Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3406

3406 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا عبد العزيز بن أبي سلمة نا وهب بن كيسان عن عبيد بن عمير الليثي عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بينما رجل بفلاة إذ سمع رعدا في سحاب فسمع فيه كلاما اسق حديقة فلان باسمه فجاء ذلك السحاب إلى حرة فأفرغ ما فيه من الماء ثم جاء إلى ذئاب شرج فانتهى إلى شرجة فاستوعبت الماء و مشى الرجل مع السحاب حتى انتهى إلى رجل قائم في حديقة له يسقيها فقال يا عبد الله ما اسمك ؟ قال : و لم تسأل قال : إني سمعت في سحاب هذا ماؤه اسق حديقة فلان باسمك فما تصنع فيها إذا صرمتها قال : أما إذ قلت ذلك فإني أجعلها على ثلاثة أثلاث اجعل ثلثا لي و لأهلي و أرد ثلثا فيها و اجعل ثلثا في المساكين و السائلين و ابن السبيل

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عبدالعزیز بن ابو سلمہ نے ان کو وہب بن کیسان نے ان کو عبید بن عمیر لیثی نے ان کو ابو ہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ نے فرمایا : ایک آدمی جنگل میں جا رہا تھا کہ اس نے اچانک بادلوں میں سے ایک آواز سنی اور ساتھ بادلوں کی زبردست گرج بھی۔ کلام یہ تھی جا فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلا دے۔ آدمی کے نام سے۔ اتنےمیں وہ بادل ایک وادی کی طرف آیا اور اس میں جو کچھ پانی تھا وہ اس وادی میں پورا گرا کر چلا گیا۔ اس کے بعد نہر ہوا چھوٹی چھوٹی نالیوں سے ہوتا ہوا ۔ ایک بڑی ندی یا کھالے کی طرف پہنچ گیا اس کھالے نے پورا پانی اپنے اندر لے لیا اور وہ آدمی جس نے آواز سنی تھی وہ آدمی ان بادلوں کےساتھ ساتھ چلا حتیٰ کہ اس آدمی تک پہنچ گیا جو اپنے باغ میں کھڑا پورا پانی دے رہا تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے پوچھا کہ تم میرا نام کیوں پوچھتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں ان بادلوں میں نام سنا تھا جن کا یہ پانی ہے کہ جا فلاں کے باغ کو پانی پلا دے تیرے نام کے ساتھ اب تم یہ بتاؤ کہ تم کرتے کیا ہو؟ اس باغ میں جب تم اس کا پھل حاصل کر لیتے ہو اس نے کہا کہ جب تم نے یہ کہہ دیا ہے تو سن لو میں اس کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں ایک تہائی اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے رکھتا ہوں اور ایک تہائی مسکینوں سائبوں اور مسافروں کو تقسیم کرتا ہوں اور ایک تہائی اسی باغ میں دوبارہ خرچ کرتا ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3406

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3407

3407 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الوليد أنا الحسن بن سفيان أنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا يزيد بن هارون أنا عبد العزيز بن أبي سلمة عن وهب بن كيسان عن عبيد بن عمير عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : بينما رجل بفلاة من الأرض فسمع صوتا في سحابة اسق حديقة فلان استوعبت ذلك الماء كله فتتبع الماء فإذا رجل قائم في حديقته يحول الماء بمسحاته قال له يا عبد الله ما اسمك ؟ قال : فلان للإسم الذي سمع في السحابة فقال له يا عبد الله لم تسألني عن اسمي ؟ قال : إني سمعت صوتا في السحاب الذي هذا ماؤه يقول اسق حديقة فلان لاسمك فما تصنع فيها قال : أما إذ قلت هذا فإني انظر إلى ما يخرج منها فأتصدق بثلثه و آكل أنا و عيالي ثلثا و أرد فيها ثلثا رواه مسلم عن أحمد بن عبدة عن أبي داود عن أبي بكر بن أبي شيبة عن يزيد بن هارون

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الولید نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو یزید بن ہارون نے انکو عبدالعزیز بن ابو سلمہ نے ان کو وھب بن ابو کسان نے ان کو عبید بن عمیر نے انکو ابو ہریرہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ نے فرمایا کہ ایک آدمی جنگل یا کہیں زمین کے میدانی علاقے میں تھا کہ یکایک اس نے بادل میں سے ایک آواز سنی جا فلاں کے باغ کو پانی دے پھر وہ بادل ایک طرف ہو گیا اس نے اپنا پانی ایک چھوٹی سی جگہ میں یا وادی میں ڈال دیا پھر ان کئی دراڑوں میں سے ایک دراڑ نے اس پورے پانی کو جمع کر لیا اس آدمی نے پانی کا پیچھا کیاتو دیکھا کہ اچانک ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا بیلچہ کے ساتھ پانی کو ادھر ادھر بدل رہا ہے (آواز سننےاور یہ منظر دیکھنے والے نے ) کہا اے اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ فلاں نام ہے جو اس نے بادل میں سے آئی تھی وہی بادل تھا جس کا یہ پانی ہے کوئی کہہ رہا تھا کہ فلاں کے باغ کو پانی پلا دے تیرا ہی نام تھا اب آپ بتائیے کہ آپ اس میں کیا کرتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ جب تم نے یہ ساری بات بتا دی ہے تو سنو میں اس کی آمدنی کو تین تہائی کرتا ہوں س کی ایک تہائی کا صدقہ کرتا ہوں ایک تہائی خود کھاتا ہوں اور میرا کنبہ بھی ایک اور ایک تہائی بیچ کر پھر اسی میں لگاتا ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3407

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3408

3408 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو زكريا العنبري حدثني أبي نا محمد بن عبد الوهاب قال : سمعت علي بن عثام يقول قام سائل فقال : نقص الكيل و عجفت الخيل و قل النيل و سعت و شاة بيننا و بين بني فلان فما ينفتح في وضح و نحن عيال جذبة فمن يقرض الله قرضا حسنا فإن الله لم يسأل القرض من عدم و لكن ليبلو الأخيار و تجزى الأعمال

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناعلی بن عشام سے وہ کہتے ہیں کہ ایک سائل کھڑا ہوا اور بولا۔ پیمانہ کم ہو گیا ہے گھوڑے دبلے ہو گئے ہیں۔ عطیے کم ہو گئے ہیں چغل خوری وسیع ہو گئی ہے ہمارے اور بنو فلاں کے درمیان ۔ بس بیچ کی کوئی راہ کھلی نہیں ہے اور ہم لوگ لینے والے (ضرورت مند) ٹھہریں پس کوئی قرضہ دے گا اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ ۔ پس اللہ تعالیٰ اس لئے قرضہ نہیں مانگتے کہ وہ نادار ہے بلکہ اس لیے مانگتے ہیں تاکہ وہ اچھے لوگوں کو آزمائیں (اور اعمال کی جزا دیں)۔

قام سائل ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبِي ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3408

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3409

3409 - سمعت أبا عبد الله الحافظ يقول : سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول : سمعت محمد بن عبد الله بن عبد الحكم يقول : سمعت الشافعي يقول : وقف أعرابي على عبد الملك بن مروان فسلم ثم قال أي رحمك الله أنه مرت بنا سنون ثلاثة أما أحدهما فأهلكت المواشي و أما الثانية فأنضت اللحم و أما الثالثة فخلصت إلى العظم و عندك مال فإن يك لله فأعط عباد الله و إن يك لك فتصدق علينا إن الله يجزي المتصدقين قال : فأعطاه عشرة آلاف درهم و قال : لو أن الناس يحسنون أن يسألوا هكذا ما حرمنا أحدا

میں نے سنا ابو عبداللہ حافظ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو العباس محمد بن یعقوب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم سے وہ کہتےہیں کہ میں نے سنا شافعی سے وہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی عبدالملک بن مروان کے پاس کھڑا ہوا تھا اور سلام کیا پھر کہا اے شخص تجھ پر اللہ رحم کرے ہمارے اوپر تین سال گزر گئے ہیں ایک سال میں تو جانور مر گئے ہیں اور دوسرے سال میں گوشت دبلے ہو گئے اور تیسرے سال ہڈیوں سے لگ گئے ہیں اور تیرے پاس مال ہے اگر وہ اللہ کاہے تو اللہ کے بندوں کو دے دیجئے اور وہ مال آپ کا ہے تو آپ ہمارے اوپر صدقہ کردیجئے اس لئے کہ بے شک اللہ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیں گے۔ کہتے ہیں کہ مروان نے اس کو دس ہزار درہم دے دئیے اور فرمایا کہ اگر لوگ سوال اچھے طریقے سے کریں جیسے اس نے کیا ہے تو ہم لوگ کسی کو محروم نہ کریں۔

وقف أعرابي على عبد الملك بن مروان فسلم ثم ← الشَّافِعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبا عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3409

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3410

3410 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا زكريا بن يحيى بن أسد ثنا سفيان بن عيينة عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال : قال الله تبارك و تعالى يا ابن آدم انفق أنفق عليك رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب و ابن نمير عن سفيان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ا بو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو زکریا بن یحییٰ بن اسد نے انکو سفیان بن عیینہ نے ان کو ابوالزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچاتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے آدم کے بیٹے خرچ کر تجھ کو خوش کیا جائے گا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زبیر بن حرب سے اور ابن نمیر سے اس نے سفیان سے۔

سُفْيَانَ، ← زهير بن حرب و ابن نمير ← الله تبارك و تعالى يا ابن آدم انفق أنفق عليك رواه مسلم في الصحيح ← أبي هريرة يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← زكريا بن يحيى بن أسد ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3410

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3411

3411 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا إسماعيل بن جعفر نا العلا بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما نقصت صدقة من مال و ما زاد الله بعفو إلا عزا و ما تواضع أحد لله إلا رفعه الله رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة عن إسماعيل

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابوالربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو علاء بن عبدالرحمٰن نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : صدقہ کرنا مال کو کم نہیں کرتا اور عفو و درگزر کرنے سے عزت بڑھتی ہے اور جس نے بھی اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی کی اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیں گے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے قتیبہ سے اس نے اسماعیل سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← العلا بن عبد الرحمن ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرىء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3411

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3412

3412 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسين محمد بن أحمد بن الحسن بن إسحاق البزار ببغداد قالا : ثنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي بمكة نا أبو يحيى بن أبي مسرة نا بلال بن المحبر نا عباد بن راشد نا قتادة عن خليد بن عبد الله العصري عن أبي الدرداء قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : ما من يوم طلعت شمسه إلا و كان بجنبتيها ملكان يناديان نداء يسمعه ما خلق الله كلهم غير الثقلين يا أيها الناس هلموا إلى ربكم إن ما قل و كفى خير مما كثر و ألهى و لا آبت الشمس إلا و كان بجنبتيها ملكان يناديان نداء يسمعه خلق الله كلهم إلا الثقلين اللهم اعط منفقا خلفا و اعط ممسكا تلفا و أنزل الله في ذلك قرآنا في قول الملكين يا أيها الناس هلموا إلى ربكم في سورة يونس { و الله يدعو إلى دار السلام و يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم } و أنزل في قولهما اللهم اعط منفقا خلفا و اعط ممسكا تلفا { والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * وما خلق الذكر والأنثى } إلى قوله { للعسرى }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین محمد بن احمد بن حسن بن اسحٰق بزاز نے بغداد میں دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ہے ابو محمدعبداللہ بن محمد بن اسحٰق فاکہی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو یحییٰ ابن ابو مسرہ نے ان کو بلال بن محبر نے ان کو عبادہ بن راشد نے ان کو قتادہ نے ان کو خلید بن عبداللہ عصری نے ان کو ابو درداء نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی ایسا دن نہیں جس کاسورج چڑھتا ہے مگر ہوتے ہیں اس کے دونوں پہلوؤں میں(صبح و شام) دو فرشتے ایسی آواز لگاتے ہیں جس کو وہ تمام مخلوق سنتی ہے جن کو اللہ نے پیدا کیا ہے ساری کی ساری سوائے انسانوں اور جنوں کے ۔ اے لوگو آ جاؤ تم سب اپنے رب کی طرف کہ بے شک وہ چیز جو قلیل ہو اور کافی ہو جائے وہ بہتر ہے اس سے جو بہت ہواور غافل کر دے اور نہیں غروب ہوتا سورج مگر اس کے دونوں پہلوؤں کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں۔ وہ اعلان کرتے ہیں ایسا اعلان جس کو ساری مخلوق سنتی ہے سوائے جن و انس کے۔ اے اللہ تو خرچ کرنے والے کو اور دے (جو خرچ کیا ہے اس کا خلیفہ اور بدل عطا کر) اور خرچ نہ کرنے والے روک رکھنے والے کے مال کو ہلاکت دے (جو اللہ واسطے نہ دے اس کا مال ضائع ہو جائے) اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن مجید میں نازل کیا دو فرشتوں کے قول میں ۔ اے لوگو آؤ تم لوگ اپنے رب کی طر ف (وہ ارشاد) سورہ یونس میں ہے:" واللہ یدعو اِلیٰ دار السلام ویھدی من یشاء الیٰ صراط مستقیم " اللہ تعالیٰ بلاتا ہے سلامتی والے گھر کی طرف اور جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔ اور اللہ نے دونوں فرشتوں کے قول میں نازل فرمایا: "اللھم اعط منفقا خلفا واعط ممسکا تلفا" اے اللہ خرچ کرنے والے اور دے اور روکنے والے کا ضائع کر دے۔ " واللیل اذا یغشی اوالنھار اذا تجلی وما خلق الذکر والانثیٰ" قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے اور قسم ہے دن کی جب وہ روش ہو کر کھل جائے اور قسم ہے اس کی جو اس نے مذکر اور مؤنث پیدا کیے ۔ آپ نے للعسریٰ تک پڑھ لی۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيِّ، ← قَتَادَةَ ← عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ ← بلال بن المحبر ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3412

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3413

3413 - أخبرنا أبو الحسن المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : ما فتح رجل باب عطية لصدقة أو صلة إلا زاده الله بها كثرة و ما فتح رجل باب مسكة يريد بها كثرة إلا زاده الله بها قلة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ابن عجلان نے ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو آدمی صدقہ کرنے کے لئے عطیہ کرنے کا دروازہ کھولتا ہے یا صلہ رحمی کے لئے اللہ تعالیٰ اس کی کثرت کو اور زیادہ کرتا ہے اور جو آدمی روکنے کا دروازہ کھولتا ہے جس سے وہ یہ ارادہ کرتا ہے کہ مال زیادہ ہو جائے اللہ اس کی قلت کو اور زیادہ کر دیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3413

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3414

3414 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد الله أحمد نا أبو بكر السدوسي نا عاصم نا أبو هلال نا عبد الله بن بريدة قال : قال كعب : ما كرم عبد على الله عز و جل قط إلا ازداد البلاء عليه شدة و ما أعطى رجل زكاة ماله فنقصت من ماله و لا حبسها فزادت من ماله و لا سرق سارق يعني سرقة إلا حسبت له من رزقه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو ابو بکر سدوسی نے ان کو عاصم نے ان کو ابو ہلال نے ان کو عبیداللہ بن بریدہ نے وہ کہتے ہیں کہ کعب نے کہا جس قدر بندہ اپنی رب کے نزدیک عزت و شرف والا ہو جاتا ہے اسی قدر اس پر آزمائش اپنی شدت کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہے اور جو آدمی اپنےمال کی زکوٰۃ دیتا ہے ایسا نہیں ہے کہ اس کا مال کم ہو جائے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ زکوٰۃ نہ دے اور اس کے مال میں اضافہ ہو جائے اور ایسا بھی نہیں کہ کوئی چور چوری کر ے اور جس کی چوری ہوئی ہے اس کا رزق بند ہو جائے۔ ایسا بھی نہیں ہوتا یعنی بدستور رزق ملتا رہتا ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← عَاصِمٍ، ← أبو بكر السدوسي ← دعلج بن أحمد الله أحمد ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3414

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3415

3415 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا أبو معاوية عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس في هذه الآية قال : الفضل عن العيال و روينا فيم مضى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : يا ابن آدم إنك تبذل الفضل خير لك و إن تمسكه شر لك

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو ابن ابی لیلیٰ نے ان کو حکم نے ان کو مقسم نے انکو ابن عباس نے اسی مذکورہ آیت کے بارے میں کہ مال عفو سے مراد عیال سے زائد مراد ہے اور ہم پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کر چکے ہیں کہ آپ نے فرمایا ۔ اے ابن آدم بے شک تو اگر زائد مال (اللہ واسطے) خرچ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے اور تواس کو روک کر رکھے تو یہ تیرے لئے برا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← العيال و روينا فيم مضى ← الْفَضْلُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3415

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3416

3416 - و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنا جدي يحيى بن منصور القاضي نا أحمد بن سلمة نا أحمد بن يوسف نا النضر بن محمد نا عكرمة بن عمار نا شداد عن أبي أمامة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قال الله عز و جل يا ابن آدم إنك إن تبذل الفضل فهو خير لك و إن تمسكه فهو شر لك و لا تلام على كفاف و ابدأ بمن تعول و اليد العليا خير من اليد السفلى أخرجه مسلم كما مضى

اور ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو نضر بن محمد نے انکو اعکرمہ نے ان کو شداد نے ان کو ابو امامہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ آپ نے فرمایا ہک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم بے شک تو اگر زائد مال کو (اللہ واسطے کسی پر) خرچ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر اور اگر تو اس کو روک لے تو یہ برا ہے تیرے لئے اور تو اپنی ضرورت کے پورے مال کو (اللہ واسطے خرچ نہ کرنے پر) ملامت نہیں کیا جائے گا (پہلے) ابتدا کر(خرچ کرنے کی) ان سے جن کی تو عیالداری کرتا ہے (سرپرستی کرتاا ہے) اس لئے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہے (یعنی دینے والا لینے والے سے بہتر ہے) اس کو مسلم نے نقل کیا ہے جیسے پہلے گزر چکی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← شَدَّادٌ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3416

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3417

3417 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقريء نا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن عبيد و محمد بن أبي بكر قالا : نا حماد بن زيد عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن جابر بن عبد الله : أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم بمثل البيضة من الذهب فقال : يا رسول الله هذه صدقة و ما تركت بعدي لأهلي غيرها قال : فحذفه رسول الله صلى الله عليه و سلم بها و لو أصابه لأوجعه ثم قال : يعمد أحدكم فينخلع من ماله ثم يصير عيالا على الناس

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبید نے اور محمد بن ابو بکر نے ان دونوں کو حماد بن زید نے ان کو محمد بن اسحٰق نے انکو عاصم بن عمر بن قتادہ نے ان کو محمود بن لبید نے ان کو جابر بن عبداللہ نے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک انڈے کے برابر سونا لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ یہ صدقہ ہے اور میں نے اس کے بعد اپنے گھر کے لئے اس میں سے کچھ نہیں چھوڑا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ہی سونا دے مارا کہ اگر اس کو لگتا تو اس کو تکلیف ہوتی (اسے پھینک دیا) پھر آپ نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اٹھتا ہے اور اپنے مال سے باہر نکل جاتا ہے اور خالی ہو جاتا ہے اس کے بعد پھر وہ دوسرے لوگوں پر بوجھ بن جاتا ہے۔

مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← محمد بن عبيد و محمد بن أبي بكر ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3417

chevron_left Previous
1…585960…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood