Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3370

3370 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو سعيد محمد بن موسى قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن حازم بن أبي عرزة الغفاري نا عثمان بن سعيد نا زهير عن سعد الطائي عن عطية عن أبي سعيد و عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قالوا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما مؤمن أطعم مؤمنا على جوع أطعمه الله من ثمار الجنة و أيما مؤمن كسا مؤمنا على عري كساه الله من خضر الجنة و أيما مؤمن سقى مؤمنا على ظمأ سقاه الله من الرحيق المختوم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن حسن اور ابو سعید محمد بن موسیٰ نے ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اب العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن حازم بن ابو عرزہ غفاری نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو زہیر نے ان کو سعد طائی نے ان کو عطیہ نے ان کوابو سعید نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو شعبی نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جو مؤمن دوسرے مؤمن کو بھوکا ہونے کے وقت کھانا کھلائے گا اللہ تعالیٰ اس کے جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مؤمن دوسرے مؤمن کو بغیر کپڑوں کے ہونے کے وقت کپڑ ے پہنائے گا اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سبز لباس پہنائے گا اور جو مؤمن کسی دوسرے مؤمن کو پیاسا ہونے کے وقت پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی ستھری مشروب مہر لگی ہوئی پلائے گا۔

الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أبي سعيد و ← عَطِيَّةَ، ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← زُهَيْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن حازم بن أبي عرزة الغفاري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3370

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3371

3371 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن مكرم نا أبو النضر نا أبو خثيمة نا سعد الطائي و هو ابن مجاهد عن عطية العوفي عن أبي سعيد الخدري قال : أيما مؤمن سقى مؤمنا شربة من ماء على ظمأ سقاه الله يوم القيامة من الرحيق المختوم ثم ذكر الإطعام و الكسوة مثله موقوفا على أبي سعيد و قد رويناه من حديث صح عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابوالنضر نے ان کو ابو خیثمہ نے ان کو سعد طائی نے ان کو ابن مجاہد نے ان کو عطیہ عوفی نے ان کو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہوں نے فرمایا جو مؤمن کسی مؤمن کو پانی کا ایک گھونٹ پلائے گا پیاس کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی ستھر ی مہر لگی ہوئی شراب پلائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے کھانا کھلانے کا اور کپڑے پہنانے کا ذکر بھی اسی طرح کیا۔ بطور موقوف روایت کے ابو سعید پر اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے اس حدیث سے جو کہ صحیح ہے ابو سعید خدری سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← سعد الطائي و هو ابن مجاهد ← أبو خثيمة ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3371

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3372

3372 - أخبرنا علي بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسماعيل بن إسحاق ثنا عبد الله عن مالك و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنا أبو الحسن بن عبدوس نا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن سمي مولى أبي بكر عن أبي صالح السمان عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بينما رجل يمشي بطريق اشتد عليه العطش فوجد بئرا فنزل فيها فشرب ثم خرج فإذا كلب يلهث يأكل الثرى من العطش فقال الرجل : لقد بلغ هذا الكلب من العطش مثل الذي كان بلغني فنزل البئر فملأ خفه ماء أمسكه بفيه حتى ارتقى فسقى الكلب فشكر الله له و غفر له فقالوا : يا رسول الله و إن لنا في البهائم لأجرا فقال : في كل ذات كبد رطبة أجر رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن مسلمة القعنبي و رواه مسلم عن قتيبة عن مالك

ہمیں خبر دی ہے علی بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق نے ان کو عبداللہ نے مالک سے اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے ان کو ابو الحسن بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے اس میں جو انہوں نے پڑھی مالک کے سامنے انہوں نے مولیٰ ابو بکر سے اس نے ابو صالح سمان سے اس نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ایک آدمی ایک راستے پر سف کر رہا تھا اچانک اس کو شدید پیاس لگی اس کو کنواں مل گیا وہ کنویں کے اندر اتر گیا اور جا کر پانی پی لیا اس کے بعد وہ باہر نکل آیا پھر اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس سے ہانپ رہا ہے اور گیلی مٹی چوس رہا ہے پیاس کی وجہ سے۔ اس نے دل میں سوچا کہ اس کتے کو بھی ایسی ہی پیاس لگی ہے جیسے مجھے لگی ہوئی تھی چنانچہ وہ پھر کنویں میں اتر گیا اور اپنا موزہ یا جوتا پانی کا بھرا اور اس کومنہ میں تھاما اوپر چھڑا ور یوں باہر آ کر اس کتے کواس نے پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر کرتے ہوئے اس کی مغفرت کر دی لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ چوپایوں میں بھی ہمارے لئے اجر و ثواب ہے آپ نے فرمایا جی ہاں ہر تازہ جگر رکھنے والے میں (یعنی ہر جاندار کاخیال کرنے میں ) اجر ہے اس کو بخاری نے روایت کیا ہے عبداللہ بن سلمی قعنبی سے اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے قتیبہ سے اس نے مالک سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي ← مَالِکٌ و ← عَبْدُ اللَّهِ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← علي بن عبدان،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3372

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3373

3373 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أحمد بن عبيد الله النرسي نا يزيد بن هارون أنا محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبد الرحمن بن مالك بن جعشم عن أبيه عن عمه سراقه بن مالك بن جعشم قال : سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن الضالة من الإبل ترد حياضا لي قد لطتها لإبلي هل لي فيها من أجر فيما أسقيها ؟ فقال رسول الله : نعم في كل ذات كبد حرى أجر

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن عبداللہ نرسی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن اسحٰق نے زہری سے اس نے عبدالرحمٰن بن مالک جعشم سے اس نے اپنے والد سے اس نے اپنے چچا سراقہ بن مالک بن جعشم سے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں جو اس حوض پر آتا ہے جو میں نے اپنے اونٹ کےلئے تیار کیا ہے(وہ اونٹ اس سے پانی پی جائے تو) کیا میرے لئے اس میں اجر ہے؟ رسول اللہ نے فرمایا جی ہاں! بالکل ہر گرم جگر رکھنے والے (یعنی ہر زندہ شے میں) اجر ہے۔

سألت النبي صلى الله عليه و سلم ← عمه سراقه بن مالك بن جعشم ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3373

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3374

3374 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عثمان بن عمر الضبي ثنا ابن رجا أنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن كدير الضبي قال : أتى أعرابي النبي صلى الله عليه و سلم فقال : نبئني بعمل يدخلني الجنة و يباعدني عن النار ؟ قال : تقول العدل و تعطي الفضل قال : هذا شديد لا أستطيع أن أقول العدل كل ساعة و لا أن أعطي فضل مالي قال : فأطعم الطعام و أفش السلام قال : و هذا شديد و الله قال : هل لك من إبل ؟ قال : نعم قال : انظر بعيرا من إبلك و سقاء فاسق أهل بيت لا يشربون إلا غبا فلعلك أن لا يهلك بعيرك و لا أن ينخرق سقاؤك حتى تجب لك الجنة قال : فانطلق يكبر ثم إنه بعد استشهد

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عثمان بن عمر ضبی نے ان کو ابن رجاء نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو کدیر ضبی نے انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک اعرابی اور کہنے لگا کہ آپ مجھے ایسا عمل بتائیے کہ وہ مجھے جنت میں داخل کرے اور مجھے جہنم سے دور کر دے؟ حضور نے فرمایا کہ بات انصاف کی کرو اور عطیہ دل کھول کر دو۔ اس نے کہا کہ یہ کام تو مشکل ہے میری ہمت نہیں ہے کہ میں ہر لمحے ہی عدل کی بات کروں اور اپنا فاضل مال سارادے دوں۔ حضور نے فرمایا کھانا کھلاؤ' سلام کو عام کرو۔ اس نے کہا کہ یہ بھی مشکل ہے اللہ کی قسم۔ حضور نے پوچھا کہ تیرے اونٹ ہیں؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اپنے اونٹوں میں سے ایک نر اونٹ کو دیکھو (پانی لاد کر) اور پانی کی مشک لو بس تم کبھی کسی ایسے گھرانے کے لوگوں کو پانی پلاؤ جو صرف کبھی کبھی پانی مانگیں شاید تمہارے اس کام کے کرنے سے نہ تمہارا اونٹ ہلاک ہو گا اور نہ ہی تیری مشک پھٹے گی حتیٰ کہ تیرے لئے جنت بھی واجب ہو جائے گی وہ اللہ اکبر اللہ اکبر کہتا ہوا واپس چلا گیا پھر وہ بعدمیں شہید ہو گیا۔

هذا شديد لا أستطيع ← تقول العدل و تعطي الفضل ← النَّارُ. ← نبئني بعمل يدخلني الجنة و يباعدني ← أتى أعرابي النبي صلى الله عليه و سلم ← كُدَيْرٍ الضَّبِّيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← ابن رجا ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3374

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3375

3375 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن أحمد بن بالويه نا محمد بن غالب قال : و ذكر عفان بن مسلم نا شعبة عن عاصم بن كليب أخبرني قال : سمعت عياض بن مرثد بن عياض يحدث : عن رجل منهم سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن عمل يدخل الجنة ؟ قال : هل من والديك أحد بحي ؟ قال : لا قال : اسق الماء قال : كيف أسقيه قال : تكفيهم إذا حضروا و تحمل إليهم إذا غابوا عنه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو محمد بن غالب نے وہ کہتے ہیں ذکر کیا تھا عفان بن مسلم نے ان کو شعبہ نے ان کوعاصم بن کلیب نے انہوں نے سنا عیاض بن مرثد بن عیاض سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ایک آدمی سے ان میں سے اس نے رسول اللہ سے سوال کیا تھا ایسے عمل کے بارےمیں جو جنت میں داخل کر ادے؟ آپ نے پوچھا کیا تیرے والدین میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم پانی پلایا کرو اس نے پوچھا کہ کیسے پلاؤں جب لوگ موجود ہوں تو ان کی پانی کی ضرورت پوری کرو اور جب پانی نہ ہو تو لاد کر ان تک پہنچاؤ۔

تكفيهم إذا حضروا و تحمل إليهم إذا غابوا عنه ← كيف أسقيه ← اسق الماء ← لَا۔ ← هل من والديك أحد بحي ← عمل يدخل الجنة ← رجل منهم سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عياض بن مرثد بن عياض ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3375

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3376

3376 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الملك بن محمد الرقاشي نا عبد الصمد بن عبد الوارث نا شعبة عن أبي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا أبا ذر لا تحقرن من المعروف شيئا و لو أن تلقى أخاك بوجه منبسط و لو أن تفرغ من دلوك في إناء المستسقي

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبدالملک بن رقاشی نے ان کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو عبداللہ بن صامت نے ان کو ابو ذر نے کہ رسول اللہ نے فرمایا اے ابو ذر کسی نیکی کو حقیر اور چھوٹا نہ سمجھنا (بلکہ ہر نیکی ضرورکرنا) اگرچہ آپ اپنے بھائی سےملیں کھلے چہرے کے ساتھ (یعنی مسکراتے چہرے کے ساتھ) اگرچہ آپ اپنے برتن سے دوسرےکے برتن میں پانی انڈیل کر (جوپانی مانگ رہا ہو)۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3376

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3377

3377 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفحام نا محمد بن يحيى الذهلي ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا إسماعيل بن إسحاق القاضي قالا : نا عبد الله بن رجاء أنا عكرمة بن عمار عن أبي زميل و هو سماك الحنفي عن مالك بن مرثد عن أبيه عن أبي ذر يرفعه ثم قال بعد ذلك : لا أعلمه إلا رفعه قال : إفراغك من دلوك في دلو أخيك صدقة و أمرك بالمعروف و نهيك عن المنكر صدقة قال الشيخ أحمد : زاد القاضي في روايته و تبسمك في وجه أخيك صدقة و إماطتك الحجر و الشوكة و العظم عن طريق الناس صدقة و هديك الرجل في أرض ضالة لك صدقة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو العباس اصم نے اسکو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان دونوں کو عبداللہ بن رجاء نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو ابو زمیل نے ان کو سماک حنفی نے ان کو مالک بن مرثد نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ذر نے وہ اس کو مرفوع بیان کرتے ہیں پھر اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں اس کو نہیں جانتا مگر مرفوع کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے اور تیرا اچھےکام کےلئے کہنا اور برے کام سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ شیخ احمد نے کہا کہ قاضی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے اور بھائی کے سامنے تیرا مسکرانا بھی صدقہ ہے اور لوگوں کے راستے سے پتھر ہٹا نا کانٹا ہٹانا بھی صدقہ ہے اور تیرا کسی آدمی کو راستہ بتانا جو بھٹک رہا ہو صدقہ ہے۔

أَبِي ذَرٍّ، يَرْفَعُهُ ثُمَّ ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أبي زميل و هو سماك الحنفي ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3377

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3378

3378 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو عمرو بن السماك نا محمد بن أحمد بن أبي العوام نا أبي نا داود بن عطاء عن يزيد بن عبد الملك بن المغيرة النوفلي عن أبيه عن يزيد بن خصيفة و عن يزيد بن رومان عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ليس صدقة أعظم أجر من ماء

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو عمر بن سماک نے انکو محمد بن احمد بن ابوالعوام نے ان کو ان کے والد نے ان کو داؤد بن عطا نے ان کو یزید بن عبدالملک بن مغیرہ نوفلی نے ان کو ان کے والد نے ان کو یزید بن خصیفہ نے ان کو یزید بن رومان نے ان کو سعید بن ابو سعید نے ان کو ابو ہریرہ نے ان کونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پانی پلانے سے بڑے اجر والا کوئی صدقہ نہیں ہے۔

ليس صدقة أعظم أجر من ماء ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← يزيد بن خصيفة و ← أَبِيهِ ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ النَّوْفَلِيُّ ← دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3378

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3379

3379 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا عبد الصمد و هو ابن عبد الوارث نا شعبة نا قتادة عن الحسن و سعيد بن المسيب أن سعد بن عبادة : سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم إن أمي ماتت أفأتصدق عنها ؟ قال : نعم قال : فأي الصدقة أفضل ؟ قال : سقي الماء أو قال : اسق الماء فسقاية أم سعد بالمدينة اليوم قال شعبة : قلت لقتادة من الذي قال : سقاية أم سعد قال : الحسن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ا بو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوقنے ان کو عبدالصمد نے وہ ابن عبدالوارث نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو حسن نے اور سعید بن مسیب نے ان کو سعد بن عبادہ نے انہوں نے رسول اللہ سے پوچھ لیا کہ میری والدہ انتقال کرچکی ہیں کیا میں اس طرف سے صدقہ دوں؟ حضور نے فرمایا جی ہاں پھر اس نے پوچھا کہ افضل صدقہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ پانی پلانا یا یوں فرمایا تھا کہ پانی پلاؤ (لہٰذا اس نے ا پنی ماں کے نام کی سبیل لگوادی) حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ مدینہ میں ام سعد کی سقایہ اور سبیل آج بھی موجود ہے۔ شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے کہا کہ وہ کون ہے جس نے یہ کہا ہے کہ ام سعد کی سبیل ہے قتادہ نے کہا کہ حسن کہتے ہیں۔

الحسن و سعيد بن المسيب ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عبد الصمد و هو ابن عبد الوارث ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3379

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3380

3380 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا محمد بن أبي بكر المقدمي نا موسى بن عبد العزيز نا أبو موسى قال : سألت ابن عباس أي الصدقة أفضل ؟ قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لي : اسق الماء ثم قال : ألم تر إلى أهل النار إذا استغاثوا يغاثوا بماء كالمهل : أفيضوا علينا من الماء أو مما رزقكم الله

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے انکو محمد بن ابو بکر مقدمی نے ان کو موسیٰ بن عبدالعزیز نے ان کو ابو موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا ابن عباس سے کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے پوچھا تھا تو آپ نے مجھے فرمایا کہ تم پانی پلاؤ اس کے بعد فرمایا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں (قرآن میں) اہل جہنم کے بارےمیں کہ وہ جب فریاد کریں گے تو ان کی فریاد سب کی ماند پانی کے ساتھ پوری کی جائے گی وہ کہیں گے ہمارے اوپر پانی ڈالو اس میں سے کچھ جو تمہیں اللہ نے رزق دیا ہے۔

لي اسق الماء ثم ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سألت ابن عباس أي الصدقة أفضل ← أَبُو مُوسَى، ← مُوسَی بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3380

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في إطعام الطعام و سقي الماء · حديث 3381

3381 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن عبد الله العدل المروزي نا محمد بن عبدان نا حاتم بن الجراح قال : سمعت علي بن الحسن بن شقيق قال : سمعت ابن المبارك و سأله رجل يا أبا عبد الرحمن قرحة خرجت في ركبتي منذ سبع سنين و قد عالجت بأنواع العلاج و سألت الأطباء فلم أنتفع به فقال : اذهب فانظر موضعا يحتاج الناس إلى الماء فاحفر هناك بئرا فإني أرجو أن تنبع هناك عين و يمسك عنك الدم ففعل الرجل فبرأ

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ عدل مروزی نے ان کو محمد بن عبدان نے ان کو حاتم بن جراح نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن حسن بن شقیق سے وہ کہتے ہیں می نے سنا ابن مبارک سے حالانکہ اس سے ایک آدمی نے پوچھا تھا اے ابو عبدالرحمٰن سات سال سے میرے گھٹنے پر ایک پھوڑا نکلا ہے میں نے ہر قسم کا علاج کرا لیا ہے مگر وہ ٹھیک ہو کر نہیں دیتا اور میں نے تمام حکیموں سے مشورہ کر لیا ہے مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ ابن مبارک نے فرمایا جائیے اور ایسی جگہ تلاش کیجئے جہاں لوگوں کو پانی کی ضرورت ہو وہاں کنواں کھدوائیے میں امید کرتا ہوں کہ جونہی وہ پانی کا چشمہ پھوٹے گا تیرا خون کا بہاؤ رک جائے گا۔ اس آدمی نے کنوا کھوایا اور و ہ تندرست ہو گیا۔

عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← حاتم بن الجراح ← محمد بن عبدان ← أبو بكر محمد بن عبد الله العدل المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what is mentioned in feeding food and watering water · Hadith 3381

chevron_left Previous
1…555657…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood