Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3070

3070 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا عباس بن محمد ثنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خاف أن لا يستيقظ من آخر الليل فليوتر قبل من أول الليل ثم يرقد و من طمع أن يقوم من آخر الليل فليوتر من آخر الليل فإن قيام آخر الليل محضور و ذلك أفضل أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرورزاز نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے جابر بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص خوف کرے کہ رات کے آخری حصے میں نہیں جاگ سکے گا وہ رات کے اول حصے میں وتر پڑھ لے اس کے بعد سوئے اور جو شخص امید رکھتا ہے کہ آخر رات میں جاگ جائے گا اسے چاہیے کہ وہ رات کے آخری حصے میں یعنی تہجد کے بعد وتر پڑھے۔ بے شک رات کے آخری حصے میں قیام کرنا محضور ہوتا ہے یعنی فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہی افضل ہے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں دوسرے طریق سے اعمش سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3070

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3071

3071 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصنعاني ثنا عبد الله بن صالح حدثنا الليث حدثني يونس عن ابن شهاب أخبرني السائب بن يزيد و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أن عبد الرحمن بن عبد القاريء قال : سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من نام عن حزبه أو شيء منه فقرأه فيما بين صلاة الفجر و صلاة الظهر كتب له كأنما قرأه من الليل أخرجه مسلم من حديث ابن وهب عن يونس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اضم نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو لیث نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سائب بن یزید نے اور عبیداللہ بن عتبہ نے کہ عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے کہا کہ میں نے سناعمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے وظیفے کئے بغیر معمول سے سو جائے (یعنی بغیر پڑھے) پھر وہ اس کوفجر سے ظہر تک کے درمیان میں پڑھ لے تو اس کے لئے لکھ دیا جاتا ہے گویا کہ اس نے اس کو پڑھا ہے رات میں ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے ابن وہب کی حدیث سے یونس سے۔

السائب بن يزيد و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3071

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3072

3072 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا دعلج بن أحمد ثنا عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم ثنا أبي علي بن عاصم أخبرني يحيى البكاء حدثني عبد الله بن عمر عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أربع ركعات بعد الزوال قبل الظهر يعدلن بصلاة السحر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و ليس شيء إلا و هو يسبح الله تلك الساعة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو عمر بن حفص سدوسی سے اس نے عاصم سے اس نے ابو علی بن عاصم سے اس کو خبر دی یحییٰ بکاء نے ان کو عبداللہ بن عمر نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ فرماتے تھے کہ زوال کے بعد اور ظہر سے قبل چار رکعات پڑھنا سحر کی (یعنی تہجد کی) نماز کے برابر ہیں (یہ ظہر کی پہلی چار سنتیں ہیں مترجم) اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی چیز (خالی نہیں) ہے مگر ہر شے اس وقت اور اس ساعت میں اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔

أربع ركعات بعد الزوال قبل الظهر يعدلن بصلاة السحر ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، مَا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← يَحْيَى الْبَكَّاءِ ← أبي علي بن عاصم ← عَاصِمٍ، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3072

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3073

3073 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس الأصم أنبأ العباس بن الوليد أخبرني أبي ثنا الأوزاعي حدثني بعض أخوالي عن أبي مجلز عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا زالت الأفياء و راحت الأرواح فاطلبوا إلى الله حوائجكم فإنها ساعة الأوابين و إنه كان للأوابين غفورا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن ولید نے ان کو ان کے والد نے ان کو دازاعی نے ان کو ان کے بعض ماموں نے ابو مجلز سے ان کو علی بن ابو طالب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب سائے ڈھل جائیں اور روحیں راحت و سکون پا لیں پھر اپنی حاجتیں اللہ کی طرف طلب کرو بے شک یہ اوابین (اللہ کی طرف رجوع ہونے والے لوگوں) کی سماعت او ر گھڑی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: " فانہ کان للاوابین غفورا" بے شک وہ بار بار رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← بعض أخوالي ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← أبو العباس الأصم أنبأ العباس بن الوليد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3073

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3074

3074 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة عن عبيدة عن إبراهيم عن سهم بن منجاب عن قزعة عن فريع عن أبي أيوب قال : نزل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان يصلي أربعا قبل الظهر فسألته عن ذلك فقال : إن أبواب السماء تفتح فما تغلق حتى يصلى الظهر قال : قلت يا رسول الله أنسلم بينهن ؟ قال : لا إلا في آخرهن زاد فيه غيره عن عبيدة و أحب أن يصعد لي فيها خير قال البيهقي رضي الله عنه : و هذا أوضح ففيه دلالة على أن ذلك كان في أول ما هاجر النبي صلى الله عليه و سلم إلى المدينة و نزل على أيوب ثم صار الأمر إلى قوله صلى الله عليه و سلم : صلاة الليل و النهار مثنى مثنى و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو عبیدہ نے ان کو ابراہیم نے ان کو سہم بن منجاب نے ان کو قزعہ نے ان کو فریع نے ان کو ابو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے (یعنی تشریف لائے) تو آپ ظہر سے قبل چار رکعات پڑھتے تھے میں نے ان سے ان کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا بے شک آسمانوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں تو پھر بند نہیں کیے جاتے حتیٰ کہ ظہر پڑھ لی جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ کیا ہم ان کے درمیان سلام پھیریں؟ فرمایا کہ نہیں مگر ان کے آخر میں۔ اس حدیث میں ابو ایوب کے سوابا قیوں نے یہ اضافہ کیا ہے عبیدہ وغیرہ سے کہ میں محبوب رکھتا ہوں کہ میری اس ساعت میں کوئی خیر اوپر چڑھے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ روایت سب سے زیادہ واضح ہے اور اس میں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت کے زمانے کے شروع میں تھا اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابو ایوب کے ہاں تشریف لائے تھے اور ٹھہرے تھے اس کے بعد معاملہ رجوع ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کی طرف۔ رات کی نماز بھی اور دن کی نما ز (نفل) دو دو رکعات ہیں۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← فريع ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عُبَيْدَةُ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3074

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3075

3075 - أخبرنا ابن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا هشام بن علي السيرافي ثنا معاذ بن شعبة بن ميمون بن صقر أبو سهل ثنا عبيدة بن حميد عن حميد عن أنس قال : لم يكن شيء أحب إليهم من صلاة الليل أو صلاة النهار بالهاجرة قبل الظهر

ہمیں خبر دی ابن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ہشام بن علی سیرافی نے ان کومعاذ بن شعبہ بن میمون ابن صقر نے ان کو ابو سہل نے ان کو عبیدہ بن حمید نے ان کو حمید نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے کہا کہ کوئی شے صحابہ کو صلوٰۃ اللیل اور صلوٰۃ النھار یعنی رات کی نماز اور دن کی دوپہر کی گرمی کے وقت ظہر سے قبل نماز سے زیادہ کوئی شے محبوب نہیں تھی۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عبيدة بن حميد ← معاذ بن شعبة بن ميمون بن صقر أبو سهل ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← ابن عبدان

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3075

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3076

3076 - أخبرنا أبو الحسن المقريء أنبأ الحسن بن الحمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أبو الربيع ثنا ابن شهاب عن حميد الطويل عن أنس بن مالك أنه قال : كان أحب صلاة النهار إليهم تطوعا قبل الظهر

ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن حمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالربیع نے ان کو ابن شہاب نے ان کو حمید طویل نے ان کو انس بن مالک نے کہ انہوں نے فرمایا کہ صحابہ کرام کو دن کی نماز میں سے بطور نفل کے ظہر سے قبل کی نماز (چار رکعات ) زیادہ پسند یدہ تھی۔

كان أحب صلاة النهار إليهم تطوعا قبل الظهر ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أبو الحسن المقريء أنبأ الحسن بن الحمد بن إسحاق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3076

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3077

3077 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس هو الأصم ثنا سعيد بن عثمان عن سعيد بن كثير بن دينار ثنا جرير عن ابن أبي عوف عن أبي فاطمة الأنصاري صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم و كان يكثر السجود فقال له رجل من الناس : يا أبا فاطمة أشفعت أم أوترت قال لكن الله يدري

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو سعید بن عثمان نے ان کو سعید بن کثیر بن دینار نے ان کو جریر نے ان کو ابن ابو عوف نے ان کو ابو فاطمہ انصاری صاحب رسول اللہ نے اور وہ کثیر السجود تھا یعنی کثرت سے نماز پڑھتا تھا۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے اس کو کہا اے ابو فاطمہ کیا تم دوگانہ دوگانہ کرتے ہو یا ایک ایک رکعت؟ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

ابْنِ أَبِي عَوْفٍ، ← جَرِيرٌ ← سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ← سعيد بن عثمان ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3077

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3078

3078 - أخبرنا القاضي أبو بكر ثنا حاجب بن أحمد ثنا محمد بن يحيى ثنا معاذ بن فضالة الزهراني و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل قالا : ثنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو إسماعيل الترمذي ثنا أبو زيد معاذ بن فضالة أنا أبو يحيى بن أيوب عن بكر بن عمرو عن صفوان بن سليم قال بكر : حسبته عن أبي سلمة عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا خرجت من منزلك إلى الصلاة فصل ركعتين يمنعانك مخرج السوء و إذا دخلت إلى منزلك فصل ركعتين يمنعانك من مدخل السوء

ہمیں خبر دی قاضی ابو بکر نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو معاذ بن فضالہ زہرانی نے(ح) اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن موسیٰ بن فضل نے ان دونوں کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ان کو ابو زید معاذ بن فضالہ نے ان کو ابو یحییٰ بن ایوب بن بکر بن عمر نے صفوان بن سلیم سے بکر نے کہا میں نے گمان کیا ہے اس کو ابو سلمہ سے اس نے ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے فرمایا جب آپ اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلیں تو دو رکعتیں پڑھیے وہ اس کو برے جانے اور برے نکلنے سے بچائیں گی اور جب آپ اپنے گھر میں داخل ہوں تو پھر بھی دو رکعات پڑھیے وہ آپ کو گھر میں برے داخلے سے روکیں گی۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← بكر حسبته ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، ← أبو يحيى بن أيوب ← أبو زيد معاذ بن فضالة ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل ← معاذ بن فضالة الزهراني و ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← القاضي أبو بكر،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3078

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3079

3079 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا حذيفة بن الحسين و غيره قالوا : أنبأ أبو أمية محمد بن إبراهيم ثنا سعيد بن عبد الحميد بن جعفر ثنا إبراهيم بن يزيد بن قديد عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دخل أحد المسجد فلا يجلس حتى يركع ركعتين و إذا دخل أحدكم بيته فلا يجلس حتى يركع ركعتين فإن الله جاعل له من ركعتيه في بيته خيرا أنكره البخاري بهذا الإسناد و الإسناد الذي تقدم له شاهد

ہمیں خبر دی ہے ابوسعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو حذیفہ بن حسین وغیرہ نے انہوں نے کہا ہمیں خبردی ہے ابو امیہ محمد بن ابراہیم نے ان کو سعید بن عبدالحمید بن جعفر نے ان کو ابراہیم بن یزید قدید نے ان کو اوزاعی نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو یونہی نہ بیٹھ جائے بلکہ پہلے دو رکعتیں پڑھ لے اور جب تم میں سے کوئی آدمی گھر میں داخل ہو تو یونہی نہ بیٹھ جائے بلکہ پہلے دو رکعتیں پڑھ لے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی ان دو رکعتوں کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر پیدا کردے گا۔بخاری نے اس اسنا د کا انکار کیا ہے اور وہ اسناد جو پہلے گزر چکی وہ اس کے لئے شاہد ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← إبراهيم بن يزيد بن قديد ← سعيد بن عبد الحميد بن جعفر ← أنبأ أبو أمية محمد بن إبراهيم ← حذيفة بن الحسين و غيره ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3079

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3080

3080 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري أنا حاجب بن أحمد الطوسي ثنا محمد بن رافع حدثني إبراهيم بن الحكم حدثني أبي عن عكرمة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا عباس يا عم رسول الله ألا أهدي لك ألا أمنحك ألا أزودك ألا أهب لك ألا أعطيك ألا أحبوك صل أربع ركعات من ليل شئت أو من نهار فإذا كبرت فاقرأ ما شئت فإذا فرغت من قراءتك فقل خمس عشرة مرة سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر ثم اركع فإذا ركعت فقل عشر مرات و أنت راكع ثم ارفع رأسك فقل عشر مرات قبل أن تخر ساجدا ثم اسجد فقلها عشرا و أنت ساجد ثم ارفع رأسك فقلها عشرا ثم اسجد الثانية فقلها عشرا و أنت ساجد ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تقوم ثم قم فاقرأ كما قرأت ثم قلها خمس عشرة مرة بعد أن تقرأ ثم قلها عشرا كما فعلت في الركعة الأولى ثم الباقي فإنه يغفر لك ذنبك صغيره و كبيره و حديثه و قديمة و عمده و جهله و سره و علانيته صلها إن استطعت كل يوم مرة و إلا ففي كل جمعة مرة و إلا ففي كل شهر مرة و إلا ففي كل سنة مرة و إلا ففي عمرك من الدنيا مرة واحدة هكذا رواه محمد بن رافع مرسلا و رواه إسحاق بن إبراهيم الحنظلي عن إبراهيم بن الحكم عن أبيه عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن حیری نے ان کو حاجب بن احمد طوسی نے ان کو محمد بن رافع نے ان کو ابراہیم بن حکم نے ان کو ان کے والد نے ان کو عکرمہ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عباس ' اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کیا میں آپ کو تحفہ نہ دوں؟ کیا میں تجھے عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو زاد راہ نہ دوں؟ کیا میں تیرے واسطے بخشش نہ کروں؟ کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو عنایت نہ کروں؟ آپ چار رکعات پڑھئے رات میں آپ چاہیں تو ان میں جب آپ تکبیر کہہ لیں تو پھر قرات پڑھیں جس قدر آپ چاہیں جب آپ قرات سے فارغ ہو جائیں تو اس کے بعد آپ پندرہ مرتبہ یہ کلمات پڑھیں " سبحان اللہ ' والحمدللہ ' ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر "۔ اس کے بعد آپ رکوع کریں پھر جب رکوع کریں رکوع میں دس مرتبہ پڑھیں اس کے بعد سر اٹھائیں اور کھڑے ہو کر پڑھیں دس مرتبہ سجدے میں جانے سے قبل، اس کے بعد آپ سجدہ میں پڑھیں دس مرتبہ ا س کے بعد سجدے سے سر اٹھائیں اور اس کو پڑھیں دس مرتبہ اس کے بعد آپ دوسرا سجدہ کریں پھر دوسرے سجدے میں پڑھیں د س مرتبہ پھر سر اٹھائیں اور اٹھنے یعنی کھڑا ہونے سے پہلے پڑھیں دس مرتبہ۔ اس کے بعد آپ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں پھر حسب سابق قرات کریں پھر ان کو پڑھیں پندرہ مرتبہ قرات کے بعد اس کے پہلی رکعت کی طرح دس دس مرتبہ پڑھیں۔ اس کے بعد باقی تین رکعات اسی طرح پڑھیں۔ بے شک تیرے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے صغیرہ بھی اور کبیرہ بھی نئے بھی پرانے بھی قصدا کیے ہوئے بے دھیانی میں کیے ہوئے چھپے ہوئے بھی ظاہر بھی اگر آپ چاہیں تو آپ اسے روزانہ پڑھیں ورنہ ہر جمعہ کو پڑھیں اگر یہ بھی نہ کر سکیں تو پھر ہر مہینے پڑھیں اگر نہ وہ سکے تو پھر ہر سال پڑھ لیں اگر نہ ہو سکے تو دنیا کی زندگی میں ایک بار پڑھ لیں۔ (1) اسی طرح اس کو روایت کیا ہے محمد بن رافع نے مرسل روایت کے طور پر۔ (2) اور اس کو روایت کیا ہے اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ابراہیم بن حکم سے اس نے اپنے والد سے اس نے عکرمہ سے اس نے حضرت ابن عباس سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے۔

عِكْرِمَةَ، ← أَبِي ← إبراهيم بن الحكم ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3080

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3081

3081 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن قريش ثنا الحسن بن سفيان ثنا إسحاق بن إبراهيم : فذكره قال مثله حديث القنباري عن الحكم و قد رويناه من حديث عبد الرحمن بن بشر عن موسى بن عبد العزيز القنباري عن الحكم بن أبان عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم غير أنه زاد في غفران الذنب أوله و آخره قال البيهقي رحمه الله : و قد ذكرناه في كتاب السنن و في الدعوات و قد رأيت حديث إسحاق بن إبراهيم في موضع آخر مرسلا و المرسل أصح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن قریش نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے پھر اس نے اس حدیث کو ذکر کیاہے اور کہا ہے کہ حدیث قنباری حکم سے اسی کے مثل ہے اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے عبدالرحمٰن بن بشر کی حدیث سے اس نے موسی بن عبدالعزیز قنباری سے اس نے حکم بن ابان سے اس نے عکرمہ سے اس نے ابن عباس سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علاوہ ازیں اس نے گناہوں کی مغفرت کے ذکر میں اولہ وآخرہ یعنی پہلے گناہ بھی اور پچھلے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے کا اضافہ بھی کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کو کتا ب السنن میں ذکر کیا ہے اور کتاب الدعوات میں اور تحقیق حدیث اسحٰق بن ابراہیم ایک دوسرے مقام پر بطور مرسل روایت کے دیکھی ہے اور مرسل (اس بارے میں ) زیادہ صحیح ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← موسى بن عبد العزيز القنباري ← الحكم و قد رويناه من حديث عبد الرحمن بن بشر ← مثله حديث القنباري ← إسحاق بن إبراهيم فذكره ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر بن قريش، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3081

chevron_left Previous
1…303132…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood