Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3250

3250 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت إبراهيم بن مضارب يقول : سمعت أبي يقول : كان الحسين بن الفضل يركع في اليوم و الليلة ستمائة ركعة و يقول : لولا الضعف و السن لم أطعم نهاره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے ابراہیم بن مضارب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ حضر ت حسین بن فضل رات دن میں چھ سو رکعات نفل پڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ضعف اور پیرانہ سالی نہ ہوتی تو میں دن کو کھانا نہ کھاتا یعنی روزہ رکھتا۔

لولا الضعف و السن لم أطعم نهاره ← كان الحسين بن الفضل يركع في اليوم و الليلة ستمائة ركعة و ← أَبِي ← إبراهيم بن مضارب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3250

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3251

3251 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر محمد بن داود بن سليمان شيخ عصره في التصوف حدثني علي بن محمد بن خالد المطرز حدثني علي بن الموفق ثنا داود بن رشيد قال : قام أخ لك في ليلة ظلماء يصلي مع نفسه فضربه البرد و كان رث الثياب و شدة البرد ثم سجد فذهب به النوم في سجوده فهتف به هاتف أنمانهم و أقمناك و تبكي علينا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر محمد بن داؤد بن سلیمان نے جو اپنے دور میں تصوف کے شیخ العصر تھے۔ ان کو حدیث بیان کی علی بن محمد بن خالد مطرز نے حدیث بیان کی ہے علی بن موفق نے انکو داؤد بن رشید نے وہ کہتے ہیں کہ آپ کے بھائی اندھیری رات میں نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تھے۔ اکیلے نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کو شدید ٹھنڈ لگی وہ پرانے کپڑوں والے تھے اور سردی کی شدت تھی اس کے بعد وہ سجدہ میں گیا اور ان کو سجدہ میں نیند آ گئی چنانچہ ہاتف غیبی نے ان کو کہا کہ ہم نے ان سلایا ہے اور تم کو کھڑا کیا ہے اور تم ہمارے اوپر روتے ہو۔

دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُوَفَّقِ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْمُطَرِّزُ، ← أبو بكر محمد بن داود بن سليمان شيخ عصره في التصوف ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3251

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3252

3252 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت جدي إسماعيل بن نجيد يقول : كان الجنيد يجيء كل يوم إلى السوق فيفتح باب حانوته فيدخل و يسبل الستار يصلي أربع مائة ركعة ثم يرجع إلى بيته

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے دادا اسماعیل بن نجید سے وہ کہتے ہیں کہ حضر ت جنید ہر روز بازار کی طرف جاتے تھے اور اپنی دکان کا دروازہ کھولتے اور اند ر داخل ہو کر پردہ ڈال دیتے تھے وہاں چار سو رکعات نفل پڑھتے پھر اپنے گھر واپس لوٹ آتے۔

جدي إسماعيل بن نجيد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3252

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3253

3253 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت جدي يقول : دخل عليه يعني الجنيد أبو العباس بن عطاء و هو ينزع فسلم عليه و لم يرد عليه ثم رد عليه بعد ساعة و قال : أعذرني فإني كنت في وردي ثم حول وجهه إلى القبلة و كبر و مات

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ وہ داخل ہوئےجنید ابو العباس بن عطاء کے پاس حالانکہ وہ حالت نزع میں تھے جا کر سلام کیا انہوں نے جواب نہیں دیا پھر کچھ دیر کے بعد جواب دیا اور کہا کہ میری معذرت قبول کرنا میں اپنے ورد کرنے میں مصروف تھا اتنےمیں انہوں نے اپنا چہرہ قبلہ کی طرف پھیرا اور اللہ اکبر کہا اور انتقال کر گئے۔

جَدِّي، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3253

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3254

3254 - أخبرنا أبو عبد الرحمن قال : سمعت أبا بكر البجلي يقول : سمعت أبا محمد الجريري يقول : كنت واقفا على رأس الجنيد في وقت وفاته و كان يوم جمعة و هو يقرأ القرآن فقلت له : يا أبا القاسم ارفق بنفسك فقال : يا أبا محمد رأيت أحدا أحوج إليه مني في هذا الوقت و هو ذا تطوى صحيفتي

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر بجلی سے انہوں نے سنا ابو محمد جریری سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت جنید کی وفات کے وقت میں ان کے سرہانے کھڑا تھا وہ جمعہ کا دن تھا جنید قرآن مجید پڑھ رہے تھے میں نے ان سے کہا اے ابو القاسم اآپ اپنے نفس پر مہربانی کیجئے بولے اے ابو محمد کیا تم اس وقت اس کام کے لئے مجھ سے زیادہ حاجت مند کوئی اور دکھتا ہے وہ دیکھتے ہو وہ میرے اعمال کا صحیفہ لپیٹا جارہا ہے۔

أبا محمد الجريري ← أبا بكر البجلي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3254

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3255

3255 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا محمد بن الحسين ثنا بشر بن عبد الله النهشلي قال : دخلنا على أبي بكر النهشلي و هو في الموت و هو يوميء برأسه يرفعه و يضعه كأنه يصلي فقال له بعض أصحابه : في مثل هذا الحال رحمك الله قال : إني أبادر طي الصحيفة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو بشر بن عبداللہ نہشلی نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابو بکر نہشلی کے پاس گئے اور وہ موت کے وقت میں تھے سر کے ساتھ اشارہ کر رہے تھے کبھی اونچا کرتے کبھی نیچا کرتے جیسے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے چنانچہ ان کے بعض احباب نے ان سے کہا کہ اس جیسی حالت میں اللہ تعالیٰ بھی آپ پر رحم کرے گا وہ کہنے لگے کہ بے شک میں جلدی کر رہا ہوں صحیفہ اعمال کے لپیٹے جانے سے۔

بشر بن عبد الله النهشلي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3255

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3256

3256 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت علي بن سعيد يقول سمعت علي بن أحمد الواسطي بالموصل يقول : سمع جعفر الخلدي يقول : رأيت الجنيد في النوم فقلت ما فعل الله بك ؟ قال : طاحت تلك الإشارات و عاينت تلك العبارات و فنيت تلك العلوم و نفدت تلك الرسوم و ما نفعنا إلا ركعات كنا نركعها عند السحر

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہون نے سنا علی بن سعید سے انہوں نے علی بن احمد واسطی سے شہر موصل میں انہوں نے جعفر خلدی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جنید کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ کہنے لگے کہ وہ سارے نشانات مٹ گئے۔ وہ ساری عادتیں غائب ہو گئیں وہ سارے علوم فنا ہو گئے۔ وہ سارے نقوش ختم ہو گئے (شاید ان سب سے مراد دنیا کے سارے امور وغیرہ تھے) ہمیں کسی چیز نے نفع نہیں دیا مگر انہیں رکعات نے جو سحر کے وقت ہم پڑھتے تھے۔

رَأَيْتُ الْجُنَيْدَ فِي النَّوْمِ فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ اللَّهُ بِكَ؟ ← جَعْفَرٌ الْخَلَدِيُّ ← علي بن أحمد الواسطي بالموصل ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3256

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3257

3257 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا أحمد بن الحسين الكوفي ثنا محمد بن يحيى الجحدري قال : قال ابن الأجلح قال أبي لسلمة بن كهيل : إن مت قبلي فقدرت أن تأتي في نومي فتخبرني بما رأيت فافعل فمات سلمة قبل الأجلح فقال لي أبي يا بني علمت أن سلمة أتاني في منامي فقلت أليس قد مت قال : إن الله عز و جل قد أحياني قال : قلت كيف وجدت ربك قال : رحيما يا أبا حجية قال : إيش رأيت أفضل الأعمال التي يتقرب بها العباد قال : ما رأيت عندهم أشرف من صلاة الليل قلت : كيف وجدت الأمر ؟ قال : سهلا و لكن لا تتكلوا

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو احمد بن حسین کوفی نے ان کو محمد بن یحییٰ خلدی نے وہ کہتے ہیں کہ ابن اجلح نے کہا کہ میرے والد نے سلمہ بن سہیل سے کہا اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کر گئے تو تم خواب میں میرے پاس آنا اورمجھے خبر دینا جو کچھ تم وہاں دیکھو گے لہذا میں بھی ویسے کروں گا لہذا اسلمہ کا انتقال اجلح سے پہلے ہو گیا تو میرے والد نے مجھ سے کہا کہ بیٹا میں نے جان لیا کہ سلمہ بن سہیل میرے پاس آیا میری نیند میں میں نے اس سے کہا کیا آپ کا انتقال نہیں ہو گیا تھا؟ اس نے کہا بے شک اللہ عزوجل نے مجھے زندہ کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ تم نے اپنے رب کو کیسا پایا بولے اے ابو حجیۃ میں نے رب کو مہربان پایا ہے ۔میں نے پوچھا کہ کون سی چیز کو اپ نے افضل اعمال پایا جس کے ذریعے بندے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ فرمایا کہ میں نے یہاں والوں کے ہاں رات کی نماز یعنی تہجد سے زیادہ شرف والی کوئی چیز نہیں دیکھی کہتے ہیں کہ میں نے پھر پوچھا کہ آپ نے وہاں کا معاملہ کیسا پایا ہے؟ فرمایا کہ معاملہ آسان پایا ہے مگر تم لوگ (اس بات) کاسہارا نہ کرو۔

أبي لسلمة بن كهيل ← ابْنُ الْأَجْلَحِ، ← محمد بن يحيى الجحدري ← أحمد بن الحسين الكوفي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3257

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3258

3258 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا زيد بن الحباب حدثني سعيد بن زيد عن محمد بن جحادة عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : كنا نؤمر إذا صلينا بالليل أن نستغفر بآخر السحر سبعين مرة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو زید بن حباب نے ان کو سعید بن زید نے ان کو محمد بن حجادہ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ جس وقت ہم رات کو نماز پڑھتے تھےآخر سحر میں ہم ستر بار استغفار کریں۔

كنا نؤمر إذا صلينا بالليل أن نستغفر بآخر السحر سبعين مرة ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3258

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3259

3259 - أخبرنا أبو بكر محمد بن أبي سعيد بن سختويه الأسفرايني المجاور بمكة و كتبه لي بمكة ثنا أبو سهل بشر بن أحمد ثنا بهلول بن إسحاق الأنباري ثنا سعيد بن منصور عن أبي عوانة عن منصور عن هلال بن يساف عن ضمرة بن حبيب : عن رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فضل صلاة الرجل في بيته على صلاته حيث يراه الناس كفضل الفريضة على التطوع قال البيهقي رحمه الله : و هذا في صلاة النفل

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن ابو سعید بن نحثویہ اسفرائنی مجاور مکہ نے اور اس کو میرے لئے لکھا مکہ میں ان کو بیان کی ابو سہل بشر بن احمد نے ان کو بہلو ل بن اسحٰق انباری نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو اعوانہ نے منصور سے اس نے ہلال بن یساف سے اس نے ضمر ہ بن حبیب سے اس نے ایک آدمی سے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ نے فرمایا کہ آدمی کی نماز کی فضیلت جو اپنے گھر میں پڑھے اس نماز پر جہاں اس کو لوگ دیکھیں ایسے ہے جیسے فرض نماز کو نفل پر ہے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ تفصیل صلوٰۃ نفل کے لئے ہے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3259

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3260

3260 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا محمد بن يزيد الحراني عن الأوزاعي عن عبد الواحد بن قيس عن أبي هريرة قال : تكفير كل لحا ركعتين قال أبي : يعني الرجل يلاحي الرجل يخاصمه يصلي ركعتين تكفيره يعني كفارته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو میرے والد نے محمد بن یزید حرانی نے ان کو اوزاعی نے ان کو عبدالواحد بن قیس نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ ہر گالی دینے کا کفارہ دو رکعتیں ہیں۔ میرے والد نے کہا کہ یعنی آدمی کسی کو گالی دیتا ہے یا اس سے جھگڑا کرتا ہے تو وہ دورکعت نماز پڑھے یہ اس کا کفارہ ہے۔

أبي يعني الرجل يلاحي الرجل يخاصمه يصلي ركعتين تكفيره يعني كفارته ← تكفير كل لحا ركعتين ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← محمد بن يزيد الحراني ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3260

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3261

3261 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن عمر بن حفص الزاهد ثنا إبراهيم بن عبد الله أنا وكيع عن الأعمش قال : أرى أبا صالح ذكره عن أبي هريرة قالوا : يا رسول الله إن فلانا يصلي من الليل فإذا أصبح سرق قال : ستنهاه ما يقول

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن عمر بن حفص زاہد نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا ابو صالح کو انہوں نے اس بات کو روایت کیا ابو ہریرہ سے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ فلاں شخص رات کو نماز پڑھتا ہے جب صبح کرتا ہے چوری کرتا ہے فرمایا کہ عنقریب (نماز اس کو ) اس چوری کے عمل سے روک دے گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أرى أبا صالح ذكره ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3261

chevron_left Previous
1…454647…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood