شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3298
3298 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا أبو عمرو المستملي قال : و أنا أبو الفضل المزكي نا أحمد بن سلمة قالا : نا قتيبة بن سعيد نا ليث عن عقيل عن الزهري أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن أبي هريرة قال : لما توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم و استخلف أبو بكر بعده و كفر من كفر من العرب فقال عمر بن الخطاب لأبي بكر كيف تقاتل الناس و قد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله عصم مني ما له و نفسه إلا بحقه و حسابه على الله فقال أبو بكر : و الله لأقاتلن من فرق بين الصلاة و الزكاة فإن الزكاة حق المال و الله لو منعوني عقالا يؤدونه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم لقاتلتهم على منعه فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه فو الله ما هو إلا أن رأيت الله قد شرح صدر أبي بكر للقتال فعرفت أنه الحق رواه مسلم عن قتيبة و رواه البخاري عن يحيى بن بكير عن الليث و قال عناقا بدل عقالا
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو عمرو مستمبلی نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو الفضل مزکی نے ان کو احمد بن سلمہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے قتیبہ بن سعید نے ان کو لیث نے ان کو عقیل نے ان کو زہری نے ۔ ان کو خبر دی ہے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا اور اس کے بعد ابو بکر صدیق خلیفہ بنائے گئے اور کافر ہو گئے عرب میں سے جو کافر ہوئے لہذا حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا ابو بکر صدیق سے آپ کیسے لوگوں سے قتال کریں گے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ میں حکم دیا گیا ہوں کہ اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں جب تک کہ وہ یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو شخص لا الہ الا اللہ کہہ دے اس نے مجھ سے اپنا مال بھی بچا لیا اور نفس بھی مگر اس کا حق کے ساتھ اور باقی اس کا حساب وہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میں ضرور قتال کروں گا ہر اس شخص سے جو نماز میں اور زکوٰۃ میں (اس کے لازم اور ضروری ہونے میں) فرق کرے گا۔ بے شک زکوٰۃ مال کا حق ہے ۔ اللہ کی قسم اگر لوگ مجھ سے اونٹ کی پیر کی رسی بھی روکیں گے جب کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس پر بھی ان سے لڑوں گا (یعنی اونٹ کے پاؤں کی رسی نہ دینے پر بھی قتال کروں گا گویا زکوٰۃ پوری پوری وصول کروں گا) لہٰذا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : پس قسم ہے نہیں تھے وہ (ابو بکر صدیق یونہی کہتے) مگر میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابو بکر صدیق کا سینہ کھول دیا تھا قتال کے لئے (یعنی انہیں اسی امر کے لئے شرح صدر عطا کر دیا تھا) لہٰذا میں نے سمجھ لیا کہ بھی حق ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا قتیبہ سے اور بخاری نے یحییٰ بن بکیر سے اس نے لیث سے اور انہوں نے عقال کے بدلے میں عناق کا لفظ استعمال کیا ہے۔
أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3298
