Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم ـ ليلة الجمعة و يومها و فضل قراءة ـ سورة الكهف · حديث 3046

3046 - أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني ثنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ ثنا القاسم بن عبد الله بن مهدي و أنا سألته على شط النيل بأخيم فأملى علي من حفظه ثنا أبو مصعب أحمد بن أبي بكر الزهري ثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه عن سهل بن سعد الساعدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لكم في كل جمعة حجة و عمرة فالحجة الهجيرة للجمعة و العمرة انتظار العصر بعد الجمعة

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور احمد بن علی دامغانی نے ان کو ابو احمد عبداللہ بن عدی حافظ نے ان کو قاسم بن عبداللہ بن مہدی نے جبکہ میں نے ان سے پوچھا تھا دریائے نیل کے کنارے مقام اخمیم میں پھر انہوں نے مجھے لکھوایا تھا اپنے حفظ سے اس نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو مصعب احمد بن ابی بکیر زہری نے ان کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے ان کو ان کے والد نے ان کو سہل بن سعدساعدی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارے لیے ہر جمعہ کے دن ایک حج اور ایک عمرہ ہوتا ہے حج تو دوپہر کی گرمی میں جمعہ کی طرف جانا ہے اور عمرہ جمعہ کے بعد عصر کا انتظار کرتا ہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← أبو مصعب أحمد بن أبي بكر الزهري ← سألته على شط النيل بأخيم فأملى علي من حفظه ← القاسم بن عبد الله بن مهدي و ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The merit of praying upon the Prophet, may God bless him and grant him peace - Friday night and its day, and the virtue of reciting Surat Al-Kahf · Hadith 3046

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3047

3047 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي و إسحاق بن الحسن قالا : ثنا القعنبي عن مالك ح و أخبرنا أبو أحمد المهرجاني أنبأ أبو بكر محمد بن جعفر المزكى ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا ابن بكير ثنا مالك عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا نودي للصلاة أدبر الشيطان و له ضراط حتى لا يسمع التأذين فإذا قضي النداء أقبل حتى إذا ثوب بالصلاة أدبر حتى إذا قضى التثويب أقبل حتى يخطر بين المرء و نفسه و يقول اذكر كذا و اذكر كذا لما لم يكن يذكر حتى يضل الرجل أن يدري كم صلى رواه البخاري في الصحيح عن عبيد الله بن يوسف عن مالك و أخرجه مسلم من حديث المغيرة عن أبي الزناد قال البيهقي رحمه الله : و المراد بالتثويب ههنا الإقامة و قد رويناه من حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة مفسرا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق قاضی نے اور اسحٰق بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کیہے قعنبی نے مالک سے (ح) اورہمیں خبر دی ہے ابو احمد مہرجانی نے ان کوابو بکر محمد بن جعفر مزکی نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابن بکیر نے ان کومالک نے ان کو ابوالزناد نے اعرج سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس وقت نماز کے لئے اذان پڑھی جاتی ہے تو شیطان پیچھے کی طرف بھاگتا ہے اور پادتا جاتا ہے (اتنی دور چلا جاتا ہے کہ ) اذان کو نہ سنے اور جس وقت اذان پوری ہو جاتی ہے تو پھر واپس لوٹ آتا ہے پھر جس وقت اقامت کہی جاتی ہے پھر پچھلے پاؤں بھاگتا ہے پھر جب اقامت پوری ہو جاتی ہے تو پھر لوٹ کر آتا ہے یہاں تک کہ وہ انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ ایسے ایسے یاد کر فلاں فلاں بات یاد کر و یعنی وہ باتیں جو اس کو یاد نہیں تھیں یاجن کو وہ یاد نہیں کرتا تھا (وہ بھی نماز میں یاد آ جاتی ہیں) مگر انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے (رکعات بھولتا قرات بھولتا اور پتا نہیں کیا کیا بھول جاتا ہے) اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے شر سے محفوط رکھے۔ اس کو بخاری و صحیح میں روایت کیا ہے ۔ عبداللہ بن یوسف سے اس نے مالک سے اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے مغیرہ کی روایت سے ابو الزناد سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تثویب سے مرا یہاں اقامت ہے اور ہم نے اس بات کو اعمش کی روایت جو کہ ابو صالح سے ہے ابو ہریرہ سے تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أبو أحمد المهرجاني أنبأ أبو بكر محمد بن جعفر المزكي ← و، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← إسماعيل بن إسحاق القاضي و إسحاق بن الحسن ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3047

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3048

3048 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن عيسى بن إبراهيم الحيري ثنا أبو عبد الرحمن محمد بن إبراهيم بن سعيد العبدي إملاء ثنا أمية بن بسطام ثنا يزيد بن زريع ثنا روح بن القاسم عن سهيل بن أبي صالح قال : أرسلني أبي إلى بني حارثة قال و معي غلام لنا أو صاحب لنا فناداه مناد من حائط باسمه قال فأشرف الذي معي على الحائط فلم ير شيئا فذكرت ذلك لأبي فقال لو شعرت أنك تلقى هذا لم أبعثك و لكن إذا سمعت صوتا فناد بالصلاة فإني سمعت أبا هريرة يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن الشيطان إذا نودي بالصلاة ولى و له حصاص رواه مسلم عن أمية بن بسطام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ بن ابراہیم حیری نے ان کو عبداللہ محمد بن ابراہیم بن سعید عبدی نے بطور املاء کے ان کو امیہ بن بسطام نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو روح بن قاسم نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے نبی حارثہ کی طرف بھیجا۔ کہتے ہیں کہ میرے ساتھ ہمارا لڑکا تھا اور ایک دوست تھا اتنے میں اس کو کسی آواز دینے والے نے دیوار سے اس کا نام لے کر آواز دی کہتے ہیں کہ آواز سن کر اس آدمی نے جو میرے ساتھ تھا اوپر نظر اٹھا کر دیوار پر دیکھا مگر اس کو کوئی شے نظر نہ آئی میں نے یہ بات اپنے والد سے ذکر کی تو انہوں نے کہا اگر میں جان لیتا کہ (تم اس کو ملو گے تو میں تمہیں نہ بھیجتا) لیکن جب تو کوئی آواز سنے تو پھر نماز کے لئے اذان پڑھے میں نے ابو ہریرہ سے سنا تھا وہ حدیث بیان کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان کہی جاتی ہے تو بے شک شیطان پیچھے کو مڑ جاتا ہے اور اس کے واسطے پادنا اور بھاگنا ہوتا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے امیہ بن بسطام سے۔

أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← إن الشيطان إذا نودي بالصلاة ولى و له حصاص رواه مسلم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← صَوْتًا فَنَادِ بِالصَّلَاةِ فَإِنِّي ← لو شعرت أنك تلقى هذا لم أبعثك و لكن إذا ← فأشرف الذي معي على الحائط فلم ير شيئا فذكرت ذلك لأبي ← و معي غلام لنا أو صاحب لنا فناداه مناد من حائط باسمه ← أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَی بَنِي حَارِثَةَ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أبو عبد الرحمن محمد بن إبراهيم بن سعيد العبدي إملاء ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3048

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3049

3049 - أخبرنا أبو بكر القاضي ثنا خلف بن أحمد الطوسي ثنا محمد بن حماد ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن عبد الجبار قالا : ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و في رواية العطاردي إذا أذن المؤذن هرب الشيطان حتى يكون بالروحاء و هي من المدينة ثلاثون ميلا رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة و أبي كريب عن أبي معاوية

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر قاضی نے ان کو خلف بن احمد طوسی سے ان کو محمد بن حماد نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں فرماتے ہیں کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور عطارد کی روایت میں ہے کہ جب موذن اذان دیتا ہے تو شیطا ن بھاگتا ہے حتی کہ وہ مقام روحاء تک بھاگ جاتا ہے وہ مدینی سے تیس میل پر تھا۔ اس کو مسلم نے روایت کیاہے ابو بکر بن ابو شیبہ سے اور ابو کریب سے اس نے ابو معاویہ سے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← خلف بن أحمد الطوسي ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3049

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3050

3050 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن سهل الفقيه ثنا إبراهيم بن معقل ثنا حرملة حدثني مالك قال : استعمل زيد بن أسلم على معدن بني سليم و كان معدنا لا يزال يصاب فيه الإنسان من قبل الجن فشكوا ذلك إلى زيد بن أسلم فأمرهم بالأذان و أن يرفعوا أصواتهم ففعلوا فانقطع ذلك عنهم فهم عليه حتى اليوم قال مالك : و أعجبني ذلك من مشورة زيد بن أسلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے احمد بن سہل فقیہ نے ان کو ابراہیم بن معقل نے ان کو حرملہ نے ان کو حدیث بیان کی مالک نے وہ کہتے ہیں کہ زید بن اسلم عامل بنائے گئے تھے نبی سلیم کی معدن اورکان پر اور وہ ایسی کان تھی کہ ہمیشہ انسان اس میں آفت اور مصیبت زدہ ہو جاتا یا پاگل ہو جاتا جنات کی وجہسے تو ان لوگوں نے اس بات کی شکایت حضرت زید بن اسلم سے کی انہوں نے ان کو اذان پڑھنے کا حکم دیا اور یہ کہ وہ لوگ اونچی آواز کے ساتھ پڑھیں چنانچہ انہوں نے ایسا کیا تو وہ شیطان وغیرہ وہاں سے منقطع وہ گئے اور وہ لوگ تا حال اس جگہ پر ہیں۔ مالک کہتے ہیں کہ زید بن اسلم کا یہ مشورہ مجھے بہت اچھا لگا۔

مَالِكٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← إبراهيم بن معقل ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3050

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3051

3051 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن بكر المروزي ثنا يعلى بن عبيد ثنا طلحة بن يحيى قال : حدثني عيسى بن طلحة قال : سمعت معاوية بن أبي سفيان يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : المؤذنون أطول أعناقا يوم القيامة أخرجه مسلم في الصحيح من حديث طلحة بن يحيى

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن بکر مروزی نے انکو یعلی بن عبید نے ان کو طلحہ بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عیسیٰ بن طلحہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا معاویہ بن ابو سفیان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ کہتے تھے کہ مؤذن (اذان دینے والے) قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردن والے ہوں گے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں طلحہ بن یحییٰ کی حدیث سے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ ← محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو العباس محمد بن يعقوب

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3051

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3052

3052 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أبو إسماعيل الترمذي ثنا إسحاق بن إبراهيم بن العلاء حدثني عمرو بن الحارث أخبرني عبد الله بن سالم حدثني محمد بن الوليد بن عامر ثنا أبو عمران محمد بن أبي سفيان الثقفي حدثهم أن قبيصة بن ذؤيب الخزاعي حدثه عن بلال : أنه قال لرسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الناس يتجرون و يبيعون معايشهم و يمكثون في بيوتهم و لا نستطيع أن نفعل ذلك فقال : ألا ترضى يا بلال المؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم بن علاء نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو عبداللہ بن سالم نے ان کو محمد بن ولید بن عامر نے ان کو ابو عمر ان محمد بن ابو سفیان ثقفی نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ قبیصہ بن ذوئب خزاعی نے اس کو حدیث بیان کی ہے بلال نے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے شک لوگ تجارت کرتے ہیں اور خرید و فروخت کرتے ہیں اور اپنے سامان بیچتے ہیں اور اپنے گھروں میں ٹھہرے رہتے ہیں اور ہم لوگ ایسا نہیں کر سکتے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے بلال کیا تو راضی نہیں ہے کہ مؤذن لوگ قیامت کے دن سب سے لمبی گردن والے ہوں گے۔

بِلَالٍ أَنَّهُ ← أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ الْخُزَاعِيَّ ← أبو عمران محمد بن أبي سفيان الثقفي ← محمد بن الوليد بن عامر ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إسحاق بن إبراهيم بن العلاء ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3052

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3053

3053 - أخبرنا أبو بكر بن الحارث أنا أبو الشيخ قال : قال أبو بكر بن أبي داود السجستاني سمعت أبي يقول معنى قول النبي صلى الله عليه و سلم : المؤذنون أطول أعناقا يوم القيامة أن الناس يعطشون يوم القيامة فإذا عطش الإنسان انطوت عنقه و المؤذنون لا يعطشون فأعناقهم قائمة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حارث نے ان کو ابو الشیخ نے وہ کہتے ہیں کہ ابو بکر بن ابو داؤد سجستانی نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قول کا معنی کہ مؤذن قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردن والے ہوں گے یہ ہے کہ لوگ قیامت میں پیاسے ہو جائیں گے پس انسان جب پیاسا ہو جاتا ہے تو اس کی گردن مڑ جاتی ہے اورمؤذن لوگ پیاسے ہی نہیں ہو ں گے لہذا ان کی گردنیں سیدھی رہیں گی۔

أَبِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ← أَبُو الشَّيْخِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3053

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3054

3054 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك قال : و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن سمي مولى أبي بكر بن عبد الرحمن عن أبي صالح السمان عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لو يعلم الناس ما في النداء و الصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لاستهموا و لو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا إليه و لو يعلمون ما في العتمة و الصبح لأتوهما و لو حبوا أخرجاه في الصحيح من حديث مالك

ہمیں خبر د ی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو مالک نے(ح) وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے قعنبی نے اسمیں جو اس نے پڑھی مالک کے سامنے۔ اس نے سمی مولیٰ ابو بکر بن عبدالرحمٰن سے اس نے ابو صالح سمان سے اس نے ابو ہریرہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگ جان لیں کہ اذان دینے میں پہلی صف میں نماز پڑھنے میں کتنا بڑا ثواب ہے پھر وہ استطاعت نہ رکھیں مگر اس طرح کہ اس پر وہ قرعہ اندازی کریں تو وہ قرعہ اندازی کر کے بھی اپنی جگہ اور اپنی باری حاصل کر یں اور وہ جان لیں کہ دوپہر کو ظہر کے لئے جلدی جانے میں کتنا ثواب ہے تو لوگ اس کی طرف ایک دوسرے سے سبقت کریں اور لوگ جان لیں کہ عشاء میں کتنا بڑا ثواب ہے اور صبح میں تو ضرور ان دونوں پر آئیں اگرچہ گھٹنوں کے بل سہی۔ بخاری اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث مالک سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3054

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3055

3055 - أخبرنا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى ثنا أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة الأنصاري ثم المازني عن أبيه أنه أخبره أن أبا سعيد الخدري قال : إني أراك تحب الغنم و البادية فإذا كنت في غنمك أو في باديتك فأذنت بالصلاة فارفع صوتك بالنداء فإنه لا يسمع مدى صوت المؤذن جن و لا أنس و لا شيء إلا شهد له يوم القيامة قال أبو سعيد : سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم أخرجه البخاري من حديث مالك

ہمیں خبر دی ہے یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو مالک نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابو صعصعہ انصاری نے پھر مازنی نے ان کو ان کے والد نے کہ انہوں نے اس کو خبر دی تھی کہ ابو سعید خدری نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ آپ بکریوں اور دیہات کو پسند کرتے ہیں جب تم اپنی بکریوں میں ہوا کر و یا دیہات میں تو تم نماز کے لئے اذان کہا کرو اور اذان میں اپنی آواز اونچی کرو اس لیے کہ مؤذن کی آواز کی مسافت تک جو بھی کوئی اذان کو سنے گا خواہ کوئی جن ہو یا انسا ن ہو وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گا ابو سعید نے کہا کہ میں نے اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا۔ اس کو بخاری نے نقل کیا حدیث مالک سے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3055

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3056

3056 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال ثنا أحمد بن منصور المروزي عن النضر بن شميل أنا شعبة عن موسى بن أبي عثمان قال : سمعت أبا يحيى قال : قال سمعت أبا هريرة يقول : سمعت من في رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : المؤذن يغفر له مد صوت و يشهد له كل رطب و يابس و شاهد الصلاة يكتب له خمس و عشرون حسنة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال نے ان کو احمد بن منصور مروزی نے ان کو نضر بن شمیل نے انکو شعبہ نے ان کو موسیٰ بن ابو عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو یحییٰ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے سنا فرماتے تھے کہ مؤذن کے حق میں اس کی آواز کی مسافت یا فاصلہ تک ہر شے مغفرت طلب کرتی ہے اور اس کے حق میں ہر خشک و تر چیز گواہی دیتی ہے اور پھر نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

من في رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا يَحْيَى ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← أَحْمَدَ بْنَ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيَّ ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلاَلٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3056

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3057

3057 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانىء ثنا محمد بن إسماعيل بن مهران ثنا أبو طاهر و أبو الربيع قالا : ثنا ابن وهب أخبرني ابن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر عن نافع عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أذن اثنتي عشرة سنة وجبت له الجنة و كتب له بكل أذان ستون حسنة و بكل إقامة ثلاثون حسنة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو محمد بن اسماعیل بن مہران نے ان کوابو طاہر نے اور ابو ربیع نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ابن وہب نے ان کو ابن لھیعہ نے ان کو عبیداللہ بن ابو جعفر نے ان کو نافع نے ابن عمر سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بارہ سال تک اذان دیتا رہے اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی اور اس کے لئے ہر اذان کے بدلے میں ساٹھ نیکیاں لکھی جائیں گی اور ہر اقامت کے بدلے میں تیس نیکیاں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أبو طاهر و أبو الربيع ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3057

chevron_left Previous
1…282930…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood