاتھ نیچے ہوتا ہے قیامت تک پس سوال کرنے س اجتناب کر جب تک تم استطاعت رکھتے ہو۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ چیز (یعنی مال) عطا کرے اسے چاہیے کہ اس کودیکھ کر اللہ کا شکر کرے اور خرچ کی ابتدا ان سے کرے جن کی وہ سرپرستی کرتا ہے اور تھوڑا اللہ واسطے بھی خرچ کر بچے ہوئےمیں سے اور تم پر ملامت نہ کی جائے گی گزارہ کرنے پر اور نہ عاجز ہو تو اپنے نفس پر خرچ کرنے سے۔

عبد الله بن مسعود أنه ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← قَطَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← القطان ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ← أبو محمد عبد الرحمن بن أحمد بن بالويه المزكى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3506

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3507

3507 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا يحيى بن أبي طالب أنا علي بن عاصم نا إبراهيم الهجري : فذكره بإسناده مرفوعا غير أنه قال : فاستعفوا من السؤال ما استطعتم و كذا رواه محمد بن دينار عن إبراهيم الهجري و رواه أبو الزعراء عن أبي الأحوص عن أبيه مالك بن نضلة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے انکو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو ابراہیم ہجری نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے بطور مرفوع روایت کے سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا کہ بچو تم سوال کرنے سے مانگنے سے جس قدم رم استطاعت رکھتے ہو اور اسی طرح روایت کیاہے اس کو محمد بن دینار نے ابراہیم ہجری سے اور اس کو روایت کیا ہے ابوالزعراء نے ابو الاحوص سے اس نے ان کے والد سے مالک بن نضلہ سے۔

أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري و رواه أبو الزعراء ← فاستعفوا من السؤال ما استطعتم و كذا رواه محمد بن دينار ← إبراهيم الهجري فذكره بإسناده مرفوعا غير أنه ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3507

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3508

3508 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا : أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : و الذي نفسي بيده لأن يأخذ أحدكم حبله فيحتطب على ظهره خير من أن يأتي رجلا قد أعطاه الله من فضله فيسأله أعطاه أو منعه رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن مالك و أخرجه مسلم من حديث قيس بن أبي حازم و غيره عن أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھا مالک پر اس نے ابو الزناد سے اس نے اعرج سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہ رسول اللہ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ اگر تم میں سے کوئی آدمی اسے لے کر جائے اور لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر بیچے تویہ اس کے لئے بہتر ہے اس سے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے پاس آئے اللہ نے جس فضل دیا ہے یہ اس سے سوال کرے وہ دے اس کو یا منع کر دے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے عبداللہ بن یوسف سے اس نے مالک سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے قیس بن حازم کی روایت سے اس نے ابو ہریرہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3508

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3509

3509 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو نا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي نا ابن بكير نا الليث عن عبيد الله بن أبي جعفر قال : سمعت حمزة بن عبد الله يقول : سمعت عبد الله بن عمر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يزال الرجل يسأل الناس حتى يأتي يوم القيامة ليس في وجهه مزعة لحم و قال : إن الشمس تدنو حتى يبلغ العرق نصف الأذن فبينما هم كذلك استغاثوا بآدم يقول : لست صاحبكم يعني ثم بموسى ثم بمحمد صلى الله عليه و سلم رواه البخاري في الصحيح عن ابن بكير

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن محمد بن حمدان صیرنی نے مرو میں ان کو ابو الاحوص محمد بن ہیثم قاضی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو عبداللہ بن ابو جعفر نے انہوں نے سنا حمزہ بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا عبداللہ عمر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ایک آدمی ہمیشہ لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ذرہ بھی نہ ہو گا بے شک سورج قریب آ ئے گا حتیٰ کہ پسینہ نصف کان تک ہو گا اسی حال میں ہوں گے کہ وہ سب فریاد کریں گے آدم سے۔ وہ کہیں گے میں تمہارے کام آنے والا نہیں ہوں ا س کے بعد موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کریں گے اس کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابن بکیر سے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← اللَّيْثُ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3509

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3510

3510 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري و محمد بن أحمد العطار قالوا : أنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم نا أبو النضر نا إسحاق بن سعيد و هو ابن عمرو بن سعيد بن العاص عن أبيه عن ابن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : المسئلة كدوح في وجه صاحبها يوم القيامة فمن شاء فليستبق على وجهه و أهون المسألة مسألة ذي رحم تسأله في حاجة و خير المسألة المسألة عن ظهر غنى و ابدأ بمن تعول

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے اور محمد بن احمد عطار نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو النضر نے ان کو اسحٰق بن سعید نے یعنی ابن عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے والد سے اس نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے کہا میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ فرما رہے تھے مانگنا اور سوال کرنا قیامت کے دن مانگنے والے کے چہرے پر نوچنے کا بدنما داغ ہو گا جو شخص اسے اپنے چہرے پر باقی رکھے اور آسان ترین مانگنا ہے قرابت دار سے جس سے آپ کسی حاجت میں مانگیں اور اچھا مانگنا وہ مانگنا ہے جو غنی ہونے کے پیچھے ہو اور ابتدا کرو خرچ کرنے کی اس سے جس کی تم عیالداری و سرپرستی کرتے ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← إسحاق بن سعيد و هو ابن عمرو بن سعيد بن العاص ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3510

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3511

3511 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن عبد الملك بن عمير عن زيد بن عقبة عن سمرة بن جندب : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إنما المسائل كدوح يكدح بها الرجل وجهه فمن شاء أبقى على وجهه و من شاء ترك إلا أن يسأل الرجل ذي سلطان أو في أمر لا يجد منه بدا قال : فحدثت به الحجاج فقال : أنا ذو سلطان فسلني

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن ااسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو زید بن عقبہ نے ان کو سمرہ بن جندب نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سوائے اس کے نہیں کہ مانگنا زخمی کرنا ہے جس کے ساتھ آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتاہے یا داغ دار کرتا ہے جو شخص چاہے وہ اسے باقی رکھے اپنے چہرے پر اور جو شخص چاہے اسے چھوڑ دے ہاں مگر یہ کہ سوال کرے انسان صاحب قوت و اقتدار سے یا ایسے معاملے میں جس میں مانگے بغیر چارہ نہ ہو سمرہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث بیان کی حجاج کو اس نے کہا کہ میں صاحب اقتدار ہوں آپ مجھ سے مانگئے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3511

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3512

3512 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا قتيبة بن سعيد نا الليث بن سعد عن جعفر بن ربيعة عن بكر بن سوادة عن مسلم بن مخشي عن ابن الفراس أن الفراس قال لرسول الله صلى الله عليه و سلم : اسأل يا رسول الله ؟ فقال : النبي صلى الله عليه و سلم : لا و إن كنت لا بد سائلا فسل الصالحين

ہمیں خبر دی ابو علی روذ باری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو جعفر بن ربیعہ نے ان کو بکر بن سوادہ نے ان کو مسلم بن مخشی نے ان کو ابن الفراس نے کہ فراس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ کیا میں مانگا کروں؟ حضور نے فرمایا کہ نہیں اور اگر تم لازمی طور پر مانگنا چاہتے ہو تو پھر نیک لوگوں سے مانگئے۔

لرسول الله صلى الله عليه و سلم اسأل ← ابن الفراس أن الفراس ← مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3512

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3513

3513 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو عمرو بن السماك نا أبو الأحوص محمد بن الهيثم نا أبو توبة الربيع بن نافع نا يزيد بن ربيعة عن أبي الأشعث عن أبي عثمان عن ثوبان : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : تحل الصدقة من ثلاث من الإمام الجامع و من ذي الرحم لرحمه و من التاجر المكثر

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو عمر بن سماک نے ان کو ابوالاحوص محمد بن ہیثم نے انکو ابو توبہ ربیع بن نافع نے ان کویزید بن ربیعہ نے ان کو ابوا لاشعث نے ان کو ابوعثمان نے انکو ثوبان نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین آدمیوں سے صدقہ (لینا( حلال ہے جامع مسجد کے امام سے اور صاحب قرابت سے اپنی قرابت درای کے لئے اور کثیر المال تاجر سے۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← أَبُو الأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3513

chevron_left Previous
1…666768…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood