Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3322

3322 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا الحسين بن علي بن عفان نا عبيد الله بن نمير عن الأعمش عن خثيمة عن عدي بن حاتم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما منكم من أحد إلا سيكلمه الله ليس بينه و بينه ترجمان فينظر أيمن منه فلا يرى إلا شيئا قدمه ثم ينظر تلقاء وجهه فتستقبله النار فمن استطاع منكم أن يتقي النار و لو بشق تمرة فليفعل ح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کوا بو العباس الاصم نے ان کوحسن بن علی بن عفان نے ان کو عبداللہ بن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو خیثمہ نے ان کو عدی بن حاتم نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کے ساتھ قیامت میں اللہ تعالیٰ کلام کرے گا بندے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان (کا واسطہ) نہیں ہو گا اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے کچھ بھی نظر نہیں آئے گا مگروہ چیز جس کو اس نے آگے بھیجا ہو گا پھر اپنے سامنے دیکھے گا تو جہنم اس کا استقبال کر رہی ہو گی تم میں سے جو شخص استطاعت رکھے کہ وہ آگ سے بچ جائے اگر چہ کھجور کے آدھے دانے کے ساتھ ہی ہو تو وہ ضرور ایسا کرلے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← خُثَيْمَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← عبيد الله بن نمير ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3322

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3323

3323 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز تا عبد الله بن محمد بن شاكر نا أبو أسامة نا الأعمش : فذكره غير أنه زاد و ينظر أشأم منه فلا يرى إلا شيئا قدمه و ينظر أمامه فلا يرى إلا النار فاتقوا النار و لو بشق تمرة رواه البخاري عن يوسف بن موسى عن أبي أسامة و أخرجه مسلم من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزار نے ان کو عبداللہ بن محمد بن شاکر نے انکو ابو اسامہ نے ان کو اعمش نے پھر اس حدیث کو انہوں نے ذکر کیا علاوہ ازیں اس نے یہ اضافہ کیا کہ وہ بندہ اپنے دائیں بائیں طرف دیکھے گا تو اس کو کچھ نظر نہیں آئے گا مگر جو کچھ اس نے آگے کے لئے بھیجا ہو گا اور وہ اپنے اگے دیکھے گا تو وہ آگ کے سوا کچھ نہیں دیکھے گا پس بچو آگ سے اگرچہ آدھے کھجور کے ساتھ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے یوسف بن موسیٰ سے اس نے ابو اسامہ سے اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے اعمش سے۔

الأعمش فذكره غير ← أَبُو أُسَامَةَ ← أبو جعفر الرزاز تا عبد الله بن محمد بن شاكر ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3323

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3324

3324 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى نا الفضل بن محمد الشعراني نا أبو الوليد الطيالسي نا شعبة عن عمرو بن مرة عن خثيمة عن عدي بن حاتم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر النار فتعوذ منها و أشاح بوجهه ثم ذكر النار فتعوذ منها و أشاح بوجهه ثم قال : اتقوا النار و لو بشق تمرة فإن لم تجدوا فبكلمة طيبة رواه البخاري في الصحيح عن أبي الوليد و أخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی محمد بن مؤمل بن حسن بن عیسیٰ نے ان کو فضل بن محمد شعرانی نے ان کو ابو ولید طیالسی نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو خیثمہ نے ان کو عدی بن حاتم نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے کا ذکر فرمایا اور اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور اپنے چہرے کو کراہیت سے پھیر لیا پھر آگ کا ذکر کیا اور ناگواری سے اپنا چہرہ پھیرلیا اور پھر فرمایا بچو آگ سے اگرچہ آدھی کھجور کے ساتھ اگر وہ بھی نہ پاؤ تو پھر پاکیزہ کلمہ کے ساتھ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو الولید سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے شعبہ سے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← خُثَيْمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3324

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3325

3325 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل سلامي من الناس عليه صدقة كل يوم تطلع الشمس قال ما يعدل بين اثنين صدقة و يعين الرجل في دابته و يحمله عليها صدقة أو ترفع له عليها متاعه صدقة و الكلمة الطيبة صدقة و كل خطوة يمشيها إلى الصلاة صدقة و يميط الأذى عن الطريق صدقة أخرجاه في الصحيح من حديث عبد الرزاق

اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کواحمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کومعمر نے ان کو ہمام بن منبہ نے انہوں نے کہا کہ یہ وہ ہے جس ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو ہریرہ نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے ہر جوڑ کے ذمے صدقہ کرنا واجب ہے ہر دن جو سورج طلوع کرتا ہے فرمایا کہ دو انسانوں کے درمیان جو عدل کرے وہ صدقہ ہے جو آدمی دوسرے آدمی کی اعانت کرے اور اس کو جانور پھر اٹھا لے یہ صدقہ ہے یا سوار کو اس کا سامان پر اٹھا کر دے دے یہ بھی صدقہ ہے پاکیزہ کلمہ کہنا صدقہ ہر قدم جو نماز کی طرف چلے وہ صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا لے یہ بھی صدقہ ہے۔ بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے عبدالرزاق کی حدیث سے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3325

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3326

3326 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي نا إبراهيم بن الحسين نا آدم بن أبي إياس نا سعيد بن أبي بردة بن أبي موسى الأشعري عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : على كل مسلم صدقة قالوا : فإن لم يجد قال : فيعمل بيده فينفع نفسه و يتصدق قالوا : فإن لم يستطع إذ لم يفعل قال : فيعين ذا الحاجة الملهوف قالوا : فإن لم يفعل قال : فيأمر بالخير أو قال بالمعروف قالوا : فإن لم يفعل قال : فيمسك عن الشر فإنه له صدقة رواه البخاري في الصحيح عن آدم و أخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم بن ابی ایاس نے ان کو سعید بن ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر ہر مسلمان کو صدقہ کرنے کے لئے کچھ میسر نہ ہو فرمایا پھر اپنے ہاتھ سے کوئی ایسا کام کرے جس کے ساتھ وہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ کرے لوگوں نے پوچھا اگر کوئی شخص اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہوں کہ وہ خود کچھ کر سکے۔ فرمایا کہ پھر اعانت کرے صاحب حاجت مجبور و مظلوم کی۔ لوگوں نے پوچھا کہ اگر کوئی یہ بھی نہ کر سکے فرمایا کہ پھر وہ صرف خیر کے کام کرنے کا کہے یا یوں فرمایا تھا کہ معروف اور اچھے کام کرنے کے لئے لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ بھی نہ کر سکے تو پھر وہ خود برائی سے بچ جائے بے شک یہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں آدم سے اور اس کو مسلم نے دوسرے طریق سے شعبہ سے روایت کیا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3326

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3327

3327 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي و أبو عبد الرحمن بن الحسين السلمي قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد البيروتي أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي حدثني أبو كثير عن أبيه و كان يجالس أبا ذر قال : فجمع حديثا فلقي أبا ذر و هو عند الجمرة الوسطى و حوله الناس قال : فجلست إليه حتى مست ركبتي ركبته فنسيت ذلك الحديث فرفعت رأسي إلى السماء فجعلت أتذكر فقلت يا أبا ذر دلني على عمل به العبد دخل الجنة قال أبو ذر : سألت عن ذلك نبي الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا نبي الله دلني على عمل إذا عمل به العبد دخل الجنة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تؤمن بالله قلت : يا رسول الله إن مع الإيمان عمل قال : يرضخ مما رزقه الله عز و جل قلت : يا رسول الله فإن كان معدما لا شيء معه قال : يقول معروفا بأسنانه قلت يا رسول الله فإن كان عبدا لا يبلغ عنده لسانه قال : فليعن معدوما قلت : فإن كان ضعيفا لا قوة به قال : فيصنع لأخرق قلت : يا رسول الله فإن كان أخرق قال : فالتفت إلي فقال : أما تريد أن تدع في صاحبك خيرا فليدع الناس من أذاه قلت : يا رسول الله إن هذا كله ليسير قال : فو الذي نفسي بيده ما منها من خصلة يعمل بها العبد يريد بها ما عند الله إلا أخذت بيده يوم القيامة فلم يفارقه حتى يدخله الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن اور ابو عبداللہ اسحاق بن محمد بن یوسف سوسی سے اور ابو عبدالرحمٰن بن حسین سلمی نے لوگوں سے کہا ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بن مزید بیروتی نے ان کو خبر دی ہے ان کے والد نے انہوں نے کہا: کہ میں نے سنا امام اوزاعی سے ان کو ابو بکر کثیر نے انکو ان کے والد نے اور وہ حضرت ابو ذر کے پاس بیٹھے تھے کہتے ہیں کہ اس نے حدیث جمع کی پھر وہ ابو ذر سے ملے وہ اس وقت جمرہ وسطی کے پاس تھے اور ان کے گرد لوگ تھے کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس بیٹھ گیا یہاں تک میرے گھٹنے ان کے گھٹنے سے لگنے لگے میں وہ حدیث بھول گیا میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور میں اس کو یاد کر نے لگا اور میں نے کہا اے ابو ذر مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے کہ جب بندہ وہ عمل کرے تو وہ جنت میں چلا جائے ابو ذر نے کہا: کہ میں نے اس بارے میں اللہ کے نبی سے پوچھا تھا میں نے کہا تھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے کہ جب کوئی بندہ اس کاعمل کرے اس کے ذریعے وہ جنت میں چلا جائے۔ فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اس ایمان کے ساتھ عمل بھی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھوڑا سا اللہ واسطے بھی دے اس میں سے جو اللہ نے اس کو رزق دیا ہے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ اگر وہ شخص نادار ہو اس کے پاس کوئی چیز نہ ہو تو فرمایا کہ وہ بات کہے اپنے دانتوں سے (یعنی مسکرادیئے) میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر وہ ایسا بندہ ہو کہ اس کی زبان بھی اس تک نہ پہنچ سکے فرمایا پھر وہ اس کے مدد کرے جو بالکل نادار ہو۔ میں نے کہا کہ اگر وہ ضعیف ہو اس کو کوئی طاقت نہ ہو۔ فرمایا کہ پھر وہ گونگے کے لئے کرے میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر وہ خود بے زبان ہو ۔ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پلٹ کرمیری طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیا مت یہ چاہتے ہو کہ تم اپنے ساتھی کے پاس کچھ بھی خیر نہ رہنے دو۔ پس چاہیے کہ وہ لوگوں کو اپنی ایذاؤں اور تکلیفوں سے محفوظ رکھے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سارے کام البتہ آسان ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ان میں سے کوئی خصلت ایسی نہیں ہے بندہ جس کے ساتھ عمل کرے اور اس کے ساتھ اللہ کی رضا کی نیت کرے مگر اپنے ہاتھ سے پکڑے رہے گا اوران سے قیامت کے دن جدا نہ ہو گا۔ حتیٰ کہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔

أبيه و كان يجالس أبا ذر ← أَبُو كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3327

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3328

3328 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا الأسفاطي و هو عباس بن الفضل نا أبو الوليد نا عكرمة بن عمار نا أبو زميل عن مالك بن مرثد عن أبيه عن أبي ذر يرفعه قال : لا أعلمه إلا رفعه و افراغك من دلوك في إناء أخيك صدقة و أمرك بالمعروف و نهيك عن المنكر صدقة و إماطة الحجر و الشوك و العظم عن طريق الناس صدقة و هدايتك الرجل في أرض الضالة صدقة و به عن أبي ذر قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ماذا ينجي العبد من النار ؟ قال : الإيمان بالله قلت : يا نبي الله مع الإيمان عمل قال : أن ترضخ مما خولك الله أو ترضخ بما رزقك قلت : يا نبي الله فإن كان فقيرا لا يجد ما يرضخ قال : يأمر بالمعروف و ينهى عن المنكر قلت : إن كان لا يستطيع أن يأمر بالمعروف و لا ينهى عن المنكر قال : فليعن الأخرق قلت : يا رسول الله أرأيت إن كان لا يحسن أن يصنع قال : فليعن مظلوما قلت : يا نبي الله أرأيت إن كان ضعيفا لا يستطيع أن يعين مظلوما قال : ما تريد أن تترك لصاحبك من خير ليمسك أذاه عن الناس قلت : يا رسول الله أرأيت إن فعل هذا يدخله الجنة قال : ما من مؤمن يصيب خصلة من هذه الخصال إلا أخذت بيده حتى تدخله الجنة

ہمیں خبر دی ہےعلی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسفاطی نے وہ عباس بن فضل سے ان کو ابو الولید نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو ابو زمیل نے ان کو مالک بن مرثد نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ذر نے وہ اس کو مرفوع بیان کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس کو نہیں جانتا مگر مرفوع ہی جانتا ہوں فرمایا کہ تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں انڈیلنا بھی صدقہ ہے اور تیرا امر بالمعروف کرنا اور تیرا نہی عن المنکر کرنا بھی صدقہ ہے۔ اور لوگوں کے راستے سے پتھر ہٹا نا اور ہڈی ہٹانا بھی صدقہ ہے۔ بھٹکے ہوئے آدمی کو راستہ بتانا بھی صدقہ ہے۔ اور اسی کے ساتھ خبر دی ہے ابو ذر نے کہ میں نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا چیز بندے کو آگ سے نجات دیتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ ایمان لانا۔ میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی ہے۔ فرمایا یہ کہ اللہ نے تمہیں جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سے تھوڑا سا دے دے یا یوں کہا تھا اللہ نے تجھے جو رزق دیا ہے اس کے ساتھ تھوڑا دے دے۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے نبی اگر بندہ خود فقیر ہو نہ پائے وہ چیز جو دے سکے فرمایا کہ اچھا کام کرنے کا حکم اور ناپسندیدہ کام کرنے سے روکے۔ میں نے کہا اگر وہ امر بالمعروف اور انہی عن المنکر کرنے کی طاقت بھی نہ رکھے فرمایا کہ پھر وہ گونگے آدمی کی زبان سے مدد کرے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ اگر وہ یہ بھی بہتر طریقے سے نہ کر سکے فرمایا تو پھر وہ مظلوم کی مدد کرے میں نے کہا یا رسول اللہ اگر وہ کمزور اور ضعیف ہو مظلوم کی مدد بھی نہ کر سکے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم کیا چاہتے ہو کہ تم اپنے ساتھی کے لئے کوئی خیر باقی نہ چھوڑو۔ چاہیے کہ پھر وہ لوگوں سے اپنے ایذا روک لے (یعنی کسی کو زبان سے بھی تکلیف نہ دے) میں نے کہا یا رسول اللہ آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر وہ یہ کام کرے تو یہ اس کے جنت میں داخل کر ا دے گا۔ آپ نے فرمایا جو مؤمن بھی ان خصال میں سے کسی خصلت کو کرتا ہے تم اس کا ہاتھ پکڑ لو اور اسے جنت میں داخل کر دو۔

أَبِي ذَرٍّ، يَرْفَعْهُ، ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الأسفاطي و هو عباس بن الفضل ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3328

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3329

3329 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي نا الفضل بن عبد الجبار نا النضر بن شميل عن قرة قال : سمعت سعيد بن المسيب يحدث عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : ذكر لي أن الأعمال تباهي فتقول الصدقة أنا أفضلكم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العبااس محبوبی نے ان کو فضل بن عبدالجبار نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو مرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعید بن مسیب سے وہ حدیث بیان کرتے تھے عمر بن خطاب سے کہتے ہیں کہ میرے سامنے ذکر کیا گیا کہ اعمال باہم فخر کریں گے صدقہ کہے گا کہ میں تم سب سے افضل ہوں۔

أَفْضَلُكُمْ. ← لي: أن الأعمال تَباهى، فتقول الصدقةُ: ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قُرَّۃَ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← الفضل بن عبد الجبار ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3329

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3330

3330 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب املاء ثنا الحسن بن مكرم البزار ثنا يزيد بن هارون نا أبو مالك الأشجعي عن ربعي بن حراش عن حذيفة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كل معروف صدقة أخرجه مسلم من وجه آخر عن أبي مالك و أخرجه البخاري من حديث جابر بن عبد الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے بطور املاء کے ان کو حسن ب مکرم بزاز نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابو مالک اشجعی نے ان کو ربعی ابن حراش نے ان کو حذیفہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر معروف اور اچھا کام صدقہ ہے اس کو مسلم نے دوسرے طریق سے نقل کیا ہے ابو مالک سے اور بخاری نے اس کو نقل کیا ہے جابر بن عبداللہ کی حدیث سے۔

أبي مالك و أخرجه البخاري من حديث جابر بن عبد الله ← كل معروف صدقة أخرجه مسلم من وجه آخر ← النبي صلى الله عليه و سلم ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3330

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3331

3331 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الحارث بن سويد عن عبد الله : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله قالوا : ما منا من أحد إلا ماله أحب إليه من مال وارثه قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اعلموا أن ليس منكم أحد إلا و مال وارثه أحب إليه من ماله مالك ما قدمت و مال وارثك ما أخرت رواه البخاري في الصحيح عن عمر بن حفص عن أبيه عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم نے ان کو حارث بن سوید نے ان کو عبداللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا تم میں سے کون ایسا ہے جس کو اس کے وارث کا مال محبوب ہو اپنے مال سے زیادہ لوگوں نے جواب دیا کہ کوئی بھی ہم میں سے ایسا نہیں ہے مگر سب کو اپنا مال محبوب ہے اپنے وارث کے مال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یقین جانو کہ تم میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے مگر اس کے وارث کا مال اس کو زیادہ محبوب ہے۔ اس کے اپنے مال سے اس لیے کہ تیرا مال وہی ہے جو تم نے اپنے آگے بھیج دیا ہے اور تیرےوارث کا مال وہی ہے جو تو اپنے پیچھے چھوڑ دے گا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عمر بن حفص سے اس نے اپنے والد سےاس نے اعمش سے۔

ما منا من أحد إلا ماله أحب إليه من مال وارثه ← أيكم مال وارثه أحب إليه من ماله ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3331

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3332

3332 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله بن السماك ثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي ثنا معاذ بن هشام الدستوائي حدثني أبي عن قتادة عن مطرف بن عبد الله بن الشخير أن أباه حدثه قال : انتهيت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو يقرأ ألهاكم التكاثر و هو يقول : يقول ابن آدم مالي مالي و هل لك من مالك إلا ما أكلت فأفنيت أو لبست فأبليت أو تصدقت فأمضيت رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن المثنى عن معاذ بن هشام

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمر و عثمان بن احمد بن عبداللہ بن سماک نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد منصور حارثی نے ان کو معاذ بن ہشام دستوائی نے ان کو ان کے والد نے ان کو قتادہ نے ان کو مطرف بن عبداللہ بن شخیر نے ان کے والد نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ میں رسول اللہ کی خدمت میں گیا وہ سورۃ الھاکم التکاثرپڑھ رہے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ آدم کا بچہ کہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال صرف وہی ہے جو تم نے کھا لیا اور ختم کر لیا یاپہن کر پرانا کر لیا یا تم نے صدقہ کر لیا اور اس کو بھیج دیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن مثنیٰ سے اس نے معاذ بن ہشام سے۔

مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← معاذ بن هشام الدستوائي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله بن السماك ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3332

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3333

3333 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا إسماعيل بن إسحاق القاضي ثنا عيسى بن مينا نا محمد بن جعفر بن أبي كثير عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يقول العبد مالي مالي إنما من ماله ثلاث ما أكل فأفنى أو لبس فأبلى أو أعطى فأمضى و ما سوى ذلك فهو ذاهب و تاركه للناس أخرجه مسلم في الصحيح عن الصنعاني عن أبي مريم عن محمد بن جعفر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو عیسیٰ بن ضیاء نے ان کو محمد بن جعفر بن ابو کثیر نے انکو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ نے فرمایا بندہ کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال ۔ حالانکہ اس کے مال میں اس کے لئے صرف تین چیزیں ہیں جو اس نے کھا کر ختم کر دیا جو اس نے پہن کر پرانا کر لیا یا جو کچھ کسی کو دے کر بھیج دیا اور اس کے ماسوا جو کچھ ہے یہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑ کر چلا جائے گا۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں صنعانی سے اس نے ابو مریم سے اس نے محمد بن جعفر سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ ← عِيسَى بْنُ مِينَا ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3333

chevron_left Previous
1…515253…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood