Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2745

2745 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاد العدل ثنا إبراهيم بن الحسين بن ريزيل ثنا عبد الله بن صالح المصري حدثني الليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير أنه سمع أبا ذر و أبا الدرداء قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا أول من يؤذن له بالسجود يوم القيامة و أول من يؤذن له أن يرفع رأسه فأرفع رأسي فانظر بين يدي فأعرف أمتي من بين الأمم فقال رجل يا رسول الله فكيف تعرف أمتك من بين الأمم ما بين نوح إلى أمتك ؟ قال : غر محجلون من أثر الوضوء لا يكون لأحد من الأمم غيرهم و أعرفهم أنهم يأتون كتبهم بأيمانهم و أعرفهم بسيماهم في وجوههم من أثر السجود و أعرفهم بنورهم الذي بين يديه و عن أيمانهم و عن شمائلهم قال البيهقي رضي الله عنه كذا وجدته و لو كان عن أبيه عن أبي ذر و أبي الدرداء لكان موصولا و كأنه سقط من الكتاب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ عدل نے ان کو ابراہیم بن حسین بن ریزیل نے ان کو عبداللہ بن صالح مصری نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو یزید بن حبیب نے ان کو عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر نے کہ انھوں نے سنا ابو ذر سے اور ابو درداء سے دوونوں نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا: میں پہلا شخص ہوں گا قیامت کے دن جس کو سجدہ کرنے کی اجازت ملے گی اور پہلا ہوں گا جس کوسجدے سے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی اور اپنا سر اوپر اٹھاؤں گا اور اپنےسامنے دیکھوں گا اور تمام امتوں میں سے اپنی امت کو پہچانوں گا ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ آپ تمام امتوں میں سے اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے جبکہ نوح سے لے کر آپ کی امت تک ساری امتیں ہوں گی آپ نے فرمایا کہ وہ روشن چمکتے چہرے اور ہاتھ پاؤں والے ہوں گے وضو کے اثر سے یہ علامت تمام امتوں میں سے کسی کی نہیں ہو گی سوائے ان کے اور میں ان کو پہچانوں گا اس کے گروہ دائیں طرف سے آئیں گے اور میں ان کو پہچانوں گا ان کی علامتوں سے جوان کے چہروں کے سجدوں کے اثر سے ہوں گی اور میں انکو اس نور سے پہچانوں گا جو ان کے آگے اور ان کے دائیں بائیں ہو گا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے اس روایت کو ایسے ہی پایا ہے اگر ان کو والد سے اور وہ ابو ذر سے اور ابو درداء سے روایت کرتے تو موصول ہوتی گویا کہ کتاب سے ساقط ہو گئی ہے۔

أبا ذر و أبا الدرداء ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ← إبراهيم بن الحسين بن ريزيل ← علي بن حمشاد العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 2745

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2746

2746 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد المقرىء ثنا أبو عيسى الترمذي ثنا محمد بن حميد الرازي ثنا جرير عن علي بن مجاهد قال : حدثنيه و هو ثقة يعني عن ثعلبة عن الزهري قال : إنما كره المنديل بعد الوضوء لأن كل قطر توزن قال البيهقي رحمه الله و قد روينا في كتاب السنن عن جماعة أنهم كرهوه و عن جماعة أنهم رخصوا فيه و تركه أولى إذا لم يجف من هبوب الريح أن يتبقى عليه نجاسة و الله أعلم و روينا في حديث أبي حازم عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال في هذا الحديث : لكم سيما ليست لأحد من الأمم تردون علي غرا محجلين من أثر الوضوء و روينا في حديث حذيفة بن اليمان عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الحديث : تردون علي غرا محجلين من آثار الوضوء و ليس لأحد غيركم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو حامد مقری نے ان کو ابو عیسی ترمذی نے ان کو محمد بن حمید رازی نے ان کو حریر نے ان کو علی بن مجاہد نے اس نے کہا کہ مجھے یہ حدیث بیان کی ہے انہوں نے اور وہ ثقہ ہیں یعنی ثعلبہ سے اس نے زہری سے انھوں نے کہا کہ وضو کے بعد رومال استعمال کرنا یعنی ہاتھ منہ پوچھنا مکروہ ہے اس لیے کہ ہر قطرہ وزن کیا جائے گا امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے کتاب سنن میں جماعت سے روایت کیا ہے کہ وہ وجو کے بعد رومال استعمال کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور ایک جماعت سے روایت کیاکہ وہ اس میں رخصت دیتے تھے مگر اس کو ترک کرنا زیادہ بہتر ہے جب ہوا کے چلنے سے نہ سوکھے تو گویا نجاست ان پر باقی رہتی ہے (گویا لوگ اسے سمجھتے ہیں) اور ہم نے روایت کی ہے حدیث ابو حازم میں ابو ہریرہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انھوں نے فرمایا اس حدیث میں کہ تمہاری ایسی ایسی علامات ہو گی جو تمام امتوں میں سے کسی کی نہیں ہوں گی تم لوگ میرے پاس آؤ گے سفید چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ وضو کے اثر سے ۔ اور ہم نے روایت کی ہے حذیفہ بن یمان کی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس حدیث میں کہ تم لوگ پاس آؤ گے سفید چہرے اور سفید ہاتھ پاؤں والے وضو کے آثار سے یہ علامت تمہارے علاوہ کسی کی نہیں ہو گی۔

الزُّهْرِيِّ، ← ثَعْلَبَةَ ← و هو ثقة يعني ← عَلِيُّ بْنُ مُجَاهِدٍ ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: ← أبو حامد المقرىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 2746

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2747

2747 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العنزي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا هشام بن عمار السلمي ثنا صدقة بن خالد عن عتبة بن أبي حكيم حدثني طلحة بن نافع حدثني أبو أيوب الأنصاري و جابر بن عبد الله و أنس بن مالك أن هذه الآية نزلت : { فيه رجال يحبون أن يتطهروا و الله يحب المطهرين } : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر الأنصار أن الله قد أثنى عليكم في الطهور خيرا فما طهوركم هذا قالوا : يا رسول الله نتوضأ للصلاة و نغتسل من الجنابة و نستنجي بالماء قال : هو ذاك فعليكم به

میں نے خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن محمد بن سلمہ عنزی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو ھشام بن عمار سلمی نے ان کو صدقہ بن خالد نے ان کو عتبہ بن ابو حکیم نے ان کو حدیث بیان کی ہے طلحہ بن نافع نے ان کو ابو ایوب انصاری نے اور جابر بن عبداللہ نے اور انس بن مالک نے کہ یہ آیت نازل ہو گی: فیہ رجال یحبون ان یتطھرو ا واللہ یحب المطھرین " مسجد قبا میں ایسے مرد ہیں جو خوب طہارت کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ خوب طہارت کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے انصار کی جماعت بے شک اللہ تعالیٰ نے پاکی میں تمہاری تعریف فرمائی ہے خیر کے ساتھ تمہارا وضو کیا ہے ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم لوگ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں اور جنابت کے لیے غسل کرتے ہیں اور پانی کی ساتھ استنجا کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تعریف اسی وجہ سے ہے اس کو لازم پکڑے رہو۔

طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ← عتبة بن أبي حكيم ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ السُّلَمِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 2747

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2748

2748 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إبراهيم الحربي و محمد بن الفضل بن جابر قالا : ثنا الهيثم بن خارجة ثنا يحيى بن حمزة عن عتبة بن أبي حكيم حدثني طلحة بن نافع حدثني أبو أيوب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصلوات الخمس و الجمعة و أداء الأمانة كفارة لما بينهن قلت : و ما أداء الأمانة قال : الغسل من الجنابة لفظ إبراهيم و زاد بن جابر فإن تحت كل شعرة جنابة

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابراہیم حربی اور محمد بن فضل بن جابر نے ان کو ہیثم بن خارجہ نے ان کو یحییٰ بن حمزہ نے ان کو عتبہ بن ابو حکیم نے ان کو طلحہ بن نافع نے ان کو ابو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ نمازیں اور جمعہ اور امانت کا ادا کرنا یہ کفارہ ہیں ان گناہوں کے لیے جو درمیان میں ہوں۔ میں نے پوچھا کہ امانت کو ادا کرنا کیا ہوتا ہے؟ فرمایا کہ ناپاکی کے بعد غسل کرنا۔ یہ الفاظ ابراہیم کی روایت کے ہیں۔ اور جابر کی روایت میں اضافہ ہے۔ بے شک ہر بال کی جڑ کے نیچے ناپاکی ہوتی ہے۔

أَبُو أَيُّوبَ، ← طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ← عتبة بن أبي حكيم ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← إبراهيم الحربي و محمد بن الفضل بن جابر ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Hadith 2748

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2749

2749 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا عبد الوهاب بن عطاء أنا عوف بن أبي جميلة و جعفر بن حبان أبو الأشهب و الربيع بن صبيح عن الحسن : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه يروي ذلك عن ربه تبارك و تعالى أنه قال : ثلاث من حافظ عليهن فهو عبدي حقا و قال عوف و أبي حقا و من ضيعهن فهو عدوي حقا الصلاة و الصوم و الجنابة يعني غسل الجنابة و هذا مرسل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو یحی بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو عوف بن ابو جمیلہ اور جعفر بن حبان نے ان کو ابو الاشہب اور ربیع بن صبیح نے حسن سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ وہ روایت کرتے ہیں رب تعالیٰ سے کہ اس نے فرمایا: تین چیزیں ہیں جو شخص ان کی حفاظت کرے وہ میرا سچا (اور حقیقی) بندہ ہے اور عوف نے کہا کہ وہ میرا سچا بندہ ہے اور جو شخص ان کو ضائع کرے وہ سچ مچ میرا دشمن ہے ۔ نما ز ، روزہ، جنابت یعنی غسل جنابت اور یہ مرسل روایت ہے۔

ربه تبارك و تعالى ← الْحَسَنِ، ← عوف بن أبي جميلة و جعفر بن حبان أبو الأشهب و الربيع بن صبيح ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 2749

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2750

2750 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا محمد بن بشر العبدي ثنا سعيد بن أبي عروبة ثنا قتادة عن الحسن أن أبا الدرداء كان يقول : خمس من جاء بهن يوم القيامة مع إيمانه دخل الجنة من حافظ على الصلوات الخمس على وضوئها و مواقيتها و ركوعها و سجودها و أعطى الزكاة الطيبة نفسه بها ثم قال أبو الدرداء : و أيم الله لا يفعل ذلك إلا مؤمن و صيام رمضان و حج البيت من استطاع إليه سبيلا و إداء الأمانة قالوا و ما إداء الأمانة يا أبا الدرداء قال : إغتسال من الجنابة فإن الله لم يأمن بن آدم شيء من دينه غيرها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو محمد بن بشر عبدی نے ان کو سعید بن ابو عروبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو حسن نے کہ حضرت ابو درداء فرمایا کرتے تھے کہ پانچ چیزیں ہیں جو شخص قیامت کے دن ایمان کی حالت میں ان کو لے آئے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ جو شخص پانچ نمازوں کی حفاظت کرے ان کے وضو سمیت اور ان کے اوقات ان کے رکوع ان کے سجود سمیت (سب کی حفاظت کرے) اور زکوٰۃ ادا کرے دل سے خوشی کے ساتھ۔ اس کے بعد ابو درداء نے کہا اور اللہ کی قسم ہر کام صرف مؤمن ہی کرتا ہے۔ اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا جو شخص اس کی طرف پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو اور امانت کر ادا کرنا لوگوں نے کہا کہ امانت کو ادا کرنا کیا ہے اے ابو درداء نے فرمایا ناپاکی سے پاکی کے لیے غسل کرنا بے شک اللہ تعالیٰ ابن آدم کے دین میں سے کسی چیز پر اس کو پناہ امن نہیں دیتا سوائے مذکورہ چیزوں کے۔

الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 2750

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2751

2751 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي و عبد الملك بن عثمان الزاهد و أبو نصر بن قتادة قالوا ثنا أبو علي حامد بن محمد الهروي ثنا محمد بن يونس ثنا أبو علي الحنفي ثنا عمران القطان عن قتادة عن خليد العصري عن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ضمن الله عز و جل خلقه أربعا الصلاة و الزكاة و صوم رمضان و الغسل من الجنابة و هو السرائر قال الله عز و جل : { يوم تبلى السرائر }

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن حسن قاضی اور عبدالملک بن عثمان زاہد اور ابو نصر بن قتادہ نے انھوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو علی حامد بن محمد ہر ول نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو ابو علی حنفی نے ان کو عمران قطان نے ان کو قتادہ نے خلید عصری سے ان نے ابو درداء سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ضمانت لی ہے اپنی مخلوق سے چار چیزوں کی نماز، زکوٰۃ، روزہ رمضان اورجنابت سے غسل یہ سرائر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، یوم تبلی السرائر۔ جس دن سرائر آزمائی جائیں گی۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أبو علي حامد بن محمد الهروي

Hadith 2751

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2752

2752 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن أحمد بن إسحاق الطيبي ثنا الحسن بن علي بن زياد السري ثنا محمد بن يوسف أنا أبو قره ذكر عن يونس بن جبير أبي غلاب الباهلي عن حطان بن عبد الله الرقاشي أنه حدثه أن أبا الدرداء حدثه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : من لقي الله بخمس من الإيمان دخل الجنة قال : قلنا و ما هي يا رسول الله قال : الصلوات الخمس طهورهن و ركوعهن و سجودهن و صيام رمضان و حج البيت من استطاع إليه سبيلا و الزكاة و هي قنطرة و إداء الأمانة قال رجل : ما هي يا رسول الله بأبي أنت و أمي أول شيء ذكر من الأمانة الإغتسال من الجنابة قال : يغسل البشرة و يبل الشعر

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن اور بن اسحٰق طیبی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد سری نے کہ اس کو حدیث بیان کی ہے محمد بن یوسف نے ان کو ابو فرہ نے ان کو یونس بن جبیر ابو غلاب الباہی نے ان کو حطان بن عبداللہ رقاشی نے ان کو حضرت ابو درداء نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے جو شخص ایمان کی حالت میں پانچ چیزوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ملے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا یا رسول اللہ وہ پانچ کونسی ہیں؟ فرمایا پانچ نمازیں ان کو وضو ان کا رکوع ان کو سجود اور رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج کرنا جو شخص اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھے اور زکوٰۃ یہ تو اسلام کی پل ہے اور امانت ادا کرنا ایک آدمی نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان پہلی چیز جو امانت میں ذکر ہوئی غسل جنابت میں سے، فرمایا کہ ظاہر چمڑے کو دھوئے اور بالوں کو تر کرے۔

أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ ← حطان بن عبد الله الرقاشي أنه ← يونس بن جبير أبي غلاب الباهلي ← أَبُو قُرَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السَّرِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 2752

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2753

2753 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عبد الله بن صالح الجهني حدثني معاوية بن صالح الحمصي قاضي أندلسي عن أبي عثمان عن جبير بن نفير و ربيعة بن يزيد عن أبي إدريس الخولاني و عبد الوهاب بن بخت عن الليث بن سليم الجهني كلهم يحدث عن عقبة بن عامر قال عقبة : كنا خدام أنفسنا نتداول رعية الإبل بيننا فأصابتني رعية الإبل فرحت بعشي فأدركت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو قائم يحدث الناس و أدركت من حديثه و هو يقول ما منكم من أحد يتوضأ فيبلغ الوضوء ثم يقوم فيركع ركعتين يقبل عليهما بقلبه و وجهه إلا وجبت له الجنة و غفر له فقلت ما أجود هذا فقال قائل من بين يدي التي قبلها يا عقبة أجود قال : فنظرت فإذا هو عمر بن الخطاب قال : قلت و ما هي يا أبا حفص قال : أنه قال قبل أن تأتي : و ما منكم من أحد يتوضأ فيبلغ الوضوء فيقول : أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له و أن محمدا عبده و رسوله إلا فتحت له أبواب الجنة الثمانية يدخل من أيها شاء أخرجه مسلم من حديث عبد الرحمن بن مهدي عن معاوية بن صالح غير أنه لم يذكر رواية عبد الوهاب بن بخت

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عبداللہ بن صالح جہنی نے ان کو معاویہ بن صالح حمصی قاضی اندلسی نے ان کو ابو عثمان نے جبیر بن نفیر سے اور ربیعہ بن یزید نے ان کو ابو ادریس خولانی نے اور عبدالوہاب بن بخت نے لیث بن سلیم جھنی سے وہ سب کے سب حدیث بیان کرتے ہیں عقبہ بن عامر سے عقبہ نے کہا کہ ہم لوگ اپنے نفسوں کے خادم تھے اپنے درمیان اونٹ چرانے کا تبادلہ کرتے تھے۔ ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری آئی تو میں اس کام کے لیے شام کو گیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پالیا وہ کھڑے ہو کر لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات میں سے کچھ بات سمجھ لی وہ فرما رہے تھے کہ تم میں سے کوئی آدمی جو وضو کرے اور اچھی طرح سے کرے پھر کھڑا ہو جائے اور دو رکعت پڑھے اپنے دل اور چہرے کے ساتھ مکمل انکی طرف توجہ رکھے مگر اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ اور اس کو بخش دیا جائے گا۔ میں نے کہا کتنی اچھی ہے یہ بات اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے اچھے ہیں کسی نے کہا میرے سامنے جو پہلے سے تمہارے عقبہ اچھائی کر میں نے نظر اٹھا کے دیکھا تووہ عمر بن خطاب تھے کہتے ہیں کہ میں نے کہا یہ کیسے ہو گی اے ابو حفص انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ آنے سے قبل تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جووضو کرے اور پورا پورا کرے اور پھر یہ کہتے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کو کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں مگر اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔ اس کو مسلم نے قتل کیا ہے عبدالرحمٰن بن مہدی کی روایت سے اس نے معاویہ بن صالح سے سوائے اس کے کہ انہوں نے عبدالوھاب بن بخت کی روایت کو ذکر نہیں کیا ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← اللَّيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ الْجُهَنِىِّ كُلِّهِمْ ← أبي إدريس الخولاني و عبد الوهاب بن بخت ← جبير بن نفير و ربيعة بن يزيد ← أَبِي عُثْمَانَ ← معاوية بن صالح الحمصي قاضي أندلسي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْجُهَنِىُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 2753

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2754

2754 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو علي الحافظ ثنا قاسم بن زكريا أبو عبيد الله محمد بن المسكن ثنا يحيى بن كثير ثنا شعبة قال : و ثنا قاسم بن زكريا أنا عبد الرحمن بن أبي البختري ثنا عبد الصمد ثنا شعبة عن أبي هاشم الرماني عن أبي مجلذ عن قيس بن عباد عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من قرأ سورة الكهف كما أنزلت رفعت له نور من حديث قرأها إلى مكة و من قال إذا توضأ سبحانك اللهم و بحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك و أتوب إليك طبع بطابع ثم جعلت تحت العرش حتى يؤتى بصاحبها يوم القيامة هكذا روياه و رواه معاذ بن معاذ عن شعبة موقوفا و كذلك رواه سفيان الثوري عن أبي هاشم موقوفا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حافظ نے ان کو قاسم بن زکریا ابو عبیداللہ بن محمد بن محمد بن مسکن نے ان کو یحی بن کثیر نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قاسم بن زکریا نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابو بختری نے ان کو عبدالصمد نے ان کو شعبہ نے انکو ابو ہاشم رمانی نے انکو ابو مجلذ نے قیس بن عباد سے اس نے ابو سعید خدری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص سورۃ کہف کو ایسے پڑھے جیسے وہ اتری ہے اس کے لیے وہاں سے روشنی بلند ہو گی جہاں اس نے پڑھی ہے مکہ مکرمہ تک اور جو شخص وضو کے بعد یہ پڑھے: "سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الٰہ الا انت استغفرک واتوب الیک" تو ایک مہر لگانے والا فرشتہ مہر لگا کر عرش کے نیچے رکھ دیتا ہے اور قیامت کے دن اس بندے کو دے دے گا جس نے یہ پڑھاتھا۔ اسی طرح دونوں نے اس کو روایت کیا ہے اور اس کو روایت کیا ہے معاذ بن معاذ نے شعبہ سے بطور موقوف روایت کے اور اس طرح اس کو روایت کیا ہے سفیان ثوری نے ابو ہاشم سے موقوف طریقے سے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← أبي مجلذ ← أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← عبد الرحمن بن أبي البختري ← قَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← و، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ ← قاسم بن زكريا أبو عبيد الله محمد بن المسكن ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 2754

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2755

2755 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه بن أحمد المروزي قدم علينا نيسابور أنا أبو بكر بن خنب ببخارى أنا يحيى بن أبي طالب ثنا الحارث بن منصور الواسطي ثنا بحر بن كثير عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي مالك الأشعري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ست خصال من الخير جهاد أعداء الله بالسيف و الصوم في يوم الصيف و حسن الصبر عند المصيبة و ترك المراء و أنت محق و تبكير الصلاة في يوم الغيم و حسن الوضوء في أيام الشتاء فكيف تعرف أمتك من بين الأمم ما بين نوح إلى أمتك قال : غر محجلون من أثر الوضوء و لا يكون لأحد من الأمم غيرهم و أعرفهم أنهم يأتون كتبهم قال البيهقي رضي الله عنه : بحر بن كثير السقا ضعيف في الرواية

ہمیں خبر دی ہے ابو سہل محمد بن نصر ویہ بن احمد مروزی نے وہ ہمارے ہاں نیشا پور میں آئے تھے انکو خبر دی ابو بکر بن خنب نے بخارا میں ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو حارث بن منصور واسطی نے ان کو بحر بن کنیر نے ان کو یحی بن ابو کثیر نے ان کو زید بن سلام نے ان کو ابو سلام نے ان کو ابو مالک اشعری نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرماتے ہیں کہ چھے خصلتیں ہیں خیر کی۔ حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا نہ کرنا۔ ابر والے دن نماز جلدی پڑھنا۔ سردی کے ایام میں اچھی طرح وضو کرنا۔ آپ اپنی امت کوکیسے پہچانیں گے تمام امتوں کے درمیان نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کی امت تک فرمایا کہ سفید اور چمکتے اعضاء والے ہوں گے وضو کے اثر سے یہ اثر میری امت کے لوگوں کے سوا کسی امت کے لیے نہیں ہو گا اور میں ان کو اس طرح پہچانوں گا کہ وہ جماعت در جماعت لشکر لشکر آئیں گے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بحر بن کثیر سقا روایت کرنے میں ضعیف ہے۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← بَحْرُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الحارث بن منصور الواسطي ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ← أبو سهل محمد بن نصرويه بن أحمد المروزي قدم علينا نيسابور

Hadith 2755

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2756

2756 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن إبراهيم الخسروجردي أنا أبو حامد الخسروجردي ثنا داود بن الحسين ثنا قتيبة ثنا جرير عن ليث عن أبي منير رجل من أهل مكة عن عبد الله بن عمر قال لي عمر رضي الله عنه : عليك بخصال الإيمان الصوم في الصيف و ضرب الأعداء بالسيف و تعجيل الصلاة في يوم الغيم و إبلاغ الوضوء في اليوم الشات و الصبر على المصيبات و ترك ردعة الخبال قال : و ما ردعة الخبال قال : شرب الخمر

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن ابراہیم خسرو گردی نے ان کو ابو حامد خسرو گردی نے ان کو داؤد بن حسین نے ان کو قتیبہ نے ان کو جریر نے ان کو لیث نے ان کو ابو منیر نے جو اہل مکہ کے ایک آدمی تھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کہ ایمان کی خصلتوں کو لازم پکڑے رہنا گرمیوں میں روزے رکھنا اللہ کے دشمنوں کو تلوار کے ساتھ مارنا۔ ابر والے دن نماز میں جلدی کرنا سردی کے دنوں میں وضو مکمل کرنا۔ مصیبتوں پر صبر کرنا اور درعۃ خبال کر ترک کرنا انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا ہوتا ہے فرمایا شراب پینا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أبي منير رجل من أهل مكة ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ ← قُتَيْبَةُ، ← داود بن الحسین، ← أبو حامد الخسروجردي ← أبو الحسن علي بن أحمد بن إبراهيم الخسروجردي

Hadith 2756

chevron_left Previous
12345…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood