Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3418

3418 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر ثنا جدي ثنا أحمد بن سلمة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا أحمد بن عبده الضبي و محمد بن بشار العبدي قالا : ثنا يحيى بن سعيد ثنا عمرو بن عثمان قال : سمعت موسى بن طلحة يحدث أن حكيم بن حزام حدثه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أفضل الصدقة أو خير الصدقة عن ظهر غنى و اليد العليا خير من اليد السفلى و ابدأ بمن تعول رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن بشار و أحمد بن عبده

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر نے ان کو ان کے دادا نے ان کو احمد بن سلمہ نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل ابراہیم بن احمد بن سلمہ نے ان کو احمد بن عبدہ ضبی نے وار محمد بن بشار عبدی نے دونوں کو یحییٰ بن سعید نے ان کو عمرو بن عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا موسیٰ بن طلحہ سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ حکیم بن حزام نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : افضل صدق یا بہتر صدقہ غنی ہونے کے بعد ہے یا غنی رہنے کے بعد اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہر حال بہتر ہے اور خرچ کرنے کی ابتداء اس سے کر جن کی تم نے عیالداری ور ذمہ دار ی لی ہے اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن بشار سے اور احمد بن عبدہ سے۔

أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن عبده الضبي و محمد بن بشار العبدي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي، ← أبو صالح بن أبي طاهر،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3418

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3419

3419 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا حماد بن زيد عن عاصم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير الصدقة ما أبقت غنى و اليد العليا خير من اليد السفلى و ابدأ بمن تعول تقول امرأتك انفق علي أو طلقني و يقول خادمك انفق علي أو بعني و يقول ولدك إلى من تكلني

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے انکو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو زید نے ان کو عاصم نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ بہتر صدقہ وہ ہے جو غنا کو باقی رہنے دے( یعنی انسان بے ضرورت رہے کسی کا دست نگر نہ ہو جائے۔ اس لئے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور خرچ کرنے کی ابتداء ان افراد سے کیجئے جن کی آپ ذمہ دار لیتے ہیں ' تمہاری بیوی کہے گی کہ یا تو مجھ پر خرچ کیجئے یا مجھے طلاق دیجئے اور تمہارا خادم کہے گا یا تو مجھ پر خرچ کیجئے یا مجھے فروخت کر دیجئے اور تمہارا بیٹا کہے گا کہ آپ مجھے کس کے حوالے کریں گے؟

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3419

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3420

3420 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن الحسين القاضي نا الحارث بن أبي أسامة نا يونس بن محمد نا الليث و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن شاذان و أحمد بن سلمة قالا : ثنا قتيبة بن سعيد نا الليث عن أبي الزبير عن جابر أنه قال : اعتق رجل من بني عذرة عبدا له عن دبر فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ألك مال غيره ؟ فقال لا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يشتريه مني ؟ فاشتراه نعيم بن عبد الله العدوي بثمانمائة درهم فجاء بها إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فدفعها إليه ثم قال : ابدأ بنفسك فتصدق عليها فإن فضل شيء فلأهلك فإن فضل عن أهلك فلذي قرابتك فإن فضل عن ذي قرابتك شيء فهكذا و هكذا يقول فبين يديك و عن يمينك و عن شمالك رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن حسین قاضی نے ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو لیث نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن شاذان نے اور احمد بن سلمہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو لیث نے ان کو ابو الزبیر نے ان کو جابر نے کہ انہوں نے کہا بنو عذرہ کے ایک آدمی نے اپنا غلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیر موجودگی میں آزاد کر دیا( یا ارادہ کر لیا تھا ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی خبر پہنچی تو پوچھا کہ کیا اس کے سوا تیرا اور کوئی مال رکھا بھی ہے۔ اس نے کہا کہ نہیں ہے ۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے کون خرید کر تا ہے لہذا اس کو نعیم بن عبداللہ عدوی نے آٹھ سو درہم کے بدلے میں خرید لیا لہذا وہ رقم لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س آ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ رقم اس آدمی کو دے دی پھر فرمایا اپنے نفس سے ابتداء کرو پہلے اسی پر صدقہ کرو۔ اس سے اگر کوئی شے بچ جائے تو وہ تیرے گھر والوں کے لئے ہے اگر گھر والوں کے لئے ہے اگر گھر والوں سے کوئی شے بچ جائے تو پھر وہ تیرے قرابت داروں کے لئے ہے اگر تیرے قرابت داروں سے ک کوئی شے بچ جائے تو پھر ایسے کر ایسے کر (یعنی حضور اشارہ کر رہے تھے) تیرے آگے اور دائیں اور بائیں یعنی پھر سب کو دو۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتیبہ سے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن شاذان و أحمد بن سلمة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← اللَّيْثُ و ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3420

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3421

3421 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا محمد بن كثير أنا سفيان عن محمد بن عجلان عن المقبري عن أبي هريرة قال : أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالصدقة فقال رجل : يا رسول الله عندي دينار قال : تصدق به على نفسك قال : عندي آخر قال : تصدق به على ولدك قال : عندي آخر قال : تصدق به على زوجتك أو قال : زوجك قال : عندي آخر قال : تصدق به على خادمك قال : عندي آخر قال أنت أبصر

ہمیں خبر دی ابو علی روذ باری نے ان کو ابو بکر بن داسسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو مقبری نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا تو ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا کہ تم اس کو اپنے نفس پر صدقہ کرو۔ اس نے کہا کہ میرے پاس اور بھی ہے فرمایا کہ اس کو صدقہ کر اپنے بچے پر عرض کیا میرے پاس اور بھی ہے فرمایا اس کو صدقہ کر اپنی بیوی پر کہا کہ میرے پاس اور بھی ہے فرمایا اس کو صدقہ کر اپنے خادم پر' کہا میرے پاس اور بھی ہے فرمایا کہ پھر تو خود بہتر دیکھتا ہے۔

أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بالصدقة فقال رجل ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3421

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3422

3422 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي أسماء عن ثوبان : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أفضل الدينار دينارا ينفقه الرجل على عياله ثم دينار ينفقه على دابته في سبيل الله عز و جل و دينار ينفقه على أصحابه في سبيل الله قال أبو قلابة بدأ بالعيال قال أبو قلابة : و أي رجل أعظم أجرا من رجل يسعى على عيال له صغار يعفهم أو ينفعهم الله به رواه مسلم عن أبي الربيع عن حماد و منها أنه إذا تصدق بدأ بذوي أرحامه و لا يميز فيها بين الواصل و القاطع بل يبدأ بذي الرحم الكاشح

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو حما د بن زید نے ان کوایوب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو ابو اسماء نے ان کو ثوبان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا سب سے زیادہ فضیلت والا دینار وہ دینار ہے (روپیہ وہ روپیہ ہے) جس کو آدمی اپنے عیال پر خرچ کرے اس کے بعد وہ دینار (وہ روپیہ) جس کو وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے اپنی سواری پر اس کے بعد وہ دینار (وہ روپیہ) جس کو وہ خرچ کرے اپنے احباب پر اللہ کی راہ میں ابو قلابہ نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتداء عیال سے کی ہے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں کہ کون سا آدمی بڑے اجر والا ہو سکتا ہے ایسے آدمی سے جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر خرچ کر کے ان کو ہاتھ پھیلانے سے بچائے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ان کو نفع پہنچائے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو الربیع سے اس نے حماد سے۔ اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ (صدقہ کرنے والا) جب صدقہ کرے تو ابتدا اپنے رشتہ داروں سے کرے اور اس میں یہ فرق نہ کرے کہ کون اس کے ساتھ تعلقات جوڑ رہا ہے اور کون توڑ رہا ہے بلکہ اس صاحب قرابت سے شروع کرے جو در پردہ اور اندر سے بغض رکھنے والا ہو۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3422

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3423

3423 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه نا محمد بن يحيى بن المنذر القزاز نا حجاج بن المنهال نا حماد بن سلمة و أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عبد الواحد بن غياث نا حماد بن سلمة نا ثابت البناني عن أنس قال : لما نزلت هذه الآية { لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون } : قال أبو طلحة يا رسول الله أرى ربنا يسألنا من أموالنا فإني أشهدك أني قد جعلت أرضي بيرحاء لله عز و جل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اجعلها في قرابتك فقسمها بين أبي بن كعب و حسان بن ثابت أخرجه مسلم في الصحيح من حديث حماد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن سختویہ نے ان کو محمد بن یحییٰ بن منذر قزاز نے ان کو حجاج بن منہال نے ان کو حماد بن سلمہ نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عبدالواحد بن غیاث نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو حضرت انس بن مالک نے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔ " لن تنا لو االبر حتیٰ تنفقو ا مما تحبون" ۔ تم لوگ نیکی کے عمدہ معیار کو ہر گز نہیں پہنچ سکے۔ اس وقت تک جب تک کہ تم خرچ کرو اس چیز میں سے جس کو تم پسند کرتے ہو۔ ابو طلحہ نے عرض کی یا رسول اللہ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مالوں کا سوا ل کرتا ہے۔ بے شک میں آپ کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین بیر جاء اللہ کے واسطے کر دی ہے رسول اللہ نے فرمایا آپ اس کو اپنی قرابت داروں میں تقسیم کر دیجئے چنانچہ اس نے ابی بن کعب اور حسان بن ثابت کے درمیان اس کو تقسیم کر دیا۔ اس کو مسلم نے صحیح میں حماد کی حدیث سے روایت کیا ہے۔

أَبُو طَلْحَةَ ← لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ← حماد بن سلمة و ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3423

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3424

3424 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله نا الحسن بن سفيان نا أحمد بن عيسى نا ابن وهب أخبرني عمر بن الحارث عن بكير عن كريب عن ميمونة بنت الحارث : أنها اعتقت وليدة في زمان النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك لرسول الله فقال : لو أعطيتها أخوالك كان أعظم لأجرك رواه مسلم في الصحيح عن هارون الأيلي عن ابن وهب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابو بکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو احمد بن عیسیٰ نے ان کو وہب نے ان کو خبر دی ہے عمرو بن حارث نے ان کو بکیر نے کریب سے اس نے میمونہ بنت حارث سے کہ اس نے ایک لڑکی کو آزاد کیا زمانہ رسول میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی تو آپ نے فرمایا اگر آپ اپنے عزیزوں کو بطور عطیہ دے دیتے تو تیرا اجر بہت بڑا ہو جاتا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ہارون ایلی سے اس نے ابن وہب سے۔

مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ← كُرَيْبٍ، ← بُكَيْرٍ، ← عمر بن الحارث، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أحمد بن عيسى، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3424

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3425

3425 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن بالويه المزكى أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا قطن بن إبراهيم نا حفص بن عبد الله نا إبراهيم بن طهمان عن سليمان الأعمش و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب حدثني أبي و محمد بن النضر الجارودي و إبراهيم بن محمد الصيدلاني و أحمد بن سلمة و ابن شيرويه قال أبي نا و قالوا ثنا هناد بن السري نا أبو الأحوص عن الأعمش عن أبي وائل عن عمرو بن الحارث عن زينب امرأة عبد الله بن مسعود قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تصدقن يا معشر النساء و لو من حليكن قال : فرجعت إلى عبد الله فقالت إنك رجل خفيف ذات اليد و إني أنفق عليك و على أيتام في حجري و إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرنا بالصدقة فأته فاسئله فإن كان ذلك يجزيني و إلا صرفتها إلى غيركم قالت : فقال لي عبد الله بل ائتيه أنت قالت فانطلقت و إذا امرأة من الأنصار بباب رسول الله صلى الله عليه و سلم حاجتي حاجتها قالت و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد القيت عليه المهابة قالت : فخرج علينا بلال فقلنا له ائت رسول الله صلى الله عليه و سلم فاخبره إن امرأتين بالباب تسألانك أتجزىء الصدقة عنهما على أزواجهما و على أيتام في حجورهما و لا تخبره من نحن قالت فدخل بلال على رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من هما قال امرأة من الأنصار و زينب قال : أي الزيانب ؟ قال امرأة عبد الله قال لهما أجران أجر القرابة و أجر الصدقة هذا لفظ حديث أبي الأحوص و حديث ابن طهمان بمعناه غير أنه قال : تسألان النفقة على أزواجهما و على يتامى في حجورهما هل تجزيء ذلك عنهما من الصدقة رواه مسلم في الصحيح عن الحسن بن الربيع عن أبي الأحوص و أخرجه البخاري من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو محمد عبدالرحمٰن بن محمد بن بالویہ مزکی نے ان کو ابو بکر محمد بن حسن قطان نے ان کو قطعی بن ابراہیم نے ان کو حفص بن عبداللہ نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو سلیمان اعمش نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حدیث بیان کی ہے ان کے والد نے اور محمد بن نصر جارودی نے اور ابراہیم بن محمد صیدلانی نے اور احمد بن سلمہ اور ابن شیرویہ نے ان کو ان کے والد نے کہا کہ آپ نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ہناد بن سری نے ان کو ابوالاحوض نے ان کو اعمش نے ان کو ابو وائل نے ان کو عمر و بن حارث نے ان کو زینب عبداللہ بن مسعود کی بیوی نے کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا: ضرور تم صدقہ کرو اے عورتوں کی جماعت اگر چہ تمہارے زیوروں سے بھی ہو۔ فرماتی ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ آپ ہلکے پھلکے خرچ والے آدمی ہیں اور صاحب ہنر بھی ہیں۔ میں تمہارے اوپر بھی خرچ کرتی ہوں اور ان یتیموں پر بھی جو میری گود میں ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے آپ ان کے پاس جا کر پوچھئے کہ اگر یہی خرچ کرنا مجھے کافی رہے تو ٹھیک ورنہ میں وہ تم سے ہٹا کر کسی اور پر خرچ کروں۔ کہتی ہیں کہ حضرت عبداللہ نے مجھ سے کہا میں نہیں بلکہ آپ خود جائیے کہتی ہیں کہ میں خود چلی گئی اچانک دیکھتی ہوں ایک اور انصاری عورت بھی دروازہ رسول پر پہنچی ہوئی ہے اس کی ضرورت بھی میرے والی تھی یعنی اس کا مسئلہ بھی بعینہ میرے والا ہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قدرتی رعب تھا (چہرے پر خوب وجاہت تھی) کہتی ہیں کہ اتنے میں ہمارے سامنے بلال باہر آئے ہم نے اس سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جائیے اور ان کو بتائیے کہ دو عورتیں دروازے پر ہیں اور وہ آپ سے پوچھتی ہیں کہ کیا ان کو ان کے شوہروں پر صدقہ کرنا کافی رہے گا اور ان یتیموں پر جو ان کی گود میں پرورش پا رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مت بتاؤ کہ ہم کون ہیں؟ کہتی ہیں کہ حضرت بلال اندر گئے رسول اللہ کے پاس ان سے مسئلہ پوچھا تو رسول اللہ نے فرمایا وہ دونوں عورتیں کون ہیں تو بلال نے بتایا کہ ایک انصاری عورت ہے اور دوسری زینب ہے۔ حضور نے پوچھا کہ دونوں میں سے کون سی زینب ہے؟ اس نے بولا کہ عبداللہ بن مسعود کی بیوی ہے۔ حضور نے فرمایا کہ ان دونوں کے لئے دہرا اجر ہے ایک قرابت داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔ یہ الفاظ ابوالاحوض کی روایت کے ہیں اور ابن طہمان کی روایت اسی مفہوم میں ہے علاوہ ازیں اس نے کہا ہے وہ دونوں عورتیں سوال کرتی ہیں خرچ کرنے کے بارے میں ان کے اپنے شوہروں پر اور یتیموں پر جو ان کی سرپرستی میں ہیں یہ کفایت کرے گا یہ صدقے کی جگہ ان دونوں کی طرف سے اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے حسن بن ربیع سے اس نے ابو الاحوض سے اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے اعمش سے۔

أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← سليمان الأعمش و ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← قَطَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن بالويه المزكّي،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3425

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3426

3426 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب املاء نا الحسن بن مكرم البزار نا عثمان بن عمر أنا ابن عون عن حفصة بنت سيرين عن أم الرائح عن سلمان بن عامر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الصدقة على المسكين صدقة و إنها على ذي الرحم اثنتان صدقة وصلة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے بطور املاء کے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو بزار نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو ابن عون ان کو حفصہ بنت سیرین نے ام رائح سے اس نے سلمان بن عامر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک مسکین پر صدقہ کرنا صرف شدہ ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو کام ہیں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ہے۔

سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← أُمِّ الرَّائِحِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3426

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3427

3427 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم الصنعاني أنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن عن أم كلثوم بنت عقبة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصدقة على ذي الرحم الكاشح

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی صنعانی اسحاق بن ابراہیم صنعانی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن نے ان کو ام کلثوم بنت عقبہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ افضل صدقہ در پردہ دشمنی کرنے والے قرابت دار پر صدقہ کرنا ہے۔

أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّنْعَانِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3427

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3428

3428 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا أبو عثمان سعيد بن محمد الانجداني نا محمد بن كثير ح و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا ابن كثير أنا سفيان عن الأعمش و الحسن بن عمرو و فطر عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو قال سفيان و لم يرفعه سليمان إلى النبي صلى الله عليه و سلم رفعه فطر و الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس الواصل بالمكافىء و لكن الواصل الذي إذا قطعت رحمه وصلها رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن كثير

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو عثمان بن محمد انجدانی نے ان کو محمد بن کثیر نے(ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو اعمش نے اور حسن بن عمرو نے اور فطر نے ان کو مجاہد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے سفیان نے کہا ہے کہ اس کو سلیمان بن کریم تک مرفوع نہیں کیا اور فطر نے اور حسن نے اس کو مرفوع کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ رشتہ داری کو جوڑنے والا وہ نہیں ہوتا جو صرف احسان کا بدلہ چکا دے بلکہ رشتہ داری جوڑ کر رکھنے والا وہ ہوتا ہے کہہ جب اس کا رشتہ کٹ جائے تو وہ اس کو جوڑ دے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن کثیر سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← الأعمش و الحسن بن عمرو و فطر ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ کَثِيرٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أبو عثمان سعيد بن محمد الانجداني ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3428

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3429

3429 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أباذي نا العباس بن محمد الدوري نا يزيد بن عمر بن حيوة المدائني نا سلام أبو المنذر المقرىء البصري عن محمد بن واسع عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر : أوصاني خليلي صلى الله عليه و سلم بسبع أمرني أن أنظر إلى من هو دوني و لا أنظر إلى من هو فوقي و أمرني بحب المساكين و الدنو منهم و أمرني أن لا أسأل أحدا شيئا و أمرني أن أصل الرحم و إن أدبرت و أمرني أن أقول الحق و إن كان مرا و أمرني أن لا تأخذني في الله لومة لائم و أمرني أن أكثر من قول لا حول و لا قوة إلا بالله فإنها من كنز الجنة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو طاہر محمد بن بن حسن محمد آبادی نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یزید بن عمر بن حیوۃ مدائنی نے انکو ابو منذر مقری بصری نے ان کو محمد بن واسع نے ان کو واسع نے ان کو عبداللہ بن صامت نے ان کو ابو ذر نے کہ میرے خلیل نے مجھے سات چیزوں کی وصیت کی تھی۔ مجھے حکم دیا تھا کہ اس پر نظر رکھوں جو مجھ سے کم تر ہے اور اس نہ دیکھوں جو مجھ سے اوپر ہے اور مجھے مسکینوں سے محبت کرنے کا حکم فرمایا تھا اور ان سے قریب رہنے کا اور مجھے حکم دیا تھا کہ میں کسی سے کسی شے کا سوال نہ کرو اور مجھے حکم دیا تھا کہ میں صلہ رحمی کرو اگرچہ میں مر بھی جاؤں اور مجھے حکم دیا تھا کہ کثرت کے ساتھ یہ ورد کروں "لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم " یہ جنت کا خزانہ ہے اور مجھے حکم دیا تھا کہ میں حق بات کہوں اگرچہ وہ کڑوین ہو اور مجھے حکم دیا کہ میں اللہ کے دین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کروں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← سلام أبو المنذر المقرىء البصري ← يزيد بن عمر بن حيوة المدائني ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3429

chevron_left Previous
1…596061…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood