Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3298

3298 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا أبو عمرو المستملي قال : و أنا أبو الفضل المزكي نا أحمد بن سلمة قالا : نا قتيبة بن سعيد نا ليث عن عقيل عن الزهري أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن أبي هريرة قال : لما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم و استخلف أبو بكر بعده و كفر من كفر من العرب فقال عمر بن الخطاب لأبي بكر كيف تقاتل الناس و قد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ما له و نفسه إلا بحقه و حسابه على الله فقال أبو بكر : و الله لأقاتلن من فرق بين الصلاة و الزكاة فإن الزكاة حق المال و الله لو منعوني عقالا يؤدونه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم لقاتلتهم على منعه فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه فو الله ما هو إلا أن رأيت الله قد شرح صدر أبي بكر للقتال فعرفت أنه الحق رواه مسلم عن قتيبة و رواه البخاري عن يحيى بن بكير عن الليث و قال عناقا بدل عقالا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو عمرو مستمبلی نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو الفضل مزکی نے ان کو احمد بن سلمہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے قتیبہ بن سعید نے ان کو لیث نے ان کو عقیل نے ان کو زہری نے ۔ ان کو خبر دی ہے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا اور اس کے بعد ابو بکر صدیق خلیفہ بنائے گئے اور کافر ہو گئے عرب میں سے جو کافر ہوئے لہذا حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا ابو بکر صدیق سے آپ کیسے لوگوں سے قتال کریں گے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ میں حکم دیا گیا ہوں کہ اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں جب تک کہ وہ یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو شخص لا الہ الا اللہ کہہ دے اس نے مجھ سے اپنا مال بھی بچا لیا اور نفس بھی مگر اس کا حق کے ساتھ اور باقی اس کا حساب وہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میں ضرور قتال کروں گا ہر اس شخص سے جو نماز میں اور زکوٰۃ میں (اس کے لازم اور ضروری ہونے میں) فرق کرے گا۔ بے شک زکوٰۃ مال کا حق ہے ۔ اللہ کی قسم اگر لوگ مجھ سے اونٹ کی پیر کی رسی بھی روکیں گے جب کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس پر بھی ان سے لڑوں گا (یعنی اونٹ کے پاؤں کی رسی نہ دینے پر بھی قتال کروں گا گویا زکوٰۃ پوری پوری وصول کروں گا) لہٰذا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : پس قسم ہے نہیں تھے وہ (ابو بکر صدیق یونہی کہتے) مگر میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابو بکر صدیق کا سینہ کھول دیا تھا قتال کے لئے (یعنی انہیں اسی امر کے لئے شرح صدر عطا کر دیا تھا) لہٰذا میں نے سمجھ لیا کہ بھی حق ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا قتیبہ سے اور بخاری نے یحییٰ بن بکیر سے اس نے لیث سے اور انہوں نے عقال کے بدلے میں عناق کا لفظ استعمال کیا ہے۔

أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3298

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3299

3299 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا إسماعيل بن قتيبة ثنا يحيى بن يحيى أنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن موسى بن طلحة عن أبي أيوب قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : دلني على عمل أعمله يدنيني من الجنة و يباعدني من النار قال : تعبد الله و لا تشرك به شيئا و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تصل ذا رحمك فلما أدبر الرجل قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن تمسك بما أمر به دخل الجنة رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابو الاحوص نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو موسیٰ بن طلحہ نے ان کو ابو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا۔ مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جو میں کروں اور وہ مجھے جنت سے قریب کرے اور جہنم سے دور کر دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اللہ کی عبادت کیجئے اور اس کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کیجئے اور نماز قائم کیجئے اور زکوٰۃ دیجئے اور اپنے رشتہ دار کے ساتھ صلح رحمی کیجئے جب وہ آدمی پیچھے ہٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس کو مضبوطی سے تھام لیا جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے تو بس یہ جنت میں داخل ہو گیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے۔

دلني على عمل أعمله يدنيني من الجنة و يباعدني من النار ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي أَيُّوبَ، ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3299

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3300

3300 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا تمتام يعني محمد بن غالب ثنا قرة بن حبيب القنوي ثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار عن أبيه عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أتاه الله مالا فلم يؤد زكاته مثل له شجاع أقرع له زبيبتان فيأخذ بلهزمته و يقول : أنا مالك أنا كنزك و تلا أبو صالح هذه الآية : { ولا يحسبن الذين يبخلون } الآية

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو تمتام نے یعنی محمد بن غالب نے ان کو قرہ بن حبیب القوی نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ اس کے لئے اژدھا کی صورت بنا دیا جائے گا اس کی انکھوں پر وہ سیاہ نقطے ہوں گے وہ اس کے بانچھوں سے پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال تیرا خزانہ ہوں اور ابو صالح نے یہ آیت تلاوت کی: " ولا تحسبن الذین یبخلون " ان لوگوں کے بارے میں گمان نہ کرو جو بخل کرتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَنَوِيُّ، ← تَمْتَامٌ، يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ غَالِبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3300

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3301

3301 - و أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني ابن ناجية نا ابن أبي النضر نا أبو النضر ثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار عن أبيه عن أبي صالح السمان عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أتاه الله مالا فلم يؤد زكاته مثل له يوم القيامة شجاع أقرع له زبيبتان يطوقه يوم القيامة ثم يأخذ بلهزميته يعني شدقيه و يقول : أنا مالك أنا كنزك ثم تلا هذه الآية : { ولا يحسبن الذين يبخلون } رواه البخاري في الصحيح من حديث أبي النضر و غيره

ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو محمد بن عبداللہ ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی ابن ناجیۃ نے ان کو ابن ابی النضر نے ان کو ابو النظر نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو صالح سمان نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل بنا دیا جائے گا اس کی آنکھوں پر سیاہ نقطے ہوں گے وہ قیامت میں اس کے گلے میں طوق بن جائے گا پھر اس کی باچھوں کو کاٹے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: " ولا تحسبن الذین یبخلون " مت گمان کرو جو لوگ بخل کرتے ہیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابو النصر کی حدیث وغیرہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← أَبُو النَّضْرِ، ← ابْنُ أَبِي النَّضْرِ، ← ابْنُ نَاجِيَةَ ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3301

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3302

3302 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد بن زياد ثنا محمد بن إسحاق نا يونس بن عبد الأعلى أنا عبد الله بن وهب حدثني هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبي صالح السمان عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من صاحب ذهب و لا فضة لا يعطي حقها إلا و هي تصفح له يوم القيامة صفائح ثم يحمى عليها في نار جهنم تكوى بها جبهته و جنبه و ظهره في يوم كان مقدارها خمسين ألف سنة حتى يقضى بين الناس فيرى سبيله إما إلى الجنة و إما إلى النار قالوا : يا رسول الله فصاحب الإبل قال : و لا صاحب إبل لا يعطي حقها و من حقها حلبها يوم وردها إلا و هي تجمع له يوم القيامة لا يفقد منها فصيلا واحدا ثم تبطح لها بقاع قرقر تطؤه بأخفافها و تعضه بأفواهها كلما مر عليه اخرها رجع عليه أولها في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضي الله بين الناس و يرى سبيله إما إلى الجنة و إما إلى النار قالوا : يا رسول الله صاحب الخيل و الغنم قال : و لا صاحب بقر و لا غنم لا يعطي حقها إلا و هي تجمع له يوم القيامة ليست فيها عضباء و لا عقصاء و لا جلحاء تبطح لها بقاع قرقر تطؤه بأظلافها و تنطحه بقرونها كلما مر عليه آخرها رجع عليه أولها في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين الناس فيرى سبيله إما إلى الجنة و إما إلى النار قالوا : يا رسول الله صاحب الخيل قال : الخيل ثلاثة هي لرجل أجر و لرجل ستر و لرجل وزر أما من ربطها عدة في سبيل الله فإنه لو أنه طول لها في مرج خصب أو في روضة كتب الله له عدد ما أكل حسنات و عدد ما أرواثها حسنات ثم لو أنه انقطع طولها ذلك فاستنت شرفا أو شرفين كتب الله له عدد آثارها حسنات و لو أنها مرت بنهر فجاج لا يريد السقي به فشربت منه كتب الله له عدد ما شربت حسنات فهي لهذا أجر يوم القيامة و من ربطها بفناء و تعففا التماس الخير فيها ثم لم ينس حق الله في بطونها و لا في ظهورها كانت له سترا من النار و من ربطها فخرا و رياء و نوا على أهل الإسلام كان له وزرا يوم القيامة قالوا يا رسول الله الحمر قال : لم ينزل الله علي في الحمر إلا هذه الآية الجامعة الفاذة : { فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره } رواه مسلم في الصحيح عن يونس بن عبد الأعلى قال الشيخ أحمد و يحتمل أن يكون قوله و من حقها حلبها يوم وردها من قول أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد بن زیاد نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو یونس بن عبدالاعلیٰ نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو ابو صالح سمان نے ان کو ابو ہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسا صاحب سونا یا چاندی نہیں ہے جو اس کا حق ادا نہیں کرتے مگر اسے لوگوں کے لئے تختیاں بنائی جائیں گی جس دن جہنم کی آگ میں ان کو خوب گرم کیا جائے گا اور ان کے ساتھ اس کی پیشانی کو اور پہلو کو اور پیٹھ کو داغا جائے گا اس دن میں جن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے اس وقت تک جب تک کہ لوگوں کے مابین فیصلہ ہو جائے اور وہ شخص بھی اپنا راستہ دیکھ لے جنت یا جہنم۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ اونٹوں کے مالک کے بارے میں کیا حکم ہے فرمایا کہ (اس کے بارے میں بھی یہی حکم ہے) جو شخص اونٹوں کا مالک ہے اور وہ ان کا حق ادا نہیں کرتا حالانکہ اس کے حق میں سے ہے کہ جب وہ پانی پینے کی جگہ یا باری پر آئے تو اس کا دودھ لوگوں کو ضرورت مندوں کو دیا جائے۔ فرمایا قیامت کے دن اس کے جانوروں کو جمع کیا جائے گا وہ مالک ان میں سے ایک اونٹ کے بچے کو بھی کم نہ پائے گا اس کے بعد اس مالک کو اونٹوں کے سامنے ایک میدان میں منہ کے بل ڈالا جائے گا وہ سارے جانور باری باری اس کو اپنے پیروں تلے روندیں گے اور اپنے منہ سے اس کو کاٹیں گے جب ان میں سے آخری جانور اس پر گزر جائے گا تو پہلا پھر واپس آ جائے گا۔ اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے اس وقت تک کہ اللہ فیصلہ نہ فرما دے لوگوں کے مابین اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ گھوڑوں کے مالک کے بارے میں خیال ہے اور بکریوں کے مالک کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی صاحب گائے یا صاحب بکری گائے اور بکریوں کا حق ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن ان جانوروں کو بھی جمع کیا جائے گا۔ نہ ان میں کوئی سینگ مڑی ہوئی ہو گی نہ ہی کوئی سینگ ٹوٹی ہوئی ہو گی نہ کوئی بغیر سینگ کی ہو گی ان کے سامنے مالک کو ایک میدان میں منہ کے بل ڈالا جائے گا اور وہ آ کر اس کو اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے اس کو ماریں گی۔ جب بھی آخری جانور گزر جائے گا پہلا واپس مارنے آ جائے گا اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی اس وقت تک جب تک لوگوں کے مابین فیصلہ نہ ہو جائے اور وہ اپنا راستہ پکڑ ے جنت یا جہنم کی طرف ۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ گھوڑوں کے مالک کا کیا حال ہے۔ فرمایا گھوڑے تو تین طرح کے ہوتے ہیں ایک گھوڑا مالک کےلئے اجر بنتا ہے دوسرا اس کے لئے پردہ بنتا ہے تیسرا مالک کے لئے گناہ اور بوجھ بنتا ہے۔ بہر حال جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کے طور پر گھوڑا باندھتا ہے پس بے شک وہ اگر اس کی رسی لمبی کرے چراگاہوں میں یعنی سبزہ زاروں میں جس قدر وہ گھوڑا کھائے گا اسی کے بقدر اللہ تعالیٰ اس کے لئے نیکیاں لکھیں گے اور اس کی لید کے برابر نیکیاں لکھ دے گا پھر اگر اس کی رسی ٹوٹ جاتی ہے اور وہ ایک دو اونچائیوں پر چڑھ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پاؤں کے نشانات کے برابر نیکیان لکھتے ہیں اگروہ کسی نہر پر گزرتا ہے پانی پلانے کا ارادہ نہیں ہوتا مگر پھر بھی وہ اس نہر سے کچھ پی لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پانی کے بقدر جو اس نے پیا ہوتا ہے نیکیاں لکھتا ہے ۔ یہ گھوڑے قیامت کے دن مالک کے لئے اجرو ثواب ہوں گے اور وہ شخص جو گھوڑا باندھتا ہے صحن میں سوال سے بچنے کے لئے اور وہ اس میں خیر تلاش کرتا ہے پھر وہ ان کے پیٹ سے اللہ کے حق کو بھی نہیں بھولتا اور نہ ہی اس کی پیٹھ سے یعنی اس کو کھلاتا پلاتا ہے اور اللہ کے واسطے اس پر سواری بھی بوقت ضرورت کرتا ہے ۔ (از مترجم) یہ گھوڑا اس کے مالک کے لئے جہنم سے پردہ ثابت ہو گا اور جو شخص گھوڑا باندھتا ہے فخر کرنے کے لئے ریاکاری اور دکھاوا کرنے کے لئے اور غرور کے لئے اور مسلمانوں پر دشمنی کرنے کے لئے یہ گھوڑا اپنے مالک کے لئے قیامت کے دن بوجھ اور گناہ ہوں گے۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر گدھوں کے بارے میں کوئی مستقل حکم نہیں اتارا سوائے اس منفرد اور جامع آیت مبارکہ کے: " فمن یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ " جو شخص ذرہ برابر کوئی نیکی کرے گا وہ اس کو ضرور پا لے گا۔ اس کو روایت کیا ہے مسلم نے صحیح میں یونس بن عبدالاعلیٰ سے۔ شیخ احمد (یعنی بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ) نے فرمایا احتمال ہے کہ یہ قول کہ اونٹنی کا حق میں سے ہے (اس کے پانی پلانے کے دن اس کا دودھ مسکینوں میں تقسیم کرنا) یہ قو ل حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3302

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3303

3303 - فقد رواه أبو عمرو الغداني عن أبي هريرة قال فيه : قيل و ما حق الإبل يا أبا هريرة قال : يعطي الكريمة و يمنح العزيزة و يعفر الظهر و يطرق الفحل و يسقي اللبن رواه سهل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة فقال في الحديث ما من صاحب إبل لا يؤدي زكاتها و لم يذكر غير الزكاة

اور تحقیق روایت کیا ہے اس کو ابو عمر و غدانی نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےاس بارے میں پوچھا گیا تھا کہ اے ابو ہریرہ اونٹوں میں کیا حق ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اچھا جانور دے اور پیارے جانور کا دودھ مسکینوں کو پلائے اور اسکی سواری کرنے دے اور (بوقت ضرورت) نر کو مادہ کے ساتھ جفتی کرانے دے وار دودھ بھی پلائے (ضرورت مند کو) اسکو روایت کیا ہے سہیل بن ابو صالح نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے اس نے کہا کہ حدیث میں جو بھی اونٹوں کا مالک ان کا زکوٰۃ نہیں دیتا اس کا تذکرہ ہے۔ زکوٰۃ کے علاوہ کا ذکر نہیں ۔(یعنی باقی چیزوں کا)۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← فقد رواه أبو عمرو الغداني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3303

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3304

3304 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر أنا جدي يحيى بن منصور ثنا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن عبد الملك بن أبي سليمان ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد الفقيه نا الحسين بن سفيان نا محمد بن عبد الله بن نمير نا أبي نا عبد الملك عن أبي الزبير عن جابر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من صاحب إبل و لا غنم و لا بقر لا يؤدي حقها إلا أقعد لها يوم القيامة بقاع قرقر تطؤه ذات الظلمة بظلفها و تنطحه ذات القرن بقرنها ليس فيها يومئذ جماء و لا مكسورة القرن قلنا يا رسول الله و ما حقها ؟ قال : اطراق فحلها و إعارة دلوها و منيحتها و جلبها على الماء و حمل عليها في سبيل الله و لا من صاحب مال لا يؤدي زكاته إلا يحول يوم القيامة شجاعا أقرع يتبع صاحبه حيثما ذهب و هو يفر منه فقال هذا مالك الذي كنت تبخل به فإذا رأى أنه لا بد منه أدخل يده في فيه فيقضهما كما يقضم الفجل لفظ حديث عبد الله رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن عبد الله بن نمير هكذا رواه عبد الملك بن أبي سليمان عن أبي الزبير و رواه ابن جريح عن أبي الزبير فذكر الحديث ثم قال في آخره : قال أبو الزبير و سمعت عبيد بن عمير يقول قال رجل : يا رسول الله ما حق الإبل ؟ قال جلبها على الماء و إعارة دلوها فحلها و منيحتها و حمل عليها في سبيل الله رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن عبد الله بن نمير

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر نے ان کو ان کی دادا یحییٰ بن منصور نے انکواحمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے انکو عبدالملک بن ابو سلیمان نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو ولید فقیہ نے ان کوحسین بن سفیان نے انکومحمد بن عبداللہ نمیر نے ان کو ان کے والد نے انکو عبدالملک نے ان کو ابوالزبیر نے ان کو جابر نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہوں نے فرمایا ۔جو بھی کوئی اونٹوں کا مالک ہے یا بکریوں کا یا گائیوں کا جو بھی اس کا حق ادا نہیں کرے گا (زکوٰۃ نہیں دے گا) قیامت کے دن اس کو ایک بڑے میدان میں بٹھایا جائے گا جس میں وہ جانور اس کو روند لیں گے کھر والے اپنے کھروں سے اور سینگوں والے اپنے سینگوں سے اس کو ماریں گے ان جانوروں میں کوئی ایک جانور اس دن سینگ ٹوٹا یا بغیر سینگ والا نہیں ہو گا۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ جانوروں کا حق کیا ہے؟ (جس کو ادا نہیں کیاہو گا؟) فرمایا نر جانور کو (بلا معاوضہ) مادہ سے جفتی کروانا۔ اس کا ڈول ادھر دینا (یعنی جانور دودھ پینے کے لئے عارضی دینا) اور جانور کا دودھ بطور انعام عطیہ دینا۔ جانور کو پانی پلانے کی اجازت دینا پانی پر کھینچ کر لانا اور اللہ کے واسطے اس پر سواری دینا (یعنی مجبور اور ضرورت مند کو سوار کرنا یا عارضی طور پر سورای کے لئے دینا) اور جو بھی صاحب مال اپنے کی زکوٰۃ نہیں دیتا ہے قیامت کے دن وہ مال گنجا سانپ بن کر اس کے پیچھے پیچھے پھر ے گا جہاں بھی وہ جائے گا وہ اس سے بھاگے گا کہا جائے گا یہ تمہارا وہی مال ہے جس سے تم نے بخل کیا تھا جب وہ دیکھے گا کہ اب اس سے کوئی چارہ نہیں ہے تو وہ اپنے ہاتھ کو اس کے منہ میں داخل کر کے اس کو ایسے چیر دے گا جیسے مولی کو چیر دیا جاتا ہے۔ یہ لفظ ابو عبداللہ کی روایت کےہیں۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے۔ محمد بن عبداللہ بن نمیر سے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے عبدالملک بن ابو سلیمان نے ابو الزبیر سے اور اس کو روایت کیا ہے ابن جریج نے ابو زبیر سے پھر اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے اس کے آخر میں کہا ہے کہ میں نے سنا تھا عبید بن عمیر سے وہ کہہ رہے تھے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ بندے پر اونٹ کا حق کیا ہے؟ (یعنی اس کی زکوٰۃ دینے کا تعلق سے) فرمایا: اس کو پانی پر کھینچ لانا' اس کا ڈول (یعنی دودھ کا قدرتی سانچہ) دودھ پینے کے لئے کسی کو ادھا ر دینا۔ (از مترجم) جانور کسی کو اس کی مادہ سے جفتی کے لئے دینا اور دودھ جانور کا اللہ واسطے لوگوں کو دے دینا او ر اللہ واسطے اس کی سواری کروانا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن عبداللہ بن نمیر سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّيَ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أبو صالح بن أبي طاهر،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3304

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3305

3305 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا محمد بن رافع نا عبد الرزاق أنا ابن جريح أخبرني أبو الزبير أنه سمعت جابر بن عبد الله الأنصاري يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث بمعناه قال أحمد : و زاد في آخره ما ذكرت و هذا القدر من الحديث مرسل و هو إن ثبت يحتمل أن يكون قبل فرض الزكاة في الإبل و البقر و الغنم و يحتمل أن يكون بعده و الوعيد المذكور في الخبر على من لا يرى هذه الخصال المحمودة برا كما في قوله عز و جل { و يمنعون الماعون } على من لا يرى العارية برا في قول من قال في الماعون : إنه العواري و قد ذهب جماعة إلى أنه الزكاة المفروضة و الله أعلم و الوعيد لا حق لمن منع الزكاة المفروضة و لمن منع العواري و هو لا يراها برا و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن رافع نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ابن جریج نے ان کو خبر دی ابو الزبیر نے کہ انہوں نے سنا جابر بن عبداللہ انصاری سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سو اس نے حدیث ذکر کی اسی مفہوم کے ساتھ امام احمد بیہقی فرماتے ہیں کہ آپ نے اس کے آخر میں وہی زیادہ کیا ہے جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے اور اسی قدر حدیث مرسل ہے اور وہ باتیں اگر ثابت ہو جائیں تو احتمال یہ بھی ہے کہ یہ چیزیں اونٹ گائے اور بکریوں میں زکوٰۃ فرض ہونے سے پہلے ضروری ہون اور یہ بھی احتمال ہے کہ بعد میں بھی ہوں پھر حدیث میں جو وعید مذکور ہے وہ اس آدمی کے لئےہو گی جو ان اوصاف حمیدہ کو نیکی نہ سمجھے جیسے یہ اس فرمان الٰہی میں مذکور ہے ویمنعون الماعون کہ وہ دین کی تکذیب کرنے والا عام برتنے کی اور استعمال کی چیز بھی دینے سے منع کرتا ہے۔ اس بنا پر کہ کوئی شخص چیز ادھار دینے کو نیکی نہ سمجھے اس کو قول کے مطابق جو قول کرے ماعون کے بارے میں کہ اس سے مراد ادھاری چیز مراد ہے اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ اس سے مراد فرض زکوٰۃ ہے۔ لہٰذا اس تشریح کے مطابق وعید لاحق ہو گی اس شخص کےلئے جو فرض زکوٰۃ کو منع کرے اور اس کو بھی جو ادھاری چیزوں کو منع کرے اس نیت کےساتھ کہ وہ اس کو نیکی نہ سمجھتا ہو۔

الحديث بمعناه ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3305

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3306

3306 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا عبد الله بن نمير عن الأعمش عن المعرور بن سويد عن أبي ذر قال : انتهيت إلى النبي صلى الله عليه و سلم و هو جالس في ظل الكعبة فلما رآني مقبلا قال : هم الأخسرون و رب الكعبة قال : فجئت حتى جلست فجاءني من الغم ما شاء قلت : ما شأني أنزل في شيء قلت : من هم فداك أبي و أمي ؟ قال هم الأكثرون أموالا إلا من قال : هكذا و هكذا عن يمينه و عن شماله و من خلفه و قليل ما هم ما من رجل يموت فيدع إبلا أو بقرا أو غنما لم يؤد زكاتها إلا جاءت يوم القيامة أسمن ما كانت و أعظمه تنطحه بقرونها و تطؤه بأخفافها حتى يقضى بين الناس كلما نفدت أخراها عادت عليه أولاها أخرجاه في الصحيح من حديث الأعمش و زاد فيه عن ابن نمير حتى يقضى بين الناس و زاد فيه و بين يديه و في هذا الحديث قد صرح فيه الزكاة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو عبداللہ بن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو معرور بن سوید نے ان کو ابو ذر نے انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےپاس گیا آپ کعبے کے سائے تلے بیٹھے ہوئے تھے مجھے جب انہوں نے سامنے آتے دیکھا تو فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم کہ وہ لوگ سب سے زیادہ خسارے میں ہیں ۔ کہتے ہیں میں آکر بیٹھ گیا۔ میرے پاس غم آ گیا جو اللہ نے چاہا میں نے کہا کہ میری کیا حالت ہے کیا میرے بارےمیں کوئی شے اتری ہے؟ اور میں نے پوچھا کہ وہ لوگ کون ہیں؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ زیادہ مالوں والے لوگ ہیں مگر وہ شخص جو ایسےایسے کرےیعنی دائیں بائیں اور پیچھے ہر طرف مال اللہ واسطے لوٹائے مگر ایسےلوگ بہت کم ہیں جو آدمی مر جائے اور وہ اونٹ گائے بکریاں ایسا مال چھوڑ جائے جن کی اس نے زکوٰۃ نہیں دی مگر قیامت کے دن آئے گا وہ مال موٹا تازہ اور بڑا بڑا اپنے سینگوں سے اس کو مارے گا اور اپنے کھروں سے اس کو روندے گا اس وقت تک جب تک کہ لوگوں کے مابین فیصلہ ہو جائے جب آخری جانور مار کر جائے تو سب سے پہلا واپس مارنے آ جائے گا۔ بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے اعمش کی حدیث سے اور اس میں انہوں نے اضافہ کیا ہے ابن نمیر سے حتیٰ کہ فیصلہ کیا جائے گا لوگوں کے درمیان اور اس نے اس میں یہ لفظ اضافہ کیا ہے وبین یدیہ۔ اور اس حدیث میں زکوٰۃ کی صراحۃ بات کی گئی ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3306

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3307

3307 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي محمد بن عقبة الشيباني و بالكوفة نا إبراهيم بن إسحاق الزهري نا يحيى بن يعلى بن الحارث المحاربي نا أبي نا غيلان بن جامع عن عثمان أبي اليقظان الخزاعي عن جعفر بن أياس عن مجاهد عن ابن عباس قال : لما نزلت { الذين يكنزون الذهب و الفضة و لا ينفقونها في سبيل الله } كبر ذلك على المسلمين و قالوا ما يستطيع أحد أن يترك مالا لولده يبقى بعده فقال عمر رضي الله عنه أنا أفرج عنكم قال : فانطلقوا و انطلق عمر و اتبعه ثوبان فأتوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر : يا نبي الله قد كبر على أصحابك هذه الآية فقال نبي الله صلى الله عليه و سلم إن الله لم يفرض الزكاة إلا ليطيب بها ما بقي من أموالكم و إنما فرض المواريث في أموال تبقى بعدكم قال فكبر عمر ثم قال له النبي صلى الله عليه و سلم : ألا أخبرك بخير ما يكنزه المرء ؟ المرأة الصالحة إذا نظر إليها سرته و إذا أمرها أطاعته و إذا غاب عنها حفظته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی محمد بن عقبہ شیبانی نے کوفے میں ان کو ابراہیم بن اسحٰق زہری نے ان کو یحییٰ بن یعلیٰ بن حار ث المحاربی نے ان کو ان کے والد نے ان کو غیلان بن جامع نے ان کو عثمان بن ابو الیقظان خزاعی نے ان کو جعفر بن ایاس نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس نے انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: " الذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقو نھا فی سبیل اللہ" تو یہ آیت مسلمانوں پر بھاری گزری۔ لوگوں نے سوال کیا کہ کیا ایک آدمی اپنے بیٹے کے لئے بھی مال نہیں چھوڑ سکتا؟ جو اس کے بعد باقی رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وضاحت کراؤں گا تمہاری طرف سے۔ کہتے ہیں کہ لوگ گئے حضرت عمر بھی اورثوبان بھی پیچھے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عمر نے سوال کیا اے اللہ کے نبی آپ کے اصحاب پر یہ آیت بھاری گزری ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ جو فرض کی ہے تو وہ اس لئے ہے تاکہ اس کے ذریعے باقی ماندہ مال کو پاک کر دے اور باقی میراث مقرر ہے تمہارے اس اموال میں جس کو تم چھوڑ کر چلے جاؤ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ اکبر کہا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاس سے فرمایا: کیا میں تمہیں خبر دودں اس بہترین چیز کے بارے میں جو ایک انسان خزانہ بناتا ہے یا جمع کر کے رکھتا ہے فرمایا کہ وہ چیز نیک عورت ہے کہ مرد جب اس کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو خوش کر دیتی ہے اور جب اس کو حکم دیتا ہے تو فرمانبرداری کرتی ہے اور جب اس سے چلا جاتا ہے تو وہ اس کے مال کی اور گھر کی حفاظت کرتی ہے۔

ما يستطيع أحد ← لما نزلت كبر ذلك على المسلمين و ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← عثمان أبي اليقظان الخزاعي ← غَيْلاَنَ بْنَ جَامِعٍ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أبو علي محمد بن عقبة الشيباني و ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3307

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3308

3308 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسين الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن عبد الله بن دينار أنه قال : سمعت عبد الله بن عمر و هو يسأل عن الكنز ما هو ؟ فقال هو المال الذي لا تؤدى عنه الزكاة

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نےان کو ابو الحسین طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں سے جو انہوں نے مالک سے پڑھا عبداللہ بن دینار سے فرماتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمرو سے وہ پوچھتے ہیں کنزیا خزانہ کے بارے میں کہ وہ کیا ہے؟ فرمایا کہ وہ مال ہوتا ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی ہوتی۔

الكنز ما هو فقال هو المال الذي لا تؤدى عنه الزكاة ← عبد الله بن عمر و هو يسأل ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو الحسين الطرائفي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3308

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التشديد على من منع زكاة ماله ـ · حديث 3309

3309 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا عبد الله بن أبي مريم نا الفريابي السري بن يحيى حدثني غزوان أبو حاتم قال : بينا أبو ذر عند باب عثمان لم يؤذن له إذ مر به رجل من قريش قال : يا أبا ذر ما يجلسك ها هنا ؟ قال : يأبى هؤلاء أن يأذنوا لي فدخل الرجل فقال يا أمير المؤمنين ما بال أبي ذر على الباب لا يؤذن له فأمر فأذن له فجاء حتى جلس ناحية القوم قال : و ميراث عبد الرحمن بن عوف يقسم فقال عثمان لكعب : يا أبا إسحاق أرأيت المال إذا أدي زكاته هل يخشى على صاحبه فيه تبعة فقال : لا فقام أبو ذر و معه عصا فضرب بها بين أذني كعب ثم قال : يا ابن اليهودية أنت تزعم أنه ليس عليه حق في ماله إذا أدى الزكاة و الله يقول : { و يؤثرون على أنفسهم و لو كان بهم خصاصة } الآية و الله يقول : { و يطعمون الطعام على حبه مسكينا و يتيما و أسيرا } و الله يقول : { و في أموالهم حق للسائل و المحروم } قال فجعل يذكر نحو هذا من القرآن فقال عثمان للقرشي إنما نكره أن يأذن لأبي ذر من أجل ما ترى قال الشيخ أحمد رحمه الله : بعض هذه الآيات قبل نزول فرض الزكاة و بعضها في الترغيب في التطوع و أبو ذر كان يحملها على الوجوب فيما يرى و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد مصری نے ان کو (عبداللہ بن ابو مریم ان کو الفریابی نے) سری بن یحییٰ نے ان کو غزوان نے ان کو بو حاتم نے انہوں نے کہا کہ اچانک ایک بار ابو ذر حضرت عثمان کےدروازے پر پہنچے اور ان کو اجازت نہ ملی یکا یک ایک آدمی قریب میں سے گزرے۔ انہوں نے پوچھا اے ابو ذر یہاں کیسے بیٹھے ہو؟ بولے کہ انہوں نے مجھے ملنے کی اجازت دینے سے منع کر دیا ہے وہ آدمی اندر گیا اور کہا کہ اے امیر المومنین کیا بات ہے کہ ابو ذر دروازے پر ہے اس کو اجازت نہیں ملی حضرت عثمان نے حکم دیا ان کو اجازت مل گئی چنانچہ وہ ائے اور لوگوں کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ راوی کہتا ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی میراث تقسیم ہو رہی تھی۔ حضرت عثمان نے حضرت کعب سے کہا اے ابو اسحٰق کیا آپ اس مال کے بارے میں جانتے ہیں جبکہ اس کی زکوٰۃ ادا کی گئی ہو۔ کیااس صاحب مال پر اس کے (باقی ماندہ) مال میں کوئی گناہ کا اندیشہ ہو گا؟ حضرت کعب نے کہا کہ نہیں (اس مال کی ہلاکت کا اندیشہ نہیں رہتا) بس ابو ذر کھڑے ہو گئے ان کے پاس ڈنڈا تھا انہوں نے حضرت کعب کے کانوں کے درمیان دے مارا اور پھر بولے اے یہودن کے بیٹے تم یہی گمان کرتے ہو کہ بے شک نہیں ہے اس پر کوئی حق اس کے مال میں جب زکوٰۃ ادا کرے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ویؤ ثرون علیٰ انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ " (الحشر) وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ ان کو خود بھوک لگی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما اوسیرا " اور وہ کھان کھلاتے ہیں مسکین کو یتیم کو اور قیدی کو اس کی خواہش کے باوجود۔ا ور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:" وفی ا موالھم حق اللسائل والمحروم " ان کے مالوں میں مانگنے اور نہ مانگنے کے لئے حق ہے۔ کہتے ہیں کہ ابو ذر اسی کی مثل قرآن سے (آیات) زکر کرنے لگے۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (اس اندر لانے والے) قرشی سے کہا کہ یقیناً ابو ذر کو اجازت دینے سے انکار اسی لئے تھا جو تم دیکھ رہے ہو۔ شیخ احمد بیہقی نے فرمایا: ان میں سے بعض آیات زکوٰۃ کی فرضیت کے نزول سے قبل کی ہیں۔ اور بعض نفل میں ترغیب کے بارے میں ہیں جبکہ حضرت ابو ذر ان کو وجوب پر محمول کررہے تھے۔ اس کے مطابق جو وہ دیکھ رہے تھے واللہ اعلم ۔

بينا أبو ذر عند باب عثمان لم يؤذن له ← غزوان أبو حاتم ← الفريابي السري بن يحيى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Emphasis on the one who withholds the Zakat of his money · Hadith 3309

chevron_left Previous
1…495051…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood