شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاعتذار إذا سئل و لم يكن عنده ما يعطي منه · حديث 3502
3502 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم نا عبد الرزاق عن معمر حدثني شيخ لنا : أن امرأة جاءت إلى بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فقالت لها : ادعي الله أن يطلق يدي قالت : و ما شأن يدك ؟ قالت : كان لي أبوان و كان أبي كثير المال كثير المعروف كثير الفضل أو قالت : كثير الصدقة و لم يكن عند أمي من ذلك شيء لم أرها تصدقت بشيء قط غير أنا نحرنا بقرة فأعطت مسكينا شحمة في يده و كسته خرقة فماتت أمي و مات أبي فرأيت أبي على نهر يسقي الناس فقلت : يا أبتاه هل رأيت أمي فقال : لا أو ماتت ؟ فقلت : نعم فذهبت ألتمسها فوجدتها قائمة عريانة ليس عليها إلا تلك الخرقة و تلك الشحمة في يدها و هي تضرب بيدها على يدها الأخرى ثم تمص أثرها و تقول : و اعطشاه فقلت لها : يا أمه ألا أسقيك ؟ قالت : بلى فذهبت إلى أبي فأخذت إناء من عنده فسقيتها فيه فتنبه بي بعض من كان قائما فقال : من سقاها أشل الله يده قالت : فاستيقظت و قد شلت يدي
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے معمر سے ان کو حدیث بیان کی ہے ہمارے ایک شیخ نے کہ ایک عورت بعض ازواج رسول کے پاس آئی اور بولی تم اللہ سے دعا کرو کہ وہ میرا ہاتھ کھولائے انہوں نے پوچھا کہ تیرے ہاتھ کی کیا حالت ہے بولی کے مرے والد تھے زندہ تھے میرا والد کثیر المال تھا اور کثیر المعروف تھا کثیر الفضل تھا یا یوں کہا کہ کثیر الصدقہ تھا اور اس میں سے میری امی کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور میں نے والدہ کو کبھی کسی کا صدقہ کرنے نہیں دیکھا تھا۔ سوائے اس کے کہ ہم لوگوں نے گائے ذبح کی تھی تو انہوں نے ایک مسکین کو چربی دی تھی اس کے ہاتھ میں اور اس کو کپڑا بھی پہنایا تھا۔ میری امی بھی مر چکی ہیں اور میرے والد بھی میں نے اپنے والد کو ایک نہر پر لوگوں کو پانی پلاتے دیکھا ہے اور میں نے ان سے کہا اے میرے ابا کیا تم میری امی کو دیکھا ہے انہوں نے کہا ہے کہ نہیں دیکھا کیا وہ مر گئی ہیں؟ میں نے جواب دیا ہاں وہ جا چکی ہیں۔ میں اس کو تلاش کر رہی ہوں پھر اسے میں نے پالیا اس حال میں ہے کہ وہ کھڑی ہوئی ہے مگر بغیر لباس کے ہے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے مگر وہ خرقہ یا کپڑے کا ٹکڑا اور وہی چربی اس کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارتی ہے اور س کے اثر کو چوستی ہے اور کہتی ہے ہائے اس کی پیاس یہ منظر دیکھ کر میں اس سے کہتی ہوں اے امی کیا میں آپ کو پانی نہ پلاؤں؟ وہ کہتی ہیں کہ ہائے پلائیے پھر میں اپنے ابا کے پاس جاتی ہوں اور اس کے ہاں سے ایک برتن اٹھاتی ہوں اور میں والدہ کو اس میں سے پلاتی ہوں اتنے میں کوئی میری اس بات سے آگاہ ہو جاتا ہے جو کوئی وہاں کھڑا تھا۔ وہ پوچھتا ہے کہ اس کو کس نے پلا دیا ہے ؟ اللہ اس کے ہاتھ کو شل (ناکارہ) کر دے کہتی ہے کہ میں نیند سے بیدار ہوئی ہوں تو میرا ہاتھ شل ہو چکا تھا۔
شَيْخٌ لَنَا ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine the apology if he is asked and he has nothing to give from it · Hadith 3502
