Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3334

3334 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو العباس عبد الله بن يعقوب الكرماني عن محمد بن زكريا ابن أبي بكير نا وكيع بن الجراح نا علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن عامر العقيلي عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أول ثلاثة يدخلون الجنة الشهيد و رجل عفيف فقير متعفف و ذو عيال و عبد أحسن عبادة الله و أدى حق مواليه و أول ثلاثة يدخلون النار أمير متسلط و ذو ثروة لا يؤدي حقه و فقير فخور و رويناه من حديث الطيالسي في باب حق السادة على المماليك

ہمیں خبر دی ابو الحسن علوی نے ان کو ابو العباس عبداللہ بن یعقوب کرمانی نے ان کو محمد بن زکریا نے ان کو ابن بکیر نے ان کو وکیع بن جراح نے ان کو علی بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو عامر عقیلی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: تین پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں سے پہلا شہید ہے اور دوسرا وہ آدمی جو پاک دامن ہو غریب ہو سوا ل کرنے سے بچنے والا ہو۔ صاحب عیال ہو اور تیسرا وہ جو غلام ہو جو اللہ کی عبادت کو بھی بہ احسن طریقہ انجام دے اور اپنے آقاؤں کا حق بھی ادا کرے اور جہنم میں پہلے تین داخل ہونے والوں میں امیر اور حکمران جو زبردستی مسلط ہو کر حکومت کرے دوسرا وہ مالدار جو ا س کا حق ادا نہ کرے تیسرا نادر غریب مگر مغرور متکبر ہم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث طیالسی سے غلاموں پر مالکوں کے حقوق کے باب میں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَامِرٌ الْعُقَيْلِيُّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← محمد بن زكريا ابن أبي بكير ← أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3334

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3335

3335 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسماعيل بن الفضل البلخي و جعفر بن محمد القاضي قالا : نا أبو أيوب سليمان بن عبد الرحمن ح و أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا أبو قصي إسماعيل بن محمد نا سليمان بن عبد الرحمن أخبرني خالد بن يزيد بن عبد الرحمن بن أبي مالك عن أبيه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا بن عوف إنك من الأغنياء و لن تدخل الجنة إلا زحفا فأقرض الله يطلق لك قدميك قال : و ما الذي أقرض الله يا رسول الله : قال : نثيرا مما أمسيت فيه قال : أمن كله أجمع يا رسول الله ؟ قال : نعم قال : فخرج ابن عوف و هو يهم بذلك فأتاه جبريل عليه السلام فقال : مر ابن عوف و في رواية الماليني فبعث إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن جبريل قال : مر ابن عوف فليضف الضيف و ليطعم المسكين و ليعط السائل و يبدأ بمن يعول فإنه إذا فعل ذلك كان تزكية ما هو فيه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن فضل بلخی نے اور جعفر بن محمد قاضی نے دونوں کو ابو ایوب سلیمان بن عبدالرحمٰن نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو ابو قصی اسماعیل بن محمد نے ان کو سلیمان بن عبدالرحمٰن نے ان کو خبر دی خالد بن یزید بن عبدالرحمٰن بن ابو مالک نے ان کو ان کے والد نے ان کو عطاء بن ابو رباح نے ان کو ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ان کو ان کے والد نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ نے فرمایا اے ابن عوف تم اغنیاء اور دولت مندوں میں سے ہو تم جنت میں ہر گز داخل نہیں ہو گے مگر فرار ہو کر لہذا تم اللہ کو قرضہ دو وہ تمہارے قدم چھوڑ دے گا یا کھول دے گا۔ اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کیا چیز ہے جو میں اللہ کو قرض دوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مال جس میں تم شام کرتے ہو۔ اس نے پوچھا کیا پورے کا پورا دے دوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جی ہاں پورا دے دو۔ کہتے ہیں ابن عوف اس بات کا ارادہ کر کے چلے گئے۔ اتنے میں حضور کے پاس جبرائیل آ گئے اور فرمایا کہ ابن عوف کو حکم دو کہ وہ (اور مالینی کی ایک روایت میں ہے کہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلا لیا اور فرمایا کہ جبرائیل نے کہا ہے کہ ابن عوف سے کہو کہ وہ مہمان کی ضیافت کیا کرے۔ مسکین کو کھلایا کرے اور سائل کو دیا کرے اور خرچ کرنے میں ان سے ابتدا کرے جن کی وہ عیالداری سنبھالتا ہے وہ جب اس طرح کرے گا تو یہ اس کو تزکیہ ہو گا جس میں وہ ہے۔

أَبِيهِ ← خالد بن يزيد بن عبد الرحمن بن أبي مالك ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو قصي إسماعيل بن محمد ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← و، ← أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إسماعيل بن الفضل البلخي و جعفر بن محمد القاضي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3335

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3336

3336 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا محمد بن صالح بن عبد الرحمن الأنماطي نا أبو النعمان عارم بن الفضل نا الصعق بن حزن ثنا عن الحسن عن قيس بن عاصم قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله ما المال الذي لا تبعة فيه لضيف و لا غيره فقال : نعم المال الأربعون و الأكثر الستون و ويل لأصحاب المئين إلا من نحر السمين فأكل و أطعم و أعطى الكريمة قال : قلت يا رسول الله إنه لا يجد بالوادي الذي أنا فيه من كثرة نعمي قال : كيف تصنع في المنيحة قال : قلت إني لأمنح المائة قال : كيف تصنع بالطروقة قال : يعدوا الناس بحبالهم فلا يوزع عنها رجل عن حمل بخطمه فيمسكه ما بدا له حتى يكون هو الذي يرده قال : فما لك أحب إليك أم مال مواليك ؟ قلت : مالي قال : فإن لك من مالك ما أكلت فأفنيت و أعطيت فأمضيت و سائره لمواليك قال : قلت : و الله يا رسول الله لئن رجعت إليها لأقلن عددها قال : فلما حضرته الوفاة جمع بيته فقال : خذوا عني فإنكم لن تأخذوا عن أحد أنصح لكم مني لا تنوحوا علي فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ينهي عن النوح و إياكم و المسئلة فإن آخر كسب المرء و سودوا أكبركم لا يزال فيكم خليفة قيل للصعق أسمعته من الحسن قال : لا يونس بن عبيد عن الحسن قيل له : أسمعته من يونس قال : لا حدثني القاسم بن مطيب عن يونس عن الحسن عن قيس بن عاصم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن صالح بن عبدالرحمٰن الماطی نے ان کو ابو النعمان عارم بن فضل نے ان کو صعق بن حزن نے ان کو حسن نے ان کو قیس بن عاصم نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ وہ مال کون سا ہے جس میں نقصان نہیں ہے نہ مہمان کے لئے اور نہ کسی اور کے لئے۔ آپ نے فرمایا اچھا مال (مویشی) چالیس ہیں اور زیادہ بس ساٹھ ہیں اور ہلاکت سے سینکڑوں کے مالوں کے لئے ہاں مگر جو شخص موٹے تازے کو ذبح کر کے کھا جائے اور دوسروں کو کھلائے اور اس میں سے سب سے زیادہ اور چنا ہوا مال اللہ واسطے دے دے۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس وادی میں جس میں ہوں کوئی ایسا آدمی نہیں پایا جس کے جانور مجھ سے زیادہ ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم کیسے کرتے ہو دودھ والے جانوروں میں جن کا دودھ عطیہ دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ میں سو کا دودھ عطیہ نہیں کرتا یا سو جانور دودھ پلانے کے لئے نہیں دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ وہ اونٹنی جس پر جفتی کے لئے اونٹ چھوڑنا ہے کیا کرتے ہو؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ لوگ ان کی رسیاں چھوڑ کر ہانک دیتے ہیں اس اونٹنی سے اپنا اونٹ کوئی نہیں روکتا یا ہم ایسا اونٹ چھوڑ دیتے ہیں وہ ضرورت ہے اس کی مہار تھام لیتا ہے وہ اس کو روک لیتا ہے جب تک اس کی ضرورت ہوتی ہے حتیٰ کہ وہ خود اس کو واپس کرتاہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ تیرا مال تجھے محبوب ہے یا تیرے موالیوں کا؟ میں نے کہا کہ میرا مال مجھے پیا را ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تیرے مال سے تیرا بس وہی ہے جو تم نے کھالیا وار ختم کر دیا اور اللہ کے واسطے دے کر آگے بھیج دیا۔ باقی سارا تیرے وارثوں اور موالیوں کا ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا اللہ کی قسم یا رسول اللہ اگر میں واپس لوٹ کر گیا اپنے مال کے پاس تو میں ضرور اس کو کم کر دوں گا تعداد میں۔ کہتے ہیں کہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو اس نے اپنے اہل خانہ کو جمع کیا اور فرمایا کہ مجھ سے مال لے لو۔ بے شک تم لوگ میرے بعد ہر گز کسی ایسے آدمی سے نہیں لو گے جو تمہارے لیے مجھ سے زیادہ خیر خواہ ہو۔ مجھ پر مرنے کے بعد بین اور نوحہ نہ کرنا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ اور بین کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے اور کسی سے مانگنے سے بچنا اور اپنے بڑے کو سردار مقرر کرنا ہمیشہ تم میں جانشین ہونا چاہیئے ۔ صعق سے پوچھا گیا تھا کہ کیا تم نے اس روایت کو حسن سے سنا تھا انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ یونس بن عبید نے حسن سے سنی تھیں پھر اس سے کہا گیا تھا کہ آپ نے اس کو یونس سے سنا تھا انہوں نے کہاکہ نہیں بلکہ مجھے بیان کی تھی قاسم بن مطیب نے یونس سے اس نے حسن سے اس نے قیس بن عاصم سے۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت ← قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ← الْحَسَنِ، ← الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ← محمد بن صالح بن عبد الرحمن الأنماطي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3336

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3337

3337 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا يحيى بن جعفر نا علي بن عاصم نا داود بن أبي هند عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا متبانسا من العرب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ممن أنت ؟ من بني قشير قال : ما مالك قال : لا يسعه واد قال : كيف تصنع في منحتها ؟ قال : أمنح المائة ناقة قال : فكيف يصنع في طروقها ؟ قال : يغدوا الناس بخطمهم فيخطموا الفحولة فإذا قضوا حاجتهم منها أعادوها إلي بعد قال : كيف تصنع في أكولتها قال : أعمد إلى الضرع الصغير و السن الفاتية قال : مالك أحب إليك أم مال مواليك ؟ قال : مالي قال : إنما لك من مالك ما أكلت فأفنيت أو لبست فأبليت أو أعطيت فأمضيت و اعلم أن لك في مالك ثلاث إما لك و إما لمواليك و إما للثرى فلا تكونن أعجز الثلاث

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران سے بغداد میں ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو رزاز نے ان کو خبر دی یحییٰ بن جعفر نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ عرب کے ایک خوبصورت جوان کو دیکھا تو اس سے پوچھا کہ تم کون سے قبیلے سے ہو اس نے جواب دیا کہ میں بنو قشیر سے ہوں آپ نے پوچھا کہ کتنا مال ہے تیرا ۔ اس نے بتایا کہ بہت ہے وادی میرے مال کی گنجائش نہیں رکھتی آپ نے فرمایا ان کا دودھ عطیہ کرنے میں کیا کرتے ہو بولا کہ میں سو اونٹنی کا دودھ مفت دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ جفتی کے بارے میں کیاکرتے ہو ۔ اس نے کہا کہ لوگ صبح کو ایسے وانٹ کی مہار تھام کر لے جاتے ہیں جب وہ اپنی ضرورت پوری کر لیتے ہیں واپس چھوڑ جاتے ہیں۔ فرمایا کہ تم ا ن کے کھلانے میں کیا کرتے ہو؟ کہا کہ میں چھوٹے تھن کی طرف اور چھوٹی عمر والے جانور کی طرف لوٹتا ہوں (یعنی باقی کا دودھ دے دیتا ہوں حضور نے پوچھا کہ تیرا مال تجھے پیا را ہے یا تیرے وارثوں کا ۔ کہا کہ میرا مال ۔ آپ نے فرمایا کہ تیرا مال وہی ہے جو تم نے کھا یا اور ختم کر لیا یا پہنا اور پرانا کر لیا۔ یا اللہ کے واسطے دیا اورآگے روانہ کر دیا۔ یقین کر کہ تیرا مال تین حصوں میں تقسیم ہے یا وہ تیرا ہے یاتیرے وارثو ں کا ہے یا پھر وہ مٹی کے لئے ہے تو تینوں طرح کے مال میں سے عاجز ترین نہ ہونا (کہ جس پر کل تیرا بس نہ چل سکے)۔

مالي ← مالك أحب إليك أم مال مواليك ← أعمد إلى الضرع الصغير و السن الفاتية ← كيف تصنع في أكولتها ← يغدوا الناس بخطمهم فيخطموا الفحولة فإذا قضوا حاجتهم منها أعادوها إلي بعد ← فكيف يصنع في طروقها ← أمنح المائة ناقة ← كيف تصنع في منحتها ← لا يسعه واد ← ما مالك ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ممن أنت من بني قشير ← رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا متبانسا من العرب ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3337

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3338

3338 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا موسى بن داود الضبي نا مبارك بن فضالة عن يونس بن عبيد عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل على بلال و عنده صرة من تمر فقال ما هذا يا بلال قال : شيء ادخرته لغد فقال : أما تخشى أن ترى له غدا بخارا في نار جهنم يوم القيامة أنفق بلال و لا تخش من ذي العرش إقلالا خالفه بشر بن المفضل و يزيد بن زريع فروياه عن يونس بن عبيد مرسلا دون ذكر أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو موسیٰ بن داؤد صنبی نے ان کو مبارک بن فضالہ نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلال کے پاس گئے اور ان کے سامنے کھجور کا ایک حصہ پڑا تھا آپ نے پوچھا بلال یہ کیسی کھجور ہے اس نے جواب دیا کہ میں نے یہ کل کے لئے رکھ دی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تجھے خوف نہیں آیا کہ تم اس کے لئے کل تک جہنم کا دھواں دیکھو قیامت کے دن۔ خرچ کر دو اے بلال اور عرش والے سے کمی کرنے کا خوف نہ کر۔ بشر بن مفضل نے اس کی مخالفت کی ہے اور یزید بن زریع نے اس کو روایت کیا ہے یونس بن عبید سے بطور مرسل روایت کے اور ابو ہریرہ کا ذکر بھی نہیں کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3338

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3339

3339 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي رحمه الله نا أبو حامد بن الشرقي الحافظ نا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم نا سفيان بن عيينة عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال : سمعت أنس بن مالك يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال : يتبع المؤمن بعد موته ثلاث أهله و ماله و عمله فيرجع اثنان و يبقى واحد يرجع أهله و ماله و يبقى عمله رواه البخاري عن الحميدي و رواه مسلم عن يحيى بن يحيى و غيره كلهم عن سفيان

ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے اس نے ابو حامد شرقی حافظ سے اس نے عبدالرحمٰن بن بشر بن حکیم سے اس نے سفیان بن عیینہ سے اس نےعبداللہ بن ابو بکر محمد بن عمرو بن حزم سے وہ کہتے ہٰں کہ میں نے سنا انس بن مالک سے وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا رہے تھے کہ آپ نے فرمایا موت کے بعد مؤمن کے ساتھ تین چیزیں پیچھے جاتی ہیں اس کا خاندان ' اس کا مال اور اس کا عمل پس دو واپس لوٹ آتے ہیں وار ایک چیز باقی رہ جاتی ہے خاندان واپس لوٹ آتا ہے اور مال بھی اور اس کا عمل باقی رہ جاتا ہے۔ بخاری نے اس کوحمیدی سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو یحییٰ بن یحییٰ وغیرہ سے روایت کیا ہے ان سب نے سفیان سے۔

أنس بن مالك يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أبو حامد بن الشرقي الحافظ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3339

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3340

3340 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاذ نا محمد بن أيوب أنا عمرو بن مرزوق و أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق الأسفرايني نا يوسف بن يعقوب نا عمرو بن مرزوق أنا عمران القطان عن قتادة عن أنس بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من عبد إلا و له ثلاثة أخلاء فإما خليل فيقول ما أنفقت فلك و ما أمسكت فليس لك فذاك ماله و إما خليل فيقول أنا معك فإذا أتيت باب الملك رجعت و تركتك فذاك أهله و خدمه و إما خليل فيقول : أنا معك حيث دخلت و حيث خرجت فذاك عمله فيقول إن كنت لأهون الثلاثة عليك و كذلك بمعناه روى إبراهيم بن طهمان عن الحجاج بن الحجاج عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم و هو في المستدرك و رواه سماك بن حرب عن النعمان بن بشير عن النبي صلى الله عليه و سلم و رويناه في باب قصر الأمل و الزهد في الدنيا من حديث أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاد نے انکو محمد بن ایوب نے ان کو عمرو بن مرزوق نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق الفرائنی نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمرو بن مرزوک نے ان کو عمران قطان نے ان کو قتادہ نے ان کو انس بن مالک نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بندے کے تین دوست ہوتے ہیں۔ ایک دوست کہتا ہے کہ آپ نے جو کچھ خرچ کر دیا ہے وہ تیرا ہے اور جو کچھ روک رکھا ہے وہ تیرا نہیں ہے۔ یہ دوست اس کا مال ہے۔ دوسرا دوست کہتا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں جب تم بادشاہ کے دروازے تک جاؤ گے میں واپس آ جاوں گا اور تجھے وہاں چھوڑ آؤں گا یہ دوست کا خاندان ہے اور اس کے خادم ہیں۔ تیسرا دوست کہتا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں جہاں داخل ہو گا ساتھ ہوں جہاں سے نکلے گا ساتھ ہوں۔ یہ اس کاعمل ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم تینوں میں سے آسانی والے دوست کے ساتھ رہ سکتے ہو تو اپنے اوپر لازم رکھو اور اسی طرح اسی مفہوم میں اس کو روایت کیا ہے ابراہیم بن طہمان نے حجاج بن حجاج سے اس نے قتادہ سے اس نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور یہ روایت مستدرک میں ہے اور اس کو روایت کیا ہے سماک بن حرب نے ان کو نعمان بن بشیر نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے ان کو روایت کیا ہے باب قصر الامل اور زہد فی الدنیا میں حدیث ابو ہریرہ سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايني ← أبو الحسين علي بن محمد المقريء ← عمرو بن مرزوق و ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3340

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3341

3341 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد المقري ببغداد أنا أحمد بن سلمان النجاد نا عبد الملك بن محمد نا وهب بن جرير نا شعبة عن يزيد بن حصيفة عن المغيرة بن عبد الله الجعفي قال : جلسنا إلى رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يقال له : حصفة أو ابن حصفة فجعل ينظر إلى رجل سمين فقلت له ما ينظر إليه فقال : ذكرت حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : هل تدرون ما الشديد ؟ قلت : الرجل يصرع الرجل قال : إن الشديد كل الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب تدرون ما الرقوب ؟ قلنا : الرجل لا يولد له قال : إن الرقوب الرجل له الولد لم يقدم منهم شيئا ثم قال : تدرون ما الصعلوك ؟ قال : قلنا الرجل لا مال له قال : إن الصعلوك كل الصعلوك الرجل له المال لم يقدم منه شيئا

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد مقری نے بغداد میں ان کواحمد بن سلمان نجار نے ان کو عبدالملک بن محمد نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو یزید بن حصیفہ نے ان کومغیرہ بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ اصحاب رسول کے ایک آدمی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس کو حصفہ یا ابن حصفہ کہتے تھے اس نے ایک موٹے آدمی کی طرف دیکھنا شروع کیا میں نے اس سے کہا کہ اس کی طرف کیا دیکھتےہو وہ بولے کہ مجھے ایک حدیث یاد آ گئی ہے جو میں نے رسول اللہ سے سنی تھی آپ فرما رہے تھے ۔ کیا تم جانتے ہو کہ شدید اور سخت کیا ہے؟ میں نے کہا کہ آدمی کو پچھاڑ دے حضور نے فرمایا کہ سخت مضبوط اور انتہائی مضبوط وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کا مالک ہو جانتے ہو کہ رقوب (جس کے بچے نہ جیتے ہوں ) کون ہے؟ ہم نے کہا کہ وہ آدمی جس کی اولاد نہ ہو۔ حضور نے فرمایا کہ بے شک رقوب وہ آدمی ہے جس کی اولاد ہو اور جوان میں سے کسی شے کے لئے آگے نہ کرے پھر فرمایا کہ کیا مت جانتے ہو صعلوک کیا ہے (فقیر ) ہم نے کہا وہ آدمی جس کا کوئی مال نہ ہو۔ آپ نے فرمایا صعلوک وہ ہے انتہائی صعلوک (فقیر) وہ آدمی جس کا مال تو ہو مگر وہ اس سے کچھ بھی نہ کرے۔

المغيرة بنِ عبد الله الجُعفي ← يَزِيدَ بْنِ حُصَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← أبو الحسن على بن احمد المقرى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3341

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3342

3342 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب أنا عوف عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يروي ذلك عن ربه عز و جل أنه يقول يا ابن آدم أودع من كنزك عندي و لا حرق و لا غرق و لا سرق أو تيكه أحوج ما تكون إليه هذا مرسل و قد روينا عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن الله إذا استودع شيئا حفظه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابوا لعباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو عوف نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب سے اس کو روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے آدم کے بچے اپنا خزانہ میرے پاس امانت رکھوا دے نہ جلے گا نہ ڈوبے گا نہ ہی چوری ہو گا میں تجھے اس وقت لوٹا دوں گا جب تو اس کا سب سے زیادہ ضرورت مند ہو ۔ یہ روایت مرسل ہے اور ہم نے روایت کی ہے ابن عمر سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ جس وقت کسی شے کو امانت رکھتا ہے تواس کی حفاظت بھی کرتا ہے۔

الْحَسَنِ، ← عَوْفٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3342

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3343

3343 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا أبو زرعة الدمشقي نا محمد بن عثمان التنوخي نا الهيثم بن حميد نا المطعم بن المقدام عن مجاهد عن ابن عمر : فذكره

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو ابو زرعہ دمشقی نے ان کو محمد بن عثمان تنوخی نے ان کو ہیثم بن حمید نے ان کو مطعم بن مقدام نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عمر نے پھر اس نے مذکورہ روایت ذکر کی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ ← مُجَاهِدٍ ← الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← محمد بن عثمان التنوخي ← أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3343

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3344

3344 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو سعيد محمد بن موسى قالا : أنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد بن حاتم الدوري نا أبو داود الحفري عن سفيان عن نهشل عن أبي غالب عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن لقمان الحكيم كان يقول إن الله إذا استودع شيئا حفظه

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن نے ان کو ابو سعد محمد بن موسیٰ نے ان دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد بن حاتم دوری نے ان کو ابو داود جعفری نے ان کو سفیان نے ان کو نہشل نے ان کو ابو غالب نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بے شک لقمان حکیم کہتے تھے بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی شے کو امانت رکھتے ہیں تواس کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي غَالِبٍ ← نَهْشَلٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو سعيد محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3344

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3345

3345 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن عيسى الواسطي نا عمرو بن عون نا هشيم عن منصور و يونس عن الحسن عن صعصعة بن معاوية قال : لقيت أبا ذر فقلت ما مالك فقال : مالي عملي قلت : حدثني رحمك الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلمين يموت لهما ثلاثة من الولد لم يبلغوا الخنث إلا أدخلهما الله الجنة بفضل رحمته إياهم و ما من عبد مسلم ينفق من ماله زوجين في سبيل الله استقبلته حجبة الجنة كلهم يدعوه إلى ما قبله قلت كيف ذاك ؟ قال : إن كان رجالا فرجلين و إن كان إبلا فبعرين و إن كان غنما فشاتين

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن عیسیٰ واسطی نے ان کو عمرو بن عون نے ان کو ہیثم نے ان کو منصور نے اور یونس نے ان کو حسن نے ان کو صعصعہ بن معاویہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو ذر سے ملا اور میں نے کہا آپ کا مال کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ میرا مال میرا عمل ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کیجئے اللہ آپ کے اوپر رحم فرمائے۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا وہ مسلمان جن کے تین بیٹے فوت ہو جاتے ہیں جو بلوغت کو ابھی نہیں پہنچے تو اللہ تعالیٰ ان کی جنت میں داخل کریں گے۔ اپنے فضل کے ساتھ ان بچوں پر رحمت و شفقت کرتے ہوئے اور جو مسلمان بندہ اپنے مال میں سے دو جو ڑے خرچ کرتا ہے اللہ کی راہ میں جنت کے دربان اس کا استقبال کرتے ہیں ان میں سے ہر ایک اس کو بلاتا ہے اس طرف جو اس سے آگے ہے میں نے کہا کہ یہ کیسے ہو گا؟ فرمایا کہ اگر آدمی تھے تو دو آدمی اور اگر اونٹ تھا تو دو بڑے اونٹ اور اگر بکری تھی تو دو بڑی بکریاں۔

رحمك الله ← لقيت أبا ذر فقلت ما مالك فقال مالي عملي قلت ← صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنِ، ← منصور و يونس ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْوَاسِطِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3345

chevron_left Previous
1…525354…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood