شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3478
3478 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني عبد الله ابن صالح نا يعقوب بن إبراهيم نا أبو أسامة نا فضيل بن غزوان نا أبو حازم الأشجعي عن أبي هريرة قال : أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول أصابني جهد فأرسل إلى نسائه فلم يجد عندهن شيئا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا رجل يضيفه هذه الليلة رحمه الله فقام رجل من الأنصار فقال : أنا يا رسول الله فذهب إلى أهله فقال لامرأته ضيف رسول الله لا تدخريه شيئا قالت : و الله ما عندي إلا قوت الصبيه قال : فإذا أراد الصبيه العشاء فنوميهم و تعالي فأطفيء السراج و تطوي بطوننا الليلة ففعلت ثم غدا الرجل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : لقد عجب الله أوضحك الله من فلان و فلانة فأنزل الله عز و جل { و يؤثرون على أنفسهم و لو كان بهم خصاصة } رواه البخاري عن يعقوب بن إبراهيم و أخرجاه من حديث محمد بن فضيل عن أبيه و قال بعضهم في الحديث ثم قامت كأنها تصلح سراجها فأطفأته و جعلا يريانه أنهما يأكلان و باتا طاويين و قال بعضهم يعني أبا طلحة و امرأته
ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی عبداللہ بن صالح نے ان کو یعقوب بن ابراہیم نے ا ن کو اسامہ نے ان کو فضیل بن غزوان نے ان کو ابو حازم اشجعی نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے سخت مشقت پہنچی ہے (یعنی سخت بھوک لگی ہے) حضور نے اپنی عورتوں کے پاس کچھ لینے کے لئے بندہ بھیجا مگر ان کے پاس بھی کچھ موجود نہیں تھا رسول اللہ نے فرمایا خبردار کوئی ہے جو اس بندے کو آج رات مہمان رکھ لے اللہ اس پر رحم کرے گا۔ انصار میں سے ایک آدمی اٹھ کھڑا ہوا اوربولا میں رکھوں گا یا رسول اللہ۔ چنانچہ وہ اپنے گھر میں گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اللہ کا مہمان ہے۔ کچھ جمع کر کے نہ رکھنا وہ بولی اللہ قسم نہیں ہے میرے پاس مگر کھانا بچوں کا اس نے کہا کہ جب عشاء ہو جائے تو بچوں کو سلا دینا اور آکر دیا (چراغ) بجھا دینا اور آج رات ہم بھی اپنے لپیٹ دیں گے یعنی پٹیاں باندھ لیں گے۔ اس خاتون نے ایسے ہی کیا اس کے بعد اس آدمی نے صبح کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضور نے فرمایا البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ خوش ہو رہے ہیں فلاں مرد اور فلاں عورت سے اللہ تعالیٰ ہنس رہا ہے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: " ویؤ ثرون علیٰ انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ" وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود بھوکے ہوتے ہیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے یعقوب بن ابرہیم سے اور بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے محمد بن فضیل کی حدیث سے اس نے اپنے والد سے اور بعض نے حدیث میں کہا ہے۔ اس کے بعد وہ خاتون ایسے کھڑی ہوئی جیسے کہ وہ اپنا چراغ صحیح کر رہی ہے پھر اس کو اس نے بجھا دیا اور دونوں میاں بیوی مہمان کو یوں دکھلانے لگے جیسے دونوں کھا رہے ہیں حالانکہ دونوں نے بھوکے پیٹ رات گزاری تھی۔ بعض نے کہا کہ یہ ابو طلحہ اور ان کی بیوی تھے۔
أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عبد الله ابْن صَالِحٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3478
