Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3430

3430 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو الحسن علي بن إبراهيم بن معاوية النيسابوري نا أبو عبد الله محمد بن مسلم بن واره نا الحجاج بن نصير نا الأسود بن شيبان عن محمد بن واسع عن عبد الله قال أبو عبد الله هو عندي ابن الصامت عن أبي ذر قال : أوصاني خليلي بست من الخير حب المساكين و الدنو منهم وصل رحمك و إن أدبرت و قل الحق و إن كان مرا و استكثر من لا حول و لا قوة إلا بالله فإنها كنز من كنوز الجنة و إن استطعت أن لا تسأل الناس شيئا فلا تسألهم

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوالحسن علی بن ابراہیم بن معاویہ نیساپوری نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن مسلم بن وارہ نے ان کو حجاج بن نصیر نے ان کو اسود بن شیبان نے ان کو محمد بن واسع نے ان کو عبداللہ نے ابو عبداللہ نے کہا کہ میرے نزدیک وہ ابن صامت ہیں۔ اس نے ابو ذر سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے وصیت کی تھی میرے خلیل نے مجھے خیر کے کاموں کی۔ مسکینوں کی محبت اور ان کا قرب اور تیرا اپنے رشتہ کو جوڑنا اگرچہ مر بھی جائے اور حق بات کہنا اگرچہ کڑوی ہو اور کثرت کے ساتھ لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنا کیونکہ یہ ایک خزانہ ہے جنت کے خزانوں میں سے اگر طاقت رکھیں تو لوگوں سے کسی شے کا سوال نہ کریں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أبو عبد الله هو عندي ابن الصامت ← عَبْدُ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← الْحَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← أبو عبد الله محمد بن مسلم بن واره ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3430

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3431

3431 - قال : و نا محمد بن مسلم نا سليمان بن حرب نا الأسود بن شيبان عن محمد بن واسع قال : قال أبو ذر : أوصاني رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث و لم يذكر عبد الله بن الصامت و منها أنه إن فضل عن ذي قرابته فضل أثر الجيران فإن فضل عنهم صرفه إلى المتعففين من المحتاجين و هم الذين لا يسألون الناس قال الله تعالى : { و الجار ذي القربى و الجار الجنب } و قال : { للفقراء الذين أحصروا في سبيل الله لا يستطيعون ضربا في الأرض يحسبهم الجاهل أغنياء من التعفف تعرفهم بسيماهم لا يسألون الناس إلحافا }

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی محمد بن مسلم نے ان کوسلیمان بن حرب نے ان کو اسود بن شیبان نے ان کو محمد بن واسع نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی پھر حدیث ذکر فرمائی تھی اور عبداللہ بن صامت کا ذکر نہیں کیا۔ اس وصیت میں سے یہ بھی ہے کہ اگر مال قرابت داروں پر خرچ کرنے سے بچ جائے تو وہ پڑوسیوں کا حق بچ گیا ہے اور اگر پڑوسیوں سے بھی بچ جائے تو پھر اس کو مستضعفین پر خرچ کر جو محتاج ہوں اور یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے: " للفقراء الذین احصرو ا فی سبیل اللہ لا یستطیعون صربا فی الارض یحسبھم الجاھل اغنیاء من التعفف تعفرھم بسیماھم لا یسئلون الناس الحافا" ۔ صدقات ان لوگوں کے لئے ہیں جو اللہ کی راہ کے لئے ہیں جو زمین میں کام کاج کرنے کی طاقت نہیں رکھتے نادان ان کو غنی سمجھتے ہیں ان کےسوال نہ کرنے کی وجہ سے تم ان کو پہچانو گے ان کی علامتوں سے نہیں سوال کرتے ہیں لوگوں سے چمٹ کر۔

الحديث و لم يذكر عبد الله بن الصامت و منها ← أبو ذر أوصاني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3431

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3432

3432 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العتكي نا الفضل بن محمد الشعراني نا ابن أبي أويس نا مالك عن يحيى بن سعيد أخبرني أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة أم المؤمنين أنه سمعت : رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه ليورثه رواه البخاري في الصحيح عن إسماعيل بن أبي أويس و رواه مسلم عن قتيبة بن مالك

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن قاسم بن عبدالرحمٰن عتکی نے ان کو فضل بن محمد شعرانی نے ان کو ابن ابو اویس نے ان کو مالک نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو خبر دی ہے ابو بکر محمد بن عمرو بن حزم نے ان کو عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ان کو عائشہ صدیقہ نے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں جبرئیل ہمیشہ مجھے وصیت کرتے رہے پڑوسی کے بارے میں یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ یہ اس کو وارث بنا دیں گے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا صحیح میں اسماعیل بن ابو اویس سے اور اس کو مسلم نے روایت کیا قتیبہ سے اس نے مالک سے۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَتَكِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3432

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3433

3433 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة أخبرني أبو عمران أن سمع عبد الله بن الصامت يحدث عن أبي ذر قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صنعت مرقة فأكثر ماءها ثم انظر أهل بيت من جيرانك فأصبهم منها بمعروف أخرجه مسلم في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کویونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو خبر دی ابو عمران نے کہ اس نے سنا عبداللہ بن صامت سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابو ذر سے کہ مجھے رسول اللہ نے فرمایا کہ جب تم سالن میں شوربہ بنانے لگو تو اس میں پانی زیادہ ڈالو اس کے بعد اپنے پڑوسی کے گھر والوں کا بھی خیال کرو کہ اس میں سے ان کو بھی اچھے طریقے سے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے شعبہ کی روایت سے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أبو عمران أن ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3433

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3434

3434 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو جعفر محمد بن علي الوراق حمدان نا سعيد بن سليمان نا ليث بن سعد عن سعيد عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة لجارتها و لو فرسن شاة أخرجاه في الصحيح من حديث ليث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی وراق نے ان کو حمد ان نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو سعید نے ان کو ان کے ولاد نے ان کو ابو ہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو حقیر اور کمتر نہ سمجھے (ہدیہ دینے کے معاملے میں بلکہ صدقہ ہدیہ دو ) اگرچہ بکری کی کھری ہی کیوں نہ ہو۔ بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث لیث سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدٌ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو جعفر محمد بن علي الوراق حمدان ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3434

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3435

3435 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا عبيد بن عبد الواحد نا ابن أبي مريم نا محمد بن جعفر بن أبي كثير حدثني شريك بن عبد الله بن أبي نمر عن عطاء بن يسار و عبد الرحمن بن أبي عمرة أنهما سمعا أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس المسكين الذي ترده التمرة و التمرتان و لا اللقمة و اللقمتان إنما المسكين الذي يتعفف اقرأوا إن شئتم : { لا يسألون الناس إلحافا } رواه البخاري في الصحيح عن ابن أبي مريم و رواه مسلم عن الصنعاني عن ابن أبي مريم قال و منها أن لا يحصني ما يتصدق به فيعرض ذلك على قلبه و يثبته كما يثبت حساب تجارته

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو عبید بن عبداالواحدنے ان کو ابو مریم نے ان کو محمد بن جعفر بن ابو کثیر نے ان کو شریک بن عبداللہ بن ابو نمر نے ان کو عطاء بن یسار نے اور عبدالرحمٰن بن ابو عمرہ نے ان دونوں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جو ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک لقمہ یا دو لقمے لے کر لوٹ جائے بلکہ در حقیقت مسکین وہ ہے جو (باجود حاجت مند ہونے کے ) سر ے سوال ہی نہ کرے۔ اگر م لوگ چاہو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھو۔ لا یسئلون الناس الحافا " کہ وہ لوگ چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو مریم سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صنعانی سے اس نے ابن ا بو مریم سے انہوں نے کہا کہ ان میں سے یہ بھی ہے کہ جو کچھ صدقہ کرے اس کو شمار نہ کرے کہ اس کو اپنے دل ہی دل میں لاتا پھرے اور باقاعدہ لکھتا پھرے جیسے اپنی تجارت کا حساب لکھتاہے۔ (ایسا نہ کرے)۔

شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3435

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3436

3436 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ و أبو أحمد المهرجاني قالا : نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب الفرا أنا محاضر أنا هشام و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري نا جدي يحيى بن منصور نا أحمد بن سلمة نا محمد بن رافع نا عبد الله يعني ابن نمير حدثني هشام عن فاطمة يعني ابنة المنذر عن أسماء : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لها انفقي و ارضخي و لا تحصي فيحصي الله عليك و لا توعي فيوعي الله عليك و في رواية محاضر قالت : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنفقي و انفحي هكذا و هكذا و هكذا و لا تحصي فيحصي الله عليك و لا توعي فيوعي الله عليك أخرجاه في الصحيح من حديث هشام بن عروة

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے اور ابو احمد مہرجانی نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب فراء نے ان کو محاضر نے انکو ہشام نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ بن منصور نے انکو احمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن رافع نے ان کو عبداللہ نے یعنی ابن نمیر نے ان کو ہشام نے فاطمہ سے یعنی منذر کی بیٹی نے ان کو اسماء نے کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا تم خرچ کرو اور تھوڑا تھوڑا کر کے دو اور شمار نہ کرو اللہ تعالیٰ تیرے لیے خود شمار کر لے گا اور تم اس کو یاد نہ رکھو اللہ تعالیٰ اس کو تمہارے لئےخود یاد رکھے گا (یعنی دے کر بھول جاؤ) اور محاضر کی روایت میں ہے کہتی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ تم خرچ کرو اور تھوڑا تھوڑا عطیہ دیتی رہو ایسے ایسے ایسے اور تم شمار نہ کرو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے شمار کر لے گا اور تم یاد بھی نہ رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے خود یاد رکھ لے گا۔ اس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں ہشام بن عروہ کی حدیث سے۔

أَسْمَاءَ ← فاطمة يعني ابنة المنذر ← هِشَامٍ ← عبد الله يعني ابن نمير ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّيَ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← هِشَامِ, و ← مُحَاضِرٌ، ← محمد بن عبد الوهاب الفرا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبد الله الحافظ و أبو أحمد المهرجاني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3436

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3437

3437 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني عبد الله بن سعد و كتبه لي بخطه نا إبراهيم بن أبي طالب أنا أبو كريب نا ابن إدريس نا الأعمش عن الحكم بن عيينة عن عروة بن الزبير أظنه عن عائشة قالت : جاء سائل فأخرجت له الخادمة شيئا فقلت لها لا تخرجي الشيء إلا بعلمي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تحصي فيحصي الله عليك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن سعد نے اور اس کو انہوں نے میرے لئے لکھا ہے اپنے خط اور اپنی تحریر سے۔ ان کو خبر دی ابراہیم بن ابو طالب نے ان کو ابوکریب نے ان کو ابن ادریس نے ان کو اعمش نے ان کو حکم بن عیینہ نے ان کو عروہ بن زبیر نے میرا خیال ہے کہ عائشہ صدیقہ سے وہ فرماتی ہیں کہ ایک سائل آیا۔ خادمہ نے اس کوکوئی چیز لے جا کر دینا چاہتی تو میں نے کہا اسے کوئی چیز بھی دو تو مجھے بتاکر دینا چنانچہ رسول اللہ نے فرمایا :تم مت شمار کرو یا تم مت یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے خود یاد رکھے گا۔

عَائِشَةَ ← عروة بن الزبير أظنه ← الْحَكَمِ بْنِ عُيَيْنَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عبد الله بن سعد و كتبه لي بخطه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3437

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3438

3438 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا ابن ملحان نا يحيى بن بكير نا الليث عن خالد عن سعيد بن أبي هلال عن أمية بن هند عن أبي أمامة بن سهل قال : كنا يوما في المسجد جلوسا و نفر من المهاجرين و الأنصار قال : فأرسلنا إلى عائشة يستأذن لنا عليها فدخلنا عليها فحدثتنا ثم قالت دخل علي سائل مرة و عندي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمرت له بشيء ثم إني دعوت به فنظرت إليه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تريدين أن لا يخرج من بيتك شيء و لا يدخل إلا بعلمك ؟ فقلت نعم يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مهلا يا عائشة لا تحصي فيحصي الله عليك قال : منها أن يخفي صدقته ما استطاع ثم لا يتحدث بها قال الله عز و جل : { إن تبدوا الصدقات فنعما هي و إن تخفوها و تؤتوها الفقراء فهو خير لكم و يكفر عنكم من سيئاتكم }

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن ملجان نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو خلاد نے ان کو سعید بن ابو ہلال نے ان کو امیہ بن ہند نے ان کو ابو امامہ بن سہل نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے مہاجروں اور انصار کے کچھ لوگ بھی کہتے ہیں کہ ہم نے سیدہ عائشہ کے پاس نمائندہ بھیجا کہ ان سے ہماری ملاقات کی اجازت طلب کرے اجازت ملی تو ہم لوگ گئے انہوں نے ہمیں ایک حدیث بیان کی کہ میرے پاس ایک بار ایک سائل آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس موجود تھے میں نے اس کے لئے کسی چیز کے دینے کا حکم دیا اس کےبعد میں نے وہ چیز منگوا کر دیکھی اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم یہ چاہتی ہو کہ کوئی بھی چیز جو تیرے سے جائے یا گھر میں آئے وہ تیرے علم کے بغیر نہ ہو۔ میں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ تورسول اللہ نے فرمایا کہ ٹھہر و یا عائشہ تم نہ شمار کرو یا نہ یاد رکھو آپ کے لئے اللہ تعالیٰ یاد رکھے گا۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے یہ بھی ہے کہ تم اپنے صدقے کو چھپاؤ جس قدر استطاعت ہو اس کے بعد اس کو بیان نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : " ان تبد والصدقات فنعما ھی وان تخفو ھا وتوتو ھا الفقراء فھو خیر لکم ویکفر عنکم من سیئاتکم " اگر تم صدقات کو ظاہر کرو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر تم اس کو چھپاؤ اور فقراء کو دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور تم سے تمہارے گناہ مٹا دے گا۔

أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← أمية بن هند ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدٌ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← ابْنُ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3438

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3439

3439 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا ابن أبي إسحاق قالا : نا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي فيما قرأ على مالك بن خبيب بن عبد الرحمن عن حفص بن عاصم عن أبي سعيد الخدري أو عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله إمام عادل و شاب نشأ في عبادة الله عز و جل و رجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه و رجل دعته امرأة ذات حسب و جمال فقال : إني أخاف الله و رجل تصدق بصدقة فأخفاها حتى لا تعلم شماله ما أنفقت يمينه و رجل قلبه معلق بالمسجد إذا خرج منه حتى يعود إليه و رجلان تحابا في الله اجتمعا على ذلك و تفرقا رواه عبيد الله بن عمر عن خبيب عن حفص عن أبي هريرة من غير شك و هو مخرج في الصحيحين قال الحليمي رحمه الله : و معنى ذلك أنها إذا لم تكن واجبة جرى فيها الرياء عند الإبداء و إذا أخفيت كانت من الرياء أبعد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے دونوں کو خبر دی ابو الحسین احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو ابو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے اس میں جو مالک کے سامنے پڑھی ان کو حبیب بن عبدالرحمٰن نے ان کو حفص بن عاصم نے ان کو ابو سعید خدری نے یا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سات اشخاص ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنے عرش کے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کو سوا کوئی سایہ نہ ہو گا وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں رہ کر ہی پرورش پائی ہے عادل (انصاف پرور حاکم بادشاہ) اور وہ جوان جو اللہ کو یاد کرتا ہے اس حال میں کہ اس کا دل ہر چیز سے خالی ہوتا ہے۔ پھر خوفِ الٰہی سے اس کی آنکھوں سے آنسو ہنے لگتے ہیں اور وہ آدمی جس کو کوئی عورت صاحب حسن و جمال صاحب حسب و نسب گناہ کی دعوت دیتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جو صدقہ کرتا ہے اور اس کو خوب چھپاتا ہے حتیٰ ک اس کا بایاں ہاتھ بھی نہیں جانتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے اور وہ آدمی جس کا دل مسجد کے ساتھ لٹکا ہوا ہے جس وقت مسجد سے نکلتا ہے (تو باہر اس کا دل نہیں لگتا) یہاں تک کہ واپس مسجد میں آ جاتا ہے اور وہ آدمی جو باہم محبت کرتے ہیں اللہ کے لئے اسی پر وہ دونوں جمع ہوتے ہیں اور اسی پر وہ جدا ہوتے ہیں ۔ اور اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن عمر نے خبیب سے اس نے حفص سے اس نے ابو ہریرہ سے بغیر شک کے اور وہ بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ شیخ حلیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ جب واجب نہ ہو تو سامنے دینے میں دکھاو اور ریا کاری ہوتی ہے اور اگر کرتے وقت چھپایا جائے تو ریاکاری سے بہت دور ہو جاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← القعنبي فيما قرأ على مالك بن خبيب بن عبد الرحمن ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا ابن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3439

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3440

3440 - حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا أبو علي الحسن بن محمد الزعفراني نا يزيد بن هارون نا حميد الطويل عن أنس بن مالك قال : لما نزلت هذه الآية { لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون } و { من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا } قال أبو طلحة يا رسول الله حائطي بمكان كذا و كذا صدقة لو استطعت أن أسره لم أعلنه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اجعله في أقاربك

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو علی حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو حمید طویل نے ان کو انس بن مالک نے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔ " لن تنا لواالبر حتیٰ تنفقو ا مما تحبون " تم ہر گز نیکی کے بلند مقام کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ تم خر چ کرو اپنی پسندیدہ چیز۔ "من ذالذی یقرض اللہ قرضاً حسنا" وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض دے اچھا قرض۔ ابو طلحہ نے کہا یا رسول اللہ میرا باغ جو فلاں فلاں جگہ ہے وہ صدقہ ہے اگر میں اس کو چھپا سکتا تو میں اس بات کو ظاہر نہ کرتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہتم اسے اپنے قرابت داروں میں صدقہ کر دو یا تقسیم کر دو۔

أَبُو طَلْحَةَ ← لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أبو علي الحسن بن محمد الزعفراني ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3440

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3441

3441 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا يزيد بن هارون أنا العوام بن حوشب حدثني سليمان بن أبي سليمان عن أنس بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق الله الأرض جعلت تميد فخلق الجبال فألقاها عليها فاستقرت فعجبت الملائكة من شدة الجبال فقالت يا رب هل من خلقك شيء أشد من الجبال ؟ قال نعم الحديد قالت يا رب هل من خلقك شيء أشد من الحديد ؟ قال نعم النار قالت يا رب هل من خلقك شيء أشد من النار ؟ قال نعم الماء قالت يا رب هل من خلقك شيء أشد من الماء ؟ قال نعم الريح قالت يا رب هل من خلقك شيء أشد من الريح ؟ قال نعم ابن آدم يتصدق بيمينه فيخفيها من شماله و كذلك رواه النضر بن شميل عن العوام بن حوشب

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عوام بن خوشب نے ان کو سلیمان بن ا بو سلیمان نے ان کو انس بن مالک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب زمین کو پیدا کیا تھا تو وہ ہلنے لگی تھی تو پھر اللہ تعالیٰ نے پہار بنا کر اس کے اوپرڈال دئیے پھر وہ قرار پکڑ گئی فرشتوں نے پہاڑوں کی سختی کو دیکھ کر حیرت ظاہر کی اور سوال کیا کہ اے رب کیا تیری مخلوقات میں پہاڑوں سے سخت کوئی اور مخلوق بھی ہے؟ فرمایا کہ بالکل ہے وہ لوہا ہے (جو کہ پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہے) پھر انہوں نے پوچھا اے رب کیا تیری مخلوق میں لوہے سے زیادہ سخت بھی کوئی شے ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بالکل ہے وہ آگ ہے (جو لوہے کو پگھلا دیتی ہے) پھر انہوں نے پوچھا کہ آگ سے زیادہ سخت کوئی اور مخلوق بھی ہے؟ فرمایا بالکل ہے وہ پانی ہے (جو کہ آگ کو بھی بجھا دیتا ہے) پھر انہوں نے پوچھا کہ اے رب کیا تیری مخلوق میں پانی سے بھی کوئی زیادہ سخت مخلوق ہے؟ فرمایا کہ بالکل ہے اور وہ ہے ہوا( جو کہ پانی کو بھی اڑا کر خشک کر دیتی ہے) پھر انہوں نے پوچھا اے رب تیری مخلوق میں ہوا سے زیادہ سخت کوئی اور چیز بھی ہے؟ فرمایا کہ بالکل ہے اور وہ ہے صدقہ جو ابن آدم اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کرتا ہے اور اسے چھپاتا ہے اپنے بائیں ہاتھ سے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے نضر بن شمیل سے اس نے عوام بن حوشب سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3441

chevron_left Previous
1…606162…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood