Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3238

3238 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن إبراهيم الهاشمي ثنا أحمد بن سلمة قال : سمعت هناد بن السري غير مرة إذا ذكر قبيصة بن عقبة يقول الرجل الصالح و تدمع عيناه و كان هناد كثير البكاء و كنت عنده ذات يوم في المسجد فلما فرغ من القراءة عاد إلى منزله فتوضأ فانصرف إلى المسجد و قام على رجليه يصلي إلى الزوال و أنا معه في المسجد ثم رجع إلى منزله فتوضأ فانصرف إلى المسجد قائما و أنا معه فصلينا الظهر ثم قام على رجليه يصلي إلى العصر و يرفع صوته بالقرآن و يبكي كثيرا و يصلي إلى العصر ثم صلى بنا العصر و جاء إلى صحن المسجد و جعل يقرأ القرآن في المصحف في الليل فصليت معه المغرب و قلت لبعض جيرانه ما أصبره على العبادة فقال : هذا عبادته بالنهار منذ سبعين سنة فكيف لو رأيت عبادته بالليل و ما تزوج قط و ما تسرى قط و كان يقال له راهب الكوفة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن ابراہیم ہاشمی نے ان کو احمد بن سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہناد بن سری سے بار ہا جب وہ قبیصہ بن عقبہ کا ذکر کرتے تھے کہ وہ نیک آدمی تھا اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری رہتی تھیں اور حضرت ہناد بہت رونے والا شخص تھا میں ایک دن ان کے پاس مسجد میں تھا جب وہ قرات سے فارغ ہوئے تو اپنی منزل کی طرف لوٹ آئے۔ وضو کیا اور واپس مسجدمیں چلے گئے اور اپنے پاؤں پر کھڑے زوال تک نماز پڑھتے رہے اور میں مسجد میں ان کے ساتھ تھا پھر وہ اپنی منزل کی طرف آئے وضو کیا اور واپس مسجد چلے گئے پھر گھر پہنچ کر نماز پڑھتے رہے اور میں ان کے ساتھ تھا۔ ہم نے ظہر پڑھی پھر وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر عصر تک نماز پڑھتے رہے اور قرآن کی تلاوت کے ساتھ اپنی آواز اونچی کر لیتے اور کثرت کے ساتھ روتے رہتے اورعصر تک نماز پڑھتے رہے پھر ہمیں عصر پڑھائی اور مسجد کے صحن میں آ گئے اور وہ مصحف میں قرآن مجید پڑھتے رہے اور رات کو میں ان کے ساتھ مغرب پڑھی اور میں نے ان کے بعض پڑوسیوں سے کہا کہ ان کو کس چیز نے عبادت پر اتنا صابر بنا دیا ہے انہوں نے کہا کہ دن میں بھی ان کی یہی عبادت ہے گزشتہ ستر سال سے کیا حال ہوتا اگر آپ ان کی رات کی عبادت دیکھتے انہوں نے کبھی شادی نہیں کی ہے اور نہ ہی رات کو کبھی سونے گئے حتیٰ کہ ان کو راہب کوفہ کہا جاتا تھا۔

قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← هناد بن السري غير مرة إذا ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3238

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3239

3239 - أخبرنا عبد الملك بن محمد بن إبراهيم أنا أبو الحسين أخو تبوك أنا أبو الجهم القرشي ثنا محمد بن العباس القطان ثنا شيبان بن فروخ ثنا جعفر بن سليمان : أضفت برابعة ذات ليلة فبدرت إلى محرابها و بدرت إلى آخر فلما تزل قائمة حتى أصبحت فقلت لها : ما جزاء من قوانا على قيام هذا الليل ؟ قالت : جزاؤه أن تصوم له النهار

ہمیں خبر دی عبدالملک بن محمد بن ابراہیم نے ان کو ابو الحسین اخوتبوک نے ان کو ابو جہم قرشی نے ان کو محمد بن عباس قطان نے ان کو شیبان بن فروخ نے ان کو جعفر بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ ایک رات رابعہ بصریہ کے پاس مہمان بنا میں نے اس کے عبادت کانے کی طرف جانے کی جلدی کی اور دوسری جگہ پر مگر وہ ہمیشہ نماز میں کھڑی رہی حتیٰ کہ اس نے صبح کر دی میں نے ان سے کہا۔ کیا جزا ہے اس کی جس نے ہمیں قوت دی ہے اسی رات کے قیام پر۔ بولی اس کی جزا یہ ہے کہ تم اس کے لئے دن میں روزہ رکھو۔

شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← محمد بن العباس القطان ← أَبُو الْجَهْمِ الْقُرَشِيُّ ← أبو الحسين أخو تبوك ← عبد الملك بن محمد بن إبراهيم

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3239

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3240

3240 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا محمد بن زكريا الأصبهاني ثنا أبو بكر من بني ضبيعة ثنا جعفر بن سليمان الضبعي عن إبراهيم بن عيسى اليشكري قال : سمعت بكر بن عبد الله المزني يقول : من مثلك يا ابن آدم خلى بينك و بين الماء و المحراب متى شئت دخلت على ربك ليس بينك و بينه حجاب و لا ترجمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفارنے ان کو محمد بن زکریا اصفہانی نے انکو ابو بکر بن بنی ضبیعہ نے ان کو جعفر بن سلیمان ضبعی نے ان کو ابراہیم بن عیسیٰ یشکری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بکر بن عبداللہ مزکی سے وہ کہتے ہیں کہ کون تیری مثل اے ابن آدم اس نے تجھے پانی کی اور محراب کے مابین آزادی دی ہے کہ تم جب چاہو اپنے رب کے پاس داخل ہو سکتے ہو تیرے اور ا س کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ترجمان ہے۔

بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِيسَى الْيَشْكُرِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← أبو بكر من بني ضبيعة ← محمد بن زكريا الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3240

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3241

3241 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا العباس بن الوليد أخبرني أبي قال : ثنا الأوزاعي قال : كان بلال بن سعد من العبادة على شيء لم نسمع بأحد قوي عليه كان له في كل يوم و ليلة اغتسالة قال أبي : و كان الأوزاعي من العبادة على شيء لم يسمع بأحد قوي عليه ما أتى عليه زوال قط إلا و هو فيه قائم يصلي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ۔ ان کو حدیث بیان کی ہے ابو العباس رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو عباد بن ولید نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ بلال بن سعد عبادت کے حوالے سے مشہور تھے اس قدر کہ ہم نے نہیں سنا کہ کوئی اس پر قادر ہو کہ وہ ہر رات اور ہر دن میں غسل کرتے تھے ۔ میرے والد نے کہا کہ امام اوزاعی بھی عبادت میں اس قدر مشہور تھے کہ کسی کے بارے میں نہیں سنا گیا کہ وہ اس قدر عبادت پر قادر ہو جتنی وہ کرتے تھے کہ اگر ان پر زوال بھی گزرا تو وہ اس وقت بھی کھڑے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3241

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3242

3242 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي المعروف أنا أبو سهل الأسفرايني أنا أبو جعفر الحذاء ثنا علي بن المديني ثنا نوح بن قيس ثنا عون بن أبي شداد : أن عبد الله بن غالب كان يصلي الضحى مائة ركعة ثم ينصرف فيقول لهذا خلقنا و بهذا أمرنا يوشك أولياء الله أن يكفوا و يحمدوا

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن ابو المعروف ان کو ابو سہل اسفرائینی نے ان کو ابو جعفر جزاء نے ان کو علی بن واینی نے ان کو لوح بن قیس نے ان کو عون بن ابو شداد نے کہ عبداللہ بن غالب چاشت کی نماز ایک سو رکعات پڑھتے تھے۔ اس کے بعد بیٹھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اسی لیے (عبادت کے لیے) پید ا کیے گئے ہیں اور اسی چیز کا حکم دئیے گئے ہیں۔ قریب ہے کہ اللہ کے ولی رک جائیں اور صرف حمد ہی کریں۔

نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْحَذَّاءُ، ← أبو سهل الاسفرايني ← أبو الحسن بن أبي المعروف،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3242

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3243

3243 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق الأسفرايني ثنا أبو عثمان سعيد بن عثمان الحناط ثنا أحمد بن أبي الحوار ثنا علي بن أبي الحسين قال : قال الأوزاعي : خرجت حاجا فدخلت مدينة النبي صلى الله عليه و سلم بليل فأتيت مسجد النبي صلى الله عليه و سلم فإذا بشاب بين القبر و المنبر يتهجد فلما طلع الفجر استلقى على ظهره ثم قال عند الصباح يحمد القوم السرى فقلت له : يا ابن أخ لك و لأصحابك لا للجمالين كذلك رواه سعيد بن عبد العزيز الحلبي عن أحمد بن أبي الحواري

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد حسن بن محمد بن اسحٰق اسفرائنی نے ان کو ابو عثمان سعید بن عثمان حناط نے ان کو احمد بن ابو الحواری نے ان کو علی بن ابو الحسین نے وہ کہتے ہیں کہ امام اوزاعی نے کہا تھا کہ میں حج کرنے نکلا تھا چنانچہ میں جب مدینہ الرسول میں داخل ہوا تو رات کا وقت تھا میں مسجد نبوی میں آیا کیا دیکھتا ہوں کہ نوجوان قبر رسول اور منبر رسول کے درمیان یعنی ریاض الجنہ میں تہجد پڑھ رہا ہے۔ جب صبح صادق ہوئی تو وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹ گیا پھر کہنے لگا۔ صبح کے وقت قوم تعریف کرتی ہے تیری۔ میں نے اس سے کہا کہ اے بھتیجے (حمد کرنا) تیرے اور تیرے اصحاب کے لئے ہے دو جمالوں کے لئے نہیں ہیں۔ اسی طرح روایت کیا ہے اس کو سعید بن عبدالعزیز حلبی نے ان کو احمد بن ابو الحواری نے۔

علي بن أبي الحسين ← أحمد بن أبي الحوار ← أبو عثمان سعيد بن عثمان الحناط ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَائِنِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3243

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3244

3244 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن بن صبيح ثنا عبد الله بن شيرويه ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنا أبو معاوية ثنا عبد الرحمن بن إسحاق عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يحشر الناس في صعيد واحد يوم القيامة فينادي مناد فيقول : أين الذين كانت تتجافى جنوبهم عن المضاجع فيقومون و هم قليل فيدخلون الجنة بغير حساب ثم يؤمر بسائر الناس بالحساب

ہمیں خبر دی ہےا بو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن بن صبیح نے ان کو عبداللہ بن شیرویہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسحٰق نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو اسماء بنت یزید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا قیامت کے دن لوگ ایک ہی میدان میں جمع کیے جائیں گے پھر منادی کرنے والا منادی کرے گا کہاں ہیں وہ لوگ جن کی کروٹیں ان کے بستروں سے علیحدہ رہتی تھیں لہذا وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے حالانکہ وہ لوگ قلیل ہوں گے پھر وہ بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل کیے جائیں گے اس کے بعد تمام لوگوں کے حساب کا حکم دے دیا جائے گا۔

أين الذين كانت تتجافى جنوبهم ← "يُحشرُ الناسُ في صعيدٍ واحدٍ يومَ القيامة، فينادي منادٍ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ← أبو الحسن بن صبيح ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3244

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3245

3245 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة ثنا ثابت قال : سمعت بشير بن كعب العدوي قال : سمعت ربيعة الحرشي زمن معاوية يقول : يجمع الله الخلائق يوم القيامة بصعيد واحد فيكونون ما شاء الله أن يكونوا فينادي مناد سيعلم أهل الجمع لمن العز اليوم و الكرم ليقم الذين { تتجافى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا و طمعا } : فيقومون و فيهم قلة ثم يلبث ما شاء الله أن يلبث ثم يعود فينادي سيعلم أهل الجمع لمن العز و الكرم ليقم { رجال لا تلهيهم تجارة ولا بيع عن ذكر الله وإقام الصلاة } حتى فرغ من الآية فيقومون و هم أكثر من الأولين ثم يلبث ما شاء الله أن يلبث ثم يعود و ينادي سيعلم أهل الجمع لمن العز اليوم و الكرم فيقوم الحمادون لله على كل حال قال : فيقومون و هم أكثر من الأولين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشیر بن کعب عدوی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ربیعہ حرشی سے حضرت معاویہ کے زمانے میں وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمام مخلو قات کو جمع کریں گے ایک ہی مٹی پر اتنی زیادہ تعداد میں ہوں گے جتنی اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا عنقریب جان لیں گے جتھوں اور جماعتوں والے کہ آج غلبہ س کا ہے اور عزت کس کی ہے؟ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں۔ " تتجا فی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعا ومما رزقنھم ینفقون" جن کی کروٹیں ان کے بستروں سے (عبادت میں مصروف ہونے کی وجہ سے) علیحدہ ہو جاتی تھیں جو خوف اور امید کی حالت میں اپنے رب کو پکارتے تھے اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے وہ خرچ کرتے تھے (اللہ کی راہ میں) لہٰذا وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے مگر وہ قلیل مقدار میں ہوں گے ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہے گا معاملہ ٹھہرا رہے گا۔ پھر شروع ہو گا پھر اعلان ہو گا عنقریب اہل جماعت یعنی جتھوں اور گروہوں ( کی طاقت والے) جان لیں گے کہ آج غلبہ کس کا ہہے اور عزت والا کون ہے۔ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں ۔ " لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ واقام الصلوٰۃ " جن کی تجارت اور خرید و فروخت ان کے ذکر اللہ سے اور نماز قائم کرنے سے غافل نہیں کرتا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری آیت تلاوت فرمائی لہذا وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے مگر یہ لوگ پہلے والوں سے زیادہ ہوں گے (وہ جنت میں چلے جائیں گے) اس کے بعد معاملہ رکا رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا روکنا۔ پھر اعلان ہو گا عنقریب اہل جمع یعنی گروہوں اور جتھوں والے جان لیں گے کہ آج غلبہ کس کا ہے اور کس کی عزت و اکرام ہے؟ پھر ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے والے کھڑے ہوں گے پھر وہ کھڑے ہو جائیں گے وہ پہلے والوں سے زیادہ ہوں گے۔

ربيعة الحرشي زمن معاوية ← بُشَيْرِ بْنِ کَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3245

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3246

3246 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن عيسى الجيري ثنا مسدد بن قطن ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عبد الله بن عطاء عن عقبة بن عامر الجهني قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فذكر الحديث في ثواب الوضوء ثم عن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم فيما يقول عند فراغه من الوضوء ثم قال يجمع الناس في صعيد واحد ينفذهم البصر و يسمعهم الداعي فينادي مناد سيعلم أهل الجمع لمن الكرم اليوم ثلاث مرات ثم يقول : أين الذين كانت تتجافى جنوبهم عن المضاجع ؟ ثم يقول : أين الذين كانوا لا تلهيهم تجارة و لا بيع عن ذكر الله إلى آخر الآية ثم ينادي مناد سيعلم أهل الجمع لمن الكرم اليوم ثم يقول أين الحمادون الذين كانوا يحمدون ربهم ؟

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ جیری نے ان کو مسدد بن قطن نے ان کو عثمان بن ابو شیبہ نے ان کو ابوالاحوض نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن عطاء نے ان کو عقبہ بن عامر جہنی نے وہ کہتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے پھر اس نے حدیث ذکر کی وضو کے ثواب کے بارے میں پھر حضرت عمر سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس دعا کے بارے میں جو وضو سے فراغت پر کہنا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں لوگوں کوایک ہی میدان میں جمع کریں گے ان کے پار گزرے گی اور سنوائے گا ان کو داعی اتنے میں اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ عنقریب اہل جمیعت جان لیں گے کہ آج عزت و شر ف کس کے لئے ہے تین بار پھر اس کے بعد کہے گا کہاں ہیں؟ وہ لوگ جن کی کروٹیں بستروں سے علیحدہ ہو جاتی تھیں؟ پھر کہے گا کہاں ہیں وہ لوگ جن کو اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتی تھی نہ ان کے تجارت نہ بیع و شراء۔ اس کے بعد منادی کرنے والا منادی کرے گا کہ عنقریب اہل جمیعت جان لیں گے کہ آج کے دن مہربانی کس کے لئے ہے پھر کہے گا کہ کہاں ہیں حمد کرنے والے جو اپنے رب کی حمد کیا کرتے تھے؟

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← علي بن عيسى الجيري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3246

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3247

3247 - أخبرنا أبو حازم عمر بن أحمد الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي أنا أبو العباس أحمد بن حمدان العكبري ثنا أبو إبراهيم الترجماني عن سعيد بن سعد الجرجاني عن بهشل أبي عبد الله القرشي عن الضحاك عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أشراف أمتي حملة القرآن و أصحاب الليل

ہمیں خبر دی ابو حازم عمر بن احمد حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی نے ان کو ابو العباس احمد بن عکبری نے ان کو ابو ابراہیم ترحمانی نے ان کو سعید بن سعد جرجانی نے ان کو بھشل ابو عبداللہ قرشی نے ان کو ضحاک نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت عزت دار لوگ عامل بالقرآن ہیں اور رات کو شب بیداری کرنے والے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← بهشل أبي عبد الله القرشي ← سعيد بن سعد الجرجاني ← أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ← أبو العباس أحمد بن حمدان العكبري ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ← أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3247

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3248

3248 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ثنا أحمد بن علي الخزار ثنا عبيد الله الوراق ثنا بشر بن الحارث قال : سمعت المعافى بن عمران يقول : عز المؤمن استغناؤه عن الناس و شرفه قيامه بالليل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمر و اور عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو احمد بن علی خزار نے ان کو عبداللہ وراق نے ان کو بشر بن حارث نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا معافی بن عمران سے وہ کہتے ہیں کہ مؤمن کی عزت لوگوں سے اس کے مستعفی ہونے میں ہے اور اس کا شرف و مرتبہ رات کو قیام کرنے میں ہے۔

الناس و شرفه قيامه بالليل ← عِزُّ الْمُؤْمِنِ اسْتِغْنَاؤُهُ ← الْمُعَافِیُّ بْنُ عِمْرَانَ ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← عبيد الله الوراق ← أحمد بن علي الخزار ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3248

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3249

3249 - أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني ثنا أبو أحمد بن فارس ثنا محمد بن إسماعيل قال صهيب بن مهران : شرف المؤمن الصلاة في سواد الليل و اليأس مما في أيدي الناس قال محمد قال : أنا موسى بن إسماعيل عن سبرة بن عبد الله بن خنيس عن عمر بن صالح عن صهيب

ہمیں خبر دی ابو بکر فارسی نے ان کو ابو اسحٰق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارسی نے ان کو محمد بن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں صہیب بن مہران نے کہا مومن کا شرف و مرتبہ رات کی تاریکی میں نماز پڑھنا ہے اور اس سے مایوس اور نا امید ہونا جو کچھ لوگوں کے ہاتھ میں ہے ۔ محمد نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے موسیٰ بن اسماعیل نے بسرہ بن عبداللہ بن خنیس سے ان کو عمر بن صالح نے ان کو صہیب نے۔

مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3249

chevron_left Previous
1…444546…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood