شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3406
3406 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا عبد العزيز بن أبي سلمة نا وهب بن كيسان عن عبيد بن عمير الليثي عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بينما رجل بفلاة إذ سمع رعدا في سحاب فسمع فيه كلاما اسق حديقة فلان باسمه فجاء ذلك السحاب إلى حرة فأفرغ ما فيه من الماء ثم جاء إلى ذئاب شرج فانتهى إلى شرجة فاستوعبت الماء و مشى الرجل مع السحاب حتى انتهى إلى رجل قائم في حديقة له يسقيها فقال يا عبد الله ما اسمك ؟ قال : و لم تسأل قال : إني سمعت في سحاب هذا ماؤه اسق حديقة فلان باسمك فما تصنع فيها إذا صرمتها قال : أما إذ قلت ذلك فإني أجعلها على ثلاثة أثلاث اجعل ثلثا لي و لأهلي و أرد ثلثا فيها و اجعل ثلثا في المساكين و السائلين و ابن السبيل
ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عبدالعزیز بن ابو سلمہ نے ان کو وہب بن کیسان نے ان کو عبید بن عمیر لیثی نے ان کو ابو ہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ نے فرمایا : ایک آدمی جنگل میں جا رہا تھا کہ اس نے اچانک بادلوں میں سے ایک آواز سنی اور ساتھ بادلوں کی زبردست گرج بھی۔ کلام یہ تھی جا فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلا دے۔ آدمی کے نام سے۔ اتنےمیں وہ بادل ایک وادی کی طرف آیا اور اس میں جو کچھ پانی تھا وہ اس وادی میں پورا گرا کر چلا گیا۔ اس کے بعد نہر ہوا چھوٹی چھوٹی نالیوں سے ہوتا ہوا ۔ ایک بڑی ندی یا کھالے کی طرف پہنچ گیا اس کھالے نے پورا پانی اپنے اندر لے لیا اور وہ آدمی جس نے آواز سنی تھی وہ آدمی ان بادلوں کےساتھ ساتھ چلا حتیٰ کہ اس آدمی تک پہنچ گیا جو اپنے باغ میں کھڑا پورا پانی دے رہا تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے پوچھا کہ تم میرا نام کیوں پوچھتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں ان بادلوں میں نام سنا تھا جن کا یہ پانی ہے کہ جا فلاں کے باغ کو پانی پلا دے تیرے نام کے ساتھ اب تم یہ بتاؤ کہ تم کرتے کیا ہو؟ اس باغ میں جب تم اس کا پھل حاصل کر لیتے ہو اس نے کہا کہ جب تم نے یہ کہہ دیا ہے تو سن لو میں اس کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں ایک تہائی اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے رکھتا ہوں اور ایک تہائی مسکینوں سائبوں اور مسافروں کو تقسیم کرتا ہوں اور ایک تہائی اسی باغ میں دوبارہ خرچ کرتا ہوں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3406
