Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3106

3106 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي قالا : أنبأ أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي الذهلي ثنا يحيى بن يحيى أنا المعتمر بن سليمان قال : قال أبي حدثني عبد الله قال : سئل عبيد الله مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمر بالصلاة بعد المكتوبة قال : نعم بين المغرب و العشاء

ہمیں خبر د ی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں خبرد ی ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی ذہلی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو خبر دی معتمر بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عبداللہ نے وہ کہتے ہیں عبیداللہ غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرض نماز کے بعد بھی کچھ نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے انہوں نے کہا کہ جی ہاں مغرب اور عشاء کے درمیان۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ← أنبأ أبو عمرو بن مطر ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3106

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3107

3107 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا الأصم محمد بن إسحاق الصنعاني ثنا الأشعث ثنا ابن لهيعة قال : و قال أبو عقيل زهرة بن معبد سمعت ابن المنكدر و أبا حازم يقولان : ـ { تتجافى جنوبهم عن المضاجع } فيما بين المغرب و صلاة العشاء صلاة الأوابين و روينا عن ابن عباس و ابن الزبير و أنس بن مالك رضي الله عنهم في ناشئة الليل أنها بين المغرب و العشاء و كان الحسن لا يعد ذلك في صلاة الليل حتى ينام نومة ثم يقوم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو اشعث نے ان کو ابن لہیعہ نے وہ کہتے ہیں کہ ابو عقیل نے کہا (یعنی زہرہ بن معبد نے) کہ میں نے ابن منکدر سے سنا اور ابو حازم سے دونوں کہتے تھے کہ : " تتجا فی جنوبھم عن المضاجع" کہ اللہ والوں کی کوٹیں بستروں سے علیحدہ ہو جاتی ہیں۔ کہ یہ آیت صلوٰۃ اوابین کے بارے میں ہے اور وہ نماز ہے مغرب اور عشاء کے درمیان اور ہم نے روایت کی ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ابن زبیر اور انس بن مالک سے۔ ناشنۃ اللیل۔ یہ مغرب اور عشاء کے درمیان ہے اور حسن اس نماز کو صلوٰۃ اللیل میں شمار کرتے تھے یہاں تک کہ پہلے کچھ نیند کرے اور پھر اٹھ کر نماز پڑھے تو یہ صلوٰۃ اللیل شمار ہو گی(یعنی تہجد)۔

المضاجع فيما بين المغرب و صلاة العشاء صلاة الأوابين و روينا ← ابن المنكدر و أبا حازم يقولان تتجافى جنوبهم ← أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ← و، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْأَشْعَثِ ← الأصم محمد بن إسحاق الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3107

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3108

3108 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن مهران ثنا عبيد الله بن موسى أنا إسرائيل عن الحكم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قوله : ـ { كانوا قليلا من الليل ما يهجعون } قال لا تمر بهم ليلة ينامون حتى يصبحوا إلا يصلون فيها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن مہران نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ان کو حکم نے ان کو سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں۔ " کانو اقیلا من اللیل مایھجعون " کہ وہ لوگ رات کو بہت کم سوتے تھے فرمایا کہ وہ ہر رات کو جو سوتے تھے تو اس میں صبح صادق سے پہلے پہلے نماز بھی پڑھتے تھے (تہجد کی نماز)۔

لا تمر بهم ليلة ينامون حتى يصبحوا إلا يصلون فيها ← ابن عباس في قوله كانوا قليلا من الليل ما يهجعون ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْحَكَمِ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3108

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3109

3109 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمر محمد بن عبد الواحد الزاهد ثنا أحمد بن عبيد الله النرسي ثنا عبيد الله بن موسى ثنا ابن أبي ليلى عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : ـ { كانوا قليلا من الليل ما يهجعون } قال : كانوا كل ليلة تمر بهم ينامون فيها حتى يصبحوا لا يصلون فيها

اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو محمد بن عبدالواحد زاہد نے ان کو احمد بن عبیداللہ نرسی نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو ابن ابی لیلیٰ نے منھال سے اس نے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس سے " کانو اقیلا من اللیل مایھجعون" کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ ایسے تھے کہ ہر رات جوان پر گزرتی تھی جس میں وہ نیند کرتے تھے یہاں تک کہ وہ صبح کرتے مگر وہ اس میں نماز ضرور پڑھتے۔

كانوا كل ليلة تمر بهم ينامون فيها حتى يصبحوا لا يصلون فيها ← ابْنِ عَبَّاسٍ {كَانُوا قَلِيلاً مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ} ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالُ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أبو عمر محمد بن عبد الواحد الزاهد ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3109

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3110

3110 - و روينا عن قتادة عن أنس بن مالك في هذه الآية قال : يصلون بين العشاء و المغرب أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عبد الرحمن بن أبي الوزير ثنا أبو حاتم الرازي ثنا الأنصار عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس فذكره

اور ہم نے روایت کی ہے قتادہ سے اس نے انس بن مالک سے ا س آیت میں فرمایا کہ وہ نماز پڑھتے تھے عشاء اور مغرب کے درمیان اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے مجھے خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن بن ابو الوزیر نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو انصاری نے ان کو سعید بن ابو عروبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر اس کو انہوں نے ذکر کیا ہے۔

أنس فذكره ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← الْأَنْصَارُ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو عبد الرحمن بن أبي الوزير، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← يصلون بين العشاء و المغرب ← أنس بن مالك في هذه الآية ← قَتَادَةَ ← و روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3110

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3111

3111 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا أبو الوليد ثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص ثنا أبي عن أبيه قال : كنت عند عثمان فدعا بطهوره فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من امرىء مسلم تحضره صلاة مكتوبة فيحسن طهورها و خشوعها و ركوعها إلا كانت كفارة لما قبلها من الذنوب ما لم يؤت كبيرة و ذلك الدهر كله رواه مسلم في الصحيح عن حجاج بن الشاعر و عبد بن حميد عن أبي الوليد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو ابو الولید نے ان کو اسحٰق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نےان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان کے پاس بیٹھا تھا انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےسنا تھا فرماتے تھے کوئی ایسا مسلمان نہیں ہے کہ اس کو فرض نماز پالے پھر وہ اچھی طرح وضو کرے اور نماز پڑھے اور اس کے خشوع اور رکوع کا خیال کرے مگر یہ بات کفارہ ہو جائے گی سابقہ گناہوں کے لئے جب تک کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے اور یہ سارا سال ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں حجاج بن شاعر سے اور عبد بن حمید سے اس نے ابو الولید سے۔

أَبِيهِ ← أَبِي ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3111

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3112

3112 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاذ أحمد بن سلمة ثنا عمرو بن زرارة ثنا أبو عبيدة الحداد عن عثمان بن أبي رواد عن الزهري قال : دخلت على أنس بن مالك بدمشق و هو يبكي فقلت ما يبكيك ؟ قال : لا أعرف شيئا اليوم مما أدركت إلا هذه الصلاة و قد ضيعتم منها ما قد ضيعتم رواه البخاري عن عمرو بن زرارة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ احمد بن سلمہ نے ان کو عمرو بن زرارہ نے ان کو ابو عبیدہ حداد نے ان کو عثمان بن ابو رواد نے زہری سے وہ کہتے ہیں کہ میں داخل ہوا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک کے پاس دمشق میں جبکہ وہ رو رہے تھے میں نے کہا کہ کس بات نے آپ کو رلایا ہے؟ فرمانے لگے کہ میں آج کسی شے کو نہیں جانتا اس میں سے جو کچھ میں جانتا تھا مگر صرف یہی نماز اور تم نے ضائع کر دیا ہے اس میں سے جو کچھ ضائع کر دیا ہے۔ اس کو روایت کیا ہے بخاری نے عمرو بن زرارہ سے۔

الزُّهْرِيِّ، ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← علي بن حمشاذ أحمد بن سلمة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3112

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3113

3113 - و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ثنا أبو أسامة عن الوليد بن كثير حدثني سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة قال : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما ثم انصرف فقال : يا فلان ألا تحسن صلاتك ألا تنظر المصلي إذا صلى كيف يصلي فإنما يصلي لنفسه إني و الله لأبصر من ورائي كما أبصر من بين يدي رواه مسلم عن أبي كريب عن أبي أسامة

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ بن فضل نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو ولید بن کثیر نے ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوںکو نماز پڑھائی ایک دن جب پلٹے تو فرمایا: اے فلانے کیا آپ اپنی نماز اچھی طرح نہیں پڑھتے۔ کیا تم نماز پڑھنے والے کو دیکھتے نہیں ہو جب وہ نماز پڑھتا کہ کیسے وہ نماز پڑھتا یقینی بات ہے کہ وہ اپنے لئے نماز پڑھتا ہے بے شک اللہ کی قسم میں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں جیسے میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو کریب سے اس نے ابو اسامہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3113

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3114

3114 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا حسين بن علي الجعفي عن زائدة عن يحيى بن عبيد الله قال : سمعت أبي يقول : سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من عبد يحسن وضوءه و يسبغه و يكمله ثم يخرج إلى صلاة الظهر حين يؤذن بها فيكمل ركوعها و سجودها و خشوعها إلا كفرت ما كان قبلها و ما هو كائن بعدها في ذلك اليوم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو حسین بن علی جعفی نے انکو زائدہ نے ان کو یحییٰ بن عبیداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو بھی بندہ اچھی طرح سے اپنا وضو کرتا ہے اور اس کو پورا کرتا ہے مکمل کرتا ہے پھر وہ نماز ظہر کے لئے نکلتا ہے جب اس کی اذان ہو جاتی ہے پھر وہ اس کے رکوع سجود اور اس کے خشوع کو مکمل کر تا ہے مگر وہ نما ز کفارہ ہوتی ہے (ان گناہوں کے لئے) جو اس سے قبل ہوتے ہیں اور ان کے لئے بھی جو اس کے بعد ہونے والے ہوتے ہیں اس دن کے اندر۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3114

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3115

3115 - و بهذا الإسناد عن زائدة حدثني يحيى بن عبيد الله قال : سمعت أبي يقول : سمعت أبا هريرة رضي الله عنه يقول : ذكرت السرقة عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أي السرقة تعدون أقبح فقالوا : الرجل يسرق من أخيه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أقبح السرقة الذي يسرق صلاته قالوا : كيف يسرق أحدنا صلاته ؟ قال : لا يتم ركوعها و لا سجودها و لا خشوعها

اور اسی اسناد سے مروی ہے زائدہ سے ان کو حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن عبیداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والدہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چوری کا ذکر کیا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کون سی چوری کوتم لوگ بد ترین شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ بسا اوقات کوئی آدمی اپنے بھائی کو چوری کرتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک بد ترین چوری وہ ہے جو شخص اپنی نماز کے چوری کرتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا ہم میں سے کوئی کیسے اپنی نماز کی چوری کر سکتا ہے ؟ فرمایا کہ نہ تو اس کا رکوع پورا ہوتا ہے نہ سجود اور نہ ہی اس کو خشوع پورا کرتا ہے (یہ نماز کی چوری ہے)۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3115

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3116

3116 - و أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف الفقيه أنا مخلد بن جعفر بن مخلد الدقاق ثنا سعيد بن عجب أبو عثمان الأنباري ثنا هشام بن عمار ثنا عيد الحميد بن أبي العشرين ثنا الأوزاعي ثنا يحيى بن أبي كثير ثنا أبو سلمة ثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أسوء الناس سرقة الذي يسرق صلاته قالوا : يا رسول الله و كيف يسرق صلاته ؟ قال : لا يتم ركوعها و لا سجودها و رواه الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن يحيى بن عبد الله بن أبي قتادة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن ابو المعروف فقیہ نے ان کو مخلد بن جعفر بن مخلد الدقاق نے ان کو سعید بن عجب نے ان کو عثمان انباری نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو عبدالحمید بن ابو العشرین نے ان کو اوزاعی نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک لوگوں میں سے بد ترین چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ اور کیسے وہ اپنی نماز کی چوری کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اس کا رکوع پورا نہیں کرتا نہ سجدہ پورا کرتا ہے اور اس کو روایت کیا ہے ولید بن مسلم نے اوزاعی سے اس نے یحییٰ بن عبداللہ بن ابو قتادہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عيد الحميد بن أبي العشرين ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← سعيد بن عجب أبو عثمان الأنباري ← مخلد بن جعفر بن مخلد الدقاق ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3116

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تحسين الصلاة و الإكثار منها ليلا و نهارا و ما حضرنا عن السلف ـ الصالحين في ذلك · حديث 3117

3117 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار الصوفي ثنا الحكم بن موسى ثنا الوليد بن مسلم : فذكره

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار صوفی نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو ولید بن مسلم نے پھر اسی کو ذکر کیا ہے۔

الوليد بن مسلم فذكره ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Improving prayer and increasing it day and night, and what we have attended from the predecessors - the righteous in that · Hadith 3117

chevron_left Previous
1…333435…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood