Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3310

3310 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين الخسروجردي نا داود بن الحسين نا كثير بن عبيد و إسحاق بن إبراهيم قال : كثير نا و قال إسحاق أنا بقية بن الوليد نا الضحاك بن حمزة عن حطان بن عبد الله الرقاشي عن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الزكاة قنطرة الإسلام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسن خسرو جردی نے ان کو خبر دی داؤد بن حسین نے ان کو کثیر بن عبید اور اسحٰق بن ابراہیم نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ خبر دی انکو بقیہ بن ولید نے ان کو ضحاک بن حمزہ نے ان کو خطان بن عبداللہ رقاشی نے ان کو ابو درداء نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زکوٰۃ اسلام کاپل ہے۔ (از مترجم) زکوٰۃ اسلام کی بلند ترین عمارت ہے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← الضحاك بن حمزة ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← إِسْحَاقُ ← و، ← کَثِيرٍ ← كثير بن عبيد و إسحاق بن إبراهيم ← داود بن الحسین، ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3310

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3311

3311 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي أنا أبو حاتم الرازي ثنا معاذ بن أسيد المروزي أنا الفضل بن موسى الشيباني نا الحسين بن واقد عن عبد الله بن بريدة عن ابن عباس قال : ما نقض قوم العهد إلا سلط الله عليهم عدوهم و لا فشت الفاحشة في قوم إلا أخذهم الله بالموت و ما طفف قوم الميزان إلا أخذهم الله بالسنين و ما منع قوم الزكاة إلا منعهم الله القطر من السماء و ما جار قوم في حكم إلا كان الداء بينهم أظنه قال : و القتل كذا قال عن ابن عباس موقوفا

ہمیں خبردی ابو علی روذ باری نے ان کو حسین بن حسن بن ایو ب طوسی نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو معاذ بن اسید مروزی نے ان کو فضل بن موسیٰ شیبانی نے ان کو حسین بن واقد نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہوں نے فرمایا کہ کسی قوم نے کبھی عہد نہیں توڑا مگر اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دیا۔ اور کسی قوم میں کبھی بے حیائی عام نہیں ہوئی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی پکڑ میں لے لیا موت کے ساتھ۔ اور کسی قوم نے ناپ تول میں کمی نہیں کی مگر اللہ تعالیٰ نے پکڑ لیا تھا قحط سالی کے ساتھ۔ اور کسی قوم نے کبھی زکوٰۃ کو منع نہیں کیا مگر اللہ تعالیٰ ان پر بارش کو روک دیتا ہے۔ نہ ظلم کیا کسی قوم نے فیصلہ کرنے میں مگر ان کے درمیان بیماری واقع ہو گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے گمان کیا کہ (قتل عام ہو گیا) اسی طرح مروی ہے ابن عباس سے موقوف روایت کے طور پر۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى الشَّيْبَانِيُّ، ← معاذ بن أسيد المروزي ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3311

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3312

3312 - و أخبرنا أبو علي الروذباري عقيبه نا الحسين أنا أبو حاتم نا عبيد الله بن موسى نا بشير بن مهاجر عن ابن بريدة عن أبيه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : ما نقض قوم العهد قط إلا كان القتل بينهم و ما ظهرت فاحشة في قوم قط إلا سلط الله عليهم الموت و لا منع قوم الزكاة إلا حبس الله عنهم القطر و قد :

ہمیں خبر دی ابو علی الروذباری نے پہلے والی حدیث کے بعد ان کو حسین نے ان کو ابو حاتم نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو بشیر بن مہاجر نے ان کو ابن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس قوم نے نقض عہد کیا ان میں قتل عام ہوا اور جس قوم میں بے حیائی عام ہوئی اللہ نے ان پر موت مسلط کی جس قوم نے زکوٰۃ روکی اللہ نے ان سے بارش روک لی۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو حَاتِمٍ ← الحسين ← أبو علي الروذباري عقيبه ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3312

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3313

3313 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى أنا أبو العباس الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا أبو أحمد الزبيري عن سفيان عن عكرمة عن ابن عباس عن كعب قال : إذا رأيت المطر قد قحط فاعلم أن الزكاة قد منعت و إذا رأيت السيوف قد عريت فأعلم أن حكم الله تعالى قد ضيع فانتقم بعضهم ببعض و إذا رأيت أن الربا قد ظهر فاعلم أن الزنا قد فشا

ہمیں خبر دی ابو سعید محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے انکو ابو احمد زبیری نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے ان کو کعب نے وہ کہتے ہیں کہ جب تم دیکھو کہ بارش بالکل رک گئی ہے نہیں آتی تو یقین جان لیجئے کہ زکوٰۃ منع کر دی گئی ہے اور تم جب دیکھو کہ تلواریں ننگی ہو چکی ہیں تو سمجھ لینا کہ اللہ کا حکم ضائع کیا گیا ہے لہٰذا بعض بعض سے انتقام لے رہا ہے جب تم دیکھو کہ سود غالب آ گیا ہے تو سمجھ لینا زنا عام ہو گیا ہے۔

کَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3313

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3314

3314 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا جعفر بن محمد بن الحسن بن المستفاض ثنا محمد بن عائذ ثنا الهيثم بن حميد نا أبو معبد و غيره عن عطاء بن أبي رباح أنه سمع ابن عمر يحدث بلغني : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا معشر المهاجرين خصال خمس إن ابتليتم بهن و نزلن بكم أعوذ بالله أن تدركوهن لم تظهر الفاحشة في قوم قط حتى يعلنوا إلا فشا فيهم الأوجاع التي لم تكن في أسلافهم و لم ينقصوا المكيال و الميزان إلا أخذوا بالسنين و شدة المؤنة و جور السلطان و لم يمنعوا زكاة أموالهم إلا منعوا المطر من السماء و لولا البهائم لم يمطروا و لا ينقضوا عهد الله و عهد رسوله إلا سلط عليهم عدو من غيرهم فيأخذ بعض ما في أيديهم و ما لم يحكم ائمتهم بينهم إلا جعل بأسهم بينهم و روي في ذلك أيضا عن هذيل عن هشام بن خالد المازني عن ابن عمر

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو جعفر بن محمدبن حسن بن مستفاض نے ان کو محمد بن عائذ نے ان کو ہیثم بن حمید نے ان کو ابو معبد وغیرہ نے ان کو عطا بن ابی رباح نے کہ انہوں نے سنا ابن عمر سے وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ اے مہاجر ین کی جماعت پانچ خصلتیں ہیں اگر تم ان کے ساتھ آزمائے جاؤ اور تمہارے ساتھ اتر پڑیں۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم لوگ ان کو پا لو۔ جس قوم میں بے حیائی غالب ہو جاتی ہے یہاں تک کہ علانیہ برائی کرنے لگتے ہیں ان میں بیماریاں عام ہو جاتی ہیں جس ان کے اسلاف میں نہیں تھیں اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں وہ قحط میں گرفتار کئے جاتے ہیں اور سخت مشقت میں اور بادشاہ کے ظلم میں۔ جو لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ منع کرتے ہیں وہ آسمان کی بارش سے منع کر دئیے جاتے ہیں۔ اگر دھرتی پر چار پائے مویشی وغیرہ نہ ہوتے تو کبھی بھی بارش نہ ہوتی اور جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کے رسول کے عہد کو توڑتے ہیں اللہ ان پر ان کے دشمن کومسلط کر تے ہیں غیروں میں سے لہٰذا وہ ان سے وہ چیز چھین لیتا ہے جو ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور جن کے امام و سربراہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ نہیں کرتے مگر ان کے درمیان جنگ ہوتی ہے اور اس بارے میں ہذیل سے بھی روایت ہے ان کو ہشام بن خالد مازنی نے ان کو ابن عمر نے۔

بلغني ← ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ ← أبو معبد و غيره ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ← جعفر بن محمد بن الحسن بن المستفاض ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3314

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3315

3315 - و أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا إسماعيل بن أبان نا يعقوب بن عبد الله القمي نا ليث عن أبي محمد الواسطي عن ابن عمر قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : كيف أنتم إذا وقعت فيكم خمس و أعوذ بالله أن تكون فيكم أو تدركوهن ما ظهرت الفاحشة في قوم قط فعمل بها فيهم علانية إلا ظهر فيهم الطاعون و الأوجاع التي لم تكن في أسلافهم و ما منع قوم الزكاة إلا منعوا القطر من السماء و لولا البهائم لم تمطروا و ما بخس قوم المكيال و الميزان إلا أخذوا بالسنين و شدة المؤنة و جور السلطان عليهم و لا حكم أمراؤهم بغير ما أنزل الله عز و جل إلا سلط الله عليهم عدوهم فاستنقذوا بعض ما في أيديهم و ما عطلوا كتاب الله و سنة رسوله إلا جعل الله بأسهم بينهم ثم قال لعبد الرحمن بن عوف : تجهز فغدا عليه و قد اعتم و أرسل عمامة نحوا من ذراع فأجلسه بين يديه و نقض عمامته بيده فعممها إياه و أرسل منها نحوا من أربع أصابع ثم قال : هكذا أعرف ثم سرحه إسناده ضعيف

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر نے کوفے میں ان کو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ان کو اسماعیل بن ابان نے ان کو یعقوب بن عبداللہ قمی نے ان کو لیث نے ان کو ابو محمد واسطی نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے آپ نے فرمایا تم لوگ اس وقت کس حال میں ہوں گے جب تمہارے اندر پانچ باتیں واقع ہو جائیں گی اور میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ تمہارے اندر ہوں یا تم ان کو پاؤ کسی بھی قوم میں جب بھی بے حیائی ظاہر ہو جاتی ہے اور وہ قوم اعلانیہ اس کا ارتکاب کرتی ہے اس قوم میں طاعون اور وبائی مرض اور دیگر بیماریاں عام ہو جاتی ہیں جو ان کے اسلاف میں نہیں تھیں اور جو قوم زکوٰۃ روک لیتی ہے ان سے بارش روک دی جاتی ہے اور اگر جنگلی جانور نہ ہوتے تو بارش کبھی بھی نہ ہوتی اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے وہ قحط میں مبتلا ہو جاتی ہے اور سخت مشقت میں اور ان پر بادشاہ کا ظلم ہوتا ہے اورجس قوم کے امیر اور حکمران قرآن کے بغیر فیصلے کرتے ہیں اللہ ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دیتے ہیں وہ ان سے چھین لیتا ہے بعض اس کا جوان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور جو لوگ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو معطل کرتے ہیں ان کے درمیان جنگ ہوتی ہے ۔ پھر آپ نے عبدالرحمٰن بن عوف سے فرمایا تیار رہنا پھر علی الصبح اس کے پاس گئے جبکہ وہ عمامہ باندھ رکھے اور ایک ہاتھ کے برابر عمامہ کو چھوڑ رکھے تھے۔ آپ نے اس کو اپنے سامنے بٹھایا۔اپ نے اپنے ہاتھ سے اس کو کھولا اور اس کو اسی کا عمامہ بندھوایا اور اس میں سے چار انگشت کے برابر چھوڑ دیا۔ پھر فرمایا میں اس کو اسی طرح جانتا ہوں پھر اس کو سیدھا کردیا۔ اس کی اسناد ضعیف ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← أبي محمد الواسطي ← لَيْثٌ، ← یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْقُمِّیُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3315

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3316

3316 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري نا أبو العباس الأصم أنا الخضر بن أبان أنا سيار أنا جعفر قال : كنا نكون عند مالك يعني ابن دينار و كانت الغيوم تجيء و تذهب و لا تمطر قال : فقال مالك ترون و لا تذاقون أنتم تستبطئون المطر و أنا أستبطىء الحجارة و بهذا الإسناد قال : سمعت مالكا يقول ما سقطت أمة من عين الله إلا ضرب الله أكابرها الجوع

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن ابی حامد مقری نے ان کو ابو العباس الاصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے اس نے کہا کہ ہم لوگ مالک بن دینار کے پاس تھے۔ اور بادلیں گھوم رہے تھے اور بارش نہیں ہو رہی تھی کہتے ہیں کہ مالک نے فرمایا تم دیکھ رہے ہو اور چکھا نہیں رہے ہو تم لوگ انتظار کر رہے ہو بارش کا اور میں اتنظار کر رہا ہوں بارش کی بجائے پتھروں کا اور اسی اسناد کے ساتھ انہوں نے کہا کہ میں نے مالک سے وہ کہتے تھے کہ کوئی بھی امت اللہ کی نظروں سے نہیں گری مگر اللہ نے ان کے بڑوں پر بھوک مسلط کر دی تھی۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3316

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3317

3317 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا أنا أبو العباس الأصم نا هارون بن سليمان نا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور عن مجاهد : ـ { أولئك يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون } قال : دواب الأرض الخنافس و العقارب يقولون منعنا القطر بخطايا بني آدم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے ابو العباس الاصم نے ان کو ہارون بن سلیمان نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے ان کو مجاہد نے اس آیت کے بارے میں اولئک یلعنھم اللٰعنون یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی۔ مجاہد نے کہا کہ اس سے مراد زمین پر چلنے والے جاندار اور بچھو ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اولاد آدم کے گناہوں کی وجہ سے محروم کر دئیے گئے ہیں۔

دواب الأرض الخنافس و العقارب يقولون منعنا القطر بخطايا بني آدم ← مجاهد أولئك يلعنهم الله ويلعنهم اللاعنون ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3317

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3318

3318 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه نا يعقوب بن سفيان أنا أبو عمر حفص بن عمر بن عبد العزيز و أخبرنا أبو محمد المؤملي أخبرنا أبو عثمان البصري نا موسى بن هارون بن عبد الله نا أبو عمر حفص بن عمر نا أبو إسماعيل المؤدب عن عيسى بن المسيب عن نافع عن ابن عمر قال : لما نزلت هذه الآية { مثل الذين ينفقون أموالهم في سبيل الله كمثل حبة أنبتت سبع سنابل في كل سنبلة مائة حبة } قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رب زد أمتي فنزلت { من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا فيضاعفه له أضعافا كثيرة } قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : زد أمتي فنزلت { إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب }

ہمیں خبر دی ابو علی بن شاذان بغدادی نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو عمر حفص بن عمر بن عبدالعزیز نے اور ہمیں خبردی ہے ابو محمد مؤملی نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عثمان بصری نے ان کو موسیٰ بن ہارون بن عبداللہ نے ان کو ابو عمر حفص بن عمر نے ان کو ابو اسماعیل المؤدب نے ان کو عیسیٰ ابن المسیب نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : " مثل الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبثت سبع سنابل فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ " ان لوگوں کی مثال جو اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس ایک دانے جیسی ہے جو کہ سات بالیں اگاتا ہے اور ہر بالی میں ایک سو دانے ہوتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " رب زدامتی " اے میرے رب میری امت کو اور زیادہ عطافرما۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: " من ذالذین یقرض اللہ قرضا حسنا فیضا عفہ لہ اضعافا کثیرۃ " کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دے پھر وہ اس کےلئے اس کو دہرا کر دے گا کثیر باردہرا۔ تو پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کی۔ اے اللہ میری امت کو اور زیادہ عطا فرما پھر یہ آیت نازل ہوئی : " انمایوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب " سوائے اس کے نہیں کہ صبر کرنے والے اپنا اجر بغیر حساب کتاب کے دئیے جائیں گے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عيسى بن المسيب ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ← أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُؤَمِّلِيُّ، ← أبو عمر حفص بن عمر بن عبد العزيز و ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ ← أبو علي بن شاذان البغدادي بها،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3318

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3319

3319 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني أنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود أنا شعبة عن عون بن أبي جحيفة قال : سمعت المنذر بن جرير يحدث عن أبيه جرير بن عبد الله قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم جلوسا في صدر النهار فجاء قوم حفاة عراة مجتابي النمار عليهم العباء و قال : متقلدي السيوف عامتهم من مضر بل كلهم من مضر فرأيت وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم يتغير لما رأى بهم من الفاقة فدخل ثم خرج فأمر بلالا فأقام فصلى الظهر فخطب فقال : { يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة } إلى آخر الآية ثم قال : { يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله و لتنظر نفس ما قدمت لغد } تصدق رجل من ديناره من درهمه من ثوبه من صاع بره من صاع تمره حتى قال : و لو بشق تمرة قال : و أتاه رجل من الأنصار بصرة قد كادت كفه أن تعجز بل قد عجزت عنها فدفعها إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فتتابع الناس في الصدقات فرأيت بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم كومين من طعام و ثياب و جعل وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم يتهلل كأنه مذهبه و قال : من سن في الإسلام سنة حسنة كان له أجرها و أجر من عمل بها من بعده من غير أن ينقض من أجورهم شيء و من سن في الإسلام سنة سيئة كان عليه وزرها و وزر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أوزارهم شيء أخرجه مسلم في الصحيح من أوجه عن شعبة

ہمیں خبردی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر الاصبہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو عون بن ابو حجیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا منذر بن جریر سے وہ حدیث بیان کرتے تھے اپنے والد جریر بن عبداللہ سے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے دن کے اول حصے میں چنانچہ ایک قوم کے لوگ آئے جو پاؤں سے ننگے تھے جسمانی طور پر ننگے تھے ! ستر ڈھکنے کے لئے انہوں نے ٹاٹ لپیٹے ہوئے ان پر عبا تھیں تلواریں حمائل کئے ہوئے تھے زیادہ تر بلکہ سارے لوگ قبیلہ مضر کے تھے میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ پریشان تھا اس لئے کہ آپ ان کےچہروں پر فاقہ دیکھ رہے تھے۔ آپ اندر گئے پھر باہر آئے بلال کو اذان کا حکم دیا۔ اس نے اقامت کی۔ آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا۔ فرمایا کہ : یا ایھا الناس اتقو ا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ" اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں پیدا کیا ایک ہی جان سے۔ پوری آیت پڑھی۔ اس کے بعد یہ آیت پڑھی: " یا ایھا الذین اٰمنو اتقو اللہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد ۔الخ " اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر انسان کا انتظار کرے اس نے کل کے لئے جو کچھ آگے بھیجا ہے۔ (لہٰذا لوگوں نے صدقہ کرنا شروع کیا) کسی نے دینار یا کسی نے درہم دیا کسی نے کپڑا دیا کسی نے گندم کا ایک صاع دیا کسی نے کھجور کا ایک صاع دیا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: کہ اگرچہ آدھے دانے کھجور کے ساتھ۔ جریر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ اتنے میں ایک آدمی جو کہ انصار میں سے تھا ایک تھیلی بھر ی ہوئی لایا اتنی وزنی تھی کہ اٹھانے سے اس کے ہاتھ عاجز آگئے تھے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کای لہذا لوگوں نے مسلسل صدقہ کرنا شروع کیا لہذٰا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے دو ڈھیر لگے چکے تھے ایک کھانے کے سامان کا دوسرا کپڑوں کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا جیسے سونے کا پانی لگا ہے۔ آپ نے فرمایا جو شخص اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے اس کو اپنے عمل کا اجر بھی ملے گا اور دوسرے کے عمل کے برابر بھی اجر ملے گا ور ان عمل کرنے والوں کے اجر بھی کم نہیں ہوں گے۔ اور جو شخص اسلام میں برا طریقہ جاری کرے گا اس کا گناہ اسی پر ہو گا۔ اور جو اس پر عمل کرے گا ان کے عمل کے عمل کے برابر بھی اس کو ملے گا مگر جو اس پر دیگر لوگ عمل کریں گے ان کا گناہ بھی کم نہیں ہو گا۔ اس کو مسلم نے صحیح میں درج کیا ہے کئی طریقوں سے شعبہ سے۔

أبيه جرير بن عبد الله ← الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3319

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3320

3320 - و أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن أبي بكر نا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن المنذر بن جرير عن أبيه قال : كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتاه قوم مجتابي النمار متقلدي السيوف ليس عليهم أزر و لا شيء غيرها عامتهم من مضر بل كلهم من مضر فلما رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي بهم من الجهد و العري و الجوع تمعر وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قام فدخل بيته ثم راح إلى المسجد فصلى الظهر ثم صعد المنبر منبرا صغيرا فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : أما بعد ذلكم إن الله عز و جل أنزل في كتابه : { يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة } إلى قوله : { رقيبا } { اتقوا الله و لتنظر نفس ما قدمت لغد } إلى قوله : { تعلمون } { و لا تكونوا كالذين نسوا الله } إلى قوله : { الفاسقين } { لا يستوي أصحاب النار و أصحاب الجنة } الآية تصدقوا قبل أن لا تصدقوا تصدقوا قبل أن يحال بينكم و بين الصدقة تصدق امرأ من ديناره تصدق امرأ من درهمه من برة من تمرة من شعيرة لا يحقرن شيئا من الصدقة و لو بشق تمرة فقام رجل من الأنصار بصرة فناولها رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو على منبره فقبضها و هو على منبره يعرف السرور في وجهه ثم قال : من سن سنة حسنة فعمل بها كان له أجرها و أجر من عمل بها لا ينقص من أجورهم شيئا و من سن سنة سيئة فعمل بها كان عليه وزرها و مثل وزر من عمل بها لا ينقص من أوزارهم شيئا فقام الناس فتفرقوا فمن ذي دينار و من ذي درهم و من ذي طعام و من ذي و من ذي فاجتمع فقسمه بينهم رواه مسلم في الصحيح عن عبيد الله بن عمر القواريري و غيره عن أبي عوانة

ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو احمد بن ابو بکر نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو منذر بن جریر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا آپ کے پاس ایک قوم آئی جو ٹاٹ لپیٹے ہوئے تلواریں لٹکائے ہوئے تھے ان کے تن بدن پر تہہ بند نہیں تھے اور نہ ہی دیگر کپڑے تھے زیادہ تر بلکہ سارا ہی قبیلہ مضر کے لوگ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کی یہ کیفیت دیکھی عسرت و نقبت بغیر لباس اور بھوک کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ پریشانی سے دگر گوں ہو گیا۔ آپ اٹھ کر گھر چلے گئے پھر مسجد میں تشریف لائے اپ نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر آپ چھوٹے منبر پر چڑھے اللہ کی حمد و ثناء کی اس کے بعد فرمایا اما بعد۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: " یا ایھا الناس اتقو ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ الی قولہ " رقیبا " اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا ہے۔ یہ آیت آپ نے رقیباً تک پڑھی پھر یہ آیت پڑھی: " اتقو اللہ ولتنظر نفس ماقدمت لغد الی قولہ تعلمون " اللہ سے ڈرو ہر نفس کو اسی کا انتظار کرنا چاہیے جو اس نے کل کے لئے آگے بھیجا ہے۔ یہ آیت کریمہ تعلمون تک پڑھی۔ اگلی آیت ولا تکونو اسے فاسقین تک اور اگلی آیت لایستوی پوری پڑھی ' فائزون" تک۔ صدقہ کرو اس ے پہلے کہ تم صدقہ نہ کر سکو۔ صدقہ کرو اس ے قبل کے تمہارے درمیان اور صدقہ کے درمیان صدقہ کرنا کسی آدمی کااپنے دینار سے صدقہ کرنا کسی آدمی کا اپنے درہم سے اپنے گندم سے کھجور سے جو سے صدقہ میں سے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھا جائے اگرچہ آدھی کھجور کے ساتھ ہو بس کھڑا ہو گیا ایک آدمی انصار میں سے رقم کی تھیلی لے کر اس نے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دی حالانکہ وہ اپنے منبر ہی پر بیٹھے تھے آپ نے اس کو قبضے میں لے لیا ابھی آپ منبر پر تھے اس کے چہرے پر خوشی پہچانی جانے لگی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جو شخص اچھا طریقہ جاری کرے اور اس کے اوپر وہ عمل بھی کرے اس کے لئے اپنے عمل کااجر ہو گا اور اس کا اجر بھی جو بھی اس کے طریقے پر عمل کرے گا اس سے عمل کرنے والوں کا اجر بھی کم نہیں ہو گا اور جو شخص بری سنت اور برا طریقہ جاری کر دے اس پر اس کا اجر بھی جو بھی اس کے طریقے پر عمل کرے گا اس سے عمل کرنے والوں کا اجر بھی کم نہیں ہو گا اور جو شخص بری سنت اور برا طریقہ جاری کر دے اس پر اس کا گناہ بھی ہو گا اور اس کا بھی جو اس طریقے پر عمل کریں گے اس سے ان کے گناہ میں بھی کمی نہیں ہو گی لہذٰا سارے لوگ کھڑے ہو گئے اور پھیل گئے اب کوئی دینار والا تھا کوئی درہم والا تھا کوئی کھانا لانے والا تھا کوئی کچھ لایا کوئی کچھ لایا جب اکھٹا ہو گیا تو آپ نے ان وفد والوں میں تقسیم کر دیا۔ اس کومسلم نے روایت کیا عبید اللہ بن عمر قواریری وغیرہ سے ابو عوانہ سے۔

أَبِيهِ ← الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3320

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3321

3321 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن حليم المروزي نا أبو الموجه أنا عبدان أنا عبد الله نا هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن أبي عبيدة بن حذيفة بن اليمان قال : قام سائل على عهد النبي صلى الله عليه و سلم فسأل فسكت القوم ثم إن رجلا أعطاه فأعطاه القوم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من استن خيرا فاستن به فله أجره و مثل أجور من اتبعه غير منتقص من أجورهم شيئا و من استن شرا فاستن به فعليه وزره و مثل أوزار من اتبعه غير منتقص من أوزارهم شيئا و تلا حذيفة بن اليمان هذه الآية : { علمت نفس ما قدمت و أخرت }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن حلیم مروزی نے ان کو ابو الموجہ نے انکو خبر دی عبدان نے انکو عبداللہ نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو ابو عبیدہ بن حذیفہ بن یمان نے وہ کہتے ہیں کہ ایک سائل عہد نبوی میں کھڑا ہوا اس نے سوال کیا اور قوم خاموش ہو گئی پھر اس کو ایک آدمی نے دیا پھر قوم نے اس کو دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اچھا طریقہ جاری کرے اور اس کو راہ عمل بنا لیا جائے اس کے لئے اپنا اجر ہے اور ان کے اجروں کی مثل بھی جو اس طریقے کی اتباع کریں گے اور ان عمل کرنے والوں کے اجر بھی کم نہیں ہو گے اور جو شخص برائی کا طریقہ رائج کرے اس کا وبال اسی پر ہو گا اور ان کا وبال بھی جو اس پر عمل کریں گے مگر انکے وبال بھی کم نہیں ہوں گے پھر حضرت حذیفہ بن یمان نے یہ آیت تلاوت کی : " عملت نفس ماقد مت واخرت " ہر نفس جان لے گا جو کچھ اس نے آگے بھیجا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا۔

أبي عبيدة بن حذيفة بن اليمان ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن حليم المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3321

chevron_left Previous
1…505152…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood