Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3262

3262 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا حفص بن غياث عن إسماعيل عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من صلى صلاة فلم تأمره بالمعروف و لم تنهه عن الفحشاء و المنكر لم يزدد بها من الله إلا بعدا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابو ا لعباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو اسماعیل نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز تو پڑھے مگر امر بالمعروف نہ کرے اور نہی عن المنکر نہ کرے برائی اور بے حیائی سے نہ رکے یہ عمل اس کو اللہ سے دور کر دے گا۔

الْحَسَنِ، ← إِسْمَاعِيلُ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3262

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3263

3263 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد قالا : ثنا أبو العباس ثنا أحمد ثنا وكيع عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن أبي خالد قال : قيل لعبد الله إن فلانا يطيل الركوع و السجود فقال : لا تنفع الصلاة إلا من أطاعها يعني و الله أعلم إن الصلاة تنهي عن الفحشاء و المنكر نفعته الصلاة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد نے ان دونوں کو ابو العباس نے ان کو احمد نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کومالک بن حارث نے ان کو ابو خالد نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ سے کہا گیا تھا کہ فلاں شخص رکوع اور سجود بہت طویل کرتا ہے انہوں نے فرمایا کہ نماز صرف اسی کو فائدہ دیتی ہے جو اس کی اطاعت کرے یعنی بے شک نماز روکتی ہے بے حیائی اور برائی سے(یعنی جو شخص یہی عمل کرے گا) اس کو نماز فائدہ دے گی۔

أَبِي خَالِدٍ ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3263

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3264

3264 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن عبد الرحمن بن يزيد قال : قال عبد الله : من لم تأمره صلاته بالمعروف و لم تنهه عن المنكر لم يزدد من الله إلا بعدا

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو مالک بن حارث نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا اس شخص کو اس کی نماز معروف کا حکم نہیں دے گی اور اس کو منکر سے نہیں روکے گی اور وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔

الْمُنْكَرِ لَمْ يَزْدَدْ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا. ← عبد الله من لم تأمره صلاته بالمعروف و لم تنهه ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3264

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3265

3265 - أخبرنا الأستاذ أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم أنا محمد بن داود ثنا محمد بن أيوب الرازي أنا مسلم بن إبراهيم أنا حامد أبو الورقاء عن عبد الله بن أبي أوفى قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما فقال : من كانت له حاجة إلى الله تعالى أو إلى أحد من بني آدم فليتوضأ و ليحسن وضوءه ثم ليصل ركعتين ثم يثني على الله عز و جل و يصلي على النبي صلى الله عليه و سلم و ليقل لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم أسألك موجبات رحمتك و عزائم مغفرتك و العصمة من كل ذنب و السلامة من كل ذنب

ہمیں خبر دی ہے استاذ ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم نے ان کو محمد بن داؤد نے ان کو محمد بن ایوب رازی نے ان کومسلم بن ابراہیم نے ان کو حامد ابوالورقاء نے ان کو عبداللہ بن ابی اوفی نے کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ جس شخص کو کوئی حاجت در پیش ہو اللہ تعالیٰ کی طرف یا کسی ایک کی طرف اولاد بنی آدم میں سے اسے چاہیے کہ وضو کرے اور وضو کو احسن طریقہ پر کرے اس کے بعد دو رکعت نماز (نفل صلوٰۃ الحاجت) پڑھے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے اور یہ دعا پڑھے۔ " لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم اسالک موجبات رحمتک وعزائم مغفرتک والعصمۃ من کل ذنب والسلامۃ من کل ذنب"

خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← حامد أبو الورقاء ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3265

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3266

3266 - أخبرنا زيد بن أبي هاشم العلوي بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم ثنا إبراهيم بن عبد الله أنا وكيع عن الأعمش عن سليمان بن ميسرة و المغيرة بن شبل عن طارق بن شهاب الأحمسي عن سلمان الفارسي قال : إذا كان الليل كان الناس منه على ثلاث منازل فمنهم من له و لا عليه و منهم من لا له و لا عليه و منهم من عليه و لا له قال طارق : فتعجبت لحداثة سني و قلة فهمي فقلت : يا أبا عبد الله و كيف ذلك قال : أما من له و لا عليه فرجل اغتنم غفلة الناس و ظلمة الليل فتوضأ و صلى فذلك له و لا عليه و رجل اغتنم غفلة الناس و ظلمة الليل يمشي في معاصي الله عز و جل فذلك عليه و لا له و رجل نام حتى أصبح فذلك لا له و لا عليه قال طارق : فقلت لأصبحن هذا فلا أفارقه فضرب على الناس بعث فخرج فيه فصحبته فكنت لا أحصله في عمل إن أنا عجنت خبز و إن خبزت طبخ فنزلت منزلا فبتنا فيه و كانت لي ساعة من الليل أقومها فكنت أتيقظ لها فأجده نائما فأقول صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم خير مني نائم فأنام ثم أقوم فأجده نائما فأنام إلا أنه كان إذا تعار من الليل قال و هو مضطجع سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير حتى إذا كان قبيل الصبح قام فتوضأ فركع ركعات فلما صلينا الفجر قلت له يا أبا عبد الله كانت لي ساعة من الليل أقومها و كنت أتيقظ لها فأجدك نائما فأقول صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم خير مني فأنام قال : يا ابن أخي فايش كنت تسمعني أقول فأخبرته فقال : تلك الصلاة إن الصلوات الخمس كفارات لما بينهن ما اجتنب المقتل يا ابن أخي عليك بالقصد فإنه أبلغ

ہمیں خبر دی زید بن ابو ہاشم علوی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو وکیع نے اعمش سے اس نے سلمان فارسی سے انہوں نے کہا کہ جب رات ہوتی ہے تو لوگ تین طرح کے ہو جاتے ہیں ۔ بعض وہ ہوتے ہیں کہ ان کو کوئی فائدہ تو ہوتا ہے مگر کوئی نقصان ہوتا ہے کچھ وہ ہوتے ہیں کہ جن کو نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے نہ نقصان۔ کچھ وہ ہوتے ہیں ان کو نقصان ہی ہوتا ہے فائدہ کچھ نہیں۔ طارق نے کہا کہ میں اپنی کم عمری اور کم فہمی کی وجہ سے اس بات پر حیران ہوا اور کہا کہ اے ابو عبداللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے انہوں نے فرمایا کہ بہر حال وہ شخص جس کو فائدہ ہی ہوتا ہے نقصان نہیں ہوتا وہ شخص ہے جو لوگوں کی غفلت کو اور رات کی تاریکی کو غنیمت سمجھتے ہوئے وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اس کو تو فائدہ ہی ہوتا ہے نقصان نہیں ہوتا۔ دوسرا وہ شخص ہے جو لوگوں کی غفلت اور رات کے اندھیرے کو غنیمت جان کر گناہوں میں چلتا ہے یہ وہ شخص ہے جس نقصان ہی ہے فائدہ کچھ بھی نہیں ہے۔ تیسرا وہ شخص ہے جو رات کو سوتا ہے تو صبح اٹھتا ہے یہ وہ ہے جس کو نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان ہوتا ہے۔ طارق نے کہا کہ میں نے سوچا کہ میں اسی شخص کی صحبت میں رہوں گا کبھی اس سے جدا نہیں ہوں گا چنانچہ انہوں نے لوگوں کو جمع کر کے بھیجا اور خود بھی نکلے تو میں بھی ان کا ساتھی بن گیا میں کسی کام میں ان سے جان نہیں چراتا تھا اگر آتا گودھنا پرتا تو میں آٹا گوندھتا اگر روٹی پکانی پڑتی تو میں پکاتا ایک منزل پر ہم لوگ اترے اور رات گزاری رات کو میرا ایک وقت مقرر تھا میں اس میں رات کو قیام کرتا تھا میں جاگتا ان کو دیکھنے کے لیے تو میں ان کو سوتا ہوا پاتا میں نے دل میں کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہے یہ مجھ سےاچھا ہے میں بھی سو جاؤں پھر میں اٹھتا تو انہیں سوتا ہوا پاتا پھر میں بھی سو جاتا مگر حال یہ ہے کہ جب وہ رات میں بیدار ہوئے تو انہوں نے لیٹے لیٹے یہ پڑھا: " سبحان اللہ والحمداللہ ولا الہ الااللہ واللہ اکبر ۔ لا الہ الاللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی قدیر۔ جب صبح سے تھوڑا پہلے کا وقت ہوا تو اٹھے اور وضو کیا اور چند رکعات پڑھیں پھر جب ہم لوگوں نے فجر پڑھ لی تو میں نے ان سے کہا کہ میری ایک ساعت مقرر تھی مجھے اٹھنا تھا میں اس کے لئے جاگتا تھا تو آپ کو سوتے ہوئے پاتا تھا پھر دل میں کہتا تھا کہ صحابی رسول مجھ سے بہتر ہے لہذا میں پھر سو جاتا تھا۔ انہوں نے فرمایا بھتیجے تم نے کیا چیز مجھ سے سنی ہے کہ میں کہہ رہاتھا۔ میں نے ان کو بتا دیا تو انہوں نے فرمایا یہی نماز ہے۔ بے شک پانچ نمازیں کفارے میں اپنے مابین وقت کے لئے جب تک قتل سے اجتناب کرے اے بھتیجے تم میانہ روی کو لازم کر لو یہ زیادہ مقصد کے قریب ہے۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← طارق بن شهاب الأحمسي، ← سليمان بن ميسرة و المغيرة بن شبل ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← زيد بن أبي هاشم العلوي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3266

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3267

3267 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك ح قال : و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى في المسجد ذات ليلة فصلى بصلاته أناس ثم صلى من القابلة فكثر الناس ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة أو الرابعة فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما أصبح قال : قد رأيت الذي قد صنعتم فلم يمنعني من الخروج إليكم إلا أني خشيت أن تفرض عليكم قال : و ذلك في رمضان أخرجاه في الصحيح من حديث مالك

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو مالک نے (ح) کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی قعنبی نے ان میں جو انہوں نے مالک پر پڑھی۔ اس نے ابن شہاب سے اس نے عروہ بن زبیر سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہ رسول اللہ نے ایک رات کو مسجد میں نماز پڑھائی ۔ لوگوں نے بھی ان کی طرح نماز پڑھی اس کے بعد آئندہ شب کو بھی آپ نے نماز پڑھائی (نماز تراویح) میں لوگ بہت ہو گئے (جماعت میں) ا س کے بعد تیسری رات چوتھی رات بھی لوگ جمع ہو ئے مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز پڑھانے کے لئے) ان کی طر ف گھر سے نکلے ہی نہیں۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے وہ جمع ہوتا دیکھ لیا تھا جو کچھ تم لوگوں نے کیا تھا۔ مجھے تمہاری طرف نکل کر آنے سے کوئی چیز مانع نہیں تھی مگر میں ڈر رہا تھا کہ یہ عمل فرض کر دیا جائے گا تم لوگوں پر ابن زبیر کہتے ہیں یہ واقعہ رمضان میں ہوا تھا۔ بخاری و مسلم نے اس کو حدیث مالک سے نقل کیا ہے۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3267

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3268

3268 - أخبرنا أبو زكريا أنا أبو الحسن ثنا عثمان ثنا ابن بكير ثنا مالك قال و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يرغب في قيام شهر رمضان من غير أن يأمر بعزيمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قام رمضان إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه قال ابن شهاب : فتوفي رسول الله صلى الله عليه و سلم و الأمر على ذلك ثم كان الأمر على ذلك خلافة أبي بكر و صدرا من خلافة عمر رضي الله عنهما

ہمیں خبر دی ابو زکریا نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عثمان نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک نے (ح) کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قعنبی نے اس میں جو اس نے مالک پر پڑھی ان کو ابن شہاب نے ان کو ابو سلیمان نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ رغبت دلایا کرتے تھے ماہ رمضان میں عبادت کے لئے رات کو قیام کرنے کی اس کے بغیر کہ وہ لازمی حکم دیں بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرماتے تھے ماہ رمضان میں عبادت کے لئے قیام کرے گا عبادت کے لئے ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کی نیت سے اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ ابن شہاب نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے اور (اس قیام و عبادت) کا معاملہ اسی حال پر تھا اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت میں اور حضرت عمر کی ابتداء میں بھی یہ معاملہ اسی حالت پر تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← عُثْمَانَ، ← أَبُو الْحَسَنِ ← أَبُو زَكَرِيَّا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3268

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3269

3269 - و بهذا الإسناد عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير عن عبد الرحمن بن عبد القاريء قال : خرجت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه ليلة في رمضان إلى المسجد فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه و يصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : و الله إني لا أرى لو جمعت هؤلاء على قاريء واحد لكان أمثل ثم عزم فجمعهم على أبي بن كعب قال : ثم خرجت معه ليلة أخرى و الناس يصلون بصلاة قارئهم فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه نعمت البدعة هذه التي ينامون عنها أفضل من التي يقومون يريد آخر الليل و كان الناس يقومون أوله أخرجه البخاري في الصحيح

اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے ابن شہاب سے اس نے عروہ بن زبیر سے ا س نے عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ رمضان کی رات میں مسجد کی طرف نکلا۔ پس یکا یک لوگ تقسیم ہوئے اور متفرق تھے کوئی اپنی ا کیلی نماز پڑھ رہا تھا۔ کوئی ایک اور کوئی گولی اور گروہ پڑھ رہا تھا۔ حضرت عمر نے دیکھ کر فرمایا۔ اللہ کی قسم بے شک میں دیکھتا ہوں کہ اگر ان سب کو ایک قرات کرنے والے پر جمع کر دیا جائے تو یہ زیادہ مناسب ہو گا اس کے بعد انہوں نے اس بات کا پکا ارادہ کر لیا اور ان لوگوں کو حضرت ابی بن کعب پر جمع کر دیا (اور یوں وہ پہلی بار اجتماعی تراویح کے پہلے امام مقرر ہو گئے) عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک اور رات کو مسجد کی طرف ساتھ نکلا (تو اب منظر مختلف تھا) کہ سارے لو گ ایک ہی قاری کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے پس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (اس اجتماعی عبادت کو دیکھ کر) فرمایا یہ اچھی بدعت ہے (یعنی اچھا نیا سلسلہ ہے) یہی عبادت تھی لوگ جس سے سو جاتے تھے وہ افضل ہے اس سے جو قیام کرتے ہیں میں اس سے ان کی مراد آخر شب تھی کیونکہ لوگ اول شب میں سو جاتے تھے۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے صحیح میں۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3269

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3270

3270 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك ح قال و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن بريد بن رومان أنه قال : و كان الناس يقومون في زمان عمر بن الخطاب رضي الله عنه في رمضان ثلاث و عشرين ركعة

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو مالک نے (ح) انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک پر انہوں نے برید بن اومان سے کہ انہوں نے کہا کہ لوگ رات کا قیام (رات کی عبادت) کرتے تھے حضرت عمر کے زمانے میں رمضان شریف میں تئیس رکعات (یعنی بیس تراویح اور تین وتر)۔

بريد بن رومان أنه ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3270

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3271

3271 - و بهذا الإسناد عن مالك عن داود بن الحصين أنه سمع عبد الرحمن بن هرمز الأعرج يقول : ما أدركت الناس إلا و هم يلعنون الكفرة في رمضان قال : فكان القاريء يقوم بسورة البقرة في ثماني ركعات فإذا قام بها في اثنتي عشرة ركعة رأى الناس أنه خفف

اسی اسنا د کے ساتھ مروی ہے مالک سے اس نے داؤد بن حصین سے کہ انہوں نے سنا عبدالرحمٰن بن ہرمزالاعرج سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جتنے لوگوں کو پایا وہ رمضان شریف میں کافروں پر لعنت کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ قاری ایسا ہوتا تھا کہ سورہ بقرہ آٹھ رکعات میں پوری کر لیتا اور جب وہ اس کو بارہ رکعت میں پوری کرتا تو لوگ یہ دیکھتے کہ اس نے تحفیف کر دی ہے۔

ما أدركت الناس إلا و هم يلعنون الكفرة في رمضان ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ الْاَعْرَجِ ← داود بن الحصين أنه ← مَالِكٍ، ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3271

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3272

3272 - و بهذا الإسناد عن مالك عن عبد الله بن أبي بكر أنه قال : سمعت أبي يقول كنا ننصرف في رمضان من القيام فنستعجل الخادم بالطعام مخافة الفجر

اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے مالک سے اس نے عبداللہ بن ابو بکر سے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے تھے کہ ہم لوگ واپس لوٹ جاتے تھے رمضان میں قیام سے (یعنی تراویح سے) تو خادم کو کھانا جلدی لانے کی تاکید کرتے تھے بوجہ خوف فجر ہو جانے کے۔

كنا ننصرف في رمضان من القيام فنستعجل الخادم بالطعام مخافة الفجر ← أَبِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهُ ← مَالِكٍ، ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3272

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3273

3273 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن محمد بن فنجويه الدينوري ثنا موسى بن محمد بن علي بن عبد الله ثنا أحمد بن عيسى بن ماهان الرازي ببغداد ثنا هشام بن عمار ثنا مروان بن معاوية عن أبي عبد الله الثقفي ثنا عرفجة الثقفي قال : كان علي بن أبي طالب رضي الله عنه يأمر الناس بقيام رمضان و يجعل للرجال إماما و للنساء إماما قال عرفجة : فكنت أنا إمام النساء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حسین بن محمد بن فنجویہ دینوری سے ان کو بیان کیا موسیٰ بن محمد بن علی بن عبداللہ سے ان کو احمد بن عیسیٰ بن ماہان رازی نے بغداد میں ان کو ہشام بن عمار نے ان کو مروان بن معاویہ نے ان کو ابو عبداللہ ثقفی نے ان کو عرفجہ ثقفی نے وہ کہتے ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ لوگوں کو قیام رمضان کا حکم دیتے تھے۔ اور مردوں کا الگ امام مقرر کرتے تھے اور عورتوں کا الگ امام۔ عرفجہ کہتے ہیں کہ میں عورتوں کا امام تھا۔

عرفجة الثقفي ← أبي عبد الله الثقفي ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَاهَانَ الرَّازِيُّ، ← موسى بن محمد بن علي بن عبد الله، ← أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3273

chevron_left Previous
1…464748…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood