Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3442

3442 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا أحمد بن الخليل نا الواقدي نا إسحاق بن محمد بن أبي حرملة عن أبيه عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : صدقة السر تطفىء غضب الرب و صلة الرحم تزيد في العمر و فعل المعروف يقي مصارع السوء

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے اس نے ابو جعفر رزاز سے اس نے احمد بن خلیل سے ان کو خبر دی ہے اقدمی نے ان کو اسحٰق بن محمد بن ابو حرملہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عطا بن یسار نے انکو ابو سعید خدری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا چھپا کر دیا ہوا صدقہ رب تعالیٰ کے غضب کو بجھا دیتا ہے اور صلہ رحمی کرنا عمر میں اضافہ کرتا ہے اور اچھائی کرنا (نیکی کاکام) بری موت سے بچاتا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِيهِ ← إسحاق بن محمد بن أبي حرملة ← الْوَاقِدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3442

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3443

3443 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو بكير محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى نا الفضل بن محمد البيهقي نا هارون بن الفضل الرازي نا جرير عن عمرو بن ثابت قال : لما مات علي بن الحسين وجدوا بظهره أثرا فسألوه عنه فقالوا هذا مما كان ينقل الجرب بالليل على ظهره إلى منازل الأرامل قال أحمد و منها أن لا يمن على السائل و لا يؤذيه بالتعيير قال الله عز و جل : { يا أيها الذين آمنوا لا تبطلوا صدقاتكم بالمن و الأذى } و قال : { قول معروف و مغفرة خير من صدقة يتبعها أذى } و معنى هذا و الله أعلم أن الصدقة تسر السائل و توجب للمعطي أجرا و المن و الأذى يسوء السائل و يوجب على المعطي إثما فإن ذهب أحدهما بالأجر قصاصا صار المعطي كأن لم يعط و لم يمنن و عاد إلى أصل أمره قال : و الحسنة إنما تكون بعشر أمثالها إذا أريد بها وجه الله عز و جل و إذا جاء المن فقد انصرفت العطية عن وجه الله إلى وجه المعطي و لولا ذلك لم يمن و إذا انصرفت إلى وجهه ارتفع حكم التضعيف عنها و ذهب ما كان فيها من إدخال السرور على المعطي أولا بإدخال المساءة فيها ثانيا فصار كل واحد من العطاء و المن كأن لم يكن و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو بکیر محمد بن مومل بن حسن بن عیسیٰ نے ان کو فضل بن محمد بیہقی نے ان کو ہارون بن فضل رازی نے ان کو جریر نے ان کو عمرو بن ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ جب علی بن حسین کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے ان کی پیٹھ پر ایک نشان پایا تو اس کے بارے میں پوچھا لوگوں نے بتایا کہ یہ اس سے تھا کہ وہ رات کو بیوہ عورتوں کے گھروں تک آٹے کی بوریاں اور سامان کے تھیلے پیٹھ پر لاد کر پہنچاتے تھے۔ (احمد) بیہقی نے کہا کہنفلی صدقہ کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ سائل پر احسان نہ رکھے اور اس کو عار اور شرم دلا کر اس کو ایذا بھی نہ دے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " یا ایھا الذین اٰمنو الا تبطلو ا صدقٰتکم بالمن والاذی" اے ایمان والو احسان جتلا کر اور ایذا اپہنچا کر اپنے صدقات کو باطل نہ کرو۔ قول معروف ومغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعھا اذیٰ" جس صدقہ کے پیچھے ایذا پہنچا ئی جائے اس سے اچھی بات کہہ کر معافی مانگ لینا زیادہ بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ کرنا سائل کو خوش کرتاہے اور دینے والے کے لئے اجر کو لازم کرتا ہے۔ احسان جتلانا اور تکلیف پہنچانا۔ سائل کو برا لگتا ہے اور دینے والے پر گناہ کو لاز م کرتا ہے اگر دونوں میں سے ایک بدلے کے طور پر اجر لے جائے تو صدقہ دینے والا خالی رہ جائے گا ایسے جیسے اس نے صدقہ کیا ہی نہیں تھا اور نہ ہی احسان رکھا اور وہ عود کرے گا اپنے اصل معاملے کی طرف۔ (بیہقی) فرماتے ہیں کہ نیکی ہوتی ہے اپنے دس امثال کے ساتھ (یعنی دس گنا ہوتی ہے) جب اس سے مقصود رضا الٰہی ہو اور جب بیچ مین احسان جتلانا آ جاتا ہے تو ہو عطیہ اللہ کی رضا جوئی سےدینے والے کی رضا جوئی کی طرف پھر جاتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ احسان جتلاتا جب صدقہ اس کی رضا کی طرف پھر گیا تو اس سے اجر دہرا ہونے اور کیے جانے حکم اٹھ گیا اور عطیہ دینے ولاے پر جو سرور اور خوشی کا ورود تھا وہ بھی ختم ہو گیا پہلے اس میں خرابی داخل کرنے کی وجہ سے ثانیا۔ لہٰذا ہر ایک دونوں میں سے عطا کرنا یا احسان رکھنا ایسے کالعدم ہو گئے جیسے دونوں تھے ہی نہیں۔

لما مات علي بن الحسين وجدوا بظهره أثرا فسألوه عنه ← عمرو بن ثابت ← جَرِيرٌ ← هارون بن الفضل الرازي ← الفضل بن محمد البيهقي ← أبو بكير محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3443

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3444

3444 - أخبرنا الشيخ أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن علي بن مدرك قال : سمعت أبا زرعة بن عمرو بن جرير يحدث عن خرشة بن الحر عن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاثة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة و لا يكلمهم و لهم عذاب أليم قال : قلت يا رسول الله فمن هؤلاء فقد خابوا و خسروا فقال : المنان و المسيل ازاره و المنفق سلعته بالحلف الكاذب أخرجه مسلم في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی شیخ ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے انکو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے انکو علی بن فورک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں خرشہ بن حر سے وہ ابو ذر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ تو ان کی طرف نظر کرم کرے گا او ر نہ ان سے کلام کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ بدقسمت کون ہیں؟ وہ تو ناکام و نامراد ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ یہ ہے منت نہاں (احسان دہرانے والا) اپنے تہمد کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے اور گھسیٹ کرچلنے والا اور اپنے سودے و سامان کوجھوٹی قسم کے ذریعے بیچنے والا۔ اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے حدیث شعبہ سے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3444

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3445

3445 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني محمد بن صالح بن هانىء نا أبو علي الحسين بن الفضل البجلي نا الحكم بن موسى نا الفرج بن فضالة عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم قال : بينما موسى عليه السلام جالس في بعض مجالسه إذ جاءه إبليس و هو في برنس يتلون عليه ألوانا فلما دنا منه فخلع البرنس ثم أقبل إلى موسى فسلم عليه فقال من أنت ؟ قال : إبليس قال أنت فلا مرحبا بك و ما جاء بك ؟ قال : جئت لأسلم عليك لمكانك من الله و منزلتك عنده قال فما هذا البرنس ؟ قال : به اختطف قلوب بني آدم قال فأخبرني ما الذنب الذي إذا أذنب ابن آدم استحوذت عليه ؟ قال : إذا أعجبته نفسه و استكثر عمله و نسي ذنبه استحوذت عليه و أوصيك بثلاثة أشياء قال : و ما هي ؟ قال : لا تخل بامرأة لا تحل لك فإنه ما خلا الرجل بامرأة لا تحل له إلا كنت أنا صاحبه دون أصحابي حتى أفتنه بها و لا يعاهد الله عهدا إلا كنت صاحبه دون أصحابي حتى أحول بينه و بين الوفاء به و لا يهمن بصدقة إلا أمضيتها فو الله ما هم أحد بصدقة إلا كنت أنا صاحبه دون أصحابي حتى أحول بينه و بين الوفاء بها ثم ولى و هو يقول يا ويله ثلاث مرات علم موسى ما يحذره ابن آدم قال الشيخ أحمد و منها أن يحبس أصل المال إذا أراد الصدقة و يسئل المنفعة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انکو محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو ابو علی حسین بن فضل بجلی نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو فرج بن فضالہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم نے کہتے ہیں ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام پانی کسی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اچانک ان کے پاس ابلیس آ گیا اس نے ایک ایسی ٹوپی اوڑھ رکھی تھی جس پر مختلف رنگ بدل رہے تھے جب ان کے قریب آیا تو اس نے وہ ٹوپی خود ہی اتار لی اور پھر وہ موسیٰ علیہ السلام کی طرف مخاطب ہو کر ان پر سلام کیا موسیٰ علیہ السلام نے (جواب سلام دینے کی بجائے) اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں ابلیس ہوں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ابلیس تم ہو تو نہ تجھے مرحبا اور نہ تجھے خوش آمدید ہو کون سی غرض تمہیں یہاں لے آئی ہے کیوں آئے ہو؟ بولا میں آپ کو دم کرنے آیا ہوں اس مرتبے کی وجہ سے آپ کواللہ تعالیٰ کے نزدیک حاصل ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ یہ ٹوپی کیسی ہے؟ بولا میں اسی کے ذریعے اولاد آدم کے دلوں کو اچک لیتا ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے یہ بتائیے کہ وہ کون سا گناہ ہے کہ جب ابن آدم کو کر لیتا ہے تو تم اس پر مسلط ہو کر غالب آ جاتے ہو؟ ابلیس نے بتایا کہ جب ابن آدم عجب اور خود پسندی کا شکار ہو جاتا ہے اس کو اپنا نفس اچھا لگتا ہے اور عمل زیادہ کرنے لگتا ہے اور اپنے گناہ کو بھول جاتا ہے میں اس پر مسلط ہو جاتا ہوں اور میں تجھے تین چیزوں کی وصیت کرتا ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا وہ کیا ہیں؟ کہا تم کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت میں اکیلے نہ رہنا' اس لئے کہ جب کوئی آدم کسی غیر محرم عورت کے ساتھ اکیلا ہوتا ہے تو میں خود اس کے ساتھ ہو جاتا ہوں' میرے ساتھی نہیں وہاں ہوتے۔ یہاں تک کہ میں اس کو فتنے میں واقع کر دیتا ہوں اور جب کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی عہد کر لیتا ہے تو وہاں بھی میں خود اس کے ساتھ ہو جاتا ہوں وہاں میرا کوئی اور ساتھی نہیں ہوتا یہاں تک کہ میں اس بندے کے اور س کے پورا کرنےکے درمیان حائل ہو جاتا ہوں اور جو آدمی صدقہ کرنے کا ارادہ کر تا ہے تواس کو میں بھیج دیتا ہوں پس قسم اللہ کی جو بھی صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہولیتا ہوں وہاں میرے ساتھی نہیں ہوتے حتیٰ کہ میں اس بندے اور اس کے ارادے کی تکمیل میں حائل ہو جاتا ہوں۔ اس کے بعد ابلیس واپس لوٹ گیا اور وہ یہ کہہ رہا تھا اے میری ہلاکت اے میری وصیت اے میری بربادی' موسیٰ نے تو وہ بات جان لی ہے جو ابن آدم کو محفوظ کر لے گی۔ (شیخ احمد بیہقی نے فرمایا) کہ جب وہ صدقہ کا ارادہ کر تا ہے تو اصل مال کو بچا لے اور منفعت کا صدقہ کر دے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أبو علي الحسين بن الفضل البجلي ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3445

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3446

3446 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن أحمد بن بالويه المزكى نا أبو بكر أحمد بن يوسف بن خلاد العطار ببغداد نا الحارث بن محمد بن أبي أسامة التميمي نا أشهل نا ابن عون عن نافع عن ابن عمر قال : أصاب عمر أرضا بخيبر فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فاستأمره فيها فقال يا رسول الله إني أصبت أرضا بخيبر لم أصب مالا قط أنفس عندي منه فما تأمرني به فقال : إن شئت حبست أصلها و تصدقت بها قال فتصدق بها عمر رضي الله عنه أنه لا يباع أصلها و لا يوهب و لا يورث فتصدق بها على الفقراء و ذوي القربى و الرقاب و في سبيل الله و الضيف لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف أو يطعم صديقا غير متمول فيه قال : و قال محمد غير متمول فيه قال : و أنبأني من قرأه في الكتاب غير متأثل مالا أخرجاه في الصحيح من حديث ابن عون و رواه عبد الله العمري عن نافع عن ابن عمر و فيه من الزيادة و قد أردت أن أتقرب به إلى الله فقال حبس الأصل و سبل الثمرة

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن بن محمد بن احمد بن بالویہ مزکی نے ان کو ابو بکر احمد بن یوسف بن خلاد عطار نے بغداد می ان کو حارث بن محمد بن اسامہ تمیمی نے ان کو اشہل نے ان کو ابن عون نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کو خیبر میں زمین ملی تھی وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اس کے بارے میں ان سے مشورہ طلب کیا اور بولے یا رسول اللہ مجھے خیبر کی زمین ملی ہے میرے پاس اس سے زیادہ نفیس مال کچھ نہیں آیا آپ مجھے اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگرتم چاہو تو اس کی اصل محفوظ رکھو (درخت بھی اور زمین بھی) اور اسکی پیداوار کو صدقہ کر دو۔ نافع کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس کی پیدا وار صدقہ کر دی اور فرمایا کہ جو اصل زمین ہو (یا درخت کھجور کے) وہ نہ بیچے جائیں اور نہ ہی ہبہ کیے جائیں اور نہ ہی بطور میراث دئیے جائیں (آپ نے پیداوار) صدقہ کر دی فقراء پر قرابت داروں پر (قیدی اور غلاموں کی) گردنیں چھڑانے پر اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور مہمان پر اور فرمایا کہ اس پر بھی کوئی حرج نہیں ہے جو اس کو سنبھالے گا اور اس کا متولی بنے گا کہ وہ اس میں سے کھا ئے معروف طریقے سے یا اپنے کسی دوست کو بھی کھلائے۔ نہ متمول بنے اس سے (یعنی اس مین سے مال بٹور کر مالدار بننے کی کوشش کرے۔ نافع کہتے ہیں کہ محمد نے کہا کہ اس میں مال بنانے والا نہ ہو اور مجھے اس کی خبر دی ہے جس نے اس کو کتاب میں پڑھا اس میں یوں غیر متاثل مالا کہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث ابن عون سے اور اس کو روایت کیا ہے عبداللہ عمر ی سے اس نے نافع سے اس نے ابن عمر سے اور اس میں اضافہ ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے یوں کہا تھا کہ میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ میں اس جائیداد کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کروں لہٰذا حضور نے حکم دیا کہ حبس الاصل وسیل الثمرۃ اصل کو بند رکھ محفوظ رکھ اور پھلوں کو تقسیم کر یعنی درخت نہ دے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أشهلُ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ التَّمِيمِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلَّادٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3446

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3447

3447 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا إسماعيل بن جعفر نا العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا مات الإنسان انقطع عمله إلا من ثلاث إلا من صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له أخرجه مسلم في الصحيح عن يحيى بن أيوب و غيره عن إسماعيل

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی رک جاتا ہے مگر تین (شخصوں کاعمل نہیں رکتا بلکہ جاری رہتا ہے) صدقہ جاریہ سے یا اس علم سے جس کے ساتھ (اس مرنے کے بعد بھی) نفع اٹھایا جاتا ہے یا نیک صالح اولاد جو اسکے لئے دعا کرے۔ اس کومسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن ایوب وغیرہ سے اس نے اسماعیل سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3447

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3448

3448 - أخبرنا الإمام أبو عثمان و أبو بكر الاسفرائني قالا : أنا محمد بن الفضل بن محمد بن إسحاق بن خزيمة نا جدي نا محمد بن يحيى نا محمد بن وهب بن عطية نا الوليد بن مسلم نا مرزوق بن أبي الهذيل نا الزهري حدثني أبو عبد الله الأغر عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن مما يلحق المؤمن من عمله و حسناته بعد موته علما علمه و نشره أو ولدا صالحا تركه أو مسجدا بناه أو بيتا لابن السبيل بناه أو نهرا كراه أو صدقة أخرجها من ماله في صحته و حياته تلحقه من بعد موته

ہمیں خبر دی امام ابو عثمان اور ابو بکر اسفرائنی نے دونوں نے کہا کہ ان کو محمد بن فضل بن محمد بن اسحٰق بن حزیمہ نے ان کو ان کےدادانے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو محمد بن وہب بن عطیہ نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو مرزوق بن ابو ہذیل نے ان کو زہری نے ان کو ابو عبداللہ اغر نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: بے شک جو چیز مؤمن کو اس کے عمل اور اس کی نیکیوں میں سے اس کی موت کے بعد ملتی اور پہنچتی رہتی ہے وہ اس کا علم ہے جو اس نے دوسروں کو دیا تھا اور اس کو پھیلایا تھا یا نیک بیٹا جس کو اس نے چھوڑا تھا یا کوئی مسجد جو اس نے بنوائی تھی یا مسافروں کے لئے کوئی گھر اور مسافر خانہ بنوایا تھا یا کوئی قبر کھدوائی تھی اسنے یا کوئی صدقہ کیا تھا اپنے مال میں سے اپنی صحت میں اور اپنی حیات میں وہ اس کو اس کےمرنے کے بعد بھی ملے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَرْزُوقُ بْنُ أبي الْهُذَيْلِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← جَدِّي، ← محمد بن الفضل بن محمد بن إسحاق بن خزيمة ← الإمام أبو عثمان و أبو بكر الاسفرائني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3448

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3449

3449 - أخبرنا أبو القاسم عبد العزيز بن محمد بن شيبان ببغداد نا أحمد بن سلمان نا الحسين بن سلام السواق نا أبو نعيم النخعي عبد الرحمن بن هاني نا محمد بن عبيد الله عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سبعة يجري للعبد أجرهن و هو في قبره بعد موته من علم علما أو كرى نهرا أو حفر بئرا أو غرس نخلا أو بنى مسجدا أو ورث مصحفا أو ترك ولدا يستغفر له بعد موته محمد بن عبيد الله الغزرمي ضعيف غير أنه قد تقدمه ما يشهد لبعضه و الله أعلم و هما لا يخالفان الحديث الصحيح فقد قال فيه إلا من صدقة جارية و هي تجمع ما قد جاء به من الزيادة قال أحمد و منها أن يتصدق بأحب أمواله إليه و أنفسها عنده

ہمیں خبر دی عبدالعزیز بن محمد بن شیبان نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان نے ان کو حسین بن سلام سواق نے ان کو ابو نعیم نخعی نے ان کو عبدالرحمٰن بن ہانی نے ان کو محمد بن عبیداللہ نے ان کو قتادہ نے انکو انس نے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا سات اعمال ایسے ہیں جن کا اجر بندے کے لئے چلتا رہتا ہے حالانکہ وہ اپنی موت کے بعد اپنی قبر میں پڑا ہوا ہے۔ جس شخص نےعلم (سیکھا) اور سکھایا یا اس نے نہر کھدوائی یا کنواں کھدوایا یا کھجور لگائی یا مسجد بنوائی یا قرآن مجید کسی کو دیا یا نیک بیٹا چھوڑا وہ اس کے لئے استغفار کرے اس کی موت کے بعد۔ محمد بن عبیداللہ غزرمی ضعیف ہے علاوہ ازیں کچھ روایات اس سے پہلے گزری ہیں جو اس کے بعض کی شاہد ہیں اور وہ دونوں صحیح حدیث کے خلاف نہیں ہیں اور تحقیق اس نے کہا کہ اس میں کہ مگر صدقہ جاریہ سے اور یہ جمع کرتی ہے اس کو جس کو وہ لے آئے ہیں زیادت میں سے اور کہا ہے احمدنے نفلی صدقے کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اسی مال سے صدقہ کرے جو اس کو محبوب ہے اور اس کے نزدیک زیادہ نفیس اور عمدہ مال ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ هَانِئٍ ← الحسين بن سلام السواق، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم عبد العزيز بن محمد بن شيبان ببغداد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3449

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3450

3450 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكى أنا أبو الحسن أحمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة أنه سمع أنس بن مالك يقول : كان أبو طلحة أكثر أنصاري بالمدينة مالا من نخل و كان أحب أمواله بيرحاء و كانت مستقبلة المسجد و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يدخلها و يشرب من ماء فيها طيب قال أنس : فلما أنزل الله عز و جل هذه الآية { لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون } قام أبو طلحة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إن الله يقول : { لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون } و إن أحب أموالي إلي بيرحاء و إنها صدقة لله أرجو برها و ذخرها عند الله عز و جل فضعها يا رسول الله حيث أراك الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : بخ بخ ذلك مال رابح أو رائح شك القعنبي و قد سمعت ما قلت و إني أرى أن تجعلها في الأقربين فقال أبو طلحة : أفعل يا رسول الله فقسمها أبو طلحة في أقاربه و بني عمه أخرجاه في الصحيح من حديث مالك

اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے ان کو ابو الحسن سعد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے مالک کے سامنے پڑھی۔ اس نے ابن اسحٰق عبداللہ بن ابو طلحہ سے کہ اس نے سنا انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ ابو طلحہ مدینے کے انصار میں مال دار آدمی تھے اس کے کھجوروں کے باغ تھے۔ اور اس کا سب سے زیادہ پسندیدہ مال بیر رجاء تھا اور وہ مسجد کے بالکل سامنے تھا حضور اس میں داخل ہوتے تھے اور اس میں جو صاف ستھرا پانی تھا اس میں سے پیتے تھے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ آیات نازل فرمائیں: " لن تنا لو البر حتی تنفقو ا مما تحبون" تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیز نہ خرچ کر دو۔ تو ابو طلحہ رسول اللہ کے پاس آئے اور بولے یا رسول اللہ بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: " لن تنا لو البر حتی تنفقو ا مما تحبون" اور بے شک میرا سب سے پیارا مال میرے نزدیک بیر حاء ہے۔ بے شک وہ صدقہ ہے اللہ کی راہ میں۔ میں امید کرتا ہوں اس کی نیکی کا اور آخرت کےلئے اس کے ذخیرہ بننے کا اللہ کے ہاں آپ کو اسکو جہاں چاہیں استعمال کریں یا رسول اللہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ٹھہرو ٹھہرو۔ یہ مال بہت منافع والا ہے۔ رابح فرمایا تھا یا رائح فرمایا تھا۔ قعنبی کو شک ہے میں نے سن لیا ہے تم نے جو کچھ کہا ہے اور بے شک میں یہ رائے دیتا ہوں کہتم اس کو اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو۔ ابو طلحہ نے کہا کہ ٹھیک ہے یا رسول اللہ میں ایسا کر دیتاہوں لہذا ابو طلحہ نے اس کو اپنے اقارب میں اپنے چچا کی اولاد میں اسکو تقسیم کر دیا۔ بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث مالک سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، اَنَّہٗ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن عبدوس ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3450

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3451

3451 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه نا عثمان بن سعيد الدارمي و صالح بن محمد بن حبيب الحافظ أنا أبو نصر عبد الملك بن عبد العزيز التمار ثنا حماد بن سلمة نا ثابت البناني عن أنس بن مالك أن رجلا قال : يا رسول الله إن لفلان نخلة و أنا أقيم حائطي بها فمره أن يعطيني حتى أقيم حائطي بها فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : اعطها إياه بنخلة في الجنة فأبى فأتاه أبو الدحداح فقال بعني نخلتك بحائطي قال ففعل قال : فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله صلى الله عليه و سلم إني قد ابتعت النخلة بحائطي فاجعلها له فقال النبي صلى الله عليه و سلم : كم من عذق دواح لأبي الدحداح في الجنة مرارا فأتى امرأته فقال يا أم الدحداح أخرجي من الحائط فإني بعته بنخلة في الجنة فقالت قد ربحت أو كلمة نحوها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو النضر محمد بن یوسف فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے اور صالح بن محمد بن حبیب حافظ نے ان کو ابو نصر عبدالملک بن عبدالعزیز تمار نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک نے کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ فلاں آدمی کے کھجور کے درخت اور میں باغ لگانا چاہتا ہوں ان کے ساتھ آپ اس سے کہہ دیں کہ وہ مجھے دے تاکہ میں ان کے ساتھ باغ لگا سکوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا کہ تم چاہو تو اس کو جنت میں کھجوروں کے بدلے دے دو۔ اس نے دینے سے انکار کر دیا پھر ابو دحداح اس کے پاس آ گیا اس نے اس سے کہا کہ اپنے کھجور مجھے بیچ دو میرے باغ کے پاس میں ان کو اس میں لگاؤں گا۔ اس نے بیچ دئیے کہتے کہ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور بولا یا رسول اللہ بے شک میں نے کھجور باغ سمیت فروخت کر دئیے ہیں وہ جنت کے درخت میرے لئے کر دیجئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کتنے ہی کھجور کے پھل لدے ہوئے خوشے ہیں جنت میں ابو داحداح کے لئے۔ بار بار آپ فرماتے رہے پھر وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور بولا اے ام دجداح باغ سے باہر آ جاؤ میں نے اس کو جنت کی کھجوروں کے بدلے میں بیچ دیا ہے وہ کہنے لگی تم نے بہت نفع کما لیا ہے اور ایسا ہی کوئی کلمہ کہا۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَجُلًا ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو نصر عبد الملك بن عبد العزيز التمار ← عثمان بن سعيد الدارمي و صالح بن محمد بن حبيب الحافظ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3451

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3452

3452 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحسين بن عمر بن برهان الغزال و أبو الحسين بن الفضل القطان و أبو محمد السكري قالوا ثنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا الحسن بن عرفة نا خلف بن خليفة عن حميد الأعرج عن عبد الله بن الحارث عن عبد الله بن مسعود قال : لما نزلت { من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا } قال أبو الدحداح الأنصاري يا رسول الله و إن الله ليريد منا القرض ؟ قال : نعم يا أبا الدحداح قال أرني يدك يا رسول الله قال فتناول يده قال : فإني قد أقرضت ربي حائطي قال و حائطة فيه ستمائة نخلة و أم الدحداح فيه و عيالها قال : فجاء أبو الدحداح فناداها يا أم الدحداح فقالت : لبيك فقال اخرجي فقد أقرضته ربي

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے ابو عبداللہ حسین بن عمر برہان الغزل نے اور ابو الحسین بن فضل قطان نے اور ابو محمد سکری نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو حمید اعراج نے ان کو عبداللہ بن حارث نے ان کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی "من ذالذی یقرض قرضا ً حسناً" ۔ کو ن ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے۔ تو ابو دحداح انصاری نے کہا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں ابو دحداح وہ بولے اپنا ہاتھ مجھے دکھائیے یا رسول اللہ کہتے ہیں کہ اس نے حضور کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا کہ میں اپنا باغ اپنے رب کو قرض دیاہے۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ اس کے باغ میں کھجوروں کے چھ سو درخت تھے اور ام دحداح اور اس کے عیال اس میں رہتے تھے کہتے ہیں کہ ابو دحداح آئے اور اس کو آواز لگائی تو بولی میں حاضر ہوں باغ سے نکل آؤ میں نے اپنے رب کو یہ باغ قرضے کے طور پر دیا ہے۔

أبو الدحداح الأنصاري: ← لَمَّا نَزَلَتْ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3452

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3453

3453 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس الضبعي نا الحسن بن علي بن زياد ثنا ابن أبي أويس حدثني مالك عن هشام بن عروة عن أبيه : أنه كان يقول لبنيه يا بني لا يهدين أحدكم لله شيئا يستحي أن يهديه لكريمه فإن الله عز و جل أكرم الكرماء و أحق ما اختير قال أحمد و منها أن يكون مقلا فيسمح بالفضل عن ضرورته

اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو ابن ابو اویس نے ان کو مالک نے انکو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے کہ وہ اپنے بیٹوں سے کہتے تھے کہ تم میں سے کوئی بھی اللہ واسطے کوئی ایسی چیز ہدیہ نہ کرے جس کے بارے میں ہدیہ کرتے ہوئے شرم آئے کہ اپنے رب کریم کو کیا دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ تو صرف کریم (سخی اور مہربان) ہی نہیں بلکہ وہ سب سے بڑے کریم ہیں اور اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ان کے لئے اچھی چیز دی جائے امام احمد بیہقی فرماتے ہیں ۔ نفلی صدقہ کی ایک شرط یہ ہے کہ وہ کم کرنے والا ہو یعنی کم چیز صدقہ کرے اور اپنی ضرورت سے زائد چیز کے ساتھ سخاوت کرے۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو الْعَبَّاسِ الضُّبَعِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3453

chevron_left Previous
1…616263…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood