Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ علاج القرحة · حديث 3382

3382 - و روى عبد الله بن مخلد بن خالد صاحب أبي عبيد قال : حدثني أبي نا عبد الله بن المبارك عن هشام عن ابن سيرين عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أطعم أخاه المسلم شهوته حرمه الله على النار أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ أنا أبو زكريا العنبري نا محمد بن عبد السلام نا عبد الله بن محمد بن مخلد بن خالد التميمي فذكره و هو بهذا الإسناد منكر و الله أعلم

اور روایت سے عبداللہ بن مخلد بن خالد سے یہ صاحب ابو عبیدہ ہیں ان کو حدیث بیان کی ہے ان کے والد نے ان کو حضرت عبداللہ بن مبارک نے ان کو ہشام نے ابن سیرین سےا ن کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ نے فرمایا جو اپنے مسلمان بھائی اس کی پسند کی چیز کھلائے گا اللہ اس کو جہنم پر حرام کر دے گا۔ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کو محمد بن عبدالسلام نے ان کو عبداللہ بن محمد بن مخلد بن خالد تمیمی نے پھر اس مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے مگر وہ اس اسناد کے ساتھ منکر ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبِي ← و روى عبد الله بن مخلد بن خالد صاحب أبي عبيد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Ulcer treatment · Hadith 3382

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما جاء في المنيحة · حديث 3383

3383 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي فيما قرأ على مالك ح و أخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني أنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكى نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم نا ابن بكير نا مالك عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : نعمت و في رواية القعنبي قال : نعم الصدقة اللقحة الصفي و الشاة الصفي تغدو بإناء و تروح بإناء و رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير و غيره عن مالك و أخرجه مسلم من حديث ابن عيينة عن أبي الزناد

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک کے سامنے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو احمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہرجانی نے ان کو بو بکر محمد بن جعفر مزکی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم نے ان کو ابن بکیر نے ان کومالک نے ان کو ابو الزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " نعمت " یہ بہت ہی اچھا ہے اور قعنبی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہترین صدقہ زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی اور زیادہ دودھ دینے ولی بکری کا عطیہ ہے اور صدقہ ہے جو صبح کو بھی برتن بھر دے اور شام کو بھی برتن بھر دیتی ہے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے یحییٰ بن بکیر وغیرہ سے اس نے مالک سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ابن عیینہ کی حدیث سے ابو لزناد سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أبو عبد الله محمد بن إبراهيم ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، ← و، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What was mentioned in the maniha · Hadith 3383

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما جاء في المنيحة · حديث 3384

3384 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن الفضل العسقلاني نا بشر بن بكير ثنا الأوزاعي و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا محمد بن بكر نا أبو داود نا إبراهيم بن موسى ثنا عيسى يعني ابن يونس قال و حدثنا مسدد نا عيسى و هذا حديث مسدد و هو أتم عن الأوزاعي عن حسان بن عطية عن أبي كبشة السلولي قال : سمعت عبد الله بن عمرو يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أربعون خصلة أعلاهن منيحة العنز ما يعمل عبد بخصلة منها رجاء ثوابها و تصديق بوعدها إلا أدخله الله عز و جل بها الجنة و في حديث مسدد قال حسان : فعددنا ما دون منيحة العنز من رد السلام و تشميت العاطس و إماطة الأذى عن طريق و نحوه فما استطعنا أن نبلغ خمس عشرة خصلة رواه البخاري في الصحيح عن مسدد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن فضل عسقلانی نے ان کو بشر بن بکیر نے ان کو اوزاعی نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو محمد بن بکر نے ان کو داؤد نے ان کو ابراہیم بن موسیٰ نے ان کو (عیسیٰ ) نے یعنی ابن یونس نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بیان کی ہے مسدد نے ان کو عیسیٰ نے ۔ یہ مسدد کی حدیث ہے اور یہ اوزاعی سے زیادہ مکمل ہے انہوں نے حسان بن عطیہ سے انہوں نے ابو کبثہ سلولی سے انہوں نے کہا ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمرو سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔ چالیس خصلتیں ہیں ان میں سے بلند ترین خصلت دودھ دینے والی بکری کا صدقہ ہے جو بھی بندہ ان خصلتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ عمل کرتاہے اس کے ثواب کی امید کے ساتھ اور اس کے وعدے کی تصدیق کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کو جنت میں داخل کر دے گا اور مسدد کی حدیث میں ہے کہ حسان نے کہا کہ ہم نے شمار کرنا شروع کیا دودھ والی بکری کے صدقہ کے علاوہ مثلاً سلام کا جواب دینا ہے۔ چھینکنے والے کو جواب دینا ' راستہ سے تکلیف دہ چیز دور کرنا اور اس کی مثل دیگر چیزیں مگر ہم لوگ (چالیس پوری کرنا تو دور کی بات ہے) پندرہ خصلتیں بھی پوری شمار نہ کر سکے ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں مسدد سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عيسى و هذا حديث مسدد و هو أتم ← مُسَدَّدٌ ← و، ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← الأَوْزَاعِيُّ، وَ ← بِشْر بن بكير، ← أحمد بن الفضل العسقلاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What was mentioned in the maniha · Hadith 3384

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما جاء في المنيحة · حديث 3385

3385 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة قال : سألت طلحة بن مصرف عن هذا الحديث أكثر من عشرين مرة و لو كان غيري قال : ثلاثين مرة قال : سمعت عبد الرحمن بن عوسجة يحد عن البراء بن عازب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من منح منحة ورق أو قال من منح ورقا أو أهدى زقاقا أو سقى لبنا كان له العدل نسمة أو قال : رقبة و من قال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد و هو على شيء قدير عشر مرات كن له كعدل نسمة أو رقبة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے انکو ابو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے انکو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا طلحہ بن مصرف سے اس حدیث کے بارےمیں کوئی بیس مرتبہ سے بھی زیادہ اور اگر میرے سوا کوئی اور ہوتا تو کہتا کہ تیس مرتبہ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن عوسجہ سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ۔ براء بن عازب سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو شخص صدقہ کرے نقدی کا صدقہ یا یوں کہا تھا کہ صدقہ دے ورق کا (درہم' دینار روپے نوٹ رقم وغیرہ کا ) یا ہدیہ دے زقاق کا (گلی' روڈ' راستہ) یا دودھ پلائے اس کے لئے اجر ہو گا برابر (نسمہ) غلام آزاد کرنے کہ یا کہا تھا کہ برابر ایک گردن آزاد کرانے کے اور جو شخص لا الہ الاللہ وحدہ ' لا شریک لہ ' لہ الملک ولہ الحمد وھو علیٰ کل شیء قدیر " دس مرتبہ (پڑھے) تو یہ اس کے لیے ایک نسمہ یا ایک گردن کے برابر شمار ہو گا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عبد الرحمن بن عوسجة يحد ← ثلاثين مرة ← هذا الحديث أكثر من عشرين مرة و لو كان غيري ← سألت طلحة بن مصرف ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What was mentioned in the maniha · Hadith 3385

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية إمساك الفضل و غيره مما يحتاج إليه · حديث 3386

3386 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا محمد بن بشار العبدي نا عمر بن يونس الحنفي عن عكرمة بن عمار نا شداد بن عبد الله قال : سمعت أبا أمامة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يا ابن آدم إنك إن تبذل الفضل خير لك و إن تمسكه شر لك و لا تلام على كفاف و ابدأ بمن تعول واليد العليا خير من اليد السفلى رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن بشار و غيره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کواحمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن بشار عبدی نے ان کو عمر بن یونس حنفی نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو شداد بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو امامہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اے آدم کے بیٹے بی شک آپ اگر ضرورت سے زائد چیز خرچ کرنے کےلئے دے دیں گے تو تیرے لئے بہتر ہو گا وار اس کو تم روک لو گے تو تمہارے لیے برا ہو گا اور نقد و ضرورت خرچ کرنے پر تم پر ملامت نہ ہو گی خرچ کرنے کی ابتداء ان لوگوں پر خرچ کرنے سے کہ جن کی تو عیالداری کرتا ہے سرپرستی کرتا ہے اور (بے جا خرچ کر کے پھر ہاتھ نہ پھیلا کیونکہ) اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہے (دینے والا لینے والے سے ) اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن بشار نمرہ سے۔

أَبَا أُمَامَةَ، ← شداد بن عبد الله ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عمر بن يونس الحنفي ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what came in the hatred of catching credit and other things that need it · Hadith 3386

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية إمساك الفضل و غيره مما يحتاج إليه · حديث 3387

3387 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الوليد نا أبو الأشهب عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر إذ جاء رجل على راحلة فجعل يصرفها يمينا و شمالا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان عنده فضل ظهر فليعديه على من لا ظهر له و من كان عنده فضل من زاد فليعديه على من لا زاد له و ذكر أصناف الأموال حتى رأينا أنه لا حق لأحد منا في فضل عنده رواه مسلم في الصحيح عن شيبان عن أبي الشهب

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسین بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابو الولید نے ان کو ابوالاشہب نے ان کو ابو نضرہ نے ان کو ابو سعید نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ایک سفر میں اچانک ایک آدمی اپنی سواری پر سوار ہو کر آیا وہ اس کو دائیں بائیں پھیر نے لگا تو رسول اللہ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس پیٹھ فاضل ہو (یعنی اضافی سواری کا جانور ہو ) اس کو چاہیے کہ وہ اس شخص کو دے جس کے پاس سوار ی کے لئے پشت نہیں ہے (جانور نہیں ہے) اور جس کے پاس اضافی سفر خرچ ہو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو دے جس کے پاس خرچ نہیں ہے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالوں کی کئی اقسام ذکر فرمائی یہاں تک کہ ہم نے سمجھ لیا کہ ہم میں سے جس کے پاس کوئی بھی اضافی اور ضرورت سے زائدہ چیز ہو اس میں ہم میں سے کسی کا حق نہیں ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں شیبان سے اس نے ابو الاشہب سے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسين علي بن محمد المقريء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what came in the hatred of catching credit and other things that need it · Hadith 3387

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية إمساك الفضل و غيره مما يحتاج إليه · حديث 3388

3388 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا يوسف بن يعقوب السوسي نا أحمد بن عمر اللبقي نا يحيى بن يحيى التميمي نا إسماعيل بن عياش عن مطعم بن المقدام الصنعاني و عنبسة بن سعيد الكلاعي عن نصيح العنسي عن ركب المصري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طوبى لمن تواضع من غير منقصة و ذل في نفسه من غير مسكنة و أنفق مالا جمعه في غير معصية و رحم أهل الذل و المسكنة و خالط أهل الفقه و الحكمة طوبى لمن ذل في نفسه و طاب كسبه و صلحت سيرته و كرمت علانيته و عزل عن الناس شره طوبى لمن عمل بعمله و أنفق الفضل من ماله و أمسك الفضل من قوله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو یوسف بن یعقوب سوسی نے انکو احمد بن عمر بلقینی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے انکو اسماعیل بن عباس نے ان کو مطعم بن مقدام صنعانی نے اور عنبسہ بن سعید کلاعی نے ان کو نصیح عنسی نے ا ن کو رکب مصری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مبارک بادی ہے اس آدمی کے لئے جو عاجزی کرتا ہے بغیر کسی نقص و عیب ہونے کے اور اپنے آپ کو ذلیل و کمتر سمجھتا ہے بغیر فقر و محتاجی کے اور اس مال کو خرچ کرتا ہے جس کو اس نے جمع کیا ہے بغیر گناہ اور نا جائز ذرائع کے اور رحم کرتا ہے اہل غربت اور ناداریوں پ راورمیل جو ل رکھتا ہے اہل علم و اہل فراست کے ساتھ۔ مبارک بادی ہے اس کے لئے جو اپنے نفس اور (بوجہ عاجزی) دل میں حقیر و ذلیل ہے اور جو اپنی کمائی کو پاک رکھتا ہے اور اپنی سیرت کو سنوارتا ہے یا جس کی کمائی پاک ہے سیرت نیک ہے جس کا ظاہر با عزت ہے جس کی خلوت کے شر سے لوگ محفوظ ہیں۔ مبارک بادی ہے اس کے لئے جو اپنے علم کے ساتھ عمل کرتا ہے اور اپنا اضافی مال اللہ واسطے خرچ کر دیتا ہے اور فضول بات کر روک لیتا ہے (یعنی زبان کی حفاظت کرتاہے)۔

رَكْبٍ الْمِصْرِيِّ ← نَصِيحٍ الْعَنْسِيِّ، ← مطعم بن المقدام الصنعاني و عنبسة بن سعيد الكلاعي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ ← أحمد بن عمر اللبقي ← يوسف بن يعقوب السوسي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what came in the hatred of catching credit and other things that need it · Hadith 3388

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية إمساك الفضل و غيره مما يحتاج إليه · حديث 3389

3389 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق أنا محمد بن أيوب أنا محمد بن كثير أنا سفيان عن عبد الملك بن أبي بشير عن عبد الله بن المساور قال : سمعت ابن عباس يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ليس المؤمن بالذي يشبع و جاره جائع إلى جنبه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو عبدالملک بن ابو بشیر نے ان کو عبداللہ بن مساور نے وہ کہتے ہیں کہ اس نے سنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہتے تھے میں نے سنا رسول اللہ سے فرماتے تھے ۔ وہ مؤمن نہیں ہے جو خود تو پیٹ بھر لیتا ہے اور اس کا پڑوسی اس کے برابر میں بھوکا ہے۔

ليس المؤمن بالذي يشبع و جاره جائع إلى جنبه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُسَاوِرِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what came in the hatred of catching credit and other things that need it · Hadith 3389

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية إمساك الفضل و غيره مما يحتاج إليه · حديث 3390

3390 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار أنا محمد بن الفرج ثنا السهمي يعني عبد الله بن بكر نا بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا يأتي رجل مولاه فيسأله من فضل هو عنده فيمنعه إياه إلا دعي إليه يوم القيامة شجاعا أقرع يتلمظ فضله الذي منع

ہمیں خبر د ی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن فرج نے ان کو سمعی نے یعنی عبداللہ بن بکر نے ان کو خبر دی بہز بن حکیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ سے وہ فرماتے تھے کہ نہیں آئے گا کوئی آدمی اپنے مولیٰ کے سامنے (باپ کے سامنے) جس سے اس نے اس کی ضرورت سے زائد چیز مانگ لی ہے پھر وہ اس کو دینے سے انکار کر دیتا ہے مگر قیامت کے دن وہ چیز گنجا سانپ بن کر اس کی طرف آئے گی اور جس نے زائد چیز کو منع کیا تھا س کے پھنکارے گی۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← السَّهْمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَکْرٍ ← محمد بن الفرج ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what came in the hatred of catching credit and other things that need it · Hadith 3390

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية إمساك الفضل و غيره مما يحتاج إليه · حديث 3391

3391 - أخبرنا علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عبد الواحد بن غياث نا حماد بن سلمة نا أبو قزعة الباهلي عن حكيم بن معاوية عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من مولى يأتي مولى له فيسأله من فضل عنده فيتجهمه إلا جعل الله عز و جل شجاعا يوم القيامة ينهه قبل القضاء

ہمیں خبر دی علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عبدالواحد بن غیاث نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابو قزعہ باہلی نے ان کو حکیم بن معاویہ نے ان کو ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں کوئی آقا جو اپنے غلام کے پاس آئے اور غلام اس کی ضرورت سے فاضل چیز مانگے وہ اس سے منہ بنا لے مگر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسا سانپ مقرر کریں گے جو اس کو فیصلہ سے قبل روک لے گا۔

أَبِيهِ ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو قَزَعَةَ الْبَاهِلِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what came in the hatred of catching credit and other things that need it · Hadith 3391

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية إمساك الفضل و غيره مما يحتاج إليه · حديث 3392

3392 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه نا يعقوب بن سفيان نا أبو عمر و حفص بن عمر الضرير عن الحارث عن عمر بن شخير النميري نا الأزور بن عياض ثنا مروح بن سيرة قال : أتيت عمر بن الخطاب فقلت يا أمير المؤمنين ما حق إبل مائة قال : أنبأني خليلي أبو القاسم صلى الله عليه و سلم إن خير إبل ثلاثون زكاها أهلها ببعير و استنفقوا بعيرا و أعطوا السائل بعيرا و أدوا حقها يسألني عن حق إبل مائة و الله أن لنا لجملا نستقي عليه و يستقي جيراننا و نحتطب عليه و يحتطب جيراننا و الله إني لأرى أن فيه حقا أؤديه فاتق ربك فأد زكاتها و طرق فحلها و امنع عزيزتها و أفقر سديدتها و اتق ربك

ہمیں خبر دی ابو علی بن شاذان بغدادی نے ان کو عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو عمر اور حفص بن عمر ضریر نے ان کو حارث نے ان کو عمر بن شخیر نمری نے ان کو ازور بن عیاض نے ان کو مروح بن سیرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب کے پاس آیا اور عرض کیا اے امیر المومنین سو اونٹ کا کیا حق ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھے خبر دی تھی میرے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہتر اونٹ تین کی تعداد میں ہیں جن کے مالک انکی زکوٰۃ ایک بعیر (جوان اونٹ) دیتے ہیں چھانٹتے ہیں جو اونٹ کو اور سائل کو اونٹ دیتے ہیں اور اس کا حق ادا کرتے ہیں مجھ سے یہ پوچھتا ہے سو اونٹوں کا حق۔ اللہ کی قسم ہمارے پاس (جمل) اونٹ (سات سال کا پانچ چھ یا نو سال کا) ہوتا تھا۔ ہم اس پر پانی کی مشق لادتے تھے اور ہمارے پڑوسی بھی پانی اس پر لادتے تھے۔ ہم بھی اس پر لکڑیاں لادتے تھے ہمارے پڑوسی بھی اس پر لکڑیا ں لادتے تھے اللہ کی قسم میں سمجھتا ہوں کہ اس میں وہی حق تھا جو ہم نے ادا کر دیا تھا۔ تم اپنے رب سے ڈرو اور ان کی زکوٰۃ ادا کردو اس کے نر کوو چھوڑ دو مادہ کے لئے روک لے توان میں سے اچھے نادر و نایاب کو اور ادھار دے دو تم ان میں سے درست اور صحیح سالم کو اور تو اپنے رب سے در۔

أتيت عمر بن الخطاب فقلت يا أمير المؤمنين ما حق إبل مائة ← مروح بن سيرة ← الأزور بن عياض ← عمر بن شخير النميري ← الْحَارِثِ ← أبو عمر و حفص بن عمر الضرير ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أبو علي بن شاذان البغدادي بها،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what came in the hatred of catching credit and other things that need it · Hadith 3392

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية إمساك الفضل و غيره مما يحتاج إليه · حديث 3393

3393 - أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن معاوية النيسابوري نا أبو الفقيه نا الحسن بن سفيان نا يزيد بن صالح نا خارجة عن سعيد عن قتادة قال : ذكر لنا إن سليمان بن داود عليه السلام كان يقول : اذكر الجائع إذا شبعت و اذكر الفقراء إذا استغنيت

ہمیں خبر دی ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن علی بن معاویہ نیسا پوری نے ان کو ابو الولید فقیہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کویزید بن صالح نے ان کو خارجہ نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ذکر کیا گیا تھا حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام فرمایا کرتے تھے جب تم پیٹ بھر لو تو بھوکے کو یاد کرو اور تم جب غنی ہو جاؤ تو فقراء کو یاد کرو۔

اذكر الجائع إذا شبعت و اذكر الفقراء إذا استغنيت ← لنا إن سليمان بن داود كان ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← خَارِجَةَ ← يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو الفقيه ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن معاوية النيسابوري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what came in the hatred of catching credit and other things that need it · Hadith 3393

chevron_left Previous
1…565758…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood