Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3118

3118 - و رواه علي بن زيد عن سعيد بن المسيب عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبرنا أبو بكر فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد فذكره غير أنه قال : من صلاته

اور اس کو روایت کیا ہے علی بن زید نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو سعید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن زید نے پھر اس کو ذکر کیا ہے اس نے سوائے اس کے کہ کہا: "من صلاتہ "اپنی نماز میں سے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← و رواه علي بن زيد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3118

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3119

3119 - أخبرنا أبو منصور الطفر بن محمد العلوي أنا أبو جعفر محمد بن دحيم ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ثنا الفضل بن دكين ثنا سفيان عن إبراهيم بن مسلم الهجري عن أبي الأحوص عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أحسن الصلاة حيث يراه الناس و أساءها إذا خلا فتلك استهانة يستهين بها ربه

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور طفر بن محمد علوی نے ان کو ابو جعفر محمد بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابی غرزہ نے ان کو فضل بن دکین نے ان کو سفیان نے ان کو ابراہیم بن مسلم ہجری نے ان کو ابو الاحوص نے ان کو عبداللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا جو شخص لوگوں کے سامنے نماز کو اچھا کر کے پڑھتا ہے جہاں سے وہ اس کو دیکھیں اور اس کو بری طرح پڑھتا ہے جب وہ اکیلا ہوتا ہے پس یہ توہین ہے جس کے ساتھ وہ اپنے رب کی توہین کرتا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم بن مسلم الهجري ← سُفْيَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أبو جعفر محمد بن دحيم ← أبو منصور الطفر بن محمد العلوي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3119

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3120

3120 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو عمرو بن نجيد ثنا أبو مسلم ثنا أبو عاصم عن ابن عجلان عن المقبري عن عمر بن الحكم عن عبد الله بن عنمة : أن عمار بن ياسر دخل المسجد فصلى صلاة فأخفها فقلت يا أبا اليقظان إنك خففت فقال : هل رأيتني انتقصت من حدودها شيئا إني بادرت بها سهوة الشيطان إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الرجل ليصلي الصلاة ماله منها إلا عشرها تسعها ثمنها سبعها سدسها خمسها ربعها ثلثها نصفها رواه يحيى بن سعيد عن عبيد الله عن سعيد بن أبي سعيد عن عمر بن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث عن أبيه قال : قال عبد الرحمن بن الحارث ـ لعمار بن ياسر في الصلاة فذكره و رواه ابن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن عمر بن الحكم عن ابن لاس الخزاعي قال : قلت لعمار فذكره

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمر و بن نجید نے ان کو ابو مسلم نے ان کو ابو عاصم نے ان کو ابن عجلان نے ان کو مقبری نے ان کو عمر بن حکم نے ان کو عبداللہ بن عنمہ نے یہ کہ عمار بن یاسر مسجد میں داخل ہوئے اور اس نےنماز پڑھی مگر اس کو اس نے خفیف اور ہلکا پڑھا۔ میں نے کہا کہ اے ابو الیقظان بے شک اپ نے تخفیف کی ہے (یعنی ہلکی پھلکی نما ز پڑھی ہے) انہوں نے فرمایا کیا آپ نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نے اس کو اس کی حدود سے کچھ گھٹایا ہے (کوئی شے بھی ) بے شک میں نے اس میں جلدی کی ہے شیطان کے بھلوانے سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا ۔ بے شک ایک آدمی نماز پڑھتا ہے حالانکہ نہیں ہوتا اس کے لئے اس میں سے اس کا نواں حصہ آٹھواں حصہ' ساتواں حصہ' چھٹا حصہ' پانچواں حصہ' اور چوتھا حصہ ایک تہائی یا نصف۔ اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اس نے سعید بن ابو سعید سے اس نے عمر بن ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث سے اس نے اپنے والد سے انہوں نے کہاکہ عبدالرحمٰن بن حارث نے کہا عمار بن یاسر سے نماز کے بارے میں پھر اسی کو ذکر کیا اور اس کو روایت کیا ہے ابن اسحٰق نے محمد بن ابراہیم تیمی سے اس نے عمر بن حکم سے اس نے ابن لاس خزاعی سے اس نے کہا کہ میں نے کہا عمار سے پھر اس نے وہی حدیث ذکر کی۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ، ← عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3120

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3121

3121 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن أبي كثير ثنا مكي بن إبراهيم ثنا هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة قال : نهينا عن الاختصار في الصلاة قال : فسألت محمدا عن ذلك فقال : يقول الرجل بيديه أو بإحداهما هكذا و وضع يده في خصره أخرجه مسلم و البخاري في الصحيح من حديث هشام و غيره

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن ابو کثیر نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ نے انہوں نے کہا کہ ہم نماز میں اختصار کرنے سے منع کر دیئے گئے تھے کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں محمد سے پوچھا اس نے کہا کہ کوئی آدمی اشارہ کرتا ہے اپنے دونوں ہاتھوں سے یا ایک ہاتھ سے اس طرح اور اپنا ہاتھ آپ نے اپنی کوکھ پر رکھ لیا اس کو نقل کیا بخاری نے اور مسلم نے صحیح میں ہشام وغیرہ کی حدیث سے۔

ذَلِكَ ← فسألت محمدا ← الاخْتِصَارِ فِي الصَّلاَة ← نهينا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3121

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3122

3122 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمود بن محمد الحلبي ثنا محمد بن سلام المنجي ثنا عيسى بن يونس عن عبد الله بن الأزور عن هشام القردوسي عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الاختصار في الصلاة استراحة أهل النار قال البيهقي رحمه الله :

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمود بن محمد حلبی نے ان کو محمد بن سلام منجی نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو عبداللہ بن ازور نے ان کو ہشام قردوسی نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، نماز میں اخصار کرنا (جلدی جلدی پڑھنا) اہل جہنم کی آرام طلبی ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← محمد بن سلام المنجي ← محمود بن محمد الحلبي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3122

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3123

3123 - هكذا وجدته في السنة و رواه ابن خزيمة في كتابه دون عبد الله بن الأزور في إسناده و الله أعلم : ـ

میں نے اس کو اسی طرح پایا ہے سنت میں اور اس کو ابن خزیمہ نے اپنی کتا ب میں اسی طرح روایت کیا ہے سوائے عبداللہ بن ازور کے وہ اس کی اسناد میں نہیں ہے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3123

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3124

3124 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنبأ أبو بكر الإسماعيلي ثنا إبراهيم بن هانيء ثنا الرمادي ثنا يزيد ثنا سفيان عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق قال : سألت عائشة رضي الله عنها عن ذلك يعني وضع اليدين على الخاصرة في الصلاة فقالت هذا فعل اليهود رواه البخاري عن محمد بن يوسف عن سفيان و قال في متنه عن عائشة : كانت تكره أن يجعل يده في خاصرته و تقول إن اليهود تفعله

ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو ادیب نے ان کو خبر دی ابو بکر اسماعیلی نے ان کو ابراہیم بن ہانی نے ان کو رمادی نے ان کو یزید نے انکو سفیان نے ان کو اعمش نے ان کو ابو الضحیٰ نے ان کو مسروق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس بارے میں پوچھا تھا یعنی نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کے بارے میں۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ یہودیوں کا فعل ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے محمد بن یوسف سے اس نے سفیان سے اور انہوں نے اس کے متن میں کہا ہے سیدہ عائشہ سے کہ وہ مکروہ سمجھتی تھیں کہ کوئی اپنا ہاتھ ڈھاک پر رکھ لے اور کہتی تھیں کہ یہ کام یہودی کرتے تھے۔

في متنه ← سفيان و ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← هذا فعل اليهود رواه البخاري ← ذلك يعني وضع اليدين على الخاصرة في الصلاة ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← يَزِيدُ: ← الرمادي، ← إبراهيم بن هانيء، ← أبو عمرو الأديب أنبأ أبو بكر الإسماعيلي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3124

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3125

3125 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان الأهوازي ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمويه العسكري ثنا جعفر بن محمد القلانسي ثنا آدم ثنا شيبان عن أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي عن أبيه عن مسروق عن عائشة قالت : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الالتفات في الصلاة فقال : هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد مخرج في الصحيح من حديث أبو الأحوص عن أشعث

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن عبدان اہوازی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن محمویہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد قلانسی نے ان کو آدم نے ان کو شیبان نے ان کو اشعث بن ابو الشعشاء محاربی نے ان کو ان کے والد نے ان کو مسروق نے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اچکنا اور جھپٹی مارنا ہے جو کہ شیطان بندے کی نماز میں سے جھپٹ لیتا ہے (یعنی چھین لیتا ہے)۔

أَشْعَثَ، ← هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد مخرج في الصحيح من حديث أبو الأحوص ← الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ، ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ ← شَيْبَانَ ← آدَمُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3125

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3126

3126 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن الغضائري ثنا عثمان بن أحمد الدقاق ثنا إسحاق بن إبراهيم الختلي ثنا شجاع بن أشرس ثنا عبد الغفور عن همام عن كعب قال : ما من مؤمن يقوم مصليا إلا تناثر عليه البر أكثر ما بينه و بين العرش و وكل به ملك ينادي يا ابن آدم لو تعلم مالك في صلاتك و من تناجي ما التفت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حسین بن حسن عضائری نے ان کو عثمان بن احمد وقاق نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم ختلی نے ان کو شجاع بن اشرس نے ان کو عبدالغفور نے ان کو ہمام نے کعب سے وہ کہتے ہیں کہ جو بھی مؤمن نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو اس پر نیکی بکھرتی ہے اس سے زیادہ جو اس کو اور عرش کے درمیان ہے اور اس کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے جو کہ پکارتا ہے اے ابن آدم اگر تو جان لے کہ تیری نماز میں تیرے لیے کیا ہے؟ (یعنی کتنا بڑا اجر ہے) اور یہ جان لے کہ تو کس کے ساتھ سرگوشی کر رہا ہے تو (ادھر ادھر نہ دیکھے)۔

کَعْبٍ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدِ الْغَفُورِ، ← شجاع بن أشرس ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخُتُلِّيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن الغضائري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3126

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3127

3127 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ أنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم ثنا الحسين بن محمد بن زياد ثنا يحيى بن الجنيد نيسابوري ثنا المقري ثنا حيوة بن شريج عن قيس بن رافع عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما التفت عبد قط في صلاته إلا قال له ربه : أين تلتفت يا ابن آدم أنا خير لك مما تلتفت إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو ابو الفضل محمد بن ابراہیم نے ان کو حسین بن محمد بن زیاد نے ان کو یحییٰ بن جنید نیشا پوری نے ان کو مقری نے ان کو حیوۃ بن شریج نے ان کو قیس بن رافع نے انکو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بندہ کبھی اپنی نماز میں ادھر ادھر نہیں دیکھتا مگر اس کا رب اس سے کہتا ہے کہ ابن آدم کہاں متوجہ ہوتا ہے میں تیرے لیے بہتر ہوں اس سے جس کی طرف تو متوجہ ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ، ← حيوة بن شريج ← الْمُقْرِئُ ← يحيى بن الجنيد نيسابوري ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3127

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3128

3128 - و حدثنا أبو الحسن العلوي أنا أبو حامد بن الشرقي ثنا محمد بن عقيل من كتابه و من حفظه أنا حفص بن عبد الله حدثني إبراهيم بن طهمان عن أيوب عن محمد عن أبي هريرة أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما يخاف أحدكم إذا رفع رأسه من السجود قبل الإمام أن يحول الله رأسه رأس حمار مخرج في الصحيح من حديث محمد بن زياد عن أبي هريرة و هو من حديث محمد بن سيرين غريب إن كان هذا ابن سيرين

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو ابو حامد بن شرقی نے ان کو محمد بن عقیل نے اپنی تحریر سے اور اپنے حافظے اور یاد داشت سے ان کو حفص بن عبداللہ ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو ایوب نے ان کو محمد نے ابو ہریرہ سے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا ڈرتا نہیں کوئی تم سے اس بات سے جب وہ اپنا سر بسجود سے امام سے پہلے اٹھاتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ بدل کر اس کا سر گدھے گا بنا دے۔ بخاری میں یہ نقل ہے محمد بن زیاد کی حدیث سے اس نے ابو ہریرہ سے اور وہ حدیث محمد بن سیرین سے یہ روایت غریب ہے اگر چہ وہ ابن سیرین ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← محمد بن عقيل من كتابه و من حفظه ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3128

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3129

3129 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق أنبأ علي بن عبد العزيز ثنا مسلم ثنا شعبة عن سليمان الأعمش عن زيد بن وهب قال : دخلت مع حذيفة المسجد فرأى رجلا يصلي لا يتم ركوعه و لا سجوده فقال له حذيفة منذ كم صليت قال : منذ أربعين سنة فقال له حذيفة : ما صليت و لو قد مت مت على غير الفطرة التي فطر الله عليها محمدا صلى الله عليه و سلم فإن الرجل قد يخف صلاته و يتم ركوعها سجودها رواه البخاري في الصحيح عن حفص بن عمر عن شعبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق نے ان کو خبر دی علی بن عبدالعزیز نے ان کو مسلم نے ان کو شعبہ نے ان کو سلیمان اعمش نے ان کو زید بن وہب نے وہ کہتے ہیں میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تو انہوں نے ایک آدمی کووہاں نماز پڑھتے دیکھا جو نہ رکوع پورا کرر ہا تھا نہ سجدہ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پوچھا کب یا کتنے عرصے سے تم ایسے نما زپڑھ رہے ہو اس نے بتایا چالیس سال سے حضرت حذیفہ نے ان کو فرمایا کہ آپ نے نماز نہیں پڑھی اور اگر آپ مر جاتے تو فطرت سے ہٹ کر مرتے جس پر اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا فرمایا تھا۔ بے شک آدمی کبھی اپنی نماز میں تخفیف کرتا ہے اور جلدی جلدی پڑھا تھا اور اس کے رکوع سجود پورا رکرتا۔ اس کو بخاری نے صحیح میں حفص بن عمر سے اس نے شعبہ سے روایت کیا ہے۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُّسْلِمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3129

chevron_left Previous
1…343536…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood