Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3274

3274 - أخبرنا أبو عبد الله بن منجويه الدينوري ثنا علي بن أحمد بن نصرويه ثنا أبو عبد الله إبراهيم بن عرفة ثنا محمد بن شاذان ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة ثنا عاصم الأحول عن أبي عثمان النهدي قال : دعا عمر بن الخطاب رضي الله عنه بثلاثة قراء فاستقرأهم فأمر أسرعهم قراءة أن يقرأ للناس في رمضان بثلاثين آية و أمر أوسطهم أن يقرأ خمسا و عشرين و أمر أبطأهم أن يقرأ عشرين آية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ بن (فنجویہ) دینوری نے ان کو علی بن احمد بن نضرویہ نے ان کو ابو عبداللہ ابراہیم بن عرفہ نے ان کو محمد بن شااذان نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو زائدہ نے ان کو عاصم احول نے ان کو ابو عثمان نہدی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین قاریوں کو بلایا اور ان کو آپ نے پڑھوا کر سنا ان میں سے جو زیادہ تیز پڑھنے والا تھا اس کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے رمضان میں تیس تیس آیات پرھا کرے اور درمیانہ پڑھنے والے کو حکم دیا کہ وہ پندرہ پندرہ آیات پڑھا کرے اور سب سے دیر سے پڑھنے والے کو حکم دیا کہ وہ دس دس آیات پڑھ کر نماز پڑھایا کرے۔

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← أبو عبد الله إبراهيم بن عرفة ← علي بن أحمد بن نصرويه ← أبو عبد الله بن منجويه الدينوري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3274

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3275

3275 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنبأ عبد الله محمد بن إسحاق القرشي بهراة ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أبو عمير ثنا ضمرة عن ابن شوذب قال : كان أيوب يؤم أهل مسجده في شهر رمضان فكان يقرأ بهم في كل ركعة ثلاثين آية و يقول هو للناس الصلاة الصلاة فإذا قنت دعا بدعاء القرآن و يؤمن من خلفه و كان في آخر دعائه يصلي على النبي صلى الله عليه و سلم و يقول : اللهم استعملنا بسنته و أوزعنا هديه اللهم اجعلنا للمتقين إماما ثم يكبر و يسجد

ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن اسحٰق قرشی نے ہراۃ میں ان کو عثمان بن سعد دارمی نے ان کو ابو عمر نے ان کو نمرہ نے ان کو ابن شوذب نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ایوب رمضان میں اپنی مسجد کے لوگوں کی امامت کرتے تھے اور وہ ہر رکعت میں ان کے سامنے تیس تیس آیات پڑھتے تھے اور وہ لوگوں سے کہتے تھے نماز ' نماز اور جب وہ قنوت پڑھتے تو وہ اس میں قرآن کی دعا پڑھتے تھے اورا ن کے مقتدی آمین کہتے تھے اور ان کی دعا کے آخر میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھتے تھے اور یوں کہتے تھے۔ اے اللہ تو ہمیں ان کی سنت پر عمل پیرا بنا اور ہمیں ان کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ ہمیں تو پرہیز گاروں کا امام بنا اس کے بعد وہ تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے تھے۔

ابْنِ شَوْذَبٍ ← ضَمْرَةُ ← أَبُو عُمَيْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3275

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3276

3276 - و أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو عبد الله محمد بن إسحاق القرشي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أبو عمير بن النحاس ثنا ضمرة بن ربيعة عن ابن شوذب عن خالد بن دريك قال : كان لنا إمام بالبصرة يختم بنا في شهر رمضان في كل ثلاث فمرض فأمنا غيره فختم بنا في كل أربع فرأينا أنه قد خفف

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن اسحٰق قرشی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو ابو عمیر بن نحاس نے ان کو نمرہ بن ربیعہ نے ان کو ابن شوذب نے ان کو خالد بن دویک نے وہ کہتے ہیں کہ بصرے میں ہمارا ایک امام تھا۔ رمضان میں وہ ہمارے ساتھ ہر تیسرے دن قرآن کاختم کرتا تھا پھر وہ بیمار ہو گیا لہذا پھر ہم نے دوسرے آدمی کو امام بنایا وہ چوتھے دن ختم کرتا تھا ہم نے دیکھا کہ ا س نے آسانی کی تھی۔

خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، ← ابْنِ شَوْذَبٍ ← ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3276

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3277

3277 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا يحيى بن جعفر ثنا علي بن عاصم أنا داود بن أبي هند عن الوليد بن عبد الرحمن عن جبير بن نفير ثنا أبو ذر قال : صمنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يقم بنا شيئا من الشهر فلما كانت ليلة أربع و عشرين قال أبو الحسين و هو علي بن عاصم هذه السابعة قام بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوا من ثلث الليل فلما كانت ليلة ست و عشرين قال أبو الحسين : هذه الخامسة قام بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى ذهب نحوا من شطر الليل فقلنا : يا رسول الله لو نفلتنا بقية ليلتنا هذه قال : إن الرجل إذا قام مع الإمام حتى ينقضي كتب له قيام ليلته فلما كانت الليلة التي تليها ليلة سبع و عشرين لم يقم بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما كانت ليلة ثمان و عشرين قال أبو الحسين : ثلاث يبقين جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم أهله و اجتمع له الناس فصلى بنا حتى كاد يفوتنا الفلاح قلنا : و ما الفلاح قال : السحور ثم قال : يا ابن أخ ثم لم يقم بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا من الشهر قال البيهقي رضي الله عنه : هذا تأكيدا لفضيلة صلاة التراويح في الجماعة

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے انکو یحییٰ بن جعفر نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو ولید بن عبدالرحمٰن نے ان کو جبیر بن نضیر نے ان کو ابو ذر نے اس نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روزہ رکھا مہینے میں ہمارے ساتھ کچھ بھی آپ نے قیام نہ کیا (یعنی باجماعت تراویح نہ پڑھائی) جب چوبیسویں رات آئی ابو الحسین نے کہا (وہ علی بن عاصم ہیں) کہ یا ستائیسویں تھی رسول اللہ نے ہمارے ساتھ قیام کیا۔ تقریبا ایک تہائی رات تک ۔ جب چھبیسویں رات آئی ابو الحسین کہتے ہیں کہ یہ پچیسویں شب تھی۔ پھر ہمارے ساتھ آپ نے قیام کیا (یعنی ہمیں نماز تراویح پڑھائی) حتیٰ کہ آدھی رات چلی گئی۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ اگر آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے (تو ہم پڑھتے) آپ نے فرمایاکہ آدمی جب امام کے ساتھ کھڑا ہواتا ہے یہاں تک کہ پورا کر لیتا ہے تو اس کے لیے اس کی پوری رات کا قیام (یعنی پوری رات کی عبادت) لکھ دی جاتی ہے۔ جب اس کے متصل والی رات آئی یعنی ستائیسویں شب تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں قیام نہیں کروایا جب اٹھائیسویں شب ہوئی ابو الحسین کہتے ہیں کہ تین راتیں باقی رہ گئی تھیں تو حضور نے اپنے گھر والوں کو جمع کیا اور لوگ بھی آپ کے لئے جمع ہو گئےتھے پھر ہمیں حضور نے ساری رات نماز پڑھائی حتیٰ کہ قریب تھا کہ ہم سے فلاح فوت ہو جاتی ہم لوگوں نے پوچھا کہ فلاح کیا ہے جواب دیا کہ "سحور" سحری۔ پھر کہا کہ اے بھتیجے اس کے بعد مہینے میں سے اپ نے کچھ بھی ہمارے ساتھ قیا م نہ کیا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ تاکید ہے نماز تراویح کی جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت کے لئے۔

أَبُو ذَرٍّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3277

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3278

3278 - و أخبرنا أبو سعد عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله المزني ثنا أحمد بن نجدة القرشي ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني ثنا محمد بن فضيل عن داود بن أبي هند عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي عن جبير بن نفير الحضرمي عن أبي ذر قال : قام بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة ثلاث و عشرين إلى نحو من ثلث الليل ثم قام بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة خمس و عشرين إلى نحو من شطر الليل فقلنا يا رسول الله لو نفلتنا بقية ليلتنا هذه فقال إنه من قام مع الإمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلته ثم لم يقم بنا حتى بقي من الشهر ثلاث فشد المئزر و جمع أهله و نساءه و الناس و قام بنا حتى خشينا أن يفوتنا الفلاح قلنا : و ما الفلاح قال : السحور ثم لم يقم بنا بقية الشهر قال البيهقي رضي الله عنه : و من أراد الانفراد بها لمن كان حافظ القرآن احتج بما

اور ہمیں خبر دی ابو سعید عبدالملک بن ابو عثمان زاہد نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو احمد بن نجدہ قرشی نے ان کو یحییٰ بن عبدالحمید حمانی نے ان کو محمد بن فضیل نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو ولید بن عبدالرحمٰن جرشی نے ان کو جبیر بن نضیر حضرمی نے ان کو ابو داؤد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا تئیسویں شب کو ایک تہائی رات تک۔ اس کے بعد ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی ہمیں نما ز پڑھائی) پچیسویں شب آدھی رات تک۔ تو ہم نے کہا یا رسول اللہ اگر آپ ہمیں بقیہ رات بھی نفل پڑھاتے (تو ہم پڑھتے) آپ نے فرمایا کہ جو شخص امام کے ساتھ قیام کر لیتا ہے یعنی فارغ ہو جاتا اس کے لئے اس کی پوری رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے اس کے بعد ہمیں با جماعت تراویح حضور نے نہ پڑھائی یہاں تک کہ مہینے میں سے باقی تین راتیں باقی رہ گئیں پھر اپ نے اپنا تہہ بند کس لیا (یعنی پھر قیام لیل کے لئے کمر بستہ ہو گئے) اور اپنے اہل خانہ کو جمع کیا اور سب لوگوں کو جمع کیا اور ہمیں با جماعت نماز پڑھائی یہاں تک کہ ہم ڈر گئے کہ ہم سے فلاح نہ فوت ہو جائے ہم نے پوچھا کہ فلاح سے کیا مراد ہے جواب دیا کہ سحری مراد ہے پھر آپ نے باقی راتیں با جماعت تراویح نہ پڑھائی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جو شخص ارادہ کرے قیام لیل میں علیحدہ اور انفرادی عبادت کرنے کا جس کے لئے حافظ قرآن ہو اس نے دلیل پکڑی ہے درج ذیل روایت سے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله المزني ← أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3278

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3279

3279 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن بشر المرثدي و أحمد بن قادم المروزي قالا : ثنا عبد الأعلى ثنا وهيب بن خالد عن موسى بن عقبة عن سالم أبي نضر عن بشر بن سعيد عن زيد بن ثابت : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم اتخذ حجرة قال : حسبته قال : من حصير في رمضان فصلى فيها ليلتين و قال المروزي : ليالي فصلى بصلاته ناس من أصحابه فلما علم بهم جعل يقعد قال : فخرج إليهم و قال قد عرفت الذي رأيت من صنعكم فصلوا أيها الناس في بيوتكم فغن أفضل الصلاة صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة رواه البخاري عن عبد الأعلى بن حماد و أخرجه مسلم من وجه آخر عن وهيب

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن بشر مرثدی نے اور احمد بن قادم مروزی نے دونوں کو عبدالاعلیٰ نے ان کو وہیب بن خالد نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان کو سالم بن ابی نضرہ نے ان کو بشر بن سعید نے ان کو زید بن ثابت نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرہ بنایا کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یوں کہا تھا کہ چٹائی کا حجرہ ، رمضان میں اس میں دو راتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اکیلے اور مروزی نے کہا کہ کئی راتین پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ا صحاب میں سے کچھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو جان لیا( کہ وہ بھی پڑھنے لگے ہیں) تو بیٹھنا شروع کیا۔ وہ فرماتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میں نے جان لیا ہے جو میں نے تمہارا فعل دیکھا ہے ۔ لوگو ! تم لوگ اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھو بے شک افضل نماز آدمی کی اپنے گھر میں ہوتی ہے فرض کے علاوہ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا عبدالاعلیٰ بن حماد سے اور اس کو مسلم نے نقل کیا ایک دوسرے طریق سے وہیب سے۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← سالم أبي نضر ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أحمد بن بشر المرثدي و أحمد بن قادم المروزي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3279

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3280

3280 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو عبد الله محمد بن إسحاق القرشي بهراة ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أبو عمير بن النحاس قال : قال ضمرة بن ربيعة سألنا الأوزاعي عن الصلاة في شهر رمضان في البيت أو في المسجد فقال : حيث كان أكثر لصلاته فليلزمه

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن اسحٰق قرشی نے ہرات میں ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو ابو عمیر بن نحاس نے وہ کہتے ہیں کہ زمرہ بن ربیعہ نے کہا کہ ہم نے حضرت اوزاعی سے ماہ رمضان میں اپنے گھر میں نماز پڑھنے کے بارےمیں پوچھا تھا کہ گھرمیں پڑھیں یا مسجد میں تو انہوں نے فرمایا کہ جہاں اس کی نماز زیادہ ہو اسی کو لازم پکڑ لے۔

حيث كان أكثر لصلاته فليلزمه ← الصلاة في شهر رمضان في البيت أو في المسجد ← ضمرة بن ربيعة سألنا الأوزاعي ← أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن إسحاق القرشي بهراة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3280

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3281

3281 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن إسحاق الصنعاني ثنا روح بن عبادة عن سعد عن قتادة عن الحسن عن أبي بكرة : أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يقولن أحدكم إني قمن رمضان كله الله أعلم خشى التزكية على أمته لا بد من غافل أو نائم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے ان کو حسن نے ان کو ابو بکرہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ادمی ہر گز یہ نہ کہے کہ میں نے پورا رمضان قیام کیا ہے اللہ بہتر جانتا ہے کہ آپ نے اپنی امت پر تزکیہ کا خوف کیا ہے ضروری ہے کوئی غافل کوئی سونے والا۔

أبي بكرة أن نبي الله صلى الله عليه و سلم ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعْدٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3281

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3282

3282 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أبو القاسم الطبراني ثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن أحمد بن إسحاق الطيبي ثنا أبو عبد الله محمد بن أيوب أنا موسى و علي بن عثمان قالا : ثنا حماد بن سلمة عن داود بن أبي هند عن زرارة عن ابن أبي أوفى عن تميم الداري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته هو أكملها كتبت له كاملة و إن لم يكن أكملها قال الله تعالى للملائكة : انظروا هل تجدون لعبدي من تطوع فأكملوا له ما ضيع من ذلك رواه الثوري عن داود موقوفا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابو القاسم طبرانی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو حجاج بن منہال نے انکو حماد بن سلمہ نے (ح) اور ہمیں خبردی ہے ابو الحسین بشران نے ان کو ابو الحسن احمد بن حسن طیبی نے ان کو ابو عبدمحمد بن بن ایوب نے ان کو موسیٰ اور علی بن عثمان نے دونوں کو حماد بن سلمہ نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو زرارہ نے ان کو ابن اوفی نے ان کو تمیم دارمی نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پہلی چیز جس کا بندے سے حساب لیا جائے گا قیامت کے دن وہ اس کی نماز ہو گی اگر اس نے اس کو مکمل کیا ہو گا تو اس کے لئے اس کو کامل لکھ دیا جائے گا اور اس نے اسے مکمل نہ کیا ہو گا تو پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیں گے ۔ دیکھو کیا تم میرے بندے کے لئے اس کے اعمال نامے میں نفل پاتے ہوں لہٰذا اس میں سے جو کچھ نماز یں ضائع ہو ئی ہیں ان کو نفل سے مکمل کر دو۔ اس کو ثوری نے روایت کیا داؤد سے بطور موقوف روایت کے۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← زُرَارَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← موسى و علي بن عثمان ← أبو عبد الله محمد بن أيوب ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← حماد بن سلمة و ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3282

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3283

3283 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا عبد الوهاب بن عطاء أنا أبو الأشهب عن الحسن قال : لقي أبو هريرة رجلا فقال : كأنك لست من أهل هذا البلد قال : أجل قال : أفلا أحدثك بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : بلى قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أول ما يحاسب به العبد يحاسب بصلاته يقول الله عز و جل للملائكة و هو أعلم : انظروا في صلاة عبدي فإن وجدوها كاملة كتبوها و إن وجدوها قد انتقض منها شيئا قال : انظروا هل تجدون لعبدي من تطوع فتكمل صلاته من تطوعه له و تؤخذ الأعمال على قدر ذلك قال : و أنا عبد الوهاب أنا عوف عن الحسن عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم بنحو من هذا الحديث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو ابو الاشہب نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سے حضرت ابو ہریرہ کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس سے پوچھا ایسا لگتا ہے کہ شاید آپ اس شہر کے نہیں ہیں اس نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ ابو ہریرہ نے فرمایا کہ کیا میں آپ کو حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ سے سنی تھی؟ اس نے کہا بالکل۔ فرمایا کہ پہلی چیز جس کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہو گی اللہ تعالیٰ فرشتے سے فرمائیں گے کہ اس کی نماز میں دیکھو حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں ۔ اگر وہ کامل مل گئی تواس کو ملا کر نماز کامل لکھ دیں گے اگر اس سے بھی کوئی چیز کم پڑ گئی تو حکم ہو گا دیکھو کیا تم میرے بندے کی کوئی نفل پاتے ہو لہٰذا اس کی نماز اس نفل سے پوری کی جائے گی ورنہ دیگر اعمال اسی کے اندازے کے مطابق لئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اورہمیں خبر دی ہے عبدالوہاب نے ان کو عوف نے ان کو حسن نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسی حدیث کی مثل۔

بَلٰی ← من رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَفَلاَ أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ ← أَجَلْ ← كأنك لست من أهل هذا البلد ← لقي أبو هريرة رجلا ← الْحَسَنِ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3283

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3284

3284 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا العوذي ثنا عبد الله ثنا حماد عن يونس بن عبيد عن الحسن : عن رجل من بني سليط قال : قال لي أبو هريرة من أين أنت ؟ قلت : من أهل البصرة قال : أفلا أحدثك بحديث لعل الله أن ينفع به من تقدم عليه قلت : بلى فذكره معناه و رواه غيره عن يونس بن عبيد عن الحسن عن أنس بن حكيم الضبي عن أبي هريرة و وقفه بعضهم على أبي هريرة قال البيهقي رضي الله عنه : و هذا و الله أعلم فيمن ضيع من سننها شيئا

اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عوذی نے ان کو عبداللہ نے ان کو حماد نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے ان کو بنی سلیط کے ایک آدمی نے اس نے کہا کہ مجھے ابو ہریرہ نے کہا تھا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے ان کو بتایا: کہ اہل بصرہ سے۔ تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تجھے حدیث بیان نہ کروں تاکہ اللہ اس کے ذریعہ نفع دے اس کو جو اس پر پہلے گزرا۔ میں نے کہا جی ہاں پھر انہوں نے مذکورہ حدیث ذکر کی اس کا مفہوم ۔ اور اس کو روایت کیا ہے اس کے سوا دیگر نے یونس بن عبید سے اس نے حسن سے اس نے انس بن حکیم ضبی سے انہوں نے ابو ہریرہ سے اور بعض نے ان کو ابو ہریرہ پر موقوف کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : کہ یہی حدیث ہے واللہ اعلم اس شخص کے بارےمیں کہ جس نے نماز کی سنتوں میں سے کچھ ضائع کر دیا تھا (اس کا کیا ہو گا؟)۔

لي أبو هريرة من أين أنت قلت من أهل البصرة ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← العوذي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3284

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3285

3285 - و قد أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أبي طاهر الدقاق ببغداد حدثنا علي بن محمد بن الزبير القرشي ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا زيد بن الحباب حدثني موسى بن عبيدة حدثني إبراهيم بن عبد الله بن حنين عن أبيه عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا علي إن مثل المصلي كمثل حبلى حملت فلما دنا نفاسها أسقطته فلا هي ذات حمل و لا هي ذات ولد و هكذا المصلي لا تقبل له نافلة حتى يؤدي الفريضة و مثل المصلي كمثل التاجر لا يخلص له ربحه حتى يأخذ رأس ماله كذلك المصلي لا تقبل له نافلة حتى يؤدي الفريضة قال البيهقي رضي الله عنه : هذا إن صح في المصلي إذا ضيع شيئا من واجباتها

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن ابو طاہر دقاق نے بغداد میں ان کو علی بن محمد بن زبیر قرشی نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو زید بن حباب نے ان کو موسیٰ بن عبیدہ نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ بن حنین نے ان کو ان کے والد نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے علی نمازی کی مثال حاملہ عورت جیسی ہوتی ہے جو حاملہ ہوتی ہے جب اس کا نفاس قریب آ تا ہے وہ حمل کو ساقط کر دیتی ہے۔ اب نہ تو وہ صاحب حمل ہوتی ہے نہ ہی صاحب اولاد ہوتی ہے اور اسی طرح ہے وہ مصلی جس کے نفل قبول نہ کئے جائیں گے حتیٰ کہ وہ فرض کو ادا نہ کرے۔ اور نماز ی کی مثال تاجر جیسی ہے اس کے لئے اس کا نفع نہیں ملے گا ۔ حتیٰ کہ وہ اصل مال کو حاصل نہ کرے۔ اسی طرح ہے وہ نمازی جس کے نفل قبول نہ کئے جائیں گے حتیٰ کہ فرض ادا نہ کرے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایااگر یہ صحیح ہے نماز کے بارے میں جس وقت وہ ضائع کر دے اس کے واجبات میں سے کسی شے کو۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← موسى بن عبيدة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← علي بن محمد بن الزبير القرشي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ ← و قد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3285

chevron_left Previous
1…474849…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood