Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3454

3454 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو جعفر الدينوري و أحمد بن الهيثم بن خالد قالا نا أحمد بن يونس نا الليث عن أبي الزبير عن يحيى بن جعدة عن أبي هريرة أنه قال : يا رسول الله أي الصدقة أفضل ؟ قال : جهد المقل و ابدأ بمن تعول

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو جعفر دنیوری اور احمد بن ہیثم بن خالد نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے احمد بن یونس نے ان کو لیث نے ان کو ابوالزبیر نے ان کو یحییٰ بن جعدہ نے ان کو ابو ہریرہ نے کہتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ حفص نے فرمایا تنگدستی میں بڑی کوشش سے د یا جانے والا اور ابتداء خرچ کی ان سے کیجئے جو آپ کے عیال ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أبو جعفر الدينوري و أحمد بن الهيثم بن خالد ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3454

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3455

3455 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أبادي نا العباس بن محمد الدوري نا أبو داود الحفري عن سفيان الثوري عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال : جاء ثلاثة نفر إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال أحدهم : كانت لي مائة أوقية فتصدقت منها بعشرة أواق الآخر كانت لي مائة دينار فتصدقت منها بعشرة دنانير و قال الآخر كانت لي عشرة دنانير فتصدقت منها بدينار فقال كلكم في الأجر سواء كلكم قد تصدق بعشر ماله

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو داؤد حضرمی نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو حارث نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ تین آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور ایک نے کہا میرے پاس ایک سو اوقیہ چاندی ہے ۔ میں نے اس میں سے دس اوقیے صدقہ کیا ہے اور دوسرا بولا میرے پاس ایک سو دینار نقدی ہے میں نے اس میں سے دس دینار صدقہ کیے ہیں اور تیسرا بولا کہ میرے پاس دس دینار ہیں میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک برابر ہے اجر میں ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا ہے۔

جاء ثلاثة نفر إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3455

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3456

3456 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا ابن أبي العوام نا يزيد بن هارون أنا أبو الأشهب عن الحسن قال : قال رجل لعثمان بن عفان ذهبتم يا أصحاب الأموال بالخير تتصدقون و تعتقون و تحجون و تنفقون فقال عثمان : و إنكم لتغبطوننا قال : إنا لنغبطكم قال : فو الله لدرهم ينفقه أحد من جهد خير من عشرة آلاف درهم غيض من فيض قال أحمد و منها أن يتصدق من كسب يده و لا يستحقر ما يتصدق به و يضعه في يد السائل

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابن ابو العوام نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابوالاشہب نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عثمان بن عفان سے کہا۔ اے مالدارو تم لوگ پوری خیر لے گئے ہو۔ صدقہ تم لوگ کرتے ہو ۔ غلام تم لوگ آزاد کرتے ہو حج تم لوگ کرتے ہو (ہر جگہ) خرچ ہی خرچ کرتے ہو۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ تم لوگ ہم لوگوں پر رشک کرتے ہو؟ اس نے کہا ہک ہم لوگ واقعی تم لوگوں پر رشک کرتے ہیں۔ حضرت عثمان بن عفان نے فرمایا کہ اللہ کی قسم وہ ایک درہم جس کو ایک بڑا آدمی محنت مشقت کے ساتھ بچا کر خرچ کرتا ہے وہ ان دس ہزار سے زیادہ بہتر ہے جو مال کی ریل پیل سے خرچ کرتا ہے۔ (امام احمد بیہقی فرماتے ہیں ) نفلی صدقے کی شرائط میں سے ہے کہ انسان اپنے ہاتھ کی کمائی میں سے خرچ کرے جو کچھ صدقہ کرے اور سائل کے ہاتھ میں رکھے اس کو حقیر اور کم تر نہ سمجھے۔

الْحَسَنِ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← ابْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3456

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3457

3457 - و روينا في الحديث عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : على كل مسلم صدقة قالوا : فإن لم يجده ؟ فيعمل بيده فينفع نفسه و يتصدق

اور ہم نے حدیث میں روایت کیا ہے ابو موسیٰ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہر مسلم کے ذمے صدقہ ہے لوگوں نے پوچھا کہ اگر ہم مسلم صدقہ کرنے کے لئے کچھ نہ پائے تو فرمایا کہ پھر اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اپنے نفس کو فائدہ دے اور صدقہ کرے۔

فإن لم يجده فيعمل بيده فينفع نفسه و يتصدق ← عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ، ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← و روينا في الحديث

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3457

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3458

3458 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب نا أبو داود نا شعبة عن الأعمش قال : سمعت أبا وائل يحدث عن ابن مسعود قال : كنا نتحامل و كان الرجل يتدق بنصف صاع فيقال إن الله لغني عن صدقة هذا و يتصدق الرجل بصدقة كثيرة فيقال هذا مرائي فنزلت هذه الآية { الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات } إلى آخر الآية رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن منصور عن أبي داود و رواه البخاري من وجه آخر عن شعبة و رواه غندر عن شعبة و قال في الحديث : لما أمرنا بالصدقة كنا نتحامل فنتصدق فتصدق أبو عقيل بنصف صاع و جاء إنسان بأكثر منه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے اعمش سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو وائل سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہتے ہیں کہ ہم لوگ اٹھا کر لاتے تھے کوئی آدمی نصف صاع کا صدقہ کرتا تھا (دوسیر یا دو کلو) لہٰذا یوں کہا جاتا ہے بے شک غنی ہے اس صدقے سے (یعنی اللہ کو اس تھوڑے سے صدقہ کی کیا ضرورت ہے؟) اور کوئی آدمی بہت سارا صدقہ کرتا تو کہا جاتا ہے کہ یہ ریاکار ہے دکھاوا کر رہا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ " الذین یلمزون المطوعین من المؤمنین فی الصدقات۔ والذین لا یجدون الال جھدھم فیسخرون منھم سخراللہ منھم ولھم عذاب الیم"۔ (منافق لوگ) جو طعن کرتے ہیں خوشی سے صدقہ کرنے والے مسلمانوں کے صدقات میں اور جو مسلمان کچھ نہیں پاتے سوائے اپنی محنت کے (تو وہ منافق) ان کا مذاق اڑاتے ہیں ان سے تمسخر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے تمسخر کرے گا اورا ن کے لئے عذاب ہے دردناک۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحٰق بن منصور سے اس نے ابو داؤد سے اورا س کو روایت کیا ہے بخاری نے دوسرے طریق سے شعبہ سے اور اس کے روایت کیا ہے غندر نے شعبہ سے اور حدیث میں یوں کہا ہے کہ جب ہم لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم ملا تو ہم لوگ اٹھا اٹھا کر لاتے تھے اور صدقہ کرتے تھے پھر صدقہ کیا ابو عقیل نے نصف صاع کو اور ایک انسا ن اس سے زیادہ لے کر آیا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3458

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3459

3459 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه نا محمد بن غالب نا سعيد بن الربيع و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنا جدي يحيى بن منصور نا أحمد بن سلمة نا محمد بن بشار العبدي نا سعيد بن الربيع نا شعبة عن سليمان قال : سمعت أبا وائل يحدث عن أبي مسعود قال : كنا نتحمل على ظهورنا فيجيء الرجل بالشيء فيتصدق به فجاء رجل بنصف صاع و جاء رجل بشيء كثير فقالوا : إن الله تعالى غني عن صدقة هذا و قالوا : هذا مراء فنزلت { و الذين لا يجدون إلا جهدهم } رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن بشار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکرمحمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو سعید بن ربیع نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ بن منصور نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن بشار عبدی نے ان کو سعید بن ربیع نے ان کو شعبہ نے ان کو سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو وائل سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ اپنی پیٹھوں پر لاد کر لاتے تھے ایک آدمی کچھ لے آتا اور اس کو صدقہ کرتا چنانچہ ایک آدمی آدھا صاع لے کر آیا اور صدقہ کیا ایک آدمی بہت سارا سامان لایا۔ لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ غنی ہے اس کے صدقہ سے اور اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ دکھاوا کرنے والا ہے لہٰذا یہ آیت نازل ہوئی۔ " والذین لایجدون الا جھدھم۔ الایۃ" ۔ اور جو (مسلمان ) کچھ نہیں پاتے اپنی محنت کی کمائی کے سوا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن بشار سے۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبَا وَائِلٍ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّيَ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← سعيد بن الربيع و ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3459

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3460

3460 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الملك بن محمد نا عثمان بن عمر نا أبو عامر الخزاز عن أبي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال : قال لي النبي صلى الله عليه و سلم : لا تحقرن من المعروف شيئا و لو أن تلقى أخاك بوجه طلق رواه مسلم في الصحيح عن أبي غسان عن عثمان بن عمر

ہمیں خبر دی ابو ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبدالملک بن محمد نے ان کو عثمان بن حکم نے ان کو عامر خزار نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو عبداللہ بن صامت نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیکی میں سے کسی شے کو حقیر نہ سمجھو اگرچہ تم اپنے بھائی سے ملو دمکتے و مسکراتے چہرے کے ساتھ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو غسان سے اس نے عثمان بن عمر سے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3460

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3461

3461 - أخبرنا أبو علي الروذباري نا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا قتيبة و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن سهل بن حمدويه الفقيه ببخارا أنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ نا سعيد بن سلمان قالا : نا الليث بن سعد عن سعيد بن أبي سعيد عن عبد الرحمن بن نجيد أخي بني حارثة أن جدته حدثته و هي أم نجيد و كانت ممن بايع رسول الله صلى الله عليه و سلم أنها قالت : يا رسول الله و الله إن المسكين ليقوم على بابي فما أجد له شيئا أعطيه إياه فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم فإن لم تجدي شيئا تعطينه إياه إلا ظلفا محرقا فادفعيه إليه في يده لفظ حديث أبي عبد الله و في رواية الروذباري عن عبد الرحمن بن نجيد عن جدته أم نجيد

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو قتیبہ نے اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور مجھے خبر دی ہے احمد بن سہل بن حمدویہ فقیہ نے بخارا میں ان کو صالح بن محمد بن حبیب حافظ نے ان کو سعید بن سلمان نے دونوں کو لیث بن سعد نے ان کو سعید بن ابو سعید نے ان کو عبدالرحمٰن بن نجیداخی بنو حارثہ نے کہ ان کی دادی نے ان کو حدیث بیان کی تھی اور وہ ام نجید ہیں اور وہ ان میں سے تھی جنہوں نے رسول اللہ سے بیعت کی تھی وہ کہتی ہیں کہ انہوں نےپوچھا رسول اللہ اللہ کی قسم مسکین ہمارے دروازے پر ہوتا ہے اور میرے پاس اس کو دینے کے لئے کوئی بھی چیز نہیں ہوتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا گر تم اس کو دینے کے لئے کچھ نہ پاؤ سوائے بکری کے جلے ہوئے پائے کے توا س کے ہاتھ میں وہ بھی رکھ دو۔ یہ الفاظ ابو عبداللہ کی حدیث کے ہیں اور روذباری کی ایک روایت میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن نجید سے اس نے اپنی دادای ام نجید سے۔

سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ سَلْمَانَ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أحمد بن سهل بن حمدويه الفقيه ببخارا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← قتيبة و ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3461

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3462

3462 - أخبرنا أبو أحمد المهرجاني أنا أبو بكر بن جعفر نا محمد بن إبراهيم البوشنجي نا ابن بكير نا مالك عن زيد بن أسلم عن عمرو بن معاذ الأشهلي عن جدته أنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا نساء المؤمنات لا تحقرن إحداكن أن تهدي لجارتها و لو كراع شاة محرقا

ہمیں خبر دی ہے ابو احمد مہرجانی نے ان کو ابو بکر بن جعفر نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عمرو بن معاذ اشھلی نے ان کو ان کی دادی نے اس نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا اے مؤمن عورتیں تم میں سے کوئی ایک بھی معمولی نہ سمجھے (اس بات کو کہ) وہ اپنی پڑوسن کو ہدیہ دے اگر چہ بکری کا جلا ہوا پایا بھی ہو(یعنی بکری کی نلی ہی کیوں نہ ہو)۔

جَدَّتِهِ أَنَّهَا ← عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3462

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3463

3463 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا يوسف بن محمد الصفار نا ابن أبي فديك نا محمد بن عثمان عن أبيه : أن حارثة بن النعمان كان قد ذهب بصره فجعل خيطا من مصلاه إلى باب حجرته و وضع عنده مكتلا فيه تمر و غير ذلك و كان إذا سلم المسكين أخذ من ذلك المكتل ثم أخذ بالخيط حتى ينتهي إلى باب الحجرة حتى يناوله المسكين فكان أهله يقولون له : نحن نكفيك فيقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : مناولة المسكين تقي ميتة السوء

ہمیں خبر دی ہے ابو علی بن شاذان بغدادی نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو یوسف بن محمد صفار نے ان کو ابن ابو فدیک نے ان کو محمد بن عثمان نے ان کو ان کے والد نے ان کو حارثہ بن نعمان نے ان کی بینائی چلی گئی تھی لہٰذا اس نے اپنے مصلے سے لے کر اپنے کمرے کے دروازے تک اس نے ایک دھاگا باندھا تھا اور وہاں ایک تھیلا رکھ دیا تھا اس میں کھجوریں تھیں اور چیزیں بھی جو کوئی مسکین اس کو سلام کرتا تو وہ تنے ہوئے دھاگے کو پکڑ کر کمرے کے دروازے تک پہنچتے اور اپنے ہاتھ سے وہ چیز مسکین کو پکڑواتے ان کے گھر والے جب ان سے کہتے کہ ہم یہ کام کرنے کے لئے کافی ہیں تو وہ یہ کہتے کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ فرماتے تھے کہ مسکین کے ہاتھ میں پکڑوانا بری موت سے حفاظت کرتا ہے۔

محمد بن عثمان ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← يوسف بن محمد الصفار ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان البغدادي بها،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3463

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3464

3464 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد نا أبو النضر عن شعبة عن خليد بن جعفر عن أم سلمة : أن مساكين سألوها فقالت يا جارية أبديهم تمرة تمرة قال أبو عبيد : قولها ابديهم يقول فرقي فيهم و هو من بددت الشيء تبديدا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبید نے ان کو ابو النضر نے ان کو شعبہ نے ان کو خلید بن جعفر نے ان کو ام سلمہ نے یہ کہ مساکین ان سے سوا ل کرتے تھے اور وہ خادمہ سے کہتی تھیں آپ کو ایک ایک کھجور دے دیجئے ۔ ابو عبید نے کہا کہ ام المومنین کا یہ کہنا کہ "ایدیھم " کا مطلب ہے "فرقی فیھم " کہ آپ ان میں یا بانٹ دیجئے اور یہ اس محاور ے سے لیا گیا ہے بددت شئاً تبدیداً۔ میں نے فلاں شے بانٹ دی ہے اور تقسیم کر دی ہے۔

فرقي فيهم و هو من بددت الشيء تبديدا ← أبو عبيد قولها ابديهم ← أم سلمة أن مساكين سألوها فقالت يا جارية أبديهم تمرة تمرة ← خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو النَّضْرِ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3464

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3465

3465 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه نا يعقوب بن سفيان الفارسي نا إسماعيل بن أبي أويس حدثني أبي عن يحيى بن سعيد و عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة عن عائشة أنها قالت : جاء سائل إلى باب عائشة فقالت لجارتها أطعميه فذهبت ثم رجعت فقالت لها ما وجدت شيئا أطعمه قالت : ارجعي فابتغي له فرجعت فوجدت تمرة فأتت بها فقالت عائشة أعطيها إياه فإن فيها مثاقيل ذر إن تقبلت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ان کو یعقوب بن سفیان فارسی نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس فارسی نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن سعید نے اور عبداللہ بن ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے ان کو عمرہ نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ کے دروازے پر کوئی سائل آیا۔ انہوں نے اپنی خادمہ سے کہا۔ اس کو کچھ کھانے کے لئے دے دو وہ گئی پھر واپس آئی اور سیدہ سے عرض کرنے لگی کہ مجھے تو کوئی ایسی چیز نہیں ملی جو میں اس کو کھانے کے لئے دے دوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا۔ دوبارہ جاؤ ، تلاش کرو ۔ وہ گئی اور اس کو کجھور کا ایک دانہ مل گیا سیدہ نے فرمایا کہ یہی اس کو دے دو بے شک اس میں بہت سے ذروں کی مقدرایں ہیں اگر یہ قبول ہو جائے ( یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں تو ہر مثقال ذرۃ۔ ایک ذرے کے برابر بھی ضائع نہیں ہو گا یہ تو بہت سارے ذروں کے برابر ہے) ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3465

chevron_left Previous
1…626364…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood