Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3478

3478 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني عبد الله ابن صالح نا يعقوب بن إبراهيم نا أبو أسامة نا فضيل بن غزوان نا أبو حازم الأشجعي عن أبي هريرة قال : أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول أصابني جهد فأرسل إلى نسائه فلم يجد عندهن شيئا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا رجل يضيفه هذه الليلة رحمه الله فقام رجل من الأنصار فقال : أنا يا رسول الله فذهب إلى أهله فقال لامرأته ضيف رسول الله لا تدخريه شيئا قالت : و الله ما عندي إلا قوت الصبيه قال : فإذا أراد الصبيه العشاء فنوميهم و تعالي فأطفيء السراج و تطوي بطوننا الليلة ففعلت ثم غدا الرجل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : لقد عجب الله أوضحك الله من فلان و فلانة فأنزل الله عز و جل { و يؤثرون على أنفسهم و لو كان بهم خصاصة } رواه البخاري عن يعقوب بن إبراهيم و أخرجاه من حديث محمد بن فضيل عن أبيه و قال بعضهم في الحديث ثم قامت كأنها تصلح سراجها فأطفأته و جعلا يريانه أنهما يأكلان و باتا طاويين و قال بعضهم يعني أبا طلحة و امرأته

ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی عبداللہ بن صالح نے ان کو یعقوب بن ابراہیم نے ا ن کو اسامہ نے ان کو فضیل بن غزوان نے ان کو ابو حازم اشجعی نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے سخت مشقت پہنچی ہے (یعنی سخت بھوک لگی ہے) حضور نے اپنی عورتوں کے پاس کچھ لینے کے لئے بندہ بھیجا مگر ان کے پاس بھی کچھ موجود نہیں تھا رسول اللہ نے فرمایا خبردار کوئی ہے جو اس بندے کو آج رات مہمان رکھ لے اللہ اس پر رحم کرے گا۔ انصار میں سے ایک آدمی اٹھ کھڑا ہوا اوربولا میں رکھوں گا یا رسول اللہ۔ چنانچہ وہ اپنے گھر میں گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اللہ کا مہمان ہے۔ کچھ جمع کر کے نہ رکھنا وہ بولی اللہ قسم نہیں ہے میرے پاس مگر کھانا بچوں کا اس نے کہا کہ جب عشاء ہو جائے تو بچوں کو سلا دینا اور آکر دیا (چراغ) بجھا دینا اور آج رات ہم بھی اپنے لپیٹ دیں گے یعنی پٹیاں باندھ لیں گے۔ اس خاتون نے ایسے ہی کیا اس کے بعد اس آدمی نے صبح کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضور نے فرمایا البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ خوش ہو رہے ہیں فلاں مرد اور فلاں عورت سے اللہ تعالیٰ ہنس رہا ہے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: " ویؤ ثرون علیٰ انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ" وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود بھوکے ہوتے ہیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے یعقوب بن ابرہیم سے اور بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے محمد بن فضیل کی حدیث سے اس نے اپنے والد سے اور بعض نے حدیث میں کہا ہے۔ اس کے بعد وہ خاتون ایسے کھڑی ہوئی جیسے کہ وہ اپنا چراغ صحیح کر رہی ہے پھر اس کو اس نے بجھا دیا اور دونوں میاں بیوی مہمان کو یوں دکھلانے لگے جیسے دونوں کھا رہے ہیں حالانکہ دونوں نے بھوکے پیٹ رات گزاری تھی۔ بعض نے کہا کہ یہ ابو طلحہ اور ان کی بیوی تھے۔

أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عبد الله ابْن صَالِحٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3478

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3479

3479 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاد نا محمد بن المغيرة السكري بهمدان نا القاسم بن الحكم العرني نا عبيد الله بن الوليد عن محارب بن دثار عن ابن عمر قال : أهدي لرجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم رأس شاة فقال : إن أخي فلانا و عياله أحوج إلى هذا منا قال : فبعث إليه فلم يزل يبعث به واحد إلى آخر حتى تداولها سبعة أبيات حتى رجعت إلى الأول و نزلت { و يؤثرون على أنفسهم و لو كان بهم خصاصة } إلى آخر الآية

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاد نے ان کو محمد بن مغیرہ سکری نے ہمدان میں ان کو قاسم بن حکم عرنی نے ان کو عبداللہ بن ولید نے ان کو محرب بن دثار نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ اصحاب رسول میں سے ایک شخص کو بکری کی سری ہدیہ کے طور پر دی گئی تو اس نے خود کے بجائے یہ کہا کہ میرا فلاں بھائی جو ہے اس کے اہل وعیال مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہیں کہتے ہیں کہ وہ سری ان کے پاس بھیجی گئی مگر انہوں نے بھی اپنے آپ سے اور زیادہ ضرورت مند کی طرف بھیج دی انہوں نے اور آگے الغرض اسی طرح وہ سری سات گھروں سے ہوتی ہوئی واپس پہلے کے پاس پہنچ گئی۔ چنانچہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: " ویوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصا صۃ الخ " وہ لوگ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں مگر وہ خود بھوکے ہوتے ہیں۔

إن أخي فلانا و عياله أحوج إلى هذا منا ← أهدي لرجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم رأس شاة ← ابْنِ عُمَرَ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ بِهَمْدَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3479

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3480

3480 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي نا إسماعيل بن أحمد الجرجاني نا محمد بن الحسن بن قتيبة العسقلاني نا حامد بن يحيى نا سفيان عن عطاء بن السائب عن أبيه عن علي رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لفاطمة : لا أعطيكم و أدع أهل الصفة تطوي بطونهم من الجوع

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو اسماعیل بن احمد جرجانی نے ان کو محمد بن حسن بن قتیبہ عسقلانی نے ان کو حامد بن یحییٰ نے ان کو سفیان نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ان کے والد نے ان کو علی نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ سے فرمایا تھا۔ میں تمہیں نہیں دوں گا کہ میں اہل صفہ کو چھوڑ دوں کہ ان کے پیٹ میں بھوک سے بل پڑ رہے ہیں۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3480

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3481

3481 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار و أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا أبو معاوية عن الأعمش عن نافع قال : مرض ابن عمر فاشتهى عنبا أول ما جاء العنب فأرسلت صفية امرأته بدرهم فاشترت عنقودا بدرهم و اتبع الرسول سائل فلما أتى الباب و دخل قال السائل : السائل قال ابن عمر أعطوه إياه فأعطوه إياه ثم أرسلت بدرهم آخر فاشترت به عنقودا فاتبع الرسول السائل فلما انتهى إلى الباب و دخل قال السائل : السائل قال ابن عمر : أعطوه إياه فأعطوه إياه فأرسلت صفية إلى السائل فقالت و الله لئن عدت لا تصيب مني خيرا أبدا ثم أرسلت بدرهم آخر فأشترت به

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے اور ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو سعید بن نصر نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو نافع نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر بیمار ہو گئے تھے انہوں نے انگور کی خواہش کی جبکہ انگور بھی نئے آئے تھے ان کو زوجہ صفیہ نے ایک درہم بھیجا اور درہم کے بدلے میں ایک گوشہ خرید کیا۔ خرید کرنے والے نمائندے کے پیچھے پیچھے سائل بھی چلا آیا جب وہ دروازے پر آیا اور داخل ہوا تو سائل نے بھی آواز لگا دی حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ یہ اسی سائل کو دے دو لہذٰا گھر والوں نے وہ اسی کو دے دیے پھر دوسرا درہم بھیج کر دوسرا گوشہ منگوایا پھر کوئی سائل چلا آیا اس نے فورا سائل کی آواز لگا دی حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ یہ اسی کو دے دو گھر والی نے وہ اسی کو بھجوا دیئے اور صفیہ نے سائل کو کہلوا بھیجا کہ اللہ کی قسم اگر تم واپس دوبارہ آئے تو پھر تم مجھ سے کسی بھی خیر کی توقع نہ رکھنا پھر انہوں نے تیسری بار درہم بھیج کر انگو ر منگوائے۔

نَافِعٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← إسماعيل بن محمد الصفار و ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3481

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3482

3482 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك أنه بلغه عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : أن مسكينا سألها و هي صائمة و ليس في بيتها إلا رغيف فقالت لمولاة لها أعطيه إياه فقالت : ليس لك ما تفطرين عليه قالت : أعطيه إياه قال : ففعلت قالت : فما أمسنا حتى أهدى لنا أهل بيت أو إنسان ممن كان يهدي لنا شاة و كفنها فدعتني عائشة فقالت : كلي من هذا خير من قرصك

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید قعنبی نے اس میں جو انہوں نے پڑھی مالک کے سامنے کہ ان کو خبر پہنچی تھی سیدہ عائشہ زوجہ رسول سے کہ کسی مسکین نے ان سے سوال کیا تھا حالانکہ وہ خود روزہ دار تھیں اور گھرمیں صرف ایک روٹی رکھی ہوئی تھی چنانچہ سیدہ نے اپنی خادمہ سے کہ یہ روٹی سائل کو دے دو۔ خادمہ نے کہا کہ آپ کے لئے اور کوئی نہیں ہے جس کے ساتھ آپ روزہ افطار کر سکیں۔ سیدہ نے پھر فرمایا کہ یہ سائل کو دے دو کہتے ہیں کہ خادمہ نے وہ سائل کو دے دی خادمہ کا بیان ہے کہ ابھی شام نہیں ہوئی تھی کہ ایک گھرانے سے ہمارے لئے کچھ ہدیہ کیا یا کسی انسان نے جو ہمارے لئے ہدیہ کرتا تھا بکری کا گوشت اور اسی کا بغیر نمک کا سالن چنانچہ سیدہ نے مجھے بلایا اور فرمانے لگی کہ کھاؤ تم بھی اس میں سے یہ زیادہ بہتر ہے تیرا اس روٹی سے۔

الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3482

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3483

3483 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا ابن عثمان أنا عبد الله بن المبارك أنا عمرو بن سعيد بن أبي حسين حدثني ابن سابط أو غيره عن أبي جهم بن حذيفة العدوي قال : انطلقت يوم اليرموك أطلب ابن عمي و معي شنة من ماء أو إناء فقلت : إن كان به رمق سقيته من الماء أو مسحت به وجهه فإذا أنا به ينشع فقلت : أسقيك فأشار أي نعم فإذا رجل يقول : آه فأشار ابن عمي أن انطلق به إليه فإذا هو هشام بن العاص أخو عمرو فأتيته فقلت أسقيك فسمع آخر فقال : آه فأشار هشام أن انطلق به إليه فجيئه فإذا هو قد مات فرجعت إلى هشام فإذا هو قد مات فرجعت إلى ابن عمي فإذا هو قد مات

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابن عثمان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو عمرو بن سعید بن ابو حسین نے ان کو ابن سابط نے یا کسی اور نے ان کو ابو جھم بن حذیفہ عدوی نے وہ کہتے ہیں کہ جنگ یرموک کے دن چلا اپنے چچا زاد کو میدان جنگ میں تلاش کرنے کے لئے اور میرے پانی کا چھوٹا سا مشکیزہ تھا یا کوئی برتن تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر ان میں سانس ہوئی تو میں اسے پانی پلاؤں گا یا ان کے چہرے پر پانی سے ہاتھ ترکر کے پھیروں گا اچانک میں جب ان پر پہنچا تو وہ آخری سانس لے رہے تھے میں نےکہا کہ میں پانی پلاؤں اس نے اشارے سے کہا کہ ہاں اچانک ایک دوسرے زخمی کی آواز آئی آہ چنانچہ چچا زاد نے اشارے سے کہا اس کو پلاؤ میں اس کے پاس پہنچا تو وہ ہشام بن عاص تھے عمرو بن عاص کے بھائی میں ان کے پاس آیا اور کہا پانی پلاؤں انہوں نے کسی اور کی آواز سنی آہ ہشام نے مجھے ااشارہ کیا کہ میں وہاں پہنچوں میں پہنچا تو وہ مر چکے تھے پھر میں واپس ہشام کے پاس پہنچا تو وہ بھی مر چکے تھے پھر میں اپنے چچا زاد کے پاس پہنچا تو وہ بھی مر چکے تھے۔

انطلقت يوم اليرموك أطلب ابن عمي و معي شنة من ماء أو إناء فقلت ← أبي جهم بن حذيفة العدوي ← ابن سابط أو غيره ← عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← ابْنُ عُثْمَانَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3483

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3484

3484 - و أخبرنا و حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن العمري نا محمد بن إسحاق نا محمد بن المثنى نا محمد بن عبيد الله الأنصاري حدثني أبو يونس القشيري حدثني حبيب بن أبي ثابت : أن الحارث بن هشام و عكرمة بن أبي جعل و عياش بن أبي ربيعة يوم اليرموك فدعا الحارث بماء يشربه فنظر إليه عكرمة فقال الحارث : ادفعوا به إلى عكرمة فنظر إليه عياش بن أبي ربيعة فقال عكرمة : ادفعوا إلى عياش فما وصل إلى عياش و لا إلى أحد منهم حتى ماتوا و ما ذاقوه

ہمیں خبر دی ہے اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن عمری نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو محمد بن مثنیٰ نے ان کو محمد بن عبداللہ انصاری نے ان کو ابو یونس قشیری نے ان کو حبیب بن ابو ثابت نے یہ کہ حارث بن ہشام اور عکرمہ بن ابو جہل اور عیاش بن ابو ربیعہ (اصل میں کلمہ غیر واضح ہے) جنگ یرموک کے دن چنانچہ حارث نے پینے کے لئے پانی منگوایا مگر عکرمہ نے ان کی طرف دیکھا تو حارث نے کہا پانی عکرمہ کو دے دو چنانچہ عیاش نے عکرمہ کی طرف دیکھا تو عکرمہ نے کہا کہ اس کو دے دو۔ لہٰذا پانی نہ عباس تک پہنچا اور نہ ہی ان میں سے کسی اور تک حتیٰ کہ سب کا انتقال ہو گیا اور انہوں نے اس کو نہیں چکھا۔

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن العمري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3484

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3485

3485 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو الحسن علي بن أحمد البوشنجي : أنه سئل عن الفتوة ؟ فقال الفتوة عندي في آية من كتاب الله تعالى و خير عن النبي صلى الله عليه و سلم فأما قول الله تعالى : { يحبون من هاجر إليهم و لا يجدون في صدورهم حاجة مما أوتوا و يؤثرون على أنفسهم و لو كان بهم خصاصة } و خبر عن النبي صلى الله عليه و سلم لا يؤمن العبد حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه يعني من الخير و يكره لأخيه ما يكره لنفسه فمن اجتمع فيه هاتان الحالتان فله الفتوة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو الحسن علی احمد بوشنجی نے ان سے پوچھا گیا فتوہ (مردانگی میں غالب آنا) کے بارےمیں تو انہوں نے فرمایا کہ میرے نزدیک فتوہ کتاب اللہ کی آیت میں ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث میں ہے۔ آیت یہ ہے ۔ " یحبون من ھاجر الیھم ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما او ت ویؤچرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ" وہ مسلمان پسند کرتے ہیں اس کو جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے اور وہ اپنے دل کی کوئی خواہش نہ پاتے تھے اس میں جو کچھ ان کو ملا ہے وہ اب بھی دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود بھوکے ہوتے ہیں اور حدیث رسول یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی بندہ مؤمن نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو کچھ اپنے نفس کے لئے کرتا ہے اور جو چیز اپنے لئے نا پسند کرتا ہے اس کے لئے بھی نا پسند کرے۔ پس جس شخص میں یہ دونوں حالتیں جمع ہو جائیں اس کے لئے فتوۃ ہے (یہی مردانگی ہے' یہی ہمت ہے ' یہی جرات ہے۔ مترجم)

الْفُتُوَّةِ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْبُوشَنْجِيُّ،أَنَّهُ سُئِلَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3485

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3486

3486 - أخبرنا محمد بن الحسين السلمي قال : سمعت أبا الحسن بن مقسم يقول : مات الجريري يعني أبا محمد سنة وقعة الهبير مات عطشا بلغني أن بعض الصوفية حمل إليه قدحا من ماء يشربه فنظر إلى من حوله فقال للذي جاء به ويحك كيف أشرب أنا و هؤلاء يلتفون حولي أعطه من شئت منهم فإن كان يصح في وقت إيثار ففي مثل هذا الوقت و مات عطشا

ہمیں خبر دی محمد بن حسین سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن بن مقسم سے وہ کہتے ہیں کہ مر گئے تھے جریری یعنی ابو محمد اس سال جس سال ہبیرہ کا واقعہ ہوا تھا کہ وہ پیاسا مر گیا تھا۔ مجھے خبر پہنچی ہے کہ بعض صوفیاء نے ا سکی طرف پانی کا پیالہ اٹھایا کہ وہ اسے پیے گا چنانچہ اس نے اپنے ارد گرد دیکھا اور اس شخص سے کہا جس نے پیالہ اٹھایا ہوا تھا تیرا برا ہو میں کیسے پیوں اور یہ سارے تو میرے گرد لیٹے متوجہ ہیں ان میں سے جس کو تو چاہے دے دے۔ اگر ایثار کسی وقت صحیح ہو سکتا ہے تو وہ یہی وقت لہذا وہ شخص ہبیرہ صوفی بغیر پانی پئے پیاسا انتقال کر گیا۔

أَبَا الْحَسَنِ بْنَ مِقْسَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3486

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3487

3487 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الواحد بن بكر يقول : سمعت محمد بن داود الرقي يقول عن أبي العباس بن عطاء قال : سعى بالصوفية إلى الخليفة فقال : إن ها هنا قوما من الزنادقة يرفضون الشريعة فأخذ أبو الحسين الثوري و أبو حمزة و الرقام و تستر الجنيد بالفقه فكان يتكلم على مذهب أبي ثور فادخلوا على الخليفة فأمر بضرب أعناقهم فبرز أبو الحسين إلى السياف ليضرب عنقه فقال له السياف : مالك برزت من بين أصحابك ؟ فقال : أحببت أن أوثر أصحابي بحياة هذه اللحظة فتعجب السياف من ذلك و جميع من حضر و كتب به إلى الخليفة فرد أمرهم إلى قاضي القضاة إسماعيل بن إسحاق فقام إليه الثوري فسأله عن أصول الفرائض في الطهارة و الصلاة فأجابه ثم قال : و بعد هذا فإن لله عبادا يأكلون بالله و يلبسون بالله و يسمعون بالله و يصدرون بالله و يردون بالله فلما سمع القاضي كلامه بكى بكاء شديدا ثم دخل على الخليفة و قال : إن كان هؤلاء القوم الزنادقة فما على وجه الأرض موحد

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالواحد بن بکر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن داؤر راقی سے وہ کہتے ہیں کہ روایت ہے ابو العباس بن عطاء سے انہوں نے کہا کہ کسی چغل خور نے صوفیاء کے بارے میں خلیفہ کو چغلی لگائی کہ یہاں پر بے دین اور زندیق لوگ رہتے ہیں جوشریعت چھوڑ چکے ہیں چھوڑ دیتے ہیں لہٰذا ابو الحسن ثوری اور ابو حمزہ اور رقام گرفتار کر لئے گئے اور جنید نے آر لے لی فقہ کی کیونکہ وہ کلام کرتا تھا ابو ثور کے مذہب پر لہٰذا یہ لوگ خلیفہ وقت کے آگے پیش کیے گئے اس نے ان کے قتل کا حکم دے دیا لہٰذا ابوالحسن جلاد کے سامنے پہلے پہلے آگیا تاکہ وہ اس کو پہلے قتل کر دے۔ جلاد نے اس سے پوچھا تمہیں کیا ہوا تم اپنے احباب میں سے پہلے سامنے آ گئے کیوں؟ اس نے جواب دیا کہ ایثار کرنے کے لئے۔ اس نے پوچھا ایثار کیسا؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے اپنے احباب ک اپنے اوپر ترجیح دی ہے ایک لحظہ زندہ رہنے کے لئے کہ میں پہلے قتل ہو جاؤں اور وہ چند منٹ یا لحظہ بھر اور زندہ رہ لیں۔ جلاد اس ایثار کو دیکھ کر حیران ہو گیا اور اس نے ان کو قتل کرنے سے ہاتھ روک لیا وہ حیران تھا اس ایک سے بھی اور ان سب سے بھی۔ چنانچہ اس نے خلیفہ کو خط لکھا اس نے ان لوگوں کا کیس قاضی القضاۃ کی عدالت میں بھیج دیا۔ وہ اس وقت اسماعیل بن اسحٰق تھے لہٰذا عدالت میں بھی اسب سے پہلے ابوالحسین ثوری پیش ہوئے۔ جج نے اس سے دین کے اصول اور فرائض کے بارے میں پوچھا اور طہارت اور نماز کے بارے میں بھی اس نے ان کو صحیح جوابات دئیے اس کے بعد کہا کہ ان اصول وفرائض کے بعد بے شک اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو اللہ کی (خصوصی مدد کے ساتھ) کھاتے ہیں اسی کے ساتھ پیتے ہیں۔ اسی کے ساتھ سنتے ہیں' اسی کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔ قاضی نے جب ا س کا کلام سنا تو بہت زیادہ رویا۔ اس کے بعد خلیفہ کے پاس جا کر کہا اگر یہ لوگ زندیق و بے دین ہیں تو پھر پورے روئے زمین پر کوئی موحد نہیں ہے۔

سعى بالصوفية إلى الخليفة ← أبي العباس بن عطاء ← مُحَمَّدَ بْنَ دَاودَ الرَّقِّيَّ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ بَكْرٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3487

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3488

3488 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد آبادي أنا العباس الدوري نا أبو داود الجفري عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن أبي الزعراء عن عبد الله بن مسعود : أن راهبا عبد الله في صومعته ستين سنة فجاءت امرأة فنزلت إلى جنبه فنزل إليها فواقعها ست ليال ثم سقط في يده فهرب فأتى مسجدا فأوى فيه ثلاثا لا يطعم شيئا فأتي برغيف فكسره فأعطى رجلا عن يمينه نصفه و أعطى آخر عن يساره نصفه فبعث الله إليه ملك الموت فقبض روحه فوضعت الستون في كفه و وضعت الستة في كفة فرجحت يعني الستة ثم وضع الرغيف فرجح ـ يعني رجح الستة هكذا قال أبو داود و نحوه من الكلام

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو عباس دوری نے ان کو داؤد جعفری نے ان کو سفیان نے سلمہ بن سہیل سے اس نے ابو زعراء سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے کہ ایک راہب عبدالہ نے اپنے عبادت خانے میں ساٹھ سال تک عبادت کی تھی لہٰذا ایک عورت آی اورا س کے عبادت خانے کے پہلو میں رہ گئی وہ اس کی طرف اتر آیا اور چھ راتیں اس کے ساتھ گناہ کرتا رہا پھر اپنے تئیں شرمندہ ہوا پھر بھاگ گیا اور ایک مسجد میں آیا تین دن اس نے اس میں پناہ لی کچھ نہیں کھایا تھا چنانچہ ایک روٹی کہیں سے اس کو پہنچی تو اس نے اس ک توڑ کر آدھی دائیں طرف ایک آدمی کو دی اور آدھی بائیں طرف دوسرے آدمی کو دے دی۔ اللہ نے اس پر ملک الموت کو بھیج دیا۔ اس نے اس کی روح قبض کر لی لہذا اس کی ساٹھ سال کی عبادت کے پلڑے میں رکھی گئی اور چھ دن والے گناہ دوسرے پلڑے میں رکھے گئے چھ دن والا پلڑا بھاری ہو گیا اس کے بعد اس نے جو روٹی دائیں بائیں والوں کو کھلائی تھی وہ پلڑے میں رکھی گئی تو وہ بھاری ہو گئی چھ دنوں سے بھی۔ اسی طرح کہا ہے ابو داؤد نے اور اسی کی مثل کلام بھی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← أبو داود الجفري ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3488

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3489

3489 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان أنا أحمد بن يوسف نا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن ثور عن خالد بن معدان عن أبي ذر عن معاذ بن جبل قال : من أصاب مالا فأنفقه في حق كان من الشاكرين فإن آثره على نفسه كان من الخاشعين

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا ثور سے اس نے خالد بن معدان سے اس نے ابو ذر سے اس نے معاذ بن جبل سے اس نے کہا کہ جو شخص مال حاصل کر لے اور پھر اس کو خرچ کرے حق میں وہ شکر کرنے والوں میں شمار ہو گا اگر اس کو اپنے نفس پر ترجیح دے تو وہ عاجزی کرنے والوں میں ہو گا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3489

chevron_left Previous
1…646566…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood