Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2757

2757 - أخبرنا أبو عبد الله السابري أنا أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ثنا داود بن الحسين ثنا حميد بن زنجويه النسوي ثنا عبيد الله بن موسى أنا إسرائيل عن منصور عن طلحة عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : ثلاث من الإيمان أن يحتلم الرجل في الليلة الباردة فيقوم فيغتسل لا يراه إلا الله و الصوم في اليوم الحار و صلاة الرجل في الأرض الفلاة لا يراه إلا الله عز و جل هكذا جاء موقوفا

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ سابری نے ان کو احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ان کو داؤد بن حسین نے ان کو حمید بن زنجویہ نسوی نے انکو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے انکو منصور نے طلحہ سے اس نے ابو حازم سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ تین چیزیں ایمان میں سے ہیں کہ سخت سردی کی رات میں آدمی کا احتلام ہو جائے پھر کھڑا ہو جائے اور غسل کرے حالانکہ اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا۔ اور سخت گرمی کے دن میں روزہ رکھنا اور جنگل کی سرزمین پر انسان کی نماز کی جبکہ اس کو اللہ تعالیٰ کو سوا کوئی بھی نہیں دیکھتا۔ اس طرح یہ روایت موقوف طریقے سے آئی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← طَلْحَةَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← حميد بن زنجويه النسوي ← داود بن الحسین، ← أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ← أبو عبد الله السابري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2757

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2758

2758 - أخبرنا أبو الحسين بن بشرن ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن ابن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خمس من الفطرة الاستحداد و الختان و قص الشارب و نتف الإبط و تقليم الأظفار أخرجاه في الصحيح من حديث ابن عيينة و غيره عن الزهري

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے انکو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے انکو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو ابن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں : زیر ناف کے بال صاف کرنا، ختنہ کرانا، مونچھیں کتیرنا، بغلوں کے بال صاف کرنا، ناخن کاٹنا۔ بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں ابن عیینہ کی حدیث سے زہری سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين بن بشرن

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2758

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2759

2759 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أحمد بن يونس ثنا إبراهيم بن سعد عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الفطرة خمس الختان و الإستحداد و قص الشارب و تقليم الأظفار و نتف الأبط رواه البخاري في الصحيح عن أحمد بن يونس

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو حسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو ابراہیم بن سعد نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرما رہے تھے : فطرت پانچ خصلتیں ہیں زیر ناف کے بال صاف کرنا، مونچھیں کترنا، بغلوں کے بال صاف کرنا ،ناخن کاٹنا۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے احمد بن یونس سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2759

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2760

2760 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا الحسين بن محمد بن زياد ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا وكيع ثنا زكريا بن أبي زائدة عن مصعب بن شيبة عن طلق بن حبيب عن عبد الله بن الزبير عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : عشر من الفطرة قص الشارب و قص الأظفار و غسل البراجم و إعفاء اللحية و السواك و الاستنشاق و نتف الأبط و حلق العانة و انتقاص الماء قال مصعب : و نسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة و غيره عن وكيع و قال في الحديث عند قوله و انتقاص الماء يعني الاستنجاء بالماء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے ان کو حسین بن محمد بن زیاد نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو وکیع نے ان کو زکریا بن ابو زائدہ نے ان کو مصعب بن شیبہ نے ان کو طلق بن حبیب نے ان کو عبداللہ بن زبیر نے ان کو سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا: دس چیزیں فطرہ سے ہیں۔ مونچھیں کترنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے جوڑوں کو خصوصاً دھونا، داڑھی کو چھوڑ دینا، مسواک کرنا ،ناک میں پانی دینا، بغل کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف کے بال صاف کرنا، پانی کے چھینٹے مارنا۔ مصعب نے کہا کہ میں دسویں چیز بھول گیا ہوں۔ شاید وہ کلیکرنا ہو۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن ابو شیبہ وغیرہ سے اس نے وکیع سے اور کہا ہے حدیث میں یہ قول کرتے ہوئے انتقاص الماء سے مراد ہے استنجاء کرنا پانی کے ساتھ۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2760

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2761

2761 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر محمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا موسى بن إسماعيل و داود بن شيب قالا : ثنا حماد بن علي بن زياد بن سلمة بن محمد بن عمار بن ياسر قال موسى عن أبيه و قال داود عن عمار بن ياسر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أن من الفطرة المغمضة و الاستنشاق فذكره نحوه و لم يذكر إعفاء اللحية زاد و الختان و الانتضاح و لم يذكر انتقاص الماء

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روزباری نے ان کو ابو بکر محمد بن بکر نے ان کو داؤد نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل اور داؤد بن شبیب نے دونوں نےکہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن علی بن زیاد بن سلمہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے انہوں نے کہا کہ موسیٰ نے کہا کہ انھوں نے اپنے والد سے اور داؤد نے کہا روایت ہے عمار بن یاسر سےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک فطرت میں سے ہے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا پھر ان کو اس نے ذکر کیا ہے مذکورہ حدیث کی مثل مگر اس میں " داڑھی کو بڑھانے" کا ذکر نہیں ہے مگر اس میں ختنہ کرانا اور استنجا کرنے کا ذکر ہے مگر لفظ انتصاح ہے انتقاص ذکر نہیں کیا۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← دَاوُدُ، ← أَبِيهِ، [وَ] ← مُوسَى ← حماد بن علي بن زياد بن سلمة بن محمد بن عمار بن ياسر ← موسى بن إسماعيل و داود بن شيب ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2761

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2762

2762 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو نضر الفقيه و أبو الحسن بن عبدوس قالا : ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن أبي بكر بن نافع عن أبيه عن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمرنا بإعفاء الشوارب و إعفاء اللحى رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة عن مالك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو نضر فقیہ نے اور ابو الحسن بن عبدوس نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے انکو قعنبی نے ان احادیث میں جو انہوں نے پڑھی تھیں مالک پر اس نےا بو بکر بن نافع سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تھا داڑھی بڑھانے کا اورمونچھیں کترانے کا اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں قتیبہ سے ا س نے مالک سے ۔

عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو نضر الفقيه و أبو الحسن بن عبدوس ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2762

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2763

2763 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا عتيق بن يعقوب ثنا إبراهيم بن قدامة عن أبي عبد الله الأغر عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقلم أظفاره و يقص شاربه يوم الجمعة قبل أن يروح إلى الصلاة قال البيهقي رضي الله عنه : في هذا الاسناد من يجهل

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن یحی حلوانی نے ان کو عتیق بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن قدامہ نے ان کو ابو عبداللہ اغر نے ان کو ابو ہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ناخن خود تراشتے تھے اور اپنی مونچھیں کاٹتے تھے ۔ جمعہ کے دن ، نماز جمعہ کی طرف جانے سے قبل۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ قُدَامَةَ، ← عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2763

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2764

2764 - و أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا محمد بن منير ثنا عمر بن شبة ثنا حفص بن واقد اليربوعي ثنا إسماعيل بن مسلم عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال احفوا الشوارب و اعفوا اللحى و انتفوا الشعر الذي في الأنوف قال البيهقي رحمه الله : هذا اللفظ الأخير غريب و في ثبوته نظر

اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو محمد بن منیر نے ان کو عمرو بن شبہ نے ان کو حفص بن واقد یربوعی نے ان کو اسماعیل بن مسلم نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مونچھیں کترواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ اور ناک کے اندر والے بال اکھیڑ دو۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ یہ آخری لفظ غریب ہے اور اس کے ثبوت میں نظر ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← حفص بن واقد اليربوعي ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ← محمد بن منير ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2764

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2765

2765 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا ابن وهب قال و ثنا بحر بن نصر قال : قرىء على ابن وهب أخبرك إسماعيل بن عياش عن ابن عباس عن ثعلبة بن مسلم الخثعمي عن أبي كعب مولى ابن عباس عن ابن عباس قال : قيل للنبي صلى الله عليه و سلم أنه ابطأ عنك جبريل عليه السلام قال : و لم لا يبطىء علي و أنتم حولي تستنون و لا تقلمون و لا تقصون شواربكم و لا تنتفون براجمكم

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحاق مزکی نے اور ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے دونوں نے کہا کہ انکو ابو العباس محمد بن یعقوب ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکیم نے ان کو ابن واہب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے۔ بحر بن نصر نے وہ کہتے ہیں ابن وہب پر پڑھی گئی تھی مجھے خبر دی اسماعیل بن عیاش نے ثعلبہ بن مسلم خثعمی سے ان کو ابی بن کعب نے مولیٰ ابن عباس سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا جبریل علیہ السلام آپ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں آپ نے فرمایا وہ کیوں مجھ سے پیچھے نہ ہو حالانکہ تم میرے گرد ہو نہ تم مسواک کرتے ہو نہ تم ناخن تراشتے ہو نہ تم اپنی لبیں کاٹتے ہو نہ تم اپنی انگلیوں کے جوڑ تر کرتے ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي كَعْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ← ثعلبة بن مسلم الخثعمي، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← قرىء على ابن وهب أخبرك إسماعيل بن عياش ← بحر بن نصر ← و، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2765

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2766

2766 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أسيد بن عاصم ثنا الحسين بن حفص عن سفيان عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأوهم فيها فقالوا أوهمت فقال : مالي لا أوهم و رفع أحدكم بين ظفره و انملته

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے انکو اسید بن عاصم نے ان کو حسین بن حفص نے ان کو سفیان نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو قیس بن ابو حازم نے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شک سا ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ آپ شک میں پڑ گئے تو آپ نے فرمایا: کیا ہے مجھے کہ میں شک میں نہ پڑوں حالانکہ اونچا کر لیا ہے تمہارے ایک نے درمیان اس کے ناخن کے اور اس کے پورے کے۔ (یعنی تم لوگوں نے ناخن بڑھا رکھے ہیں)۔

أَوْهَمْتُ ← صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأوهم فيها ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2766

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2767

2767 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا ابن يعقوب ثنا أسيد بن عاصم ثنا الحسين بن حفص عن سفيان عن عبد الملك بن عمير حدثني شبيب بن أبي روح الشامي : عن رجل من أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الفجر بالروم فالتبس فيها فلما انصرف قال : ما بال أقوام يصلون الصلاة معنا بغير طهور من صلى معنا فليحسن الوضوء فإنما يلبس علينا الصلاة أولئك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابن یعقوب نے انکو اسید بن عاصم نے انکو حسین بن حفص نے ان کو سفیان نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو شبیب بن ابی روح شامی نے ایک آدمی سے جو کہ اصحاب محمد میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز سورت روم کے ساتھ پڑھائی آپ التباس میں واقع ہو گئے (الفاظ آیات مل جل گئے) آ پ جب نماز سے سلام پھیر کر پھرے تو فرمایا کیا حال ہے لوگوں کا ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں بغیر وضو کے جو شخص ہمارے ساتھ نما ز پڑھے اس کوچاہیے کہ اچھی طرح وضو کرے یہی لوگ ہمارے اوپر نماز خلط ملط کراتے ہیں۔

شبيب بن أبي روح الشامي ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← ابْنِ يَعْقُوبَ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2767

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2768

2768 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا محمد بن نصر و الحسن بن عبد الصمد قالا : ثنا يحيى بن يحيى أنا جعفر بن سليمان عن أبي عمران الجوني عن أنس بن مالك قال أنس : وقت لنا في قص الشارب و تقليم الأظفار و نتف الأبط و حلق العانة ألا تترك أكثر من أربعين ليلة رواه مسلم عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو نضر فقیہ نے انکو محمد بن نصر اور حسن بن عبدالصمد نے دونوں نے کہا ان کو یحی بن یحییٰ نے ان کوجعفر بن سلیمان نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو انس بن مالک نے حضرت انس فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے وقت مقرر کیا گیا تھا چالیس دن کا۔ ان امور کے بارے میں (لبیں کتروانا) مونچھیں کتروانا ، ناخن تراشنا، بغلیں صاف کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا کہ ہم لوگ چالیس روز سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے یحیٰ بن یحی سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← محمد بن نصر و الحسن بن عبد الصمد ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2768

chevron_left Previous
1…456…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood