Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3130

3130 - أخبرنا أبو بكر القاضي أنا حاجب بن أحمد ثنا أحمد بن نصر المقري ثنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن عمارة بن عمير عن أبي معمر عن أبي مسعود الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجزىء صلاة لا يقيم الرجل فيها صلبه في الركوع و السجود

ہمیں خبر دی ابو بکر قاضی نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو احمد بن نصر مقری نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو عمارہ بن عمیر نے ان کو ابو معمر نے ان کو ابو مسعود انصار ی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ نماز کفایت نہیں کرے گی جس میں آدمی رکوع میں اور سجدے میں اپنی کمر کو سیدھا نہ کرے۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُقْرِئُ ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3130

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3131

3131 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أحمد بن داود السجزي ثنا قتيبة ثنا الليث عن ابن عجلان عن علي بن يحيى بن آل رفاعة بن رافع عن أبيه عن عم له بدري أنه حدثه : أن رجلا دخل المسجد فصلى و رسول الله صلى الله عليه و سلم يرمقه و نحن لا نشعر فلما فرغ سلم على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له : ارجع فصل فإنك لم تصل فخرج فصلى ثم أقبل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ارجع فصل فإنك لم تصل مرتين أو ثلاثا فقال له الرجل و الذي أكرمك يا رسول الله لقد جهدت فعلمني فقال له : إذا قمت تريد الصلاة فتوضأ فأحسن الوضوء ثم استقبل القبلة و كبر ثم اقرأ ثم اركع فاطمئن راكعا ثم ارفع حتى تعدل قائما ثم اسجد فاطمئن ساجدا ثم ارفع حتى تطمئن جالسا ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم ارفع ثم افعل ذلك حتى تفرغ من صلاتك

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن داؤد سجزی نے ان کو قتیبہ نے ان کو لیث نے انکو ابن عجلان نے ان کو علی بن یحییٰ بن آل رفاعہ بن رافع نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے چچا نے جو کہ بدری تھے کہ اس نے ان کو حدیث بیان کی تھی کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور ا س نے نماز پڑھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ترچھی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ اور ہم لوگوں کو احساس نہیں تھا۔ جب وہ فارغ ہوا تو اس نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا کہ تم واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی وہ چلا گیا۔ اس نے جا کر دوبارہ نماز پڑھی اس کے بعد رسول اللہ کی طرف آیا پھر آپ نے فرمایا جا تو نماز پڑھ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ دو یا تین مرتبہ ایسا کرنے کے بعد اس آدمی نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ہے یا رسول اللہ میں نے تو پوری کوشش کر لی ہے اب آپ ہی مجھے سکھائیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا۔ جب تم نماز کے ارادے سے اٹھو تو پہلے وضو کر و اور وضو کو اچھی طرح کرو اس کے بعد قبلے کی طرف منہ کرو اور تکبیر کہو اس کے بعد قرات پڑھو اس کے بعد تم رکوع کرو پس رکوع کرتے ہوئے مطمئن ہو جاؤ اس کے بعد سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ اس کے بعد سجدہ کرو پس مطمئن ہو جاؤ سجدہ کرتے ہوئے اس کے بعد سر اٹھاؤ پھر اسی طرح کرو یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہو جاؤ اپنی نماز سے (خلاصہ یہ کہ اعتدال آرام سکون و قار و اطمینان سے نماز پڑھو جلدی نہ کرو)۔

عَمٍّ لَهُ بَدْرِيٍّ ← أَبِيهِ ← علي بن يحيى بن آل رفاعة بن رافع ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ، ← أحمد بن داود السجزي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3131

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3132

3132 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن إسحاق ثنا علي بن عبد الله ثنا جرير بن عبد الحميد عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا كبر في الصلاة سكت هنية قبل أن يقرأ قلت يا رسول الله بأبي أنت و أمي أرأيت سكوتك بين التكبير و القراءة ما تقول ؟ قال : أقول اللهم باعد بيني و بين خطاياي كما باعدت بين المشرق و المغرب اللهم نقني من خطاياي كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالثلج و الماء و البرد رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن جرير و أخرجاه من حديث عبد الواحد بن زياد و عن عمارة

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق نے ان کو علی بن عبداللہ نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو عمارہ بن قعقاع نے ان کو ابو زرعہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت نماز میں تکبیر کہتے تھے تو قرات شروع کرنے سے قبل ذرا خاموش ہو جاتے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ کے اوپر قربان کیا آپ بتائیں گے کہ تکبیر اور قرات کے درمیان آپ کا سکو ت جو ہے اس میں آپ کیا کہتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں یہ کہتا ہوں: " اللھم باعدبینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللھم نقنی من خطایای کما ینقی الثوواب البیض من الدنس ۔ اللھم اغسلنی من خطایای بالثلج والماء والبرد" ۔ اے میر اور میرے گناہ کے درمیان ایسے دوری کر دے جیسی مشرق اورمغرب کے درمیان آپ نے دوری کر دی ہے۔ اے اللہ مجھے گناہوں سے ایسے صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے۔ اے اللہ مجھے گناہوں سے دھو دے برف کے ساتھ اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب سے اس نے جریر سے اور بخاری و مسلم نے اس کو روایت کیا ہے عبدالواحد بن زیاد کی حدیث سے اس نے عمارۃ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3132

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3133

3133 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أبي بكر الأهوازي أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا هشام بن علي و عثمان بن عمر قالا : ثنا ابن رجا ثنا عبد العزيز الماجشون عن عبد الله بن الفضل عن الأعرج عن عبيد الله بن أبي رافع عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا استفتح كبر و قال : وجهت وجهي للذي فطر السموات و الأرض حنيفا و ما أنا من المشركين إن صلاتي و نسكي و محياي و مماتي لله رب العالمين لا شريك له و بذلك أمرت و أنا أول المسلمين أنت الملك لا إله إلا أنت أنت ربي و أنا عبدك ظلمت نفسي و اعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي كلها إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت و اهدني لأحسن الأخلاق لا يهدني لأحسنها إلا أنت و اصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك و سعديك و الخير كله في يديك و الشر ليس إليك تباركت و تعاليت استغفرك و أتوب إليك و إذا ركع قال : اللهم لك ركعت و بك آمنت و لك أسلمت خشع لك سمعي و بصري و مخي و عظامي و عصبي قال و إذا رفع رأسه من الركعة قال : سمع الله لمن حمده ربنا و لك الحمد ملء السموات و الأرض و ما بينهما و ملء ما شئت من شيء بعده فإذا سجد قال : اللهم لك سجدت و بك آمنت سجد وجهي للذي خلقه و صوره فأحسن صوره و شق سمعه و بصره فتبارك الله أحسن الخالقين فإذا سلم في الصلاة قال : اللهم اغفر لي ما قدمت و ما أخرت و ما أسررت و ما أعلنت و ما أسرفت و ما أنت أعلم به مني أنت المقدم و أنت المؤخر لا إله إلا أنت و قد أخرجه مسلم في الصحيح من حديث عبد العزيز الماجشون عن عمه عن الأعرج قال البيهقي رضي الله عنه : كذا وجدته و إنما يعرف من حديث موسى بن عقبة عن عبد الله بن الفضل و من حديث عبد العزيز الماجشون عن عمه كلاهما عن الأعرج و قد قيل أيضا عن عبد العزيز بن عبد الله

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن علی بن ابو بکر اہوازی نے ان کو احمد بن عبید صفارنے ان کو ہشام بن علی نے اور عثمان بن عمر نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن رجاء نے ان کو عبدالعزیز ماجشون نے ان کو عبداللہ بن فضل نے اعرج سے اس نے عبیداللہ بن ابو رافع سے اس نے علی بن ابو طالب سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو پہلے تکبیر کہتے اور یوں کہتے : " وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین" ۔ میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کر لیا ہے جس نے آسمان اور زمین نئے سرے سے بنائے اور میں مشرک نہیں ہوں۔ "ان صلوتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذالک امرت وانا اولالمسلمین۔ " بے شک میری نماز میری قربانی میری زندگی اورمیری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ اس کو کوئی شریک نہیں ہے ایسی چیز کا مجھے حکم ہوا ہے اورمیں پہلا فرمانبردار ہوں۔ "انت الملک لاالہ الا انت ۔ انت ربی وانا عبدک ظلمت نفسی واعترفت بذنبی فاغفرلی ذنوبی کلھا انہ لا یغفر الذنوب الا انت واھدنی لاحسن الاخلاق لایھدنی لاحسنھا الا انت۔واصرف عنی سیئھا لایصرف عنی سیئھا الاانت لبیک وسعد یک والخیر کلہ فی یدیک۔ والشرلیس الیک تبارکت وتعالیت استغفرک واتوب الیک"۔ تو ہی باد شاہ ہے ۔ تیرے سوا کوئی الہ نہیں ہے بس تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا ہی بندہ ہوں۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ میں نے اپنے گناہ کا اقرار کیا ہے میرے واسطے گناہ معاف کردے ۔کیونکہ گناہوں کو کوئی معاف نہیں کر سکتا صرف تو ہی کرتا ہے اور مجھے اس سے اچھے اخلاق کی راہنمائی فرما کیونکہ اچھے اخلاق کی رہنمائی کوئی نہیں کر سکتا صرف تو ہی کر تا ہے اور مجھے برے اخلاق سے ہٹا لے کیونکہ برے اخلاق سے کوئی نہیں ہٹا سکتا صرف تو ہی ہٹا سکتا ہے۔ میں بار بار حاضر ہوں تیری بارگاہ میں اور میں تجھ سے ہی سعادت مندی چاہتاہوں۔ حالانکہ ہر چیز تیرے ہی ہاتھوں میں ہے اور برائی تو تیرے پاس نہیں ہے پس تو با برکت ہے اور تو اعلیٰ و بالا ہے میں تجھ سے ہی استغفار کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں تو بہ کرتا ہوں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔ (رکوع کی دعا) اللھم لک رکعت وبک امنت ولک اسلمت خشع لک سمعی وبصری ومخی وعظامی وعصبی"۔ اے اللہ میں تیرے آگے ہی جھکا ہوں اور تیرے اوپر ہی ایمان لا یا ہوں اور تیرا ہی فرمانبردار ہوا ہوں میری سماعت میری بینائی میری ہڈیوں کا گودا میری ہڈیاں میرے رک پٹھے سب (میرا ذرہ ذرہ) تیرے لئے عاجز سے جھکا ہوا ہے۔ (سبحان اللہ ! اللہ کا حبیب کس طرح اپنے مالک کے آگے اپنی نیاز مندیاں پیش کر رہا ہے یہی پوری امت کے لئے حضور کا اسوہ اور عملی نمونہ ہے اللہ تعالیٰ مجھے اور پوری امت کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ مترجم) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ پڑھتے تھے۔ (قومہ کی دعا ) " سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد مل ء السمٰوات والارض وما بینھما وھل ء ماشئت من شی بعد '' ۔ اللہ نے اس کی سن لی ہے جس نے اس کی حمد کی اے ہمارے رب تیری حمد ہے آسمانوں اور زمین کا خلا بھر کر اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور ان کے بعد وہ (پیمانہ بھر کر جو آپ چاہیں) اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔ (حضور کے سجدوں کی دعا) " اللھم لک سجدت وبک امنت سجدو جھی نلذی خلقہ وصور ہ فاحسن صورہ وشق سمعہ وبصرہ فتباک اللہ احسن الخالقین" اے اللہ میں تیرے لیے سجدے میں پڑا ہوں اور میں تجھ پر ایمان لایا ہوں میرا چہرہ اسی کی طرف ہے جس نے اس کو بنایا ہے اور جس نے اس کی شکل بنائی ہے اور اس کو اچھی صورت دی ہے جس نے چیر کر اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائی ہیں۔ پس برکت دینے والا ہے اللہ سب سے بہتر پیدا کرنے والا ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت نماز سے سلام پھیرتے یہ کہتے تھے ۔ "سلام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا"۔ اللھ اغفرلی ماقدمت وما اخوت اما اسررت وما اعلنت وما اسرفت اما انت اعلم بہ منی انت المقدم وانت الموخر لا الہ انت"۔ اے اللہ مجھے بخش دے جو کچھ میں نے پہلے یا جو کچھ میں نے بعد میں کیا جو کچھ میں نے چھپا کر کیا جو کچھ میں نے ظاہر کر کے کیا او جو کچھ میں نے اسراف اور زیادتی کی اور وہ سب بخش دے جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی پہلے سے ہے اور تو ہی سب کے بعد ہو گا تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں عبدالعزیز کی حدیث سے اور عبدالعزیز ماجشون اپنے چچا سے اس نے اعرج سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تم نے اس حدیث کو ایسے ہی پایا ہے یہ معروف ہے موسیٰ بن عقبہ کی روایت سے اس نے عبداللہ بن فضل سے عبدالعزیز ماجشون کی روایت سے اس نے اپنے چچا سے ان دونوں نے روایت لی ہے اعرج سے اور تحقیق کہی گئی ہے عبدالعزیز بن عبداللہ سے بھی۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← الْأَعْرَجِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ← ابن رجا ← هشام بن علي و عثمان بن عمر ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسن علي بن أبي بكر الأهوازي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3133

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3134

3134 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن سلمان ثنا الحسن بن مكرم ثنا شبابة ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن عاصم العنزي عن ابن جبير بن مطعم عن أبيه : أنه رأى النبي صلى الله عليه و سلم دخل في الصلاة و قال : الله أكبر كبيرا ثلاثا و الحمد لله كثيرا و سبحان الله بكرة و أصيلا ثلاثا اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزه و نفخه و نفثه قال عمرو : و همزه الموتة و نفخه الكبر و نفثه الشعر قال شبابة قال شعبة قال لي مسعر إن عمرا روى هذا التفسير عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو شبابہ نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو عاصم عنزی نے ان کو ابن جبیر بن مطعم نے ان کو ان کے والد نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا بحالت نماز آپ یہ دعا کر رہے تھے۔ اللہ اکبر کبیرا تین بار کہا۔ والحمدللہ کثیرا تین بار کہا اور سبحان اللہ بکرۃ واصیلا تین بار کہا اللھم انی اعوذ بک من الشیطن الرجیم من حمزہ ونفخہ ونفثہ۔ عمرو کہتے ہیں کہ شیطان کے ہمر سے مراد جنون ہے اور اس کی پھرنک سے مراد تکبیر ہے اور اس کے تھتکار نے سے مراد شعر گوئی ہے اور شبابہ کہتے ہیں کہ شعبہ نے کہا تھا مجھ سے مسعر نے کہا کہ بے شک عمر نے یہی تفسیر روایت کی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ2 ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3134

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3135

3135 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن محمود بن الربيع عن عبادة بن الصامت : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا صلاة لمن لا يقرأ بفاتحة الكتاب أخرجاه في الصحيح من حديث ابن عيينة

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے بطور املاء کے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے انکو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کوسفیان بن عیینہ نے ان کو زہری نے ان کو محمود بن ربیع نے ان کو عبادہ بن صامت نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کی کوئی نماز نہیں ہے جو فاتحہ الکتاب نہ پڑھے۔ اس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے ابن عینیہ کی حدیث سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عبد الله بن يوسف الأصبهاني املاء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3135

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3136

3136 - أخبرنا أبو عبد الله ثنا الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا علي بن أبي عاصم أخبرني خالد الحذاء و هشام بن محمد عن محمد بن سيرين قال : حدثني أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قنت بالغداة بعد الركوع يدعو

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے ان کو اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو علی بن ابو عاصم نے ان کو خالد حذاء نے اور ہشام بن محمد نے ان کو محمد بن سیرین نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی (جس میں) دعا کرتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← خالد الحذاء و هشام بن محمد ← علي بن أبي عاصم ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الأَصَمُّ: ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3136

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3137

3137 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا علي بن عبد الرحمن بن ماني الكوفي ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ثنا إسحاق بن منصور أبو عبد الرحمن السلولي ثنا إسرائيل و زهير عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه و علقمة عن عبد الله بن مسعود قال : أنا رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يكبر في كل رفع وخفض و قيام و قعود و السلام عن يمينه و عن شماله السلام عليكم و رحمة الله حتى يبدو بياض خده و رأيت أبا بكر و عمر يفعلانه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو علی بن عبدالرحمٰن بن مانی کوفی نے ان کو احمد بن حازم بن ابوغرزہ نے ان کو اسحاق بن منصور نے ان کو عبدالرحمٰن سلولی نے ان کو اسرائیل نے اور زہیر نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسود نے ان کو ان کے والد نے اور علقمہ نے عبداللہ بن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ تکبیر کہتے تھے اونچا ور نیچا ہونے پر اور ہر کھڑا ہونے واور ہر بیٹھنے کے وقت اور سلام ان کے دائیں اور بائیں جانب منہ کرتے ہوئے ہوتا تھا اور یوں تھا السلام علیکم وحمۃ اللہ یہاں تک (چہرہ پھیرتے تھے کہ) آپ کے اس طرف کے رخسار کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی او میں نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھا کہ وہ بھی یہی کچھ کرتے تھے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3137

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3138

3138 - أخبرنا أبو القاسم عبد الله بن عمر بن علي القاضي ببغداد أنا أحمد بن سلمان ثنا إسماعيل بن إسحاق عن عاصم بن علي ثنا ليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن محمد بن عمرو بن عطاء القرشي عن أبي حميد الساعدي : أن أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أبو حميد : أنا أحفظكم لها فوصف أنه كان إذا كبر رفع يديه حذو منكبيه ثم قرأ ثم ركع فأمكن يديه من ركبتيه و هصر ظهره و وصف من سجوده نحوا ما يصف الناس فإذا كان في الجلسة الأولى قعد على قدمه اليسرى و نصب اليمنى فإذا كان في الجلسة الأخيرة فعد على أليته و نصب رجله اليمنى فجعل باطن قدمه اليسرى عند باطن فخذه اليمنى أخرجه البخاري عن أبي بكير عن الليث

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبداللہ بن عمر بن علی قاضی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان نے ان کو اسماعیل بن ابی اسحٰق نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو لیث بن سعد نے انکو یزید بن ابو حبیب نے ان کو محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ان کو محمد بن عمرو بن عطاء قرشی نے ان کو ابو حمید ساعدی نے یہ کہ اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا پس کہا ابو حمید نے کہ میں تم س میں صلوٰۃ رسول کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں لہذا اس نے اس کی روایت یوں بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تکبیر کہتے تھے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے اپنے کندھوں کے برابر۔ اس کے بعد آپ قرات کرتے تھے۔ اس کے بعد آپ رکوع کرتے تھے اور دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑ لیتے تھے اور اپنی کمر کو جھکا لیتے تھے۔ پھر اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سجدہ کرنا بیان کیا اسی طرح جس طرح سب لوگ بیان کرتے ہیں پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے جلسے میں ہوتے یعنی دو سجدے کے درمیان بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھتے تھے اور دایاں پاؤں کھڑا کر لیتے تھے اور آ پ جب آخری جلسے میں ہوتے (یعنی دو سجدوں کے بعد میں ) تو پھر آپ اپنی سرین کو لہے پر بیٹھتے اور سیدھا پاؤں کھڑا رکھتے تھے اور اپنے بائیں پاؤں کا اندر والا حصہ دائیں ران کے اندر کے حصے کی طرف قریب کر لیتے تھے۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے ابو بکیر سے اس نے لیث سے۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ الْقُرَشِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم عبد الله بن عمر بن علي القاضي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3138

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3139

3139 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب ثنا السري بن خزيمة ثنا عبد الله بن يزيد المقري ثنا حيوة ثنا أبو هانىء عن أبي علي الجنبي عن فضالة بن عبيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يصلي لم يحمده و لم يمجده و لم يصل على النبي صلى الله عليه و سلم و انصرف فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عجل هذا فدعاه فقال له و لغيره : إذا صلى أحدكم فليبدأ بتمجيد الله و الثناء عليه و ليصل على النبي صلى الله عليه و سلم ثم يدعو بما شاء و قد ذكرنا في كتاب السنن و الدعوات كيفية التشهد و الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم و سائر ما تحتاج إليه الصلاة من سننها و فرائضها من أحب علمها رجع إليها إن شاء الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل حسن بن یعقوب نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو حیوۃ نے ان کو ابو ہانی نے ان کو ابو علی جنبی نے ان کو فضالہ بن عبید نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا جس نے نہ تو اللہ کی حمد کی تھی نہ ہی اس کی تمجید اور بزرگی بیان کی نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا اور بس ہٹ گیا رسول اللہ نے فرمایا کہ اس نے بہت عجلت کی ہے پھر اس کو بلا کر فرمایا اس کو بھی اور دوسروں کو بھی جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ ابتلاء کرے اللہ تمجید اور اس کی ثناء کے ساتھ اور اسے چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے۔ اس کے بعد دعا کرے جو وہ چاہے اور تحقیق ہم نے ذکر کیا ہے کتا ب السنن والد عوات میں۔ التحیات اور درود پڑھنے کی کیفیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور اس میں ہم نے بیان کیے ہیں جس کی طرف نماز میں ضرورت ہوتی ہے اس کی سنتیں اور اس کے فرائض جو شخص ان کو جاننا چاہے گا انشاء اللہ اس کی طرف رجوع کرے گا۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← اَبِیْ عَلِیِّ الْجَنْبِیِّ ← أبو هانىء ← حَيْوَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3139

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3140

3140 - حدثنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا محمد بن مسلم بن أبي الوضاح عن الأحوص بن حكيم ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو إسحاق إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم ثنا المسيب بن زهير ثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد الدشتكي ثنا زهير بن معاوية ثنا أبو خيثمة ثنا الأحوص بن حكيم قال : حدثني خالد بن معدان عن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من توضأ فأبلغ الوضوء ثم قام إلى الصلاة فأتم ركوعها و سجودها و القراءة فيها قالت : حفظك الله كما حفظتني ثم أصعد بها إلى السماء و لها ضوء و نور ففتحت لها أبواب السماء حتى تنتهي بها إلى الله فتشفع لصاحبها و إذا لم يتم ركوعها و لا سجودها و لا القراءة فيها قالت ضيعك الله كما ضيعتني ثم أصعد بها إلى السماء و عليها ظلمة فغلقت دونها أبواب السماء ثم تلف كما يلف الثوب الخلق فيضرب بها وجه صاحبها لفظ حديث زهير و في رواية ابن أبي الوضاح اختصار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أحسن الرجل الصلاة فأتم ركوعها و سجودها قالت الصلاة حفظك الله كما حفظتني و إذا أساء الصلاة فلم يتم ركوعها و لا سجودها قالت الصلاة ضيعك الله كما ضيعتني فتلف كما يلف الثوب الخلق فيضرب بها وجهه

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے انکو ابو داؤد نے ان کو محمد بن مسلم بن ابو الوضاح نے ان کو احوص بن حکیم نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم نے ان کو مسیب بن زہیر نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد دشتکی نے ان کو زہیر بن معاویہ نے ان کو ابو خیثمہ نے ان کو احوص بن حکیم نے وہ کہتےہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے خالد بن عبادہ صامت سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور پورا پورا کرے اس کے بعدوہ نماز کی طرف کھڑا ہو جائے اور اس کے رکوع اور سجود مکمل کرے اور اس میں قرات کو بھی کرے، نماز کہتی ہے اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے جیسے تم نے میری حفاظت کی ہے پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا یا جاتا ہے اور اس کے لیے ضیا اور روشنی ہو گی پس نماز کے لئے دروازے کھولے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتی ہے پھر وہ اپنے اپنے پڑھنے والے کے لیے سفارش کرتی ہے اور جب وہ اس کے رکوع اور سجود پورا نہیں کرتا نہ اس میں قرات پوری کرتا ہے تو نماز کہتی ہے کہ اللہ تجھے ضائع کر دے جیسے تم نے مجھے ضائع کیا ہے اور پھر وہ اوپر کو چڑھائی جاتی ہے اور اس پر اندھیرا ہوتا ہے پھر اس کے آگے آسمانوں کے دروازے بند کر لیے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ ایسے لپیٹی جاتی ہے جیسے پرانا کپڑا لپیٹا جاتا ہے پھر وہ نماز پڑھنے والے کے منہ پر مار دی جاتی ہے۔ یہ زہیر کی روایت کے الفاظ ہیں اور ابن ابو الوضاح کی روایت میں اختصار ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ جب کوئی آدمی نماز کو بہت اچھی طرح پڑھتا ہے پھر اس کے رکوع اور سجدوں کو مکمل کرتا ہے نماز کہتی ہے اللہ تیری حفاظت کرے جیسے تم نے میری حفاظت کی ہے اور جب نماز کو بری طرح پڑھتا ہے نہ اس کا رکوع پورا کرتا ہے نہ سجدہ پورا کرتا ہے تو نماز کہتی ہے اللہ تجھے ضائع کرے جیسے تم نے مجھے ضائع کر دیا ہے۔ پھر وہ نماز ایسے لپیٹی جاتی ہے جیسےپرانا کپڑا لپیٹا جاتا ہے پھر وہ اس کے منہ پر مار دی جاتی ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الدَّشْتَكِيُّ، ← المسيب بن زهير ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو إسحاق إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم ← و، ← الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3140

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3141

3141 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي ببغداد ثنا أحمد بن سلمان قال : قرىء على الهلال بن العلاء و أنا أسمع حدثكم ابن نفيل قال : و ثنا أحمد بن سلمان ثنا جعفر بن محمد بن بكر البالسي ثنا النفيلي ثنا عيسى بن يونس عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عجرة عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إياكم و شرك السرائر قالوا يا رسول الله و ما شرك السرائر قال أن يتم ركوعها و سجودها لما يلحظه من الحدق و النظر فذلك شرك السرائر و روي عن أبي خالد الأحمر عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عجرة عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن جابر بن عبد الله قال : خرج النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا أيها الناس إياكم و شرك السرائر قالوا يا رسول الله و ما شرك السرائر قال : يقوم الرجل فيزين صلاته جاهدا لما يرى من نظر الناس إليه فذلك شرك السرائر

ہمیں خبر دی ابو القاسم حرفی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان نے انہوں نے کہا کہ میرےسامنے پڑھی ہلال بن علاء نے اور میں نے سنی ہمیں حدیث بیان کی ہے نفیل نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن سلمان نے ان کو جعفر بن محمد بکر بالسی نے ان کو نفیلی نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو سعد بن اسحٰق بن کعب بن عجرہ نے ان کو عاصم بن عمر بن قتادہ نے ان کومحمود بن لبید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بچاؤ تم اپنے آپ کو مخفی چیزوں کے شرک سے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ مخفی چیزوں کا شرک کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان نماز کا رکوع اور سجدہ پورا اس وقت کرے جب اس کو کوئی آنکھ اور کوئی نظر دیکھ رہی ہو بس یہی مخفی چیزوں کا شرک ہے۔ اور ابو خالد احمر سے مروی ہے کہ اس نے سعد بن اسحٰق بن کعب بن عجرہ سے اس نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے اس نے محمود بن لبید سے اس نے جابر بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور فرمایا : "یا ایھا الناس ایاکم وشرک اسرائیر" اے لوگو بچاؤ تم اپنے آپ کو مخفی باتوں کے شرک سے ۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ وما شرک السرائر کہ سرائر کا شرک کیا ہوتا ہے؟ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور پوری کوشش کرکے نماز کو وہ آراستہ کرتا ہے بوجہ اس کے کہ وہ دیکھتا ہے کہ لوگ اس کی طرف دیکھ رہے ہیں یہی سرائر کا شرک ہے۔

مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← النُّفَيْلِيُّ ← جعفر بن محمد بن بكر البالسي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← و، ← أسمع حدثكم ابن نفيل ← قرىء على الهلال بن العلاء و ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي ببغداد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3141

chevron_left Previous
1…353637…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood