Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3466

3466 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي فيما قرأ على مالك : أنه بلغه أن مسكينا استطعم عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم و بين يديها عنب فقالت لإنسان خذ حبة فأعطها إياه فجعل ينظر إليها و يتعجب فقالت أتعجب كم ترى في هذه الحبة من مثقال ذرة

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے اس میں سے جو اس نے پڑھا مالک کے سامنے۔ ان کو خبر پہنچی تھی کہ ایک مسکین نے سیدہ عائشہ زوجۃ الرسول سے کھانا مانگا اور اس کے سامنے انگور پڑے تھے اس نے کسی سے کہا کہ اس میں سے ایک دانہ اٹھاؤ اور اس کو دے کر آؤ۔ وہ اس کی طرف دیکھنے لگا تو بولیں۔ کیا تم حیران ہو رہے ہو اس ایک دانے میں تم کتنے مثقال ذرۃ دیکھتے ہو یعنی کم سے کم صدقہ کو بھی حقیر نہ سمجھو۔

الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3466

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3467

3467 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا إبراهيم بن الحارث نا يحيى بن أبي بكير نا حماد بن سلمة أنا ثابت البناني عن الدارمي : أن سائلا أتى عبد الرحمن بن عوف و بين يديه طبق من عنب فناوله حبة فكف السائل يده فقيل له : و أين تقع هذه منه ؟ قال : تقبل الله مثقال ذرة و خردلة و كان فيها مثاقيل ذرة قال أحمد : و منها أنه يستحب للمتصدق أن يتصدق بزوجين

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو دارمی نے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کے پاس ایک سائل آیا۔ ان کے سامنے انگوروں کا ایک تھال بھرا ہوا تھا انہوں نے اس میں سے ایک دانہ اٹھا کر سائل کو پکڑا یا تو اس نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ حضرت ابو عوف سے کہا گیا کہ یہ ایک دانہ وہ کیا کرتے گا؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو ایک ذرے کی مقدار اور ایک رائی بھی قبول کرتا ہے۔ اس میں تو کئی کئی ذروں کے برابر ہے۔ امام احمد بیہقی فرماتے ہیں کہ نفلی صدقہ کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ صدقہ کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ وہ جوڑا جوڑا چیز کا صدقہ کرے۔

الدَّارِمِيِّ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3467

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3468

3468 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة نا إسحاق بن إبراهيم بن عباد أنا عبد الرزاق و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري نا جدي يحيى بن منصور القاضي نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أنفق زوجين من ماله في سبيل الله دعي من أبواب الجنة و للجنة أبواب فمن كان من أهل الصلاة دعي من باب الصلاة و من كان من أهل الصيام دعي من باب الريان و من كان من أهل الصدقة دعي من باب الصدقة و من كان من أهل الجهاد دعي من باب الجهاد فقال أبو بكر : يا رسول الله ما على أحد من ضرورة من أيها دعي فهل يدعى أحد منها كلها يا رسول الله ؟ قال : نعم و إني لأرجو أن تكون منهم و في رواية الدبري قال : فقال أبو بكر و الله يا رسول الله ما على أحد من ضرورة من أيها دعي فهل يدعى منها كلها أحد يا رسول الله ؟ قال : نعم و إني لأرجو أن تكون منهم و الباقي سواء غير أنه قدم ذكر الصدقة على الجهاد و الصيام رواه مسلم في الصحيح عن عبد بن حميد عن عبد الرزاق قال : و منها أن يتصدق في حال قوته و صحته فإن ذلك أفضل من أن يتصدق في مرضه أو بعد موته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن علی بن عبدالحمید صنعانی نے مکہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم بن عباد نے ان کو عبدالرزاق نے(ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ بن منصورقاضی نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا جو شخص اپنے مال میں سے دو جوڑے خرچ کرے گا اللہ کی راہ میں اس کو جنت کے سارے دروازوں سے بلایا جائے گا اور جنت کے کئی دروازے ہیں جو شخص اہل نماز میں سے ہو گا وہ نماز والے دروازے سے اور جو اہل صیام سے ہو گا وہ باب الریان سے اور اہل صدقہ میں سے ہو گا وہ باب صدقہ میں سے اور جو شخص اہل جہاد میں سے ہو گا وہ با جہاد سے بلایا جائے گا۔ ابو بکر صدیق نے فرمایا رسول اللہ کسی پر کوئی مجبوری نہیں کہ کون کس دروازے سے بلایا جائے کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جس کو تمام دروازوں سے بلایا جائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جی ہاں ہو گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ آپ ہوں گے اور دبری کی روایت میں ہے کہ ابو بکر نے کہا اللہ کی قسم یا رسول اللہ کسی کے کوئی پرواہ نہیں کہ کون کہاں سے بلایا جائے گا کیا کوئی ان دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ حضور نے فرمایا بالکل اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ تم ہوں گے اور باقی سب برابر ہیں ۔ اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں عبد بن حمید سے انہوں نے ابن عبدالرزاق سے۔ (امام احمد بیہقی فرماتے ہیں) کہ نفلی صدقہ کی شرائط میں سے ہے کہ وہ صدقہ اپنی قوت اور صحت کی حالت میں کرے یہ افضل ہے اس سے کہ وہ صدقہ کرے اپنی بیماری میں یا پھر موت کے بعد کیا جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← عبد الرزاق و ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3468

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3469

3469 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عمر بن برهان الغزال في آخرين ببغداد و قالوا : أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا الحسن بن عرفة نا جرير بن عبد الحميد عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الصدقة أفضل ؟ قال : اثنان أن تصدق و أنت صحيح شحيح تأمل البقاء و تخشى الفقر و لا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم قلت لفلان كذا و لفلان كذا ألا و قد كان لفلان رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن جرير

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن عمر بن برہان غزال نے آخرین میں بغداد میں اور ان سب نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو عمارہ بن قعقاع نے اس نے ابوزرعہ سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ سے پوچھا گیا تھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ دو ہیں یہ کہ آپ صدقہ کریں حالانکہ تندرست ہوں۔ حریص ہوں بقاء کی امید رکھتے ہوں اور فقر سے ڈرتے ہوں اور نہ مہلت دے یعنی سستی نہ کر اس وقت تک کہ جب روح حلقوم تک پہنچ جائے پھر تم یوں کہو کہ فلاں کو اتنی دے دو اور فلاں کو اتنی دے دو۔ خبردار وہ تو ہے بھی فلاں کے لئے۔ اس کو مسلم نے راویت کیا زہیر بن حرب سے اس نے جریر سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو عبد الله الحسين بن عمر بن برهان الغزال في آخرين ببغداد و

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3469

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3470

3470 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان أنا أبو كامل الجحدري و أخبرنا زيد بن أبي هاشم العلوي بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم نا محمد بن الحسين بن موسى القرار نا مسدد قالا نا عبد الواحد بن زياد ثنا عمارة بن القعقاع فذكره بإسناده قال : قال رجل للنبي صلى الله عليه و سلم و في رواية مسدد قال رجل يا رسول الله فذكره غير أنه لم يقل اثنان و لا قوله إلا و قال مسدد حريص بدل شحيح و رواه مسلم في الصحيح عن أبي كامل و رواه البخاري عن موسى عن عبد الواحد

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو کامل مجددی نے۔۔ اور ہمیں خبر دی ہے زید بن ابو ہاشم علوی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر دحیم نے ان کو محمد بن حسین بن موسیٰ قرار نے ان کو مسدد نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے عبدالواحد بن زیاد نے ان کو عمارہ بن قعقاع نے پھر انہوں نے اس کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا اور مسدد کی روایت میں یوں کہا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر اسی مذکورہ روایت کو ذکر کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے اثنان کا لفظ نہیں کہا اور یہ بھی نہیں کہا کہ الاوقال مسدد حریص۔ بدلے شحیح کے۔ اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے صحیح میں ابو کامل سے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے موسیٰ سے اس نے عبدالواحد سے۔

رَجُلٌ: ← رجل للنبي صلى الله عليه و سلم و في رواية مسدد ← عمارة بن القعقاع فذكره بإسناده ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدٌ ← محمد بن الحسين بن موسى القرار ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← زيد بن أبي هاشم العلوي بالكوفة ← أبو كامل الجحدري و ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3470

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3471

3471 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب عن سليمان بن بلال عن كثير بن زيد عن المطلب أنه : قيل يا رسول الله ما آتى المال على حبه فكلنا نحبه قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تؤتيه حين تؤتيه و نفسك تحدثك بطول العمر و الفقر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان ان کو عبداللہ بن واھب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو کثیر بن زید نے مطلب سے کہ بیشک کہا گیا ہے یا رسول اللہ اس سے کیا مراد ہے ۔ "وات المال علی حبہ"۔ کہ مال دیا اس کی محبت کے باوجود کہ ہر شخص ہم میں سے مال سے محبت رکھتا ہے تو رسول اللہ نے فرمایا ۔ مال آپ جب بھی دیں گے تیرا نفس تجھ سے باتیں کرتا ہے لمبی عمر کی اور خرچ کرنے کی صورت میں فقیر ہو جانے کی ۔

المطلب أنه قيل ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3471

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3472

3472 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن مرزوق نا وهب بن جرير نا شعبة ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا مالك بن يحيى نا يزيد بن هارون نا شعبة عن زبيد عن مرة عن عبد الله في قوله و آتى المال على حبه قال : تصدق و أنت صحيح شحيح تأمل الغنى و تخشى الفقر و في رواية وهب تؤتيه و أنت حريص شحيح تأمل العيش و تخشى الفقر و رواه سلام عن سليمان المدائني عن محمد بن طلحة عن زبيد فرفعه و هو ضعيف الحديث

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ہے ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد مصری نے ان کو مالک بن یحییٰ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو شعبہ نے ان کو زبیر نے ان کو مرہ نے ان کو عبداللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارےمیں۔ واتی المال علی حبہ"۔ کہ اس نے مال کی محبت کےباوجود مال دیا۔ فرمایا اس کا مطلب ہے کہ تم صدقہ کرو حالانکہ تم تندرست ہو اور حریص ہو۔ غنی ہونے کی آرز و رکھتے ہو اور تم فقرے سے ڈرتے ہو۔ وہب کی ایک روایت میں یوں ہے کہہ تم مال دو حالانکہ تم حریص ہو صحیح ہو جینے کی امید رکھتے ہو اور فقرے سے ڈرتے ہو اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے سلیمان مدائنی سے اس نے محمد بن طلحہ سے اس نے زبیر سے پھر اس نے اس کو مرفوع کیا ہے حالانکہ وہ ضعیف الحدیث ہے۔

مُرَّۃُ ← زُبَيْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مالك بن يحيى ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3472

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3473

3473 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن الفضل الصائغ العسقلاني نا آدم بن أبي إياس نا جرير بن عثمان و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا جعفر بن محمد الفريابي نا صفوان بن صالح الدمشقي نا الوليد بن مسلم نا حريز بن عثمان عن عبد الرحمن بن ميسرة عن جبير بن نفير عن بشر بن جحاش قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه الآية : { فمال الذين كفروا قبلك مهطعين } إلى قوله { كلا إنا خلقناهم مما يعلمون } ثم برق رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال و في رواية ابن عبدان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و بصق في كفه و وضع عليها إصبعه و قال : يقول الله عز و جل ابن آدم أنى تعجزني و قد خلقتك من مثل هذه حتى إذا سويتك و عدلتك مشيت بين بردين و للأرض منك وثيد فجمعت و منعت حتى إذا بلغت التراقي قلت أتصدق و أنى أوان الصدقة لفظ حديث آدم و لم يذكر ابن عبدان تلاوة الآية و بشر بن جحاش كان في كتابي مقيدا بالشين و اختلفوا فيه فمنهم من قال هكذا و منهم من قال بسر بالسين غير معجمة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن فضل صائغ عسقلانی نے ان کو آدم بن ابو ایاس نے ان کو جریر بن عثمان نے اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو جعفر بن محمد فریابی نے انکو صفوان بن صالح دمشقی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کر جریر بن عثان نے ان کو عبدالرحمٰن بن میسرہ نے ان کو جبیر بن نفیر نے ان کو بشر بن جحاش نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ آیت فمال الذین کفرو ا قبلک مھطعین عن الیمین وعن الشمال عزین ایطمع کل امرء ان یدخل جنتہ نعیم ۔ کلا انا خلقنھم مما یعملون " پس کیا ہو گیا" اے کافروں کو کہ ایک آپ کی طرف دوڑتے آ رہے ہیں۔ دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے ٹولیاں بنا بنا کر۔ کہ طمع رکھتا ہے ہر ایک آدمی ان میں سے کہ وہ داخل کیا جائے گا جنت کے باغ میں؟ ہر گز نہیں۔ بے شک ہم نے ان کو پیدا کیا اس چیز سے جس کو وہ بھی جانتے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلغم تھوکا اور راوی کہتے ہیں کہ ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اور انہوں نے اپنی ہتھیلی پر تھوکا اور اس پر انگلی رکھ لی اور فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے ابن آدم تو مجھے کہاں سے عاجز کرے گا حالانکہ میں نے ہی تجھے پیدا کیا تھا اس (تھوک) کی مثل سے حتیٰ کہ جب میں نے تجھےبرابر کر دیا واور تجھے درست کر دیا تو وہ ٹھنڈی چیزوں کے درمیان تو چلتا ہے اور زمین میں تجھے گاڑنا ہے پھر بھی تو جمع کرتا ہے مال اور منع کرتا ہے تو دینے سے حتیٰ کہ جب جان پہنچ جاتی ہے ہنسلی تک تو کہتا ہے میں صدقہ کرتا ہوں اور کہاں ہوتا ہے اب وقت صدقہ کرنے کا۔ یہ الفاظ حدیث آدم کے ہیں اور ابن عبدان نے آیت کی تلاوت کا ذکر نہیں کیا اور بشر بن جحاشی میری کتاب میں شین کے ساتھ تھا اور لوگوں نے اس میں اختلاف کیا۔ کچھ نے کہا کہ اسی طرح ہے اور کچھ نے کا بسر سین کے ساتھ ہے نقطوں کے بغیر۔

بشر بن جحاش ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← جرير بن عثمان و ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← أحمد بن الفضل الصائغ العسقلاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3473

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3474

3474 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران و أبو محمد بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال نا سعدان بن نصر ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن ابن بردية عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يخرج الرجل شيئا من الصدقة حتى يفك عن لحى سبعين شيطانا ليس في رواية أبي بشران عن

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے اور ابو محمد بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے سعد بن نصر نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ نہیں نکالتا کوئی آدمی کسی شے کو صدقہ کے طور پر مگر ہو توڑ دیتا ہے منہ ستر شیطان کا (ابو بشران کی روایت میں نہیں ہے۔)

أَبِيهِ ← ابن بردية ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين بن بشران و أبو محمد بن عبد الجبار السكري ببغداد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3474

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3475

3475 - أخبرنا أبو محمد السكري أنا إسماعيل الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا الثوري عن عمار الدهني عن راشد بن الحارث عن أبي ذر قال : ما خرجت صدقة حتى يفك عنها لحى سبعين شيطانا كلهم ينهى عنها هكذا موقوفا

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد سکری نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو خبر دی ثوری نے ان کو عمار وہنی نے ان کو راشد حارث نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں ہ نہیں نکلتا کوئی صدقہ حتیٰ کو ٹوٹ جاتا ہے اس سے منہ ستر شیطان کا ان میں سے ہر ایک منع کرتا ہے صدقہ کرنے سے اسی طرح مروی ہے موقوف۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← رَاشَدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3475

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3476

3476 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أحمد بن محمد بن الحسن بن الشرقي نا أحمد بن الأزهر نا وهب بن جرير نا أبي قال : سمعت عبد الله بن عمر يحدث عن حبيب بن عبد الرحمن عن حفص بن عاصم و عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا تصدق الرجل بصدقة من كسب طيب و لا يقبل الله إلا طيبا أخذها الله بيمينه فيربيها لأحدكم كما يربي أحدكم فلوه أو فصيله حتى إن الثمرة أو اللقمة لتكون أعظم من أحد رواه سعيد بن يسار عن أبي هريرة و هو من ذلك الوجه مخرج في الصحيحين

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو احمد بن محمد بن حسن شرقی نے ان کو احمد بن ازہر نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمر سے وہ حدیث بیان کرتے تھے حبیب بن عبدالرحمٰن سے وہ حفص بن عاصم سے وہ ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ نے فرمایا جب کوئی آدمی صدقہ کرتا ہے پاکیزہ کمائی سے حالانکہ اللہ تعالیٰ بھی پاک چیز کےسوا قبول نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتے ہیں پھر وہ اس کو تمہارے لیے ایسے پالتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے اونٹ کے بچے کو پالتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک پھل یا ایک لقمہ البتہ بڑا یو جاتا ہے احد پہاڑ سے بھی۔ اس کو روایت کیا ہے سعید بن یسار نےابوہریرہ سے اور وہ اسی طریق سے منقول ہے بخاری و مسلم میں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حفص بن عاصم و ← حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ← اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3476

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل التصدق من كسب طيب · حديث 3477

3477 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب نا أحمد بن عبد الملك نا موسى بن أعين أخبرني عمرو بن الحارث عن دراج عن ابن حجيرة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أديت زكاة مالك فقد قضيت ما عليك فيه و من جمع مالا حراما ثم تصدق منه لم يكن فيه أجر و كان اصره عليه فصل ما جاء في الإيثار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو احمد بن عبدالملک نے ان کو موسیٰ بن اعین نے ان کو خبر دی ہے عمرو بن حارث نے ان کو دراج نے ان کو ابن حجیرہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دو تو تم نے وہ حق پورا کر دیا جواس میں آپ کے اوپر تھا اور جس نے مال حرام جمع کیا پھر اس سے صدقہ کیا اس میں کوئی اجر نہیں ہو گا اور اس کا بوجھ اسی پر ہو گا (یعنی اس کا وبال اسی پر ہو گا)۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ حُجَیْرَۃَ ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separating charity from earning good · Hadith 3477

chevron_left Previous
1…636465…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood