شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3490
3490 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد أخبرني أبي نا ابن جابر حدثني الأسلمي يعني عبد الله بن عامر عن بريرة أنها : كانت عند أم سلمة فأتاها سائل و ليس عندها إلا رغيف واحد فقالت : يا بريرة أعطيه السائل فتثاقلت ثم تكلم السائل فقلت : يا بريرة قومي فأعطيه فتثاقلت ثم قالت لها قومي فأعطيه قالت : فلما رأيتها قد عزمت قمت فأعطيته و ليس عندنا طعام غيره فلما أمسينا و أفطرنا دعت بماء فشربت ثم وضعت رأسها فغفت فإذا إنسان يستأذن على الباب فقالت يا بريرة انظري من هذا قالت : فإذا إنسان يحمل جفنة فيها شاة مصلية و فوقها خبز قد ملأ الجفنة قالت بريرة : فمن السرور ما دريت كيف رفعت فقالت أم سلمة : كيف رأيت هذا خير أم رغيفك قالت : قلت بل هذا فقالت : الحمد لله هذا مع ما ادخر الله عز و جل لنا إن شاء الله : و لقد كان آل رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتي عليهم الهلال ثم الهلال ما يوقدون فيه نار سراج و لا غيره
ہمیں خبردی ابو عبداللہ حافظ نے اور ان کو ابن جابر نے ان کو سلمی نے ان کو عبداللہ بن عامر نے ان کو بریرہ نے وہ کہتی ہیں کہ وہ سیدہ ام سلمہ زوجہ رسول کے پاس خدمت کرتی تھیں ایک دن ان کے پاس ایک سائل آیا جبکہ انکے گھر میں صرف ایک روٹی پڑی تھی سیدہ نے کہا بریرہ یہ روٹی سائل کو دے دو اس نے کچھ سستی کی اس کے بعد پھر سائل نے آواز لگائی تو سیدہ ام سلمہ نے پھر کہا بریرہ روٹی سائل کو دے دو۔ بریرہ کہتی ہیںکہ میں جب دیکھا کہ سیدہ نے ایک روٹی جو محض ایک ہی ہے دینے کا عزم کر لیا ہے تو میں نے وہ روٹی سائل کو دے دی جبکہ ہمارے پاس اس کے سوا کھانے کو کچھ بھی نہیں تھا جب شام ہو ئی تو ہم لوگوں نے روزہ تو (پتا نہیں کیسے) کھول لیا سیدہ نے پانی منگوایا اور پی لیا اس کے بعد سررکھا اور لیٹ گئیں۔ پس اچانک ایک انسان دروازے پر اجازت مانگتا ہے۔ سیدہ کہتی ہیں کہ بریرہ تم دیکھو ذرا یہ کون ہے کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا تو کوئی ادمی ہے اس نے ایک تھال اٹھایا ہوا ہے اس میں بھنی ہوئی بکری رکھی ہے اس کے اوپر روٹیاں ہیں جس سے تھال بھرا ہوا ہے۔ بریرہ کہتی ہیں کہ خوشی سے میں بھول گئی ہ میں اس کو کیسے اٹھاؤں یا میں نے اسے کیسے اٹھا لیا؟ اتنے میں سیدہ ام سلمہ نے کہا کیا خیال ہے یہ بہتر ہے یا وہ توٹی تیری۔ میں نے کہا بلکہ یہ سیدہ ام سلمہ بولی الحمدللہ۔ یہ اس کے ساتھ ہے جو اللہ نے بھی ذخیرہ کر لیا ہے ہمارے لئے انشاء اللہ۔ بیریرہ کہتی ہیں کہ البتہ تھی آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ ان پر ایک چاند آتا پھر دوسرا چاند آتاکہ ان کے گھر میں نہیں جلاتے تھے آگ دیئے کی بھی اور نہ ہی کوئی دوسری۔
بريرة. ← الْأَسْلَمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ، ← ابْنِ جَابِرٍ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3490
