Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3226

3226 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي بالكوفة ثنا الحسن بن مهران الأصبهاني ثنا عبيد الله بن محمد أخبرني محمد بن الحسين الصوفي ثنا إبراهيم بن مسلم القرشي قال : كانت فاطمة بنت محمد بن المنكدر تكون نهارها صائمة فإذا جنها الليل تنادي بصوت حزين هدأ الليل و اختلط الظلام و أوى كل حبيب إلى حبيبه و خلوتي بك أيها المطلوب أن تعتقني من النار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید احمد بن محمد بن عمرو احمسی نے کوفے میں ان کو حسن بن مہران اصفہانی نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو خبر دی محمد بن حسین صیرنی نے ان کو ابراہیم بن مسلم قرشی نے انہوں نے کہا کہ فاطمہ بنت محمد بن منکدر ایسی تھی کہ دن اس کا روزے سے گزرتا تھا اور جب اس پر رات چھا جاتی تھی تو وہ غمگین آواز لگاتی رات چھا گئی اندھیرے مل جل گئے اور ہر محبوب نے اپنے محبوب کے پاس پناہ لے لی ہے اور میری خلوت تیرے ساتھ ہے اے میرے مطلوب تو ہی مجھے جہنم سے آزاد کر دے۔

إبراهيم بن مسلم القرشي ← محمد بن الحسين الصوفي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الحسن بن مهران الأصبهاني ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ بِالْكُوفَةِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3226

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3227

3227 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو عمرو عثمان بن أحمد الدقاق ثنا محمد بن أحمد بن البراء ثنا إبراهيم بن عبد الله الهروي قال : قال هشيم : لو قيل لمنصور بن زاذان ملك الموت على الباب ما كان عنده زيادة في العمل قال : و ذلك أنه كان يخرج و يصلي الغداة في جماعة ثم يجلس فيسبح حتى تطلع الشمس ثم يصلي إلى الزوال ثم يصلي الظهر ثم يصلي إلى العصر ثم يصلي العصر ثم يجلس فيسبح إلى المغرب ثم يصلي المغرب ثم يصلي العشاء الآخرة ثم ينصرف إلى بيته فيكتب عنه في ذلك الوقت

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے انکو خبر دی ہے ابو عمرو عثمان بن احمد دقاق نے ان کو محمد بن احمد بن براء نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ مروی نے وہ کہتے ہیں کہ ہیثم نے کہا کہ اگر منصور بن زازانی سے کہا جاتا کہ موت کا فرشتہ دروازے پر پہنچ چکا ہے تو اس کے ہاں عمل میں زیادتی نہ ہوتی فرمایا کہ یہ اس لئے تھا کہ ان کا معمول یہ تھا کہ وہ صبح صبح جب نکلتے تھے پہلے صبح کی نماز با جماعت ادا کرتے تھے اس کے بعد وہ وہیں بیٹھ جاتے تھے اور تسبیح پڑھتے رہتے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جاتا پھر وہ نماز پڑھنا شروع کر تے تو زوال تک پڑھتے رہتے تھے زوال کے بعد وہ ظہر پڑھتے ۔ اس کے بعد نماز شروع کر تے تو عصر تک پڑھتے رہتے تھے۔ اس کے بعد عصر کی نماز پڑھتے تھے پھر بیٹھ جاتے اور تسبیح پڑھتے رہتے مغرب تک اس کے بعد مغرب پڑھتے اس کے بعد پھر نماز پڑھتے عشاء تک پھر عشاء پڑھ کر گھر واپس لوگ آتے تھے۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو عمرو عثمان بن أحمد الدقاق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3227

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3228

3228 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو عثمان البصري قال : سمعت أبا أحمد الفراء يقول : سمعت الحسين بن منصور يقول : كان سليمان بن المغيرة إذا قام إلى الصلاة لو أكل الذباب وجهه لم يطيرها

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو عثمان بن بصری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو احمد فراء سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسین بن منصور سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن مغیرہ ایسے تھے کہ جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے اگر مکھی ان کے چہرے کو نوچ کھاتی وہ اس کو نہیں اڑاتے تھے (نماز میں مستغرق رہتے تھے۔

الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← ابا احمد الفراء ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3228

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3229

3229 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبي يقول سمعت مريم امرأة عثمان تقول : كنا نؤخر اللعب و الضحك و الحديث إلى أن يدخل أبو عثمان في ورد من الصلاة فإنه كان إذا دخل بيت الخلوة لا يحس بشيء من الحديث و غيره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے مریم عورت عثمان سے سنا وہ کہتی تھی کہ ہم لوگ کھیل کود کر ہنسنے اور بات چیت کرنے کوملتوی کر دیتے تھے اس وقت تک کہ ابو عثمان اپنے نما ز کے معمول میں داخل ہو جاتے وہ ایسے تھے کہ جب وہ خلوت میں (عبادت کے لئے ) داخل ہوتے تو پھر وہ (ایسے عبادت میں مستغرق ہوتے کہ ) بات چیت وغیرہ کچھ بھی محسوس نہیں کرتے تھے۔

أَبِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3229

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3230

3230 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي ثنا أبو الحسن علي بن قرين قال : سمعت الربيع بن سليمان يقول : كان الشافعي رحمه الله قد جزأ الليل ثلاثة أثلاث الثلث الأول يكتب و الثلث الثاني يصلي و الثلث الثالث ينام

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو جعفر محمد بن محمد بغدادی سے ان کو ابو الحسن علی بن قرین سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ربیع بن سلمان سے وہ کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ (ایسے تھے) کہ انہوں نے رات کو تین تہائیوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ وہ ایک تہائی لکھنے میں گزارتے ایک تہائی نماز پرھتے تھے اور ایک تہائی سوتے تھے۔

الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أبو الحسن علي بن قرين ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3230

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3231

3231 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن داود بن إبراهيم : أن الأسد حبس الناس ليلة في طرق الحج فدق الناسي بعضهم بعضا فلما كان في السحر ذهب عنهم فنزل الناس يمينا و شمالا و ألقوا الناس أنفسهم فناموا و قام طاووس يصلي فقال رجل لطاووس : ألا تنام فإنك نصبت الليلة ؟ قال طاووس : و هل ينام السحر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو داؤد بن ابراہیم نے ایک شیر نے حج کے راستے پر لوگوں کا راستہ روک لیا تھا لہذا بھگدڑ کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا کر زخمی ہو گئے تھے۔ ساری رات اسی طرح گزر گئی تھی جب صبح ہوئی تو وہ خود بخود وہاں سے چلا گیا لوگ بھی دائیں بائیں اتر گئے اور اپنے آپ کو انہوں نے گرا دیا اور سو گئے۔ صرف طاؤس نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ ایک آدمی نے طاؤس سے کہا کہ کیا آپ سوتے نہیں ہیں۔ آپ رات بھر کھڑے رہے؟ طاؤس نے کہا کہ کیا سحر بھی سوتی ہے۔

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3231

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3232

3232 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد ثنا محمد بن نعيم ثنا عبد الصمد بن سليمان بن أبي مطر قال : بت عند أحمد بن حنبل رحمه الله فوضع لي صاغرة ماء قال فلما أصبحت وجدني لم استعمله فقال صاحب حديث لا يكون له ورد بالليل قال : قلت مسافر قال : و إن كنت مسافرا حج مسروق فما نام إلا ساجدا

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے انکو محمد بن نعیم نے ان کو عبدالصمد بن سلیمان بن ابو مطر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت احمد بن حنبل کے ہاں رات گزاری تھی۔ انہوں نے میرے پاس پانی کا برتن رکھ دیا تھا کہتے ہیں جب میں نے صبح کی تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں نے اس کو استعمال نہیں کیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ آپ تو صاحب الحدیث ہیں احادیث کے روایت کرنے والے ہیں ) آپ کا رات کی عبادت کا معمول نہیں ہے۔ میں نے جواب دیا کہ وہ ہے مگر میں مسافر ہوں اس لئے۔ فرمایا کہ مسافر ہو تو کیا ہوا مسروق نامی بزرگ نے حج کا جب سفر کیا تھا تو رات بھر عبادت کرتے تھے نیند صرف سجدے میں کرتے تھے۔

قلت مسافر ← صاحب حديث لا يكون له ورد بالليل ← فلما أصبحت وجدني لم استعمله ← بت عند أحمد بن حنبل فوضع لي صاغرة ماء ← عبد الصمد بن سليمان بن أبي مطر ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3232

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3233

3233 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا أبو يوسف يعقوب بن سفيان أخبرني بعض شيوخ أهل الكوفة قال : كان لهم يعني لآل الحسن بن صالح بن حي خادم يخدمهم فاحتاجوا إلى بيعها فباعوها فلما كان في أول الليل ذهبت و ألحت على مولاها تقيمه و تقول : ذهب الليل مرة بعد مرة حتى أضجرته فصاح بها قال : فلما أصبحت ذهبت إلى عند الحسن فقالت : يا سبحان الله ما كان يجب عليكم فيما خدمتكم أن تبيعوني من مسلم قال : فقال الحسن سبحان الله و ما له ؟ قال : انتظرت ليقوم ليتهجد فلم يفعل فألححت عليه فزبرني و شتمني قال : فصاح يا علي و قال ما تعجب من هذه اذهب فتسلف ثمنها من بعض اخواننا و أعتقها

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو ابو یوسف یعقوب بن سفیان نے کہ مجھے خبر دی ہے بعض شیوخ اہل کوفہ نے کہ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کے پاس یعنی آل حسن بن صالح بن حی کے پاس ایک خادم تھا جوان کی خدمت کیا کرتا تھا انہیں اس کے بیچنے کی ضرورت پیش آ گئی لہذا اسے انہوں نے بیچ دیا جب رات کا پہلا حصہ ہوا تو میں گیا اور جا کر اس کی مالکن سے اصرار کیا کہ اس کو اٹھ دینا اور کہنا کہ رات گئی بار بار کہا حتی کہ مالکن نے اس کو ڈانٹ دیا اور اس کے ساتھ چیخا کہتے ہیں کہ جب میں صبح کی تو میں حسن کے پاس گیا۔ وہ بولی یا سبحان اللہ کیا تمہارے اوپر لازم نہیں تھا بوجہ اس کے کہ میں نے تمہاری خدمت کی تھی کہ تم لوگ مجھے کسی مسلمان کے پاس بھیج دیتے کہتے ہیں کہ جس نے کہا سبحان اللہ کیا ہوا اس کا؟ فرمایا کہ میں نے انتظار کیا کہ تاکہ اٹھے اور تہجد پڑھے اس نے ایسا نہیں کیا میں نے اس پر اصرار کیا تو اسے مجھے مارا اور مجھے گالیاں دیں۔ کہتے ہیں کہ پھر وہ چیخے یا علی اور کہا تم اس سے زیادہ کیا چاہتے ہو جاؤ اس کی ہمارے بعض بھائیوں سے پہلے رقم لو اور اس کو آزاد کر دو۔

بعض شيوخ أهل الكوفة ← أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3233

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3234

3234 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو منصور محمد بن محمد بن سمعان المذكر أخبرني محمد بن المسيب الأرغياني ثنا أبو سعيد الأشج ثنا أبو خالد الأحمر قال : أكل سفيان فشبع فقال : إن الحمار إذا زيد في علفه زيد في عمله فقام حتى أصبح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو منصور محمد بن سمعان واعظ نے ان کو محمد بن مسیب ارغیانی نے ان کو ابو سعید نے ان کو ابو خالد احمد نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے کھانا کھایا جب پیٹ بھر گیا تو بولے کہ گدھا جب زیادہ گھانس کھا تا ہے اس کا کام بھی زیادہ کر دیا جاتا ہے پھر وہ عبادت کرنے جو کھڑے ہوئے تو انہوں نے صبح کر دی۔

أكل سفيان فشبع ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْأَرْغِيَانِيُّ، ← أبو منصور محمد بن محمد بن سمعان المذكر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3234

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3235

3235 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو نصر الخفاف ثنا محمد بن المنذر حدثني محمد بن أحمد بن الحسين بن الربيع يقول : رأيت ابن المبارك يقاتل بأرض الروم في يوم شديد الحر و قد وقع قلنسوته عن رأسه قال : و قال محمد بن الوزير وصي ابن المبارك كنت مع عبد الله في المحمل فانتهينا إلى موضع بالليل و كان ثم خوف قال : فنزل ابن المبارك و ركب دابته حتى جاوزنا الموضع فانتهينا إلى نهر فنزل عن دابته و أخذت أنا مقودته و اضطجعت فجعل يتوضأ و يصلي حتى طلع الفجر و أنا أنظر إليه فلما طلع الفجر ناداني قال : قم فتوضأ قال : قلت أنا على وضوء فركبه الحزن حيث علمت أنا بقيامه فلم يكلمني حتى انتصف النهار و بلغت المنزل معه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو نصر خفاف نے ان کو محمد بن منذر نے ان کو محمد بن احمد بن حسن بن ربیع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مبارک کو دیکھا وہ روم کی سر زمین پر سخت گرمی کے ایام میں جہاد کر رہے تھے اور ان کے سر سے ان کی ٹوپی گر گئی کہتے ہیں کہ کہا محمد بن وزیر ابن مبارک کے وصی نے کہ میں عبداللہ کے ساتھ تھا محمل میں ہم لوگ رات کو ایک جگہ پہنچے اور وہ خوف تھا خطرہ تھا۔ کہتے ہیں کہ وہاں پر ابن مبارک اترے اور پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے حتیٰ کہ اس مقام سے ہم نکل گئے اور ہم ایک نہر پر پہنچے لہذا وہ اپنی سواری سے اترے چنانچہ میں نے اس کی لگام یا رسی لی اور میں لپٹ گیا وہ وضو کرنے اور نماز پڑھنے لگ گئے حتیٰ کہ فجر ہو گئی میں ان کو دیکھتا رہا لہذا انہوں نے مجھے آواز دی کہ اٹھ جا وضو کر لے کہتے ہیں میں نے کہا کہ میرا تو وضو ہے چنانچہ ان پر حزن و غم سوار ہو گیا جب انہوں نے یہ محسوس کیا کہ مجھے ان کے رات بھر قیام کا علم ہے چنانچہ انہوں نے مجھ سے کلام نہیں کیا حتیٰ کہ دوپہر ہو گئی اور میں ان کے ساتھ منزل پر پہنچ گیا۔

محمد بن أحمد بن الحسين بن الربيع ← محمد بن المنذر ← أبو نصر الخفاف ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3235

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3236

3236 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمر بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق ثنا الحميدي ثنا سفيان عن ابن شبرمة قال : صحبت كرزا فكان إذا نزل يلتفت قبل أن يضرب خباءه فإذا رأى موضعا طيبا صلى فيه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمر بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو ابن مغیرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت کرز کا ساتھی بنا ان کی عادت تھی کہ وہ جہاں کہیں اترتے تھے تو خیمہ نصب کرنے سے پہلے ادھر ادھر دیکھتے تھے جب کوئی پاک جگہ دیکھتے تو اس میں وہ نماز پڑھ لیتے تھے۔

ابْنِ شُبْرُمَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أبو عمر بن السماك ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3236

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3237

3237 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن محمد بن الحسين النصر ابادي ثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا أبو الأصبع محمد بن سماعة الرملي قال : سمعت ضمرة بن ربيعة يقول : حججنا مع الأوزاعي سنة خمسين و مائة فما رأيته مضطجعا على المحمل في ليل و لا نهار قط و كان يصلي فإذا غلبه النوم استند إلى القتب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن بن محمد بن حسین نصر آبادی نے ان کو جعفر بن محمد فریابی نے ان کو ابو الاصبح محمد بن سماعہ رملی نے وہ کہتے ہیں کہ میں سنا ضمرہ بن ربیعہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حضرت اوزاعی کے ساتھ حج کیا تھا سنہ ایک پچاس ہجری میں ہم نے انہیں بستر پر لیٹے کبھی نہیں دیکھا تھا نہ رات میں نہ دن میں وہ نماز پڑھتے رہتے تھے۔ جب نیند ان پر غالب آتی تھی وہ پلان کے ساتھ ٹیک لگا لیتے تھے۔

ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← أبو الأصبع محمد بن سماعة الرملي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← أبو الحسن محمد بن الحسين النصر ابادي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3237

chevron_left Previous
1…434445…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood