Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3202

3202 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن إسحاق بن أحمد ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي ثنا موسى بن هلال قال : ثنا رجل كان جليسا لنا و كانت امرأة حسان مولاة له قال : فحدثني امرأة حسان بن أبي سنان قالت كان يجيئني فيدخل معي في فراشي ثم يخادعني كما تخادع المرأة صببها فإذا علم أني قد نمت سل نفسه فخرج ثم يقوم فيصلي قالت : فقلت له يا أبا عبد الله كم تعذب نفسك ارفق بنفسك قال : اسكتي ويحك يوشك أن أرقد رقدة لا أقوم منها زمانا

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن اسحٰق بن احمد نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو موسیٰ بن ہلال نے ان کو اس آدمی نے جو ہم لوگوں کا ہمنشین تھا او ر حسان کی بیوی اس کی لونڈی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بات بتائی حسان بن ابو سنان کی بیوی نے وہ کہتی ہیں کہ(اپنے شوہر حسان کے بارے میں کہ وہ ) میرے پاس آتا اور میرے ساتھ میرے بستر میں داخل ہوجاتا اس کے بعد مجھے ایسے دھوکا دیتے جیسے کوئی عورت اپنے بچے کو دھوکہ دیتی ہے اور جب وہ سمجھ لیتے کہ میں سو گئی ہوں وہ اپنے آپ کو آرام سے بستر سے نکال لیتے یوں وہ نکل جاتے اور نماز پڑھنے کھڑے ہو جاتے۔ وہ عورت کہتی ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ ابو عبداللہ آپ اپنے آپ کو کتنی سخت تکلیف دیتے ہیں۔ آپ اپنے اوپر رحم کیجیے تو انہوں نے کہا کہ تم چپ ہو جاؤ ہلاک ہو جاؤ قریب ہے کہ میں سو جاؤں اور ایسا سوؤں کہ پھر میں کبھی بھی نہ اُٹھ سکوں۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3202

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3203

3203 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحضر بن أبان ثنا سيار ثنا جعفر قال : سمعت مالك بن دينار يسأل هشام بن زياد العدوي فقال له : حدثنا بحديث أخيك فقال : كان أخي رحمه الله العلاء بن زياد يحيي كل ليلة جمعة قال : فقال في ليلة جمعة لامرأته أسماء يا أسماء إني أجد الليلة فترة فإذا انقضى وقت كذا وكذا فأيقظيني فلما جاءت تلك الساعة فلم توقظه فأتاه في منامه آت فأخذ بمقدم رأسه فقال ابن زياد قم فاذكر الله يذكرك فقام فزعا فلم تزل تلك الشعرات من مقدم رأسه قائمة ما صحب الدنيا حتى مات و لقد غسلناه يوم غسلناه و إنهن لقائمة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد بن ابو حامد نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا وہ مالک بن دینار سے کہ وہ ہشام بن زیاد عددی سے پوچھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آپ ہمیں اپنے بھائی کی حدیث بتائیے انہوں نے کہا کہ میرے بھائی تھے علاء بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ ۔ شب جمعہ پوری رات جاگتے اور عبادت کرتے تھے اور جمعہ کی رات کو وہ اپنی بیوی سے کہتے اے اسماء مجھے آج ذرا سستی آ رہی ہے لہذا مجھے فلاں وقت جگا دینا جب وہ قت گزر جاتا اور وہ ان کونہ جگاتی تو وہ خواب میں دیکھتے کہ کوئی آنے والا اس کے پاس آیا ہے اوراس نے ان کی پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر ان کو اٹھا دیا ہے اور اٹھانے والا یہ کہتا کہ اٹھ جا اے ابن زیاد اللہ کو یاد کروہ تجھے یاد کرتا ہے چنانچہ وہ گھبرا کر اٹھ جاتے اور ان کے وہ بال ہمیشہ سیدھے کھڑے رہتے جب تک وہ دنیا میں رہے۔ مرنے تک اور جب مرنے کے بعد ہم نے اسے غسل دیا ہے تو ان کے سامنے کے بال بدستور کھڑے ہوئے تھے۔

مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ، يَسْأَلُ هِشَامَ بْنَ زِيَادٍ الْعَدَوِيَّ ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الحضر بن أبان ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3203

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3204

3204 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا محمد يحيى بن منصور القاضي يقول : ثنا أبو بكر الإسماعيلي النيسابوري ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا سليمان الداراني يقول : بينا أنا ساجد إذ ذهب بي النوم فإذا أنا بها يعني الحوراء قد ركضتني برجلها فقالت حبيبي ترقد عيناك و الملك يقظان ينظر إلى المتهجدين و تهجدهم بؤسى لعين آثرت لذة نومة على لذة مناجاة العزيز قم فقد دنا الفراغ و لقي المحبون بعضهم ببعض فما هذا الرقاد حبيبي و قرة عيني أترقد عيناك و أنا أربأ لك في الخدر منذ كذا و كذا فوثبت فزعا و قد عرقت استحياء من توبيخها إياي و إن حلاوة منطقها لفي سمعي و قلبي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو محمد یحییٰ بن منصور قاضی سے وہ کہتے تھے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر اسماعیل نیساپوری نےان کو احمد بن ابو الخوارزمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو سلیمان درانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نماز میں سجدہ کے دوران اچانک سو گیا مجھے نیند نےلے لیا۔ اچانک خواب میں دیکھتا ہوں میں (ایک جنت کی) حو ر کے پاس ہوں اس نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر ماری ہے اور وہ کہہ رہی ہے اے میرے محبوب تیری آنکھیں سو رہی ہیں حالانکہ بادشاہ (حقیقی) جاگ رہا ہے وہ تہجد پڑھنے والوں کو دیکھ رہا ہے اور ان کی تہجد ۔۔۔وہ ملعون ہے جو اپنی نیند کی لذت کو غالب رب کی مناجات پر ترجیح دیتا ہے۔ تحقیق رخصت ہونے کا وقت قریب ہو چکا ہے اور محبوب ایک دوسرے کو مل گئے ہیں پس یہ کیسا سونا ہے اے میرےمحبوب اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک کیا تیری آنکھیں سو رہی ہیں حالانکہ ہم اپنے خیمے یا اپنی دولہن کھٹ میں اتنی اتنی عرصے سے انتظار کر رہے ہیں (اس کے بعد آنکھ کھل گئی) اور میں بوکھلا کر جلدی سے اچھلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مجھے جواس کی ڈانٹ پڑی اس سے شرم و حیاء کے مارے میں پسینے سے شرابور ہو چکا ہوں اور اس کی گفتار کی شیرینی میرے کانوں اور میرے دل میں موجود ہے۔

بها يعني الحوراء قد ركضتني برجلها ← ساجد إذ ذهب بي النوم فإذا ← بَيْنَا ← أَبَا سُلَيْمَانَ الدَّارَانِيُّ ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أبو بكر الإسماعيلي النيسابوري ← أبا محمد يحيى بن منصور القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3204

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3205

3205 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين حدثني يونس بن يحيى أبو نباتة الأموي عن منكدر بن محمد عن أبيه : أن تميم الداري نام ليلة لم يقم يتهجد فيها حتى أصبح فقام سنة لم ينم فيها عقوبة للذي صنع

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن ابو دنیا نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو یونس بن یحییٰ نے ان کو ابو بناتہ اموی نے ان کو منکدر بن محمد بن ان کو ان کے والد نے یہ کہ تمیم دار ایک رات کو سوئے تواس رات تہجد کے لئے نہ اٹھ سکے حتیٰ کہ صبح ہو گئی چنانچہ انہوں نے اپنے آپ کو اس کی یہ سزا دی کہ سال بھر تک رات کو سونا چھوڑ دیا۔

منكدر بن محمد ← يونس بن يحيى أبو نباتة الأموي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3205

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3206

3206 - قال و ثنا عبد الله ثنا إسحاق بن إسماعيل عن جرير عن طلق بن معاوية قال : قدم رجل منا يقال له هند بن عوف من سفر فمهدت له امرأته فراشا و كانت له ساعة من الليل يقومها فنام عنها حتى أصبح فحلف أن لا ينام على فراش أبدا

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ نے ان کو اسحٰق بن اسماعیل نے ان کو جریر نے ان کو طلق بن معاویہ نے وہ کہتے ہیں ایک آدمی ہم میں سے سفر سے آیا اسے ہند بن عوف کہتے تھے اس کی بیوی نے اس کے لئے بستر بچھایا اور وہ سو گیا مگر رات کو اٹھنے کا ایک وقت مقرر تھا جس میں وہ اٹھ جاتے تھے اور عبادت کرتے تھے۔ (آج سفر کی تھکان سے نہ اٹھ سکے اور صبح ہو گئی) چنانچہ اس نے قسم کھا لی کہ آج کے بعد وہ بستر پر کبھی بھی نہیں سوئے گا۔

طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← جَرِيرٌ ← إسحاق بن إسماعيل ← عَبْدُ اللَّهِ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3206

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3207

3207 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا محمد بن حاتم أنا أبو محمد بن منصور ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا علي بن عثام ثنا حفص بن غياث عن محمد بن إسحاق قال : قدم علينا عبد الرحمن بن الأسود معتلا من رجله فكان يقوم على رجله حتى يسقط قال علي : و كان الأسود ذهبت عينه فلم يعلم بها ما شاء الله

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن حاتم نے ان کو ابو محمد بن منصور نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو علی بن عثام نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو محمد بن اسحٰق نے انہوں نے کہا عبدالرحمٰن بن اسود ہمارے پاس آئے مگر ان کی پیر میں تکلیف تھی وہ پیر پر کھڑے ہوتے تو گر جاتے۔ علی نے کہا کہ اسووکی بینائی چلی گئی تھی مگر انہوں نے لوگوں کو ایک عرصے تک معلوم نہ ہونے دیا۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أبو محمد بن منصور ← مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3207

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3208

3208 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان ثنا جعفر بن أحمد بن نصر ثنا الحسين بن منصور قال : سمعت علي بن عثام يقول : كان في بني عدي ثلاثون شيخا ما يأتون فراشهم إلا زحفا أو حبوا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن داؤد سلیمان نے ان کو حفص بن احمد بن نصر نے ان کو حسین بن منصور نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن عثام سے وہ کہتے ہیں بنو عدی میں تیس بوڑھے شیخ تھے جو کہ بستر پر نہیں آ سکتے تھے مگر پیٹھ کے بل یا گھٹنوں کے بل۔

عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3208

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3209

3209 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل محمد بن أحمد الصيرفي ببغداد ثنا محمد بن أحمد بن البراء قال : سمعت علي بن المديني يقول : دخلت على امرأة عبد الرحمن بن مهدي و كنت أزورها بعد موته فرأيت سوادا في القبلة فقالت : هذا موضع استراحة عبد الرحمن كان يصلي بالليل فإذا غلبه النوم وضع جبهته على هذا الموضع

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل محمد بن احمد صیرنی نے بغداد میں ان کو محمد بن احمد بن براء نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا علی بن مدینی سے وہ کہتے ہیں کہ میں عبدالرحمٰن بن مہدی کی بیوی کی خبر گیری کرنے اس کے پاس جاتاتھا ان کی وفات کے بعد میں نے قبلہ کی طرف ایک کالا نشان دیکھا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت عبدالرحمٰن کے آرام کی جگہ کہ رات کو وہ نماز پڑھتے رہتے تھے جب نیند غالب آنے لگتی تھی تو صرف اپنا ماتھا اس جگہ پر رکھ لیتے تھے (اور اسی سے گزارہ کر لیتے تھے)۔

عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← أبو الفضل محمد بن أحمد الصيرفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3209

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3210

3210 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني سعيد بن أسد ثنا حمزة عن ابن شوذب قال : قالت معاذة العدوية : ما كان صلة يجيء من مسجد بيته إلى فراشه إلا حبوا يقوم حتى يفتر في الصلاة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے انکو یعقوب بن سفیان نے ان کو سعید بن اسد نے ان کو حمزہ نے ان کو ابن شوذب نے وہ کہتے ہیں کہ معاذ عدویہ نے کہا تھا کہ حضرت صلۃ اپنے گھر کی مسجد سے اپنے بستر تک آنے کے لئے گھٹنوں کے بل ہی آتے تھے تاکہ نماز میں کھڑے ہونے کی تاخیر نہ ہو جائے۔

ابْنِ شَوْذَبٍ ← حَمْزَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3210

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3211

3211 - و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب ثنا عبد الله بن عثمان ثنا عبد الله بن المبارك أنا المستلم بن سعيد الواسطي أنا حماد بن زيد العبدي أن أباه أخبره قال : خرجنا في غزوة إلى كابل و في الجيش صلة بن الأشيم قال : فترك الناس عند العتمة ثم اضطجع فالتمس غفلة الناس حتى إذا قلت هدأت العيون وثب فدخل غيضة قريبا منه و دخلت في إثره فتوضأ ثم قام يصلي فافتتح قال : و جاء أسد حتى دنا منه فصعدت في شجرة قال : فتراه التفت إليه أو عذبه حتى سجد فقلت الآن يفترسه فلا شيء فجلس ثم سلم فقال : أيها السبع اطلب الرزق من مكان آخر فولى و إن له زئير أقول تصدع الجبال منه فما زال كذلك يصلي حتى إذا كان عند الصبح جلس فحمد الله بمحامد لم أسمع بمثلها إلا ما شاء الله ثم قال : اللهم إني أسالك أن تجرني من النار أو مثلي يجترىء أن يسألك الجنة ثم رجع فأصبح كأنه بات على الحشايا و أصبحت و بي من الفترة شيء الله به عليم قال : فلما دنونا من أرض العدو قال الأمير : لا يتدن أحد من العسكر قال : فذهبت بغلته يعني بغلة صلة بثقلها فأخذ يصلي فقالوا له : إن الناس قد ذهبوا فمضى ثم قال : دعوني أصلي ركعتين قالوا : إن الناس قد ذهبوا قال : إنما هما خفيفتين قال : فدعا ثم قال اللهم إني أقسم عليك أن ترد علي بغلتي و ثقلها قال فجاءت حتى قامت بين يديه فلما التقينا العدو حمل هو و هشام بن عامر فصنعا بهم طعنا و ضربا و قتلا قال : فليس ذلك اليوم العدو و قالوا : إن رجلين من العرب صنعا بنا هذا فكيف لو قاتلونا المسلمين فاعطوا للمسلمين حاجتهم فقلت لأبي هريرة : إن هشام بن عامر و كان يجالسه ألقى بيده إلى التهلكة فأخبره خبره فقال أبو هريرة : كلا و لكنه التمس هذه الآية : { ومن الناس من يشري نفسه ابتغاء مرضاة الله والله رؤوف بالعباد }

ہمیں خبر دی ابوا لحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کومستلم بن سعید واسطی نے ان کو حماد بن زید عبدی نے یہ اس کو اس کے والد نے خبر دی کہ ہم لوگ کابل کی طرف ایک غزوے میں روانہ ہو گئے تھے لشکر میں حضرت صلۃ بن اشیم بھی تھے کہتے ہیں کہ عشاء کے بعد اس نے لوگوں کو چھوڑ دیا پھر وہ لیٹ گیا اوراس نے لوگوں کے غافل ہونے کا انتظار کیا حتیٰ کہ جب سب لوگ سو گئے وہ جلدی سے اٹھا اور جھاڑیوں کے ایک جھنڈ میں داخل ہو گیا جو کہ قریب تھا میں اسے دیکھ رہا تھا میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا گیا اس نے وضو کیا پھر نماز پڑھنا شروع کر دی اس نے جونہی نماز شروع کی تو ایک شیر آ کر اس کے قریب کھڑا ہو گیا میں جلدی سے درخت پر چڑھ گیا شیر اس کو دیکھتا رہا کہ وہ اسکی طرف توجہ کرتا ہے یا اس کو کوئی تکلیف دیتا ہے حتیٰ کہ اس نے سجدہ کر لیا میں نے دل میں سوچا کہ اب شیر اس کو پھاڑ دے گا کوئی چیز بھی نہیں ہے وہ سجدے کر کے بیٹھ گیا اس کے بعد اس نے سلام پھیر دیا اور کہنے لگا۔ اے درندے تم رزق کی تلاش کر لو چنانچہ شیر واپس لوٹ گیا اور وہ زور زور سے دھاڑ رہا تھا ۔میں سوچ رہا تھا کہ اس کے دھاڑنے سے پہاڑ پھٹ پڑیں گے۔ وہ اسی طرح نماز پڑھتا رہا جب صبح قریب ہوئی تو بیٹھ گیا اور اللہ کی حمد کی اس طرح کہ میں نے اس کی مثل حمد نہیں سنی اس کے بعد دعا کی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھ کو جہنم سے بچا لے بھلا میرے جیسا بھی کبھی یہ جرات کر سکتا ہے کہ تجھ سے جنت کا سوال کرے پھر وہ واپس لوٹ آیا اور ایسے تھا جیسے رات بھر بستروں پر آرام کرتا رہا اور صبح ہوئی تو تھکن سے میری ایسی حالت تھی کہ بس اللہ ہی جانتا ہے۔ جب ہم لوگ دشمن کی زمین کے قریب پہنچے تو امیر نے حکم دیا کہ لشکر سے کوئی پیچھے نہ رہے (لشکر کو روانگی کا حکم مل گیا اتنے میں اس نے دیکھا تو) اس کا خچر اس کے سامان کو لے کر غائب ہو چکا ہے بس پھر وہ نماز پڑھنا شروع ہو گئے ان سے سب نے کہا کہ لوگ جا چکے ہیں وہ ذرا سا روانہ ہوا پھر کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں دو رکعت پڑھوں گا سب نے کہا کہ لوگ جا چکے ہیں۔ وہ بولا کہ بس ہلکی سی دو رکعت تو ہیں۔ کہتے ہیں کہ پھر اس نے دو رکعت کے بعد دعا کی اے اللہ میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ مجھ پر میرا خچر سامان سمیت واپس کر دے۔ کہتے ہیں کہ بس وہ خچر آ کر سامنے کھڑا ہو گیا۔ پھر جب ہم دشمن سے جا کر ٹکرائے تو صلہ بن اشیم نے اور ہشام بن عامر نے حملہ کیا اور خوب نیزہ بازی کی اور تلوار زنی کی اور خوب مارا۔ کہتے ہیں کہ اس دن انہوں نے دشمن کو توڑ کررکھ دیا اور وہ کہتے تھے کہ عرب کے دومجاہدوں نے ہمارا اس طرح حشر خراب کر دیا ہے اگر سارے مسلمان ہم سے لڑتے کیا حالت کرتے چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کی بات مان لی۔ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ بے شک ہشام بن عامر ( جو کہ ان کے پاس بیٹھے تھے) اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈالا۔ انکی خبر ان کو بتاؤ۔ تو حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ ایسی بات ہر گزنہیں ہے لیکن انہوں نے اس آیت کو تلاش کر لیا تھا۔ " ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ واللہ رؤف بالعباد" بعض لوگ وہ ہیں جو اپنے آپ کو اللہ کی رضا کی تلاش میں بیچ دیتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر شفیق ہے۔

حماد بن زيد العبدي ← المستلمُ بنُ سعيدٍ الواسطيُّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← يَعْقُوبُ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3211

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3212

3212 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل ثنا عبد الله ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا معوية بن هشام ثنا سفيان عن الأعمش عن عبد الرحمن بن أبي ليلى : أنه كان يصلي فإذا دخل الداخل أتى فراشه فاتكا عليه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو معاویہ بن ہشام نے ان کو سفیان نے ان کو اعمش نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ نے کہ بے شک وہ نماز پڑھتے رہتے تھے جب کوئی اندر آنے والا آتا تو وہ اپنے بستر پر آ جاتے اور اس کے ساتھ سہارا لگا لیتے۔

الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← معوية بن هشام ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3212

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3213

3213 - أخبرنا أبو عبد الله الغضائري ببغداد ثنا أحمد بن سلمان النجاد ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا داود بن رشيد ثنا منصور أبو أمية خادم عمر بن عبد العزيز قال : رأيت عمر بن عبد العزيز رضي الله عنه و له سفط في كوة مفتاحه في إزاره فكان يتغفلني فإذا نظر إلي قد نمت فتح السقط فأخرج منه جبية شعر و رداء شعر فصلى فيهما الليل كله فإذا نودي بالصبح نزعهما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ غضائری نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان نجار نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو داؤد بن رشید نے ان کو منصور نے ان کو ابو امیہ خادم عمر بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ ان کی ایک دراز تھی ایک الماری کے اندر اس کی چابی انکے تہہ بند میں ہوتی تھی وہ مجھے بے خبر ہونے دیتے جب وہ میری طرف دیکھتے کہ میں سو چکا ہوں تو وہ دراز کو کھولتے اس میں سے بالوں کی ایک قمیص یا جبہ اور ایک بالوں کی چادر نکالتے رات بھر ان دونوں میں نماز پڑھتے رہتے جب صبح اذان ہو جاتی تو ان دونوں کو اتار کر رکھ دیتے۔

منصور أبو أمية خادم عمر بن عبد العزيز ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← أبو عبد الله الغضائري ببغداد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3213

chevron_left Previous
1…414243…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood