Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3490

3490 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد أخبرني أبي نا ابن جابر حدثني الأسلمي يعني عبد الله بن عامر عن بريرة أنها : كانت عند أم سلمة فأتاها سائل و ليس عندها إلا رغيف واحد فقالت : يا بريرة أعطيه السائل فتثاقلت ثم تكلم السائل فقلت : يا بريرة قومي فأعطيه فتثاقلت ثم قالت لها قومي فأعطيه قالت : فلما رأيتها قد عزمت قمت فأعطيته و ليس عندنا طعام غيره فلما أمسينا و أفطرنا دعت بماء فشربت ثم وضعت رأسها فغفت فإذا إنسان يستأذن على الباب فقالت يا بريرة انظري من هذا قالت : فإذا إنسان يحمل جفنة فيها شاة مصلية و فوقها خبز قد ملأ الجفنة قالت بريرة : فمن السرور ما دريت كيف رفعت فقالت أم سلمة : كيف رأيت هذا خير أم رغيفك قالت : قلت بل هذا فقالت : الحمد لله هذا مع ما ادخر الله عز و جل لنا إن شاء الله : و لقد كان آل رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتي عليهم الهلال ثم الهلال ما يوقدون فيه نار سراج و لا غيره

ہمیں خبردی ابو عبداللہ حافظ نے اور ان کو ابن جابر نے ان کو سلمی نے ان کو عبداللہ بن عامر نے ان کو بریرہ نے وہ کہتی ہیں کہ وہ سیدہ ام سلمہ زوجہ رسول کے پاس خدمت کرتی تھیں ایک دن ان کے پاس ایک سائل آیا جبکہ انکے گھر میں صرف ایک روٹی پڑی تھی سیدہ نے کہا بریرہ یہ روٹی سائل کو دے دو اس نے کچھ سستی کی اس کے بعد پھر سائل نے آواز لگائی تو سیدہ ام سلمہ نے پھر کہا بریرہ روٹی سائل کو دے دو۔ بریرہ کہتی ہیںکہ میں جب دیکھا کہ سیدہ نے ایک روٹی جو محض ایک ہی ہے دینے کا عزم کر لیا ہے تو میں نے وہ روٹی سائل کو دے دی جبکہ ہمارے پاس اس کے سوا کھانے کو کچھ بھی نہیں تھا جب شام ہو ئی تو ہم لوگوں نے روزہ تو (پتا نہیں کیسے) کھول لیا سیدہ نے پانی منگوایا اور پی لیا اس کے بعد سررکھا اور لیٹ گئیں۔ پس اچانک ایک انسان دروازے پر اجازت مانگتا ہے۔ سیدہ کہتی ہیں کہ بریرہ تم دیکھو ذرا یہ کون ہے کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا تو کوئی ادمی ہے اس نے ایک تھال اٹھایا ہوا ہے اس میں بھنی ہوئی بکری رکھی ہے اس کے اوپر روٹیاں ہیں جس سے تھال بھرا ہوا ہے۔ بریرہ کہتی ہیں کہ خوشی سے میں بھول گئی ہ میں اس کو کیسے اٹھاؤں یا میں نے اسے کیسے اٹھا لیا؟ اتنے میں سیدہ ام سلمہ نے کہا کیا خیال ہے یہ بہتر ہے یا وہ توٹی تیری۔ میں نے کہا بلکہ یہ سیدہ ام سلمہ بولی الحمدللہ۔ یہ اس کے ساتھ ہے جو اللہ نے بھی ذخیرہ کر لیا ہے ہمارے لئے انشاء اللہ۔ بیریرہ کہتی ہیں کہ البتہ تھی آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ ان پر ایک چاند آتا پھر دوسرا چاند آتاکہ ان کے گھر میں نہیں جلاتے تھے آگ دیئے کی بھی اور نہ ہی کوئی دوسری۔

بريرة. ← الْأَسْلَمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ، ← ابْنِ جَابِرٍ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3490

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3491

3491 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي العلوي بالكوفة رحمه الله قال : أنا أبو جعفر بن دحيم نا إبراهيم بن عبد الله أنا وكيع عن الأعمش عن منذر الثوري عن ربيع بن خيثم أنه قال لأهله : اصنعوا لنا خبيصا فصنع فدعا رجلا كان به خبل فجعل يلقمه و لعابه يسيل فلما أكل و خرج قال له أهله : تكلفنا و صنعنا ثم أطعمته ما يدري هذا ما أكل قال الربيع : لكن الله يدري

ہمیں خبر دی ابو القاسم زید بن جعفربن محمد بن علی علوی نے کوفے میں انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابو جعفر دحیم نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو منذر نے ثوری سے ان کو ربیع بن خیثم نے کہ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ کھجور اور گھی کا حلوہ میرے لئے تیار کرو چنانچہ وہ تیار کیا گیا اور انہوں نے ایک آدمی کو بلایا جس کو فالج پرا ہوا تھا اور پاگل تھا چنانچہ اس کو انہوں نے لقمے بنا بنا کر کھلانا شروع کیا ور اس کا لعاب بہہ رہا تھا جب وہ کھا کر نکل گیا تو گھر والوں نے ان سے کہا کہ ہم نے اتنی تکلیف اور مشکل سے اسے تیار کیا تھا آپ نے اس کو کھلا دیا جس کو یہ بھی پتا نہیں ہے اس نے کیا کھایا۔ ربیع نے کہا کہ لیکن اللہ تعالیٰ ضرور جانتا ہے۔

ربيع بن خيثم ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي العلوي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3491

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3492

3492 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا الحميدي عن سفيان عن مسعر قال : شوى نافع بن جبير دجاجة فجاء سائل فأعطاه إياه فقال له إنسان في ذلك فقال : إني أبغي ما هو خير منها

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو مسعر نے انہوں نے کہا کہ نافع بن جبیر نے مرغی بھونی اتنے میں کوئی سائل آگیا۔ اس نے وہ اسی کو دے دی تو کئی آدمیوں نے ان سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے وہ مرغی طلب کی ہے جو اس سے بہتر ہے۔

إني أبغي ما هو خير منها ← له إنسان في ذلك ← شوى نافع بن جبير دجاجة فجاء سائل فأعطاه إياه ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3492

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3493

3493 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا جعفر محمد بن سليمان المذكر يقول سمعت أبا زكريا يحيى بن زكريا المقابري يقول : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : عجبت من رجل يرائي بعمله الناس و هم خلق مثله و من رجل بقي له مال و رب العزة يستقرضه و رجل رغب في صحبة مخلوق و الله يدعوه إلى محبته ثم تلا : { و الله يدعو إلى دار السلام }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو جعفر محمد بن سلیمان واعظ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو زکریا یحییٰ بن زکریا مقابری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یحییٰ بن معازر ازی سے وہ کہتے ہیں کہ میں حیران ہوں اس آدمی سے جو اپنا عمل لوگوں کو دکھاتا ہے حالانکہ وہ اسی جیسی مخلوق ہیں اور میں حیران ہوں اس آدمی سے جس کے پاس مال بچا ہوا ہے اور رب العزۃ اس سے ادھار مانگتا ہے (مگر وہ اس کو نہیں دیتا) اور اس آدمی سے حیران ہوں جو اللہ کی مخلوق کی صحبت میں رغبت کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی محبت کی طرف بلاتا ہے اس کے بعد اس نے یہ آیت پڑھی۔ " واللہ یدعوالی دارالسلام" ۔ اللہ تعالیٰ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف۔

يحيى بن معاذ الرازي ← أبا زكريا يحيى بن زكريا المقابري ← أبا جعفر محمد بن سليمان المذكر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3493

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاعتذار إذا سئل و لم يكن عنده ما يعطي منه · حديث 3494

3494 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي نا محمد بن يعقوب الأصم قال : سمعت أبا زرعة الدمشقي يقول : موسى بن عبيدة الربذي روى عنه شعبة و سفيان و ليس بذاك و من أحسن حديثه حديث واحد ما ذكره ابن أبي أويس عن سليمان بن بلال عن موسى بن عبيدة عن عبد الحميد بن سهيل الزهري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن الشفاء بنت عبد الله قالت : دخل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألته و شكوت إليه فجعل يعتذر إلي و جعلت ألومه قال : ثم إنه حانت صلاة الأولى فدخلت بنت ابنتي و هي عند شرحبيل بن حسنة فوجدت زوجها في البيت فوقعت به ألومه حضرت الصلاة و أنت هنا فقال : يا عمة لا تلوميني كان لي ثوبان استعار أحدهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدت في نفسي من ذلك فقلت : و من يلومه و هذا شأنه قال شرحبيل : إنما كان أحدهما ثوب درع فرقعنا جيبه

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن یعقوب اصم نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ابو ذرعہ دمشقی سے وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ بن عبیدہ ربزی اس سے روایت کیا شعبہ اور سفیان نے اور یہ کچھ بھی نہیں ہے اور اس کی احسن احادیث میں سے ایک حدیث ہے وہ ہی ہے جس کو ابن ابو اویس سےسلیمان بن بلال نے اس نے موسیٰ بن عبیدہ سےا س نے عبدالحمید بن سہیل زہری سے اس نے ابو سلمہ ابن عبدالرحمٰن سے اس نے شفاء بنت عبداللہ سے وہ کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میں نے ان سے کچھ مانگا اور کچھ ان سے شکایت کی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سامنے معذرت کرنے لگے اور میں ان کو کچھ ملامت کرنے لگی۔ کہتے ہیں کہ شان یہ ہے کہ پھر پہلی نماز کا وقت ہو گیا۔ اتنے میں میری نواسی آ گئی اور وہ شرحبیل بن حسنہ کے گھر میں تھی۔ میں نے اس کے شوہر کو گھر میں پایا اس کے پیچھے پڑ گئی اور میں اس کو ملامت کرنے لگی کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے اور تم یہاں ہو۔ اس نے کہا پھوپھی جان آپ مجھے ملامت نہ کریں میرے پاس دو کپڑے تھے ایک کپڑا مجھ سے رسول اللہ نے ادھارلے لیا تھا۔ میں اپنے دل میں اس سے ناراض ہوئی تو میں نے کہا کہ ان کوکون ملامت کر سکتا ہے یہ ان کا خیال ہے شرحبیل نے کہا کہ دو میں سے ایک کپڑا کرتا تھا۔ ہم نے اس کو گریبان کا پیوند لگادیا تھا۔

أبا زرعة الدمشقي ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine the apology if he is asked and he has nothing to give from it · Hadith 3494

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاعتذار إذا سئل و لم يكن عنده ما يعطي منه · حديث 3495

3495 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا علي بن علي الحراز نا عامر بن سيار ثنا مسور بن الصلت عن محمد بن المنكدر عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل معروف صدقة و ما أنفق على نفسه و أهله كتبت له صدقة و ما وقى به عرضه و ما أعطى في الله فهي له صدقة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو علی بن علی حراز نے ان کو عامر بن سیار نے ان کومسور بن صلت نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہر اچھا کام صدقہ ہے جو کچھ اپنے آپ پر خرچ کرے یا اپنے گھر والوں پر وہ سب اس کے لئے صدقہ ہے اور وہ جس کے ساتھ اپنی عزت بچائے وہ صدقہ ہے اور جو کچھ اللہ کے لئے دے وہ صدقہ ہے۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ، ← عَامِرُ بْنُ سَيَّارٍ ← علي بن علي الحراز ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine the apology if he is asked and he has nothing to give from it · Hadith 3495

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاعتذار إذا سئل و لم يكن عنده ما يعطي منه · حديث 3496

3496 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر نا محمد بن عبد السلام نا أبو الربيع الزهراني نا سليمان بن داود نا عبد الحميد بن الحسن الهلالي عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل معروف صدقة و كل ما أنفق الرجل على أهله كتب له صدقة و كل ما وقى به عرضه كتبت له صدقة قال : قلت ما معنى ما وقى به عرضه قال : ما أعطى الشاعر و المتقي لسانه

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو محمد بن عبدالسلام نے ان کو ابو ربیع زہرانی نے ان کو سلیمان بن داؤد نے ان کو عبدالحمید بن حسن ہلانی نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہر اچھا کام صدقہ ہے اور ہر وہ مال جو آدمی خرچ کرے اپنےاہل پر اس کے لئے صدقہ لکھا جائے گا اور وہ جس کے ساتھ اپنی عزت کی حفاظت کرے اس کے لئے صدقہ لکھا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اس کا کیا مطلب ہے؟ وہ چیز جس کے ساتھ اپنی عزت بچائے فرمایا کہ مثال کے طور پر جو کچھ شاعر کو دے اور اسکی زبان سے بچنے کے لئے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine the apology if he is asked and he has nothing to give from it · Hadith 3496

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاعتذار إذا سئل و لم يكن عنده ما يعطي منه · حديث 3497

3497 - أخبرنا أبو نصر محمد بن علي بن محمد الفقيه الشيرازي نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن عبد الله أنا محمد بن عبيد نا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن أم مبشر الأنصارية قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم و أنا في نخل لي فقال : لمن هذا النخل قلت : لي قال : من غرسه مسلم أو كافر قلت : مسلم قال : ما من مسلم يغرس غرسا أو يزرع زرعا فيأكل منه إنسان أو طير أو سبع إلا كان له صدقة أخرجه مسلم في الصحيح من أوجه عن الأعمش و أخرجاه من حديث قتادة عن أنس

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر محمد بن علی بن محمد فقیہ شیرازی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے ان کو جابر نے ان کو ام مبشر انصاریہ نے وہ کہتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں اپنی کھجوروں میں تھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کس کی کھجوریں ہیں؟ میں نے کہا کہ میری ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ ان درختوں کو کس نے لگایا تھا کسی مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے کہا کہ مسلمان نے یہ درخت لگائے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی کوئی پھل دار درخت لگاتا ہے یا کوئی کھیتی کاشت کرتا ہے پھر اس کے پھل کو انسان کھائے یا پرندہ یا کوئی درندہ مگر اس انسان کے لگانے والے کے لئے یہ صدقہ ہوتا ہے۔ اس کو مسلم نے نکالا ہے صحیح میں سے کئی طریقوں سے اعمش سے اور بخاری و مسلم دونوں نے اس کو نقل کیا ہے قتادہ نے اس نے انس سے۔

أُمِّ مُبَشِّرٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو نصر محمد بن علي بن محمد الفقيه الشيرازي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine the apology if he is asked and he has nothing to give from it · Hadith 3497

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاعتذار إذا سئل و لم يكن عنده ما يعطي منه · حديث 3498

3498 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا عبد الرزاق نا داود بن قيس الصنعاني حدثني عبد الله بن وهب بن منبه عن أبيه قال : حدثني فتح قال : كنت أعمل في الدينباد عالج فيه فقدم يعلى بن منبه أمبرا على اليمن و جاء معه رجال من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فجاء رجل ممن قدم و أنا في الزرع أصرف الماء في الزرع و معه في كمه جوز فجلس على ساقية من الماء و هو يكسر من ذلك الجوز و يأكله ثم أشار إلى فتح فقال : يا فارسي هلم تعلم قال : فدنوت فقال الرجل لفتح أتضمن لي غرس هذا الجوز على هذا الماء فقال له فتح : و ما ينفعني ذلك فقال الرجل : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم بأذني هاتين يقول : من نصب شجرة فصبر على حفظها و القيام عليها حتى تثمر كان له في كل شيء يصاب من ثمرها صدقة عند الله عز و جل فقال له فتح : أنت سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : نعم قال فتح : فأنا أضمنها قال : فمنها جوز الدينباد

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو داؤد بن قیس صنعانی نے ان کو عبداللہ بن وہب بن منبہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے فتح نے وہ کہتے ہیں کہ میں دینباد میں کام کرتا تھا۔ حضرت یعلیٰ بن منبہ یمن کے امیر بن کر آئے ان کے ساتھ بعض اصحاب رسول تھے جولوگ آئے تھے ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا اور میں کھیت میں پانی لگا رہا تھا۔ ان کے پاس ان کی تھیلی میں اخروٹ تھے وہ پانی کے ایک کھالے پر بیٹھ گیا اور وہ اخروٹ توڑ کر کھا رہا تھا اس نے فتح کی طرف اشارہ کر کے کہا اے فارسی یہاں آؤ اور سمجھو میں قریب آیا تو اس آدمی نے مجھے کہا کیا آپ مجھے اس اخروٹ کو کاشت کرنے کی ضمانت دیتے ہیں اس پانی پر۔ فتح نے اس سے کہا کہ مجھے اس سے کیا ملے گا اس آدمی نے کہا کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہیں دونوں کانوں سے فرما رہے کہ جو شخص کوئی درخت لگائے پھر اس کی حفاظت پر اور اس کی دیکھ بھال پر صبر کرے حتیٰ کہ وہ پھل دینے لگے۔ اس کے جتنے پھل ہوں گے ہر پھل پر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے صدقہ ہو گا۔ فتح نے اس سے کہا آپ نے یہ با ت رسول اللہ سے سنی تھی اس نے کہا جی ہاں سنی تھی۔ فتح نے کہا کہ میں اس کا ضامن ہوں اورذمہ داری لیتا ہوں۔ راوی نے کہا کہ انہیں میں سے دینباد کے اخروٹ مشہور ہیں۔

فتح). ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مَنْبَهْ، ← داود بن قيس الصنعاني ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine the apology if he is asked and he has nothing to give from it · Hadith 3498

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاعتذار إذا سئل و لم يكن عنده ما يعطي منه · حديث 3499

3499 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه من أصله نا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الأصبهاني نا عبد الله بن أحمد بن حنبل فذكره بإسناده مثله غير أنه قال : يعلى بن أمية و هو يعلى بن منبه و قال : فجاءني رجل ممن قدم معه و أنا في الزرع كما أصرف الماء في الزرع الباقي سواء

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے اپنی اصل کتاب سے اس کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفاراصفہانی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے پھر انہوں نے اس کو ذکر کیا اسکی اسناد کےساتھ علاوہ ازیں یعلیٰ بن امیہ کہا وہی یعلیٰ بن منبہ ہے ۔وہ کہتےہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا ان میں سے جو یعلیٰ کے ساتھ آئے تھے جبکہ میں کھیت میں تھا جیسے کہ میں کھیت میں پانی پھیر رہا تھا اور باقی برابر ہیں۔

في الزرع كما أصرف الماء في الزرع الباقي سواء ← فجاءني رجل ممن قدم معه و ← يعلى بن أمية و هو يعلى بن منبه و ← عبد الله بن أحمد بن حنبل فذكره بإسناده مثله غير أنه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أبو طاهر الفقيه من أصله، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine the apology if he is asked and he has nothing to give from it · Hadith 3499

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاعتذار إذا سئل و لم يكن عنده ما يعطي منه · حديث 3500

3500 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو مسلم نا الحجبي و هو عبد الله بن عبد الوهاب نا عاصم بن سويد بن زيد بن جارية الأنصاري حدثني عمرو بن عوف إمام مسجد قباء قال حدثني محمد بن يوسف بن الحارث عن أبيه عن جده جابر بن عبد الله السلمي قال : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم دار بني عمرو بن عوف يوم الأربعاء فرأى حصته في الأموال لم يكن رآها قبل ذلك فقال لهم : معشر الأنصار فقالوا : لبيك رسول الله بآبائنا و أمهاتنا قال : لو أنكم إذا هبطتم لعيدكم يعني يوم الجمعة مكثتم حتى تسمعوا من قولي قالوا : نعم يا رسول الله بآبائنا و أمهاتنا قال : فلما كان الجمعة حضروا و صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم و انصرف و صلى ركعتين و كان قبل ذلك إذا صل الجمعة رجع إلى بيته فصلاهما في بيته حتى كان يومئذ فإنه ينفلها في المسجد فلما انصرف استقبلهم بوجهه قال : فتقلب الأنصار إلى المسجد حتى أتوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم : معشر الأنصار قالوا : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم : بآبائنا و أمهاتنا أنت قال : كنتم في الجاهلية إذ لا تعبدون الله تحملون الكل في أموالكم و تفعلون المعروف و تصلون حتى إذا من الله عليكم بالإسلام و أتاكم بمحمد إذا أنتم تحصنون أموالكم فيما يأكل ابن آدم أجر و فيما يأكل الطير أجر و فيما يأكل السبع أجر قال : فانصرف و ما بقي أحد إلا هدم في ماله ثلاثين بابا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید صفار نے ان کو ابو مسلم نے ان کو حجبی نے وہ عبداللہ بن وہاب ہے ۔ ان کو عاصم بن سوید بن زید بن ماریہ انصاری نے انکوعمرو بن عوف امام مسجد قباء نے انکو حدیث بیان کی محمد بن یوسف بن حارث نے انکو ان کے والد نے ان کوان کے دادا جابر بن عبداللہ سالمی نے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے دار بنی عمرو بن عوف میں بدھ کے دن اور آپ نے مالوں میں اپنا حصہ دیکھا جو اس سے قبل نہیں دیکھا تھا اور آپ نے ان لوگوں سے کہااے انصار کی جماعت انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ ہمارے ماں باپ آپ کے اوپر قربان۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم جب اترتے ہو اپنی عید کے لئےیعنی جمعہ کے دن تم ٹھہر جایا کرو حتیٰ کہ میری بات سن لیا کرو انصار نے کہا یا رسول اللہ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان جابر کہتے ہیں کہ جب جمعہ کا دن آیا انصار حاضر ہوئے اور رسول اللہ نے نما ز پڑھائی اور آپ نے ہٹ کر دو رکعت پڑھی اور اس سے پہلے جب آپ جمعہ پڑھاتے تھے تو اپنے گھر میں آ کر دو رکعت پڑھتے تھے حتیٰ کہ اس د ن آپ نے مسجد میں زیادہ پڑھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو انصار ی طرف منہ کر کے ان کے متوجہ ہوئے انصار مسجد میں پلٹ پڑے حضور کے پاس آئے تو حضور نے ان سے فرمایا اےانصار کی جماعت بولے یا رسول اللہ ہمارے ماں باپ آپ کے قربان کیا آپ نے یہ فرمایا ہے کہ تم لو گ جاہلیت میں تھے جب اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے تو تم پورا مال اٹھا کر لے جاتے تھے اور تم اچھے کام کرتے تھے اور نماز پڑھتے تھے حتیٰ کہ اللہ نے جب تمہارے اوپر اسلام کا احسان فرمایا ہے اور تمہارے پاس محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئے ہیں تو اب تم اپنے مالوں کو محفوظ سمجھو جو کچھ ابن آدم کھاتے تھے اس میں اجر ہے اور جو پرند کھاتےہیں درندے کھاتے ہیں اس میں اجر ہے جابر کہتے ہیں حضورلوٹے تو کوئی بھی باقی نہ رہا مگر ہر ایک نے اپنے مال میں (صدقہ کرنے ) کے تیس تیس دروازے کھول لیے۔

جده جابر بن عبد الله السلمي ← أَبِيهِ ← محمد بن يوسف بن الحارث ← عمرو بن عوف إمام مسجد قباء ← عاصم بن سويد بن زيد بن جارية الأنصاري ← الحجبي و هو عبد الله بن عبد الوهاب ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine the apology if he is asked and he has nothing to give from it · Hadith 3500

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاعتذار إذا سئل و لم يكن عنده ما يعطي منه · حديث 3501

3501 - أخبرنا أبو علي الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه نا يعقوب بن سفيان نا أحمد بن نصر نا محمد بن كثير عن الأوزاعي عن حسان بن عطية قال : شكا أهل دمشق إلى أبي الدرداء أثمارها قال : إنكم أطلتم حيطانها و أكثرتم حراسها فجاءها الويل من فوقها

ہمیں خبر دی ہے ابوعلی حسن بن احمد بن ابراہیم بن شاذان بغدادی نے بغداد میں انکو عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ان کو یعقوب بن سفیان نے انکو احمد بن نضر نے ان کو محمد بن کثیر نے انکو اوزاعی نے ان کو حسان بن عطیہ نے انہوں نے فرمایا کہ اہل دمشق نے حضرت ابودرداء کو باغات کے پھلوں کی شکایت کی انہوں نے فرمایا کہ تم لوگوں نے ان کی دیورایں لمبی لمبی کر دی ہیں ان کے چوکیدار زیادہ کر دئیے ہیں مگر ہلاکت ان میں اوپر سےآ گئی ہے۔

إنكم أطلتم حيطانها و أكثرتم حراسها فجاءها الويل من فوقها ← شكا أهل دمشق إلى أبي الدرداء أثمارها ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أبو علي الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان البغدادي بها،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Determine the apology if he is asked and he has nothing to give from it · Hadith 3501

chevron_left Previous
1…656667…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood