Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3286

3286 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا تمتام ثنا عثام ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبان ثنا قتادة عن الحسن عن أنس بن حكيم عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته فإن تمت صلاته فقد أفلح و أنجح و إن فسدت فقد خاب و خسر

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو تمتام نے ان کو عثام نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو ابان نے ان کو قتادہ نے ان کو حسن نے ان کو انس بن حکیم نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پہلا وہ عمل جس کے بارے میں قیامت کے دن بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہی ہو گی۔ اگر اس کی نماز پوری ہوئی تو بس پھر وہ کامیاب ہو گیا اور نجات پا گیا اور اگر وہ خراب ہو گئی تو وہ نا مراد و ناکام ہو گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عَثَّامٌ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3286

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3287

3287 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت محمد بن عبد الله بن شاذان يقول : سمعت عبد الرحمن بن أبي حاتم يقول : سمعت الحسن بن عرفة يقول : سمعت ابن المبارك يقول : من تهاون بالأدب عوقب بحرمان السنن و من تهاون بالسنن عوقب بحرمان الفرائض و من تهاون بالفرائض عوقب بحرمان المعرفة

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نےوہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عبداللہ بن شاذان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن ابو حاتم سےو ہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن بن عرفہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن مبارک سے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص مستحبات کو حقیر سمجھ کر چھوڑتا ہے وہ سنتوں سے محروم کر دیا جاتا ہے اور جو شخص سنتوں کو حقیر سمجھ کر ترک کرتا ہے وہ فرائض کو ترک کرنے کی سزا پاتاہے اور جو شخص فرائض کو حقیر سمجھ کر ترک کرتا ہے وہ معرفت سے محروم کر دینے کی سزا پاتا ہے۔

ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ، ← مُحَمَّد بن عبد الله بن شَاذان ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3287

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3288

3288 - أخبرنا أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ ببغداد أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا إسحاق بن الحسن ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن منصور عن المنهال بن عمرو عن سعيد بن جبير قال : جاء رجل إلى ابن عباس فقال : أرأيت قول الله عز و جل { فما بكت عليهم السماء و الأرض } هل تبكي السماء و الأرض على أحد ؟ قال : نعم إنه ليس من الخلائق أحد إلا له باب من السماء ينزل منه رزقه و يصعد منه عمله فإذا مات المؤمن بكى عليه بابه من السماء الذي كان يصعد منه عمله و ينزل منه رزقه و إذا فقده مقعده من الأرض التي كان يصلي فيها و يذكر الله فيها بكت عليه و إن قوم فرعون لم تكن لهم في الأرض آثار صالح و لم يكن يصعد إلى السماء منهم خير فلم تبكي عليهم و روي ذلك عن علي رضي الله عنه مختصرا

ہمیں خبر دی ابو الفتح محمد بن احمد بن الفوارس حافظ نے بغداد میں ان کو ابو بکیر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو اسحٰق بن حسن نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو زائدہ نے ان کو منصور نے ان کو منھال بن عمرو نے ان کو سعید بن جبیر نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ فرمان الٰہی ہے۔ فما بکت علیھم السماء والارض " کہ فرعونیوں پر نہ آسمان رویا نہ ہی زمین۔ کیا آسمان و زمین بھی کسی پر روتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں روتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ ہر ایک انسان کے لئے آسمان کی طرف ایک دروازہ مقرر ہے جہاں سے اس کا رزق اترتا ہے اور اسی سے اس کے اعمال اوپر چڑھتے ہیں۔ جب کوئی مؤمن مر جاتا ہے تو اس پر آسمان کا وہی دروازہ روتا ہے جس سے اس کے اعمال چڑھتے تھے اور اس کا رزق اترتا تھا اور اسی طرح جب اس کا وہ زمین پر ٹھکانہ جس پر وہ نماز پڑھتا تھا اور جس پر وہ اللہ کا ذکر کرتا تھا وہ اس پر روتا ہے۔ بے شک قوم فرعون ایسی تھی کہ ان کے زمین پر کوئی نیکی کرنے کے آثار و نشانات نہیں تھے اور نہ ہی ان کی طرف سے آسمان کی طرف کوئی خیر چڑھتی تھی تو اس لئے ان پر نہ آسمان رویا تھا اور نہ زمین روئی تھی اور یہ روایت حضرت علی سے بھی مروی ہے مگر مختصر طریقہ پر۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3288

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3289

3289 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو عثمان البصري ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد ثنا سفيان بن سعيد الثوري عن منصور عن مجاهد قال : إن الأرض لتبكي على المؤمن أربعين صباحا

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو سفیان بن سعید ثوری نے ان کو منصور نے مجاہد سے انہوں نے فرمایا: کہ بے شک زمین چالیس دن تک مؤمن پر روتی ہے۔

إن الأرض لتبكي على المؤمن أربعين صباحا ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3289

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3290

3290 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا أبو أسامة عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس قال : إذا مات الميت بكت عليه الأرض أربعين صباحا و روى أيضا عن سعيد بن جبير عن ابن عباس كذلك في بقعة المؤمن و روي أيضا فيه عن يزيد الرقاشي عن أنس مرفوعا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو سفیان نے ان کو ابن ابی نجیح نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ مرنے والا جب مر جاتا ہے تو اس پر زمین چالیس صبح تک روتی ہے اور حضرت سعید بن جبیر سے بھی روایت ہے حضرت ابن عباس سے اسی طرح مؤمن کے ٹکڑے کے بارے میں اور اس کے بارے میں یزید رقاشی سے بھی مروی ہے اس نے حضرت انس سے مرفوع روایت کے طور پر۔

أنس مرفوعا ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← ابن عباس كذلك في بقعة المؤمن و روي أيضا فيه ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← إذا مات الميت بكت عليه الأرض أربعين صباحا و روى أيضا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3290

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3291

3291 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي ثنا أبو حاتم الرازي نا أحمد بن يونس ثنا عاصم بن محمد العمري قال : و أخبرني أبو بكر الوراق أنا الحسن بن سفيان ثنا عبيد الله بن معاذ ثنا أبي ثنا عاصم بن محمد بن زيد عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله و إقام الصلاة و إيتاء الزكاة و حج البيت و صوم رمضان رواه مسلم في الصحيح عن عبيد الله بن معاذ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسین بن ھسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عاصم بن محمد عمری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو وراق نے انکو حسن بن سفیان نے ان کو عبیداللہ بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عاصم بن محمد بن یزید نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے یہ شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا زکوٰۃ اداکرنا بیت اللہ کا حج کرنا ' ماہ رمضان کے روزے رکھنا۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے عبداللہ بن معاذ سے۔

أَبِيهِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ، ← و، ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3291

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3292

3292 - و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري ثنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا وكيع أنا زكريا بن إسحاق المكي عن يحيى بن عبد الله بن صيفي عن أبي معبد عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بعث معاذا إلى اليمن قال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنك تأتي قوما أهل كتاب فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله فإن هم أجابوك لذلك فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم و ليلة فإن هم أجابوك لذلك فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم صدقة في أموالهم تؤخذ من أغنيائهم و ترد في فقرائهم فإن هم أجابوك لذلك فإياك و كرائم أموالهم و إياك و دعوة المظلوم فإنها ليس بينها و بين الله حجاب

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو سحٰق بن ابراہیم نے ان کو وکیع نے ان کو زکریا بن اسحٰق مکی نے انکو یحییٰ بن عبداللہ صیفی نے ان کو ابو معبد نے ان کو ابن عباس نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان کو حکم فرمایا۔ آپ ایسی قوم کے پاس جا رہے ہیں جو اہل کتاب ہیں پہلے انکو دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اگر وہ اس بات کو مان لیں تو پھر ان کے علم لانا کہ اللہ تعالیٰنے ان پر صدقہ کرنا فرض کر دیا ہے یہ ان کے مالوں میں ہے۔ یہ ان کے دولت مندوں سے لیا جائے گا اور ان کے غریبوں میں تقسیم کر دیا جائے گا اگر وہ اس بات کو قبول کر لیں تو پھر تم بچانا اپنے آپ کو ان کے سب سے اچھے اور چھٹے ہوئے مالوں کو لینے سے اور تم اپنے آپ کو مظلوم کی بد دعا سے بچانا کیونکہ وہ ایسی چیز ہے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ اور کوئی حجاب نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3292

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3293

3293 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن سفيان أنا أبو بكر بن أبي شيبة نا وكيع بإسناده و معناه رواه البخاري في الصحيح عن يحيى عن وكيع و رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة و إسحاق : ـ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انکو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو وکیع نے اپنی اسناد کے ساتھ اور اس کے معنی کے ساتھ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے اپنی صحیح میں یحییٰ سے انہوں نے وکیع سے اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے ابو بکر بن شیبہ سے اور اسحٰق سے۔

أبي بكر بن أبي شيبة و إسحاق ← وكيع و رواه مسلم ← يَحْيَى ← وكيع بإسناده و معناه رواه البخاري في الصحيح ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3293

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3294

3294 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا يحيى بن منصور ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم نا أبو مسعر نا أبو العنيس عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله و يقيموا الصلاة و يؤتوا الزكاة فإذا فعلوا ذلك حرمت دماؤهم و أموالهم و حسابهم على الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ سلمی نے ان کو یحییٰ بن منصور نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو نعیم نے ان کو ابو مسعر نے ان کو ابو العنیس نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں گا یہاں تک کہ لوگ یہ کہیں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اگر وہ یہ کام کریں تو ان کے خون سے اور ان کے مال محترم اور محفوظ ہوں گے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أبو العنيس ← أبو مسعر ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3294

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3295

3295 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد نا إسماعيل عن قيس عن جرير بن عبد الله قال : بايعت رسول الله صلى الله عليه و سلم على إقام الصلاة و إيتاء الزكاة و النصح لكل مسلم أخرجاه في الصحيح من حديث إسماعيل بن أبي خالد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اسماعیل نے ان کو قیس نے ان کو جریر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی نماز قائم کرے ' زکوٰۃاداکرنے اور ہر مسلم کی خیر خواہی کرنے کی۔ بخاری اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے اپنی اپنی صحیح میں اسماعیل بن ابو خالد سے۔

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3295

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3296

3296 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن سلمان إملاء نا هلال بن العلاء نا عبد الله بن جعفر الرقي نا عبيد الله بن عمرو الرقي عن زيد بن أبي أنيسة عن جبلة بن سحيم نا أبو المثنى العبدي قال : سمعت ابن الخصاصية يقول : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبايعه على الإسلام فاشترط علي تشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله و تصلي الخمس و تصوم رمضان و تؤدي الزكاة و تحج البيت و تجاهد في سبيل الله قال : قلت يا رسول الله أما اثنتان فلا أطقها أما الزكاة فما لي إلا عشر ذودهن رسل أهلي و حمولتهم و أما الجهاد فيزعمون أنه من ولى فقد باء بغضب من الله فأخافه إذا حضرتي فقال : كرهت الموت و خشعت نفسي قال : فقبض رسول الله صلى الله عليه و سلم يده ثم حركها ثم قال : لا صدقة و لا جهاد فبم تدخل الجنة قال : ثم قلت يا رسول الله أبايعك فبايعني عليهن كلهن

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلمان نے بطور املا ء کے ان کو ہلال بن علاء نے ان کو عبداللہ بن جعفر الرقی نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے ان کو زید بن انیسہ نے ان کو جبلہ بن سحیم نے ان کو ابو المثنیٰ عبدی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن خصاصیہ سے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تاکہ میں ان کے ساتھ اسلام پر بیعت کر وں انہوں نے شرط لگائی کہ (اس اقرار پر بیعت ہوگی) کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور تم پانچ نمازیں پڑھو گے اور رمضان کے روزے رکھو گے اور تم زکوٰۃ ادا کرو گے اور تم بیت اللہ کا حج کرو گے اور تم اللہ کی راہ میں جہاد کرو گے۔ ابن خصاصیہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ دو چیزیں ایسی ہیں کہ میں جن کی طاقت نہیں رکھتا۔ بہر حال زکوٰۃ کی جہاں تک بات ہے تو میرے دس جانور ہیں وہ میرے اہل و عیال کی دودھ کی ضرورت کے ہیں اور ان کی سواری کے لئے ہیں ۔ بہر حال جہاد کو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ جو شخص اس سے پیٹھ پھیر لے وہ اللہ کے غضب کے ساتھ رجوع کر لیتا ہے لہٰذا میں ا س سے ڈرتا ہوں اور اپنی جان کے بارے میں ڈرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) حضور نے بیعت کرنے سے ہاتھ واپس کھینچ لیا پھر اس کو حرکت دی پھر فرمایا کہ صدقہ بھی نہیں ہے اور جہاد بھی نہیں ہے پھر آپ کس چیز کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ پھر میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کے ساتھ بیعت کرتا ہوں مجھے آپ بیعت کر لیجئے ان تمام باتوں پر (یعنی میں نے ساری باتیں قبول کی ہیں)۔

ابن الخصاصية ← أبو المثنى العبدى ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3296

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3297

3297 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان ثنا إسحاق بن إبراهيم بن العلاء حدثني عمرو بن الحارث حدثني عبد الله بن سالم عن الزبيدي نا يحيى بن جابر أن عبد الرحمن بن جبير حدثه أن أباه حدثه أن عبد الله بن معاوية الغاضري حدثهم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده فإنه لا إله إلا الله و أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه زائدة عليه في كل عام و لم يعط الهرمة و لا الرديئة و لا الشرط اللئيمة و لا المريضة و لكن من أوسط ما لكم فإن الله عز و جل لم يسألكم خيره و لم يأمركم بشره و زكى عبد نفسه فقال رجل : و ما تزكية المرء نفسه يا رسول الله ؟ قال : يعلم أن الله معه حيث كان

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم بن علاء نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو عبداللہ بن سالم نے زبیدی نے ان کو یحییٰ بن جابر سے کہ عبدالرحمٰن بن جبیر نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ ان کو ان کے والد نے حدیث بیان کی ہے ۔ یہ کہ عبداللہ بن معاویہ غاضری ن ے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ تین کام ہیں جو شخص ان کو کر لے وہ ایمان کا مزہ چکھ لیتا ہے۔ وہ شخص جو اللہ کی عبادت کرے (اس طرح پر کہ) وہ اکیلا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ دے یہ طیب خاطر (یعنی خوشی سے) یہ زائد ہے اس پر ہر سال میں (اس شرط کے ساتھ کہ) نہ بوڑھا جانور دے نہ ردی چیز دے اور نہ حقیر چیز دے نہ بیمار جانور دے بلکہ اپنے درمیانے مال میں سے دے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نہیں مانگتا تم سے اس میں سے بہتر مال اور نہ ہی تمہیں حکم دیتا ہے اس کے برے کا بلکہ آدمی اپنے نفس کا تزکیہ کریں۔ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ انسان کا اپنے نفس کو پاک کرنا کیسے ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان یہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے وہ جہاں بھی ہو۔

أن عبد الله بن معاوية الغاضري ← أَنَّ أَبَاهُ ← يحيى بن جابر أن عبد الرحمن بن جبير ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إسحاق بن إبراهيم بن العلاء ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3297

chevron_left Previous
1…484950…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood